John Shaqi

قصۂ غرانیق: جب پورا مکہ سجدے میں گر گیا — روایتیں اور ان کا رد

طبری، ابن سعد اور واقدی کی روایات کہتی ہیں کہ سورۂ نجم کی تلاوت کے دوران لات، عزیٰ اور منات کے بارے میں غرانیق کے الفاظ آئے اور پورا قریش سجدے میں گر گیا۔ بخاری 4862 میں سجدہ موجود ہے، الفاظ نہیں۔ ابن کثیر، قاضی عیاض اور البانی نے قصے کو باطل کہا۔ دونوں کالم جوں کے توں — فیصلہ آپ کا۔

By John Shaqi · July 21, 2026 · 15 min read

وہ دن جب پورا مکہ جھک گیا

سیرت کے ادب میں اس سے عجیب منظر شاید ہی کوئی ہو۔ صحیح بخاری — جسے اہلِ سنت قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب مانتے ہیں — روایت کرتی ہے (حدیث 4862 اور دیگر مقامات پر) کہ رسول اللہ ﷺ نے سورۂ نجم کی تلاوت کی اور آخری آیت پر سجدہ کیا، تو آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، مشرکوں نے بھی، جنوں نے بھی اور انسانوں نے بھی۔

ذرا رکیے۔ مشرکینِ قریش — وہی لوگ جو مسلمانوں کو اذیتیں دیتے تھے، جنہوں نے برسوں اس دعوت کا مذاق اڑایا — وہ سب اسی مجلس میں، اسی سورت پر جو ان کے بتوں کے خلاف اتری تھی، سجدے میں گر گئے؟ ابن مسعودؓ کی روایت میں ہے کہ صرف ایک بوڑھے نے سجدہ نہ کیا؛ اس نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر ماتھے تک لے جا کر کہا: میرے لیے یہی کافی ہے۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: میں نے بعد میں اسے کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔

Continue Reading

Continue reading this article

Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.

Sign in free to read →
Reader$0/mo
  • Read every article
  • Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
  • Browse the community
  • Reader badge
Join as Reader
Scholar$8/mo
  • Everything in Writer
  • Scholar badge
  • Featured in the community
Join as Scholar