مَاءُ البِئرِ وَاسِعٌ لَا يُنَجّسُهُ شَيءٌ إِلّا أَن يَتَغَيّرَ رِيحُهُ أَو طَعمُهُ فَيُنزَحُ حَتّي يَذهَبَ الرّيحُ وَ يَطِيبَ طَعمُهُ لِأَنّ لَهُ مَادّةً فَالمَعنَي فِي هَذَا الخَبَرِ أَنّهُ لَا يُفسِدُهُ شَيءٌ إِفسَاداً لَا يَجُوزُ الِانتِفَاعُ بشِيَ ءٍ مِنهُ إِلّا بَعدَ نَزحِ جَمِيعِهِ إِلّا مَا يُغَيّرُهُ فَأَمّا مَا لَم يَتَغَيّر فَإِنّهُ يُنزَحُ مِنهُ مِقدَارٌ وَ يُنتَفَعُ باِلباَقيِ عَلَي مَا بَيّنّاهُ فِي كِتَابِ تَهذِيبِ الأَحكَامِ
اردو
جہاں تک احمد بن محمد نے محمد بن اسماعیل سے، اور انہوں نے الرضا علیہ السلام سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: کنویں کا پانی بہت زیادہ ہوتا ہے؛ کوئی چیز اسے نجس نہیں کرتی مگر یہ کہ اس کی بو یا اس کا ذائقہ بدل جائے۔ پھر اس سے پانی نکالا جاتا ہے یہاں تک کہ بو ختم ہو جائے اور اس کا ذائقہ اچھا ہو جائے، کیونکہ اس کی ایک اصل ہوتی ہے۔ پس اس روایت میں معنی یہ ہے کہ کوئی چیز اسے اس طرح خراب نہیں کرتی کہ اس کے کسی حصے سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہو جائے مگر یہ کہ اس کا سب کچھ نکالنا لازم ہو، سوائے اس کے جو اسے بدل دے۔ رہا وہ جو اسے نہیں بدلتا، تو اس میں سے ایک مقدار نکالی جاتی ہے اور باقی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، جیسا کہ ہم نے کتاب تہذیب الأحکام میں بیان کیا ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.