طَلَبْنَا الْإِذْنَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) وَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا ادْخُلُوا اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ فَدَخَلْتُ أَنَا وَ رَجُلٌ مَعِي فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ أُحِبُّ أَنْ تَسْتَأْذِنَ بِالْمَسْأَلَةِ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ أَبِي كَانَ مِمَّنْ سَبَاهُ بَنُو أُمَيَّةَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ أَنْ يُحَرِّمُوا وَ لَا يُحَلِّلُوا وَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِمَّا فِي أَيْدِيهِمْ قَلِيلٌ وَ لَا كَثِيرٌ وَ إِنَّمَا ذَلِكَ لَكُمْ فَإِذَا ذَكَرْتُ رَدَّ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ دَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ مَا يَكَادُ يُفْسِدُ عَلَيَّ عَقْلِي مَا أَنَا فِيهِ فَقَالَ لَهُ أَنْتَ فِي حِلٍّ مِمَّا كَانَ مِنْ ذَلِكَ وَ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي مِثْلِ حَالِكَ مِنْ وَرَائِي فَهُوَ فِي حِلٍّ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْنَا وَ خَرَجْنَا فَسَبَقَنَا مُعَتِّبٌ إِلَى النَّفَرِ الْقُعُودِ الَّذِينَ يَنْتَظِرُونَ إِذْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) فَقَالَ لَهُمْ قَدْ ظَفِرَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ نَافِعٍ بِشَيْءٍ مَا ظَفِرَ بِمِثْلِهِ أَحَدٌ قَطُّ قَدْ قِيلَ لَهُ وَ مَا ذَاكَ فَفَسَّرَهُ لَهُمْ فَقَامَ اثْنَانِ فَدَخَلَا عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) فَقَالَ أَحَدُهُمَا جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ أَبِي كَانَ مِنْ سَبَايَا بَنِي أُمَيَّةَ وَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ قَلِيلٌ وَ لَا كَثِيرٌ وَ أَنَا أُحِبُّ أَنْ تَجْعَلَنِي مِنْ ذَلِكَ فِي حِلٍّ فَقَالَ وَ ذَاكَ إِلَيْنَا مَا ذَاكَ إِلَيْنَا مَا لَنَا أَنْ نُحِلَّ وَ لَا أَنْ نُحَرِّمَ فَخَرَجَ الرَّجُلَانِ وَ غَضِبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ أَحَدٌ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ إِلَّا بَدَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) فَقَالَ أَ لَا تَعْجَبُونَ مِنْ فُلَانٍ يَجِيئُنِي فَيَسْتَحِلُّنِي مِمَّا صَنَعَتْ بَنُو أُمَيَّةَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّ ذَلِكَ لَنَا وَ لَمْ يَنْتَفِعْ أَحَدٌ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ بِقَلِيلٍ وَ لَا كَثِيرٍ إِلَّا الْأَوَّلَيْنِ فَإِنَّهُمَا غَنِيَا بِحَاجَتِهِمَا .
اردو
احمد بن محمد، محمد بن سنان سے، یونس بن یعقوب سے، عبد العزیز بن نافع سے روایت کرتے ہیں، جنہوں نے کہا: ہم نے ابو عبد اللہ (عليه السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اور ان کی طرف پیغام بھیجا، تو انہوں نے ہمیں جواب بھیجا: "دو دو کر کے داخل ہو جاؤ۔" چنانچہ میں اپنے ساتھ موجود ایک شخص کے ساتھ داخل ہوا، اور میں نے اس شخص سے کہا: "میں چاہتا ہوں کہ آپ سوال کرنے کی اجازت طلب کریں۔" اس نے کہا: "ہاں۔" تو اس نے اس سے کہا: "میں آپ پر قربان ہو جاؤں، میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہیں بنو امیہ نے قید کیا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ بنو امیہ کو نہ حرام کرنے کا حق تھا نہ حلال کرنے کا، اور جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اس میں ان کا نہ تھوڑا حق تھا نہ زیادہ؛ بلکہ وہ آپ ہی کا تھا۔ پھر جب میں اس حالت کو یاد کرتا ہوں جس میں میں تھا تو اس سے میرے اندر ایسی چیز پیدا ہوتی ہے جو قریب ہے کہ میری موجودہ حالت میں میری عقل کو خراب کر دے۔" تو انہوں نے اس سے فرمایا: "اس میں سے جو کچھ تھا اس کے بارے میں تم پر کوئی گرفت نہیں، اور میرے بعد جو بھی تمہاری مانند حالت میں ہو وہ بھی اس سے بری ہے۔" اس نے کہا: پھر ہم اٹھے اور باہر نکل آئے، اور معتب ہم سے پہلے ان بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس پہنچ گیا جو ابو عبد اللہ (عليه السلام) کی اجازت کے منتظر تھے۔ اس نے ان سے کہا: "عبد العزیز بن نافع نے ایسی چیز حاصل کر لی ہے جس جیسی کسی نے کبھی بھی حاصل نہیں کی۔" اس سے کہا گیا: "وہ کیا ہے؟" تو اس نے ان کے لیے اس کی وضاحت کی۔ پھر دو آدمی کھڑے ہوئے اور ابو عبد اللہ (عليه السلام) کی خدمت میں داخل ہوئے، اور ان میں سے ایک نے کہا: "میں آپ پر قربان ہو جاؤں، میرے والد بنی امیہ کے قیدیوں میں سے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ بنی امیہ کو اس میں سے کسی چیز، تھوڑی ہو یا زیادہ، کا کوئی حق نہ تھا، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس سے بری الذمہ قرار دیں۔" آپ نے فرمایا: "اور کیا یہ ہمارے اختیار میں ہے؟ یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہمیں نہ حلال کرنے کا حق ہے نہ حرام کرنے کا۔" پس وہ دونوں آدمی باہر نکل گئے، اور ابو عبد اللہ (عليه السلام) غضبناک ہو گئے۔ پھر اس رات کوئی بھی ان کی خدمت میں داخل نہ ہوا مگر یہ کہ ابو عبد اللہ (عليه السلام) نے اس سے پہلے ہی فرمایا: "کیا تم فلاں پر تعجب نہیں کرتے؟ وہ میرے پاس آتا ہے اور بنی امیہ کے کیے ہوئے کام کے بارے میں مجھ سے اسے حلال کرانا چاہتا ہے، گویا وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہے۔" اور اس رات پہلے دو آدمیوں کے سوا کسی نے تھوڑا یا زیادہ کچھ فائدہ نہ اٹھایا، کیونکہ ان کی ضرورت پوری کر دی گئی تھی۔
Translation
Ahmad Bin Muhammad, from Muhammad Bin Sinan, from Yunus Bin Yaqoub, from Abdul Aziz Bin Nafiu who said, ‘We sought the permission to see Abu Abdullah<sup>asws</sup> and sent a message to him<sup>asws</sup>. So he<sup>asws</sup> sent a message to us: ‘Come over, two by two’. So I went over and there was a man with me, and I said to the man, ‘I would love it if you would ask permission for the questions’. He said, ‘Yes’. So he said to him<sup>asws</sup>, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! My father was from the ones who was a captive of the Clan of Umayya, and I have known that the Clan of Umayya did not have (the right) for them that they should be prohibiting nor that they should be permitting, and they did not have for them, from whatever was in their hands, be it little or more, and rather (all) that was for you (Imam<sup>asws</sup>). So whenever I remember the return of that which I was in, there enters into me due to that what almost spoils my intellect upon me, what I am in (at the moment)’. So he<sup>asws</sup> said to him: ‘You are in an ease (without obligation) from whatever was from that, and everyone who was in a state similar to yours from after me<sup>asws</sup>, so he (also) would be in an ease from that’. He (the narrator) said, ‘So we arose and went out and we preceded Mo’tab (the servant) to the number (of people) who were sitting awaiting the permission to see Abu Abdullah<sup>asws</sup>. So he (Mo’tab) said to him, ‘Abdul Aziz Bin Nafiu has succeeded with something what no one has succeeded at all’. (They) said to him, ‘And what is that?’ So he explained it to them’. So two (persons) stood up and went over to Abu Abdullah<sup>asws</sup>, and one of the two said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! My father was from the captives of the Clan of Umayya, and I have known that the Clan of Umayya did not happen to have (the right) for them from that, neither little nor more, and I would love it if you<sup>asws</sup> could make for me an ease from that’. So he<sup>asws</sup> said: ‘And is that up to us<sup>asws</sup>? That is not for us<sup>asws</sup> that we<sup>asws</sup> Permit nor that we<sup>asws</sup> Prohibit!’ So the two men exited and Abu Abdullah<sup>asws</sup> was angered. So, not one went over to him<sup>asws</sup> during that night except Abu Abdullah<sup>asws</sup> initiated him saying: ‘Are you not wondering from so and so? He comes to me<sup>asws</sup> for me to legalise from what the Clan of Umaya have done. It is as if he sees that, that is for us<sup>asws</sup> (to do)’. And no one benefitted during that night, neither by a little nor by more except for the two first ones, for they both became needless of their needs’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.