حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْخَضِيبِ الْبَجَلِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مُزَامِلَهُ حَتَّى جِئْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ ( صلى الله عليه وآله ) إِذْ دَخَلَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ( عليه السلام ) فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى تَقُومُ بِنَا إِلَيْهِ فَقَالَ وَ مَا نَصْنَعُ عِنْدَهُ فَقُلْتُ نُسَائِلُهُ وَ نُحَدِّثُهُ فَقَالَ قُمْ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَسَاءَلَنِي عَنْ نَفْسِي وَ أَهْلِي ثُمَّ قَالَ مَنْ هَذَا مَعَكَ فَقُلْتُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَاضِي الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَهُ أَنْتَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَاضِي الْمُسْلِمِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَأْخُذُ مَالَ هَذَا فَتُعْطِيهِ هَذَا وَ تَقْتُلُ وَ تُفَرِّقُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهِ لَا تَخَافُ فِي ذَلِكَ أَحَداً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبِأَيِّ شَيْءٍ تَقْضِي قَالَ بِمَا بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) وَ عَنْ عَلِيٍّ ( عليه السلام ) وَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ قَالَ فَبَلَغَكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَلِيّاً ( عليه السلام ) أَقْضَاكُمْ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ تَقْضِي بِغَيْرِ قَضَاءِ عَلِيٍّ ( عليه السلام ) وَ قَدْ بَلَغَكَ هَذَا فَمَا تَقُولُ إِذَا جِيءَ بِأَرْضٍ مِنْ فِضَّةٍ وَ سَمَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) بِيَدِكَ فَأَوْقَفَكَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّكَ فَقَالَ يَا رَبِّ إِنَّ هَذَا قَضَى بِغَيْرِ مَا قَضَيْتَ قَالَ فَاصْفَرَّ وَجْهُ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَتَّى عَادَ مِثْلَ الزَّعْفَرَانِ ثُمَّ قَالَ لِي الْتَمِسْ لِنَفْسِكَ زَمِيلًا وَ اللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ مِنْ رَأْسِي كَلِمَةً أَبَداً.
اردو
ہمارے بہت سے اصحاب نے احمد بن محمد بن عیسی سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے فضالہ بن ایوب سے، انہوں نے داؤد بن فرقد سے روایت کی کہ ایک شخص نے مجھ سے سعید بن ابی الخضیب البجلی سے روایت کرتے ہوئے بتایا، وہ کہتے ہیں: میں ابن ابی لیلی کے ساتھ سفر کا ساتھی تھا یہاں تک کہ ہم مدینے پہنچے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں تھے کہ جعفر بن محمد علیہ السلام تشریف لائے۔ میں نے ابن ابی لیلی سے کہا: کیا ہم آپ کے پاس چلتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہاں کیا کریں گے؟ میں نے کہا: ہم ان سے سوال کریں گے۔ انہوں نے کہا: چلو۔ ہم ان کے پاس گئے۔ انہوں نے میرے اور میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھا، پھر فرمایا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ میں نے کہا: ابن ابی لیلی، مسلمانوں کے قاضی۔ آپ نے ان سے فرمایا: کیا آپ ابن ابی لیلی، مسلمانوں کے قاضی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: آپ اس کا مال لے کر اسے دیتے ہیں، قتل کرتے ہیں، میاں بیوی میں جدائی کرتے ہیں اور اس میں کسی سے نہیں ڈرتے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو آپ کس بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جو مجھے رسول اللہ سے، علی علیہ السلام سے، ابو بکر اور عمر سے پہنچا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ کو رسول اللہ کا یہ قول پہنچا ہے کہ علی علیہ السلام تم سب میں سب سے بڑے قاضی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: پھر آپ علی علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف کیوں فیصلہ کرتے ہیں جبکہ آپ کو یہ پہنچ چکا ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے جب چاندی کی زمین اور چاندی کا آسمان لایا جائے، پھر رسول اللہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو آپ کے رب کے سامنے کھڑا کریں اور کہیں: اے رب! اس نے میرے فیصلے کے خلاف فیصلہ کیا! راوی کہتے ہیں: ابن ابی لیلی کا چہرہ زرد پڑ گیا یہاں تک کہ زعفران کی طرح ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اپنے لیے کوئی اور سفر کا ساتھی ڈھونڈ لو۔ اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی ایک لفظ بھی نہیں بولوں گا۔
Translation
A number of our companions, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Al Husayn Bin Saeed, from Fazalat Bin Ayoub, from Dawood Bin Farqad, from a man, from Saeed Bin Abu Al Khazeyb Al Bajaly who said, ‘I was with Ibn Abu Layli (a judge) accompanying him until we came to Al-Medina. So while we were at the Masjid of the Rasool<sup>saww</sup>, when Jafar<sup>asws</sup> Bin Muhammad<sup>asws</sup> entered. So I said to Ibn Abu Layli, ‘Arise with us to go to him<sup>asws</sup>’. So he said, ‘And what shall we do in his<sup>asws</sup> presence?’ So I said, ‘We would ask him<sup>asws</sup> and discuss with him<sup>asws</sup>’. So he said, ‘Arise’. So he (the narrator) said, ‘So we arose to go to him<sup>asws</sup>. So he<sup>asws</sup> asked me about myself and my family, then said: ‘Who is this one with you?’ So I said, ‘Ibn Abu Layli, the judge of the Muslims’. So he<sup>asws</sup> said to him: ‘Are you Ibn Abu Layli, the judge of the Muslims?’ He said, ‘Yes’. He<sup>asws</sup> said: ‘You take the wealth of this one and give it to this one, and you kill, and effect separation between the man and his spouse, not fearing anyone in that?’ He said, ‘Yes’. He<sup>asws</sup> said: ‘So by which thing do you judge by?’ He said, ‘With what has reached me from Rasool-Allah<sup>saww</sup>, and from Ali<sup>asws</sup>, and from Abu Bakr and Umar’. He<sup>asws</sup> said: ‘So has it reached you from Rasool-Allah<sup>saww</sup> having said that: ‘Ali<sup>asws</sup> is your judge?’ He said, ‘Yes’. So how do you judge with other than the judgement of Ali<sup>asws</sup>, and this has reached you? So what are you saying when they come with a land of silver and a sky of silver, then Rasool-Allah<sup>saww</sup> seizes your hand, so he<sup>saww</sup> would pause you in front of your Lord<sup>azwj</sup>, so he<sup>saww</sup> would say: ‘O Lord<sup>azwj</sup>! This one judged with other than what I<sup>saww</sup> judged!’ He (the narrator) said, ‘So the face of Ibn Abu Layli paled until it was like the saffron. He said to me, ‘Seek for yourself (another) travelling companion. By Allah<sup>azwj</sup>, I shall not speak a word from my head, ever’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.