تَوَضّأتُ يَوماً وَ لَم أَغسِل ذكَرَيِ ثُمّ صَلّيتُ فَسَأَلتُ أَبَا عَبدِ اللّهِ ع فَقَالَ اغسِل ذَكَرَكَ وَ أَعِد صَلَاتَكَ فَأَوجَبَ إِعَادَةَ الصّلَاةِ وَ غَسلَ المَوضِعِ عَلَي مَا فَصّلنَاهُ
اردو
جو کچھ الحسین بن سعید نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے عمر بن اذینہ سے، انہوں نے زرارہ سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: ایک دن میں نے وُضو کیا اور اپنی شرمگاہ نہ دھوئی، پھر میں نے صلات ادا کی۔ تو میں نے ابا عبد اللہ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اپنی شرمگاہ دھوؤ اور اپنی صلات دہراؤ۔ پس اس نے صلات (نماز) کے اعادے اور جگہ کے دھونے کو واجب قرار دیا، جیسا کہ ہم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.