ابنِ مسعودؓ کی قرأت: الحنیفیہ (سورۃ آل عمران ۳:۱۹)
سورۃ آل عمران کی آیت ۱۹ کا مصحفی متن ہے: "اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلام"۔ طبری کی تفسیر میں ابنِ مسعودؓ سے منسوب ایک قرأت اسی جگہ "الحنیفیہ" نقل کرتی ہے۔ ہم کتابیں کھولتے ہیں اور دونوں متن سامنے رکھتے ہیں۔
By John Shaqi · July 21, 2026 · 15 min read
جب ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ کھڑا ہو
قرآن کھولیے اور سورۃ آل عمران کی انیسویں آیت پر رکیے۔ آپ ایک ایسا جملہ پڑھتے ہیں جو مسلمان چودہ صدیوں سے دل میں لیے ہوئے ہیں: "اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلام" — "بےشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔" یہ پوری کتاب کی سب سے زیادہ نقل ہونے والی آیتوں میں سے ہے، ایک ایسی آیت جو گویا خود دین کا نام لے رہی ہے۔
مگر قرآنِ کریم کی سب سے قدیم اور معتبر تفسیروں میں سے ایک — امام طبری (متوفی ۳۱۰ھ) کی جامع البیان — کی طرف رخ کیجیے، تو آپ کو خود عالم کے قلم سے لکھا اور محفوظ کیا ہوا ایک مختلف لفظ اسی جگہ کھڑا ملتا ہے۔ یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی طرف منسوب ہے، جو نبیِ کریمﷺ کے قریب ترین صحابہ میں سے اور قرآن کے سب سے پہلے معلّمین میں سے تھے: "اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الحَنِیفِیَّۃ" — "اللہ کے نزدیک دین الحنیفیہ ہے،" یعنی ابراہیمی خالص اور کھری توحید۔
Continue Reading
Continue reading this article
Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.
Sign in free to read →- ✓Read every article
- ✓Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
- ✓Browse the community
- ✓Reader badge