سَأَلتُ أَبَا الحَسَنِ ع عَنِ الصّلَاةِ فِي ثَوبِ دِيبَاجٍ فَقَالَ مَا لَم يَكُن فِيهِ التّمَاثِيلُ فَلَا بَأسَ فَأَوّلُ مَا فِي هَذَا الخَبَرِ أَنّا قَد رَوَينَا عَن أَبِي الحَسَنِ ع مَا ينُاَفيِ هَذِهِ الرّوَايَةَ وَ لَا يَجُوزُ أَن تَختَلِفَ أَقوَالُهُ إِلّا لِوَجهٍ أَو تَأوِيلٍ صَحِيحٍ عَلَي أَنّهُ لَيسَ فِي ظَاهِرِ الخَبَرِ أَنّهُ لَا بَأسَ فِي كُلّ حَالٍ وَ إِذَا لَم يَكُن ذَلِكَ فِيهِ حَمَلنَاهُ عَلَي حَالِ الحَربِ دُونَ حَالِ الِاختِيَارِ يَدُلّ عَلَي ذَلِكَ
اردو
جہاں تک سعد نے احمد بن محمد سے، محمد بن اسماعیل بن بزیع سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن عليه السلام سے دیباج کے کپڑے میں salat (نماز) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب تک اس میں تصویریں نہ ہوں، کوئی حرج نہیں۔ پس اس روایت کے بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ ہم پہلے ہی ابوالحسن عليه السلام سے اس کے خلاف روایت نقل کر چکے ہیں، اور ان کے اقوال میں اختلاف جائز نہیں مگر کسی صحیح وجہ یا درست تاویل کی بنا پر۔ مزید یہ کہ روایت کے ظاہر الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر حال میں کوئی حرج نہیں؛ لہٰذا جب اس میں یہ صورت نہ ہو تو ہم اسے حالتِ جنگ پر محمول کرتے ہیں، نہ کہ حالتِ اختیار پر، اور اس پر بعد والی بات دلالت کرتی ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.