سُئِلَ عَنِ الرّجُلِ إِذَا زَالَتِ الشّمسُ وَ هُوَ فِي مَنزِلِهِ ثُمّ يَخرُجُ فِي سَفَرٍ قَالَ يَبدَأُ بِالزّوَالِ فَيُصَلّيهَا ثُمّ يصُلَيّ الأُولَي بِتَقصِيرِ رَكعَتَينِ لِأَنّهُ خَرَجَ مِن مَنزِلِهِ قَبلَ أَن تَحضُرَ الأُولَي وَ سُئِلَ فَإِن خَرَجَ بَعدَ مَا حَضَرَتِ الأُولَي قَالَ يصُلَيّ الأُولَي أَربَعَ رَكَعَاتٍ ثُمّ يصُلَيّ بَعدَ النّوَافِلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ لِأَنّهُ خَرَجَ مِن مَنزِلِهِ بَعدَ مَا حَضَرَتِ الأُولَي فَإِذَا حَضَرَتِ العَصرُ صَلّي العَصرَ بِتَقصِيرٍ وَ هيِ َ رَكعَتَانِ لِأَنّهُ خَرَجَ فِي السّفَرِ قَبلَ أَن يَحضُرَ العَصرُ
اردو
احمد بن حسن بن علی بن فضّال نے عمرو بن سعید سے، مصدّق بن صدقہ سے، عمّار بن موسیٰ سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کیا۔ فرمایا: اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو زوال کے وقت گھر میں ہو پھر سفر پر نکلے۔ فرمایا: زوال کی نافلہ سے شروع کرے اور اسے پڑھے، پھر اولیٰ (ظہر) دو رکعت قصر کے ساتھ پڑھے کیونکہ اولیٰ کا وقت آنے سے پہلے نکلا۔ اور سوال ہوا: اگر اولیٰ کا وقت آنے کے بعد نکلے؟ فرمایا: اولیٰ چار رکعت پڑھے، پھر بعد میں آٹھ رکعت نوافل پڑھے کیونکہ وقت آنے کے بعد گھر سے نکلا۔ جب عصر کا وقت آئے تو قصر کے ساتھ دو رکعت عصر پڑھے کیونکہ عصر کا وقت آنے سے پہلے سفر پر نکلا۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.