سَأَلتُ أَبَا عَبدِ اللّهِ ع عَنِ الجُنُبِ يَعرَقُ فِي ثَوبِهِ أَو يَغتَسِلُ فَيُعَانِقُ امرَأَتَهُ وَ يُضَاجِعُهَا وَ هيِ َ حَائِضٌ أَو جُنُبٌ فَيُصِيبُ جَسَدَهُ مِن عَرَقِهَا قَالَ هَذَا كُلّهُ لَيسَ بشِيَ ءٍ
اردو
الشیخ، رحمہ اللہ، نے مجھے ابو القاسم جعفر بن محمد سے، انہوں نے محمد بن یعقوب سے، انہوں نے علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ابن اذینہ سے، انہوں نے ابو اسامہ سے روایت کی، جنہوں نے کہا: میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے اس جنب کے بارے میں پوچھا جو اپنے کپڑے میں پسینہ کرتا ہے، یا غسل کرتا ہے پھر اپنی بیوی کو گلے لگاتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹتا ہے جبکہ وہ حائضہ یا جنب ہو، اور اس کے پسینے میں سے کچھ اس کے جسم کو لگ جائے۔ آپ نے فرمایا: یہ سب کچھ کچھ بھی نہیں ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.