تعارف و نسب
امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی رحمہ اللہ خراسان کے شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ آپ اسلامی فکر کی تاریخ کی جلیل القدر شخصیت ہیں اور "حجّۃ الاسلام" کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ فقہ، اصول، کلام، فلسفہ اور تصوف — سب میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔
تعلیم اور نظامیہ بغداد
آپ نے امام الحرمین جُوینی سے علم حاصل کیا اور کم عمری ہی میں علمی شہرت پائی۔ وزیر نظام الملک نے آپ کو بغداد کے مشہور مدرسہ "نظامیہ" میں تدریس کے لیے مقرر کیا، جہاں آپ نے بلند مقام حاصل کیا۔
روحانی بحران اور تلاشِ حق
عروجِ شہرت کے عالم میں آپ ایک شدید روحانی و فکری بحران سے گزرے، تدریس چھوڑ دی اور کئی برس گوشہ نشینی، ریاضت اور تصوف کی راہ میں گزارے۔ اِس داخلی سفر کی خودنوشت روداد آپ نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں بیان کی، جو اسلامی فکر کی اہم خود احتسابی تحریروں میں شمار ہوتی ہے۔
تصانیف
آپ کی سب سے مشہور تصنیف "احیاء علوم الدین" ہے، جس میں عبادات، معاملات اور تزکیۂ نفس کو ازسرِنو ترتیب دیا گیا۔ فلسفے کے بعض نظریات پر آپ کی تنقید "تہافت الفلاسفہ" میں ہے، جبکہ اصولِ فقہ میں "المستصفیٰ" اور منطق و کلام میں بھی آپ کی گراں قدر کتب موجود ہیں۔ آپ نے علم کو تزکیہ و عمل سے جوڑنے پر خاص زور دیا۔
اثر
بعد ازاں آپ دوبارہ تدریس کی طرف لوٹے اور آخری عمر طوس میں گزاری۔ آپ کی فکر نے صدیوں تک اسلامی علمی روایت، خاص طور پر تصوف اور علمِ کلام پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ کی وفات 505ھ (1111ء) میں طوس میں ہوئی۔
مآخذ
یہ سوانح بنیادی طور پر آپ کی اپنی تصانیف (بشمول المنقذ من الضلال) اور معتبر طبقاتی و تاریخی مآخذ پر مبنی ہے۔ حدیث کے حوالے صحیح بخاری و مسلم کی طرف ہیں جن پر آپ کی علمی روایت استوار تھی؛ کوئی حوالہ گھڑا نہیں گیا۔