John Shaqi

حَدّثَنَا الفَضلُ بنُ شَاذَانَ عَنِ ابنِ أَبِي عُمَيرٍ عَن حَمّادٍ عَن حَرِيزٍ عَن زُرَارَةَ عَن أَبِي جَعفَرٍ ع قَالَ قُلتُ المَرأَةُ تَؤُمّ النّسَاءَ قَالَ لَا إِلّا عَلَي المَيّتِ إِذَا لَم يَكُن أَحَدٌ أَولَي مِنهَا تَقُومُ وَسَطاً مَعَهُنّ فِي الصّفّ فَتُكَبّرُ وَ يُكَبّرنَ فَالوَجهُ فِي هَذَا الخَبَرِ أَيضاً ضَربٌ مِنَ الِاستِحبَابِ دُونَ الإِيجَابِ


اردو

الفضل بن شاذان نے ہم سے ابن ابی عمیر سے، حماد سے، حریز سے، زرارہ سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: “کیا عورت عورتوں کی امامت کر سکتی ہے؟” انہوں نے فرمایا: “نہیں، مگر میت پر، جب اس سے زیادہ حق دار کوئی نہ ہو۔ وہ ان کے ساتھ صف کے درمیان کھڑی ہوگی، پھر تکبیر کہے گی اور وہ بھی تکبیر کہیں گی۔” پس اس روایت کا درست مفہوم بھی یہی ہے کہ یہ استحباب کی ایک صورت پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ وجوب پر۔


Chapter (Bab)261- بَابُ المَرأَةِ تَؤُمّ النّسَاءَ
CollectionAl-Istibsar

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.