Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Jumu'a
Tafsir Ibn Kathir · Friday · 11 ayat · Quran text →
تفسیر سورۃ الجمعۃ:
صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:877]
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭
ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو “، [17-الاسراء:44] تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔
«الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ، یعنی ” تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ “ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] یعنی ” یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی “، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ” اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے “، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ” لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] یعنی ” اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے “، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ” تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے “، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر9497
میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭
یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!
صفحہ نمبر9498
اہل فارس کی عظمت ٭٭
دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔“ [صحیح بخاری:4898]
صفحہ نمبر9499
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔
پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر9500
تفسیر سورۃ الجمعۃ:
صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:877]
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭
ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو “، [17-الاسراء:44] تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔
«الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ، یعنی ” تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ “ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] یعنی ” یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی “، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ” اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے “، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ” لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] یعنی ” اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے “، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ” تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے “، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر9497
میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭
یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!
صفحہ نمبر9498
اہل فارس کی عظمت ٭٭
دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔“ [صحیح بخاری:4898]
صفحہ نمبر9499
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔
پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر9500
تفسیر سورۃ الجمعۃ:
صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:877]
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭
ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو “، [17-الاسراء:44] تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔
«الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ، یعنی ” تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ “ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] یعنی ” یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی “، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ” اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے “، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ” لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] یعنی ” اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے “، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ” تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے “، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر9497
میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭
یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!
صفحہ نمبر9498
اہل فارس کی عظمت ٭٭
دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔“ [صحیح بخاری:4898]
صفحہ نمبر9499
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔
پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر9500
تفسیر سورۃ الجمعۃ:
صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:877]
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے ٭٭
ہر بے زبان اور ناطق چیز اللہ تعالیٰ عزوجل کی پاکیزگی بیان کرتی رہتی ہے جیسے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ «وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ» ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو “، [17-الاسراء:44] تمام مخلوق خواہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے۔
«الْأُمِّيُّونَ» سے مراد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَاب وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدْ اِهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْك الْبَلَاغ وَاَللَّه بَصِير بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] ، یعنی ” تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا؟ اور وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ “ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لیے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لیے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَإِنَّهُ لَذِكْر لَك وَلِقَوْمِك» [43-الزخرف:44] یعنی ” یہ تیرے لیے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لیے بھی “، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
اسی طرح اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتك الْأَقْرَبِينَ» [26-الشعراء:214] ” اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے “، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے «قُلْ يَا أَيّهَا النَّاس إِنِّي رَسُول اللَّه إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الأعراف:158] ” لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “ اور جگہ فرمان ہے «لِأُنْذِركُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] یعنی ” اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے “، اسی طرح قرآن کی بابت فرمایا «وَمَنْ يَكْفُر بِهِ مِنْ الْأَحْزَاب فَالنَّار مَوْعِده» [11-ھود:17] ” تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے “، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ «صَلَوَات اللَّه وَسَلَامه عَلَيْهِ» سورۃ الانعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کر چکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر9497
میں دعائے ابراہیمی بن کر آیا ٭٭
یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لیے ہے کہ خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہو جائے، آپ نے اہل مکہ کے لیے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیج جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں پاکیزگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو عیسیٰ علیہ السلام کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی مرضی کے خلاف کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان اَن پڑھوں کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنا دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئیے عرب ابراہیم علیہ السلام کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کر چکے تھے اس میں اس قدر تبدل و تغیر کر دیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا، ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کر دی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کر لی تھی اور متغیر کر دیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کر لیا تھا پس اللہ پاک نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروع سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کر دیں اور ایسے دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند و بالا خدمت کے لیے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کر دیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں، نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام نازل فرماتا رہے آمین!
صفحہ نمبر9498
اہل فارس کی عظمت ٭٭
دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ» سے کیا مراد ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا، تب آپ نے اپنا ہاتھ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اور فرمایا: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پا لیتے۔“ [صحیح بخاری:4898]
صفحہ نمبر9499
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لیے مخصوص نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی عرب کے سوا کے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «إِنَّ فِي أَصْلَاب أَصْلَاب أَصْلَاب رِجَال وَنِسَاء مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب» اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے [ طبرانی:6005] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [الجمعہ:3] ۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے۔
پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا، اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر9500
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم ٭٭
ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی گئی اور عمل کرنے کے لیے انہوں نے اسے لیا پھر عمل نہ کیا، فرمایا جاتا ہے کہ ان کی مثال گدھے کی سی ہے کہ اگر اس پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے؟ اسی طرح یہ یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس دراصل یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین ہیں، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔
اسی لیے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» [7-الاعراف:179] یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے، یہ غافل لوگ ہیں۔ یہاں فرمایا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کی بری مثال ہے، ایسے ظالم اللہ کی رہنمائی سے محروم رہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9504
«وَقَالَ الْإِمَام أَحْمَد رَحِمَهُ اللَّه حَدَّثَنَا اِبْن نُمَيْر عَنْ مُجَالِد عَنْ الشَّعْبِيّ عَنْ اِبْن عَبَّاس قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَكَلَّمَ يَوْم الْجُمُعَة وَالْإِمَام يَخْطُب فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَار يَحْمِل أَسْفَارًا وَاَلَّذِي يَقُول لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمْعَة“» مسند احمد میں ہے جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کی حالت میں بات کرے، وہ مثل گدھے کے ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو اور جو اسے کہے کہ چپ رہ اس کا بھی جمعہ جاتا رہا۔ [مسند احمد:230/1:ضعیف]
صفحہ نمبر9505
یہودیوں کو دعوت مباہلہ ٭٭
پھر فرماتا ہے، اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم حق پر ہو اور نبی اور آپ کے اصحاب حق پر نہیں تو آؤ اور دعا مانگو کہ ہم دونوں میں سے جو حق پر نہ ہو اللہ اسے موت دے، پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں وہ ان کے سامنے ہیں مثلاً کفر، فجور، ظلم، نافرمانی وغیرہ اس وجہ سے ہماری پیشین گوئی ہے کہ وہ اس پر آمادگی نہیں کریں گے، ان ظالموں کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت «قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّـهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [2-البقرہ:94-96] ، کی تفسیر میں یہودیوں کے اس مباہلے کا پورا ذکر ہم کر چکے ہیں اور وہیں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اپنے اوپر اگر خود گمراہ ہوں تو ان پر تو یا اپنے مقابل پر اگر وہ گمراہ ہوں موت کی بد دعا کریں، جیسے کہ نصرانیوں کے مباہلہ کا ذکر سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:61] ، مشرکین سے بھی مباہلہ کا اعلان کیا گیا ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ مریم آیت «قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا» [19-مريم:75] ، یعنی ” اے نبی! ان سے کہہ دے کہ جو گمراہی میں ہو رحمٰن اسے اور بڑھا دے “۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل لعنتہ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس دیکھوں گا تو اس کی گردن ناپوں گا جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ایسا کرتا تو سب کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اگر یہود میرے مقابلہ پر آ کر موت طلب کرتے تو یقیناً وہ مر جاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اور اگر مباہلہ کے لیے لوگ نکلتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و مال کو ہرگز نہ پاتے“ ۔ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4958]
صفحہ نمبر9506
یہودیوں کو دعوت مباہلہ ٭٭
پھر فرماتا ہے، اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم حق پر ہو اور نبی اور آپ کے اصحاب حق پر نہیں تو آؤ اور دعا مانگو کہ ہم دونوں میں سے جو حق پر نہ ہو اللہ اسے موت دے، پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں وہ ان کے سامنے ہیں مثلاً کفر، فجور، ظلم، نافرمانی وغیرہ اس وجہ سے ہماری پیشین گوئی ہے کہ وہ اس پر آمادگی نہیں کریں گے، ان ظالموں کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت «قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِندَ اللَّـهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» [2-البقرہ:94-96] ، کی تفسیر میں یہودیوں کے اس مباہلے کا پورا ذکر ہم کر چکے ہیں اور وہیں یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اپنے اوپر اگر خود گمراہ ہوں تو ان پر تو یا اپنے مقابل پر اگر وہ گمراہ ہوں موت کی بد دعا کریں، جیسے کہ نصرانیوں کے مباہلہ کا ذکر سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:61] ، مشرکین سے بھی مباہلہ کا اعلان کیا گیا ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ مریم آیت «قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا» [19-مريم:75] ، یعنی ” اے نبی! ان سے کہہ دے کہ جو گمراہی میں ہو رحمٰن اسے اور بڑھا دے “۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل لعنتہ اللہ علیہ نے کہا کہ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس دیکھوں گا تو اس کی گردن ناپوں گا جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ایسا کرتا تو سب کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اگر یہود میرے مقابلہ پر آ کر موت طلب کرتے تو یقیناً وہ مر جاتے اور اپنی جگہ جہنم میں دیکھ لیتے اور اگر مباہلہ کے لیے لوگ نکلتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و مال کو ہرگز نہ پاتے“ ۔ یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4958]
صفحہ نمبر9506
موت سے مضر نہیں ٭٭
پھر فرماتا ہے موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا، جیسے سورۃ نساء میں ہے «أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ» [4-النساء:78] یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو وہاں تمہیں موت پا ہی لے گی گو مضبوط محلوں میں ہو، معجم طبرانی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے موت سے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لومڑی ہو جس پر زمین کا کچھ قرض ہو وہ اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے مانگ نہ بیٹھے، بھاگے، بھاگتے بھاگتے جب تھک جائے تب اپنے بھٹ میں گھس جائے، جہاں گھسی اور زمین نے پھر اس سے تقاضا کیا کہ لومڑی میرا قرض ادا کر دو پھر وہاں سے دم دبائے ہوئے تیزی سے بھاگی آخر یونہی بھاگتے بھاگتے ہلاک ہو گئی۔ [طبرانی6922ضعیف]
صفحہ نمبر9508
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭
«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
صفحہ نمبر9509
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [ یعنی آدم و حواء ] کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم»
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
صفحہ نمبر9510
یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ ۔ [صحیح مسلم:603]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
صفحہ نمبر9511
غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭
جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ [صحیح بخاری:877]
اور حدیث میں ہے جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9512
بخاری مسلم میں ہے جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:881]
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
صفحہ نمبر9513
جمعہ کی پہلی آذان ٭٭
جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
صفحہ نمبر9514
جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
صفحہ نمبر9515
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭
«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
صفحہ نمبر9509
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [ یعنی آدم و حواء ] کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم»
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
صفحہ نمبر9510
یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ ۔ [صحیح مسلم:603]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
صفحہ نمبر9511
غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭
جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ [صحیح بخاری:877]
اور حدیث میں ہے جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر9512
بخاری مسلم میں ہے جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:881]
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
صفحہ نمبر9513
جمعہ کی پہلی آذان ٭٭
جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
صفحہ نمبر9514
جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
صفحہ نمبر9515
تجارت عبادت اور صلوۃ جمعہ ٭٭
مدینہ میں جمعہ والے دن تجارتی مال کے آ جانے کی وجہ سے جو حضرات خطبہ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ عتاب کر رہا ہے کہ یہ لوگ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف چل کھڑے ہوتے ہیں اور تجھے خطبہ میں ہی کھڑا چھوڑ دیتے ہیں، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مال تجارت دحیہ بن خلیفہ کا تھا جمعہ والے دن آیا اور شہر میں خبر کے لیے طبل بجنے لگا، دحیہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، طبل کی آواز سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے صرف چند آدمی رہ گئے، مسند احمد میں ہے صرف بارہ آدمی رہ گئے باقی لوگ اس تجارتی قافلہ کی طرف چل دیئے جس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4899]
مسند ابو یعلیٰ میں اتنا اور بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بھی باقی نہ رہتے اور سب اٹھ کر چلے جاتے تو تم سب پر یہ وادی آگ بن کر بھڑک اٹھتی“، جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہیں گئے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ [مسند ابویعلیٰ1979]
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہیئے، صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے پڑھتے تھے درمیان میں بیٹھ جاتے تھے قرآن شریف پڑھتے تھے اور لوگوں کو تذکیر و نصیحت فرماتے تھے۔ [صحیح مسلم:862] یہاں یہ بات بھی معلوم رہنی چاہیئے کہ یہ واقعہ بقول بعض کے اس وقت کا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا کرتے تھے۔
مراسیل ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے جیسے عیدین میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ خطبہ سنا رہے تھے کہ ایک شخص نے آن کر کہا: دحیہ بن خلیفہ مال تجارت لے کر آ گیا ہے، یہ سن کر سوائے چند لوگوں کے اور سب اٹھ کھڑے ہو گئے۔ [ابوداؤد فی المراسیل:59ضعیف]
پھر فرماتا ہے اے نبی ! انہیں خبر سنا دو کہ دار آخرت کا ثواب عند اللہ ہے وہ کھیل تماشوں سے خرید و فروخت سے بہت ہی بہتر ہے، اللہ پر توکل رکھ کر، طلب رزق اوقات اجازت میں جو کرے اللہ اسے بہترین طریق پر روزیاں دے گا۔ «الحمداللہ» سورۃ الجمعہ کی تفسیر پوری ہوئی۔
صفحہ نمبر9517