صلاۃِ وسطیٰ کا اختلاف: جب ایک ذاتی مصحف نے کتاب سے ایک لفظ زیادہ کہا
سورۃ البقرہ ۲۳۸ میں ”بیچ والی نماز“ کا ذکر تو ہے مگر نام نہیں۔ روایات کے مطابق حفصہؓ اور عائشہؓ کے ذاتی مصحفوں میں چار لفظ زیادہ تھے — ”اور عصر کی نماز“۔ کیا یہ قرآن تھا، منسوخ قراءت، یا لکھی ہوئی تفسیر؟ کتابیں، دونوں کالم۔
By John Shaqi · July 21, 2026 · 15 min read
جب ایک ذاتی قرآن نے کتاب سے ایک لفظ زیادہ کہا
اس سے پہلے کہ قرآن کا کوئی سرکاری نسخہ اسلام کے بڑے شہروں کی طرف بھیجا جاتا، نبی محمد ﷺ کے چند قریب ترین صحابہ کے پاس اپنے ہاتھ سے لکھے ذاتی مصحف موجود تھے۔ ان میں سے دو اُن دو خواتین کے تھے جو آپ ﷺ کے گھر کے عین مرکز میں تھیں: حفصہ بنت عمرؓ اور عائشہ بنت ابی بکرؓ، دونوں آپ ﷺ کی ازواج۔ کلاسیکی روایات کے مطابق، نماز سے متعلق ایک مشہور آیت پر اِن دونوں کے مصحفوں میں چار ایسے الفاظ زیادہ تھے جو آج پڑھے جانے والے قرآن میں نہیں۔
آیت مختصر ہے۔ اضافہ اُس سے بھی مختصر۔ مگر سوال پرانا اور بھاری ہے: کیا وہ الفاظ نازل شدہ قرآن تھے جو بعد میں ہٹا دیے گئے، ایک ایسی قراءت جسے اللہ نے منسوخ کر دیا، یا ایک انسانی تشریح — تفسیر کی ایک سطر — جو براہِ راست مقدس صفحے پر لکھ دی گئی؟ چودہ صدیوں سے علماء نے اِس کا جواب ایک سے زیادہ آوازوں میں دیا ہے۔ آئیے کتابیں کھولتے ہیں۔
Continue Reading
Continue reading this article
Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.
Sign in free to read →- ✓Read every article
- ✓Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
- ✓Browse the community
- ✓Reader badge