John Shaqi

كَانَ يَلْزَمُ بَابَ أَبِي جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) لِلْخِدْمَةِ الَّتِي كَانَ وُكِّلَ بِهَا وَ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى يَجِي‏ءُ فِي السَّحَرِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لِيَعْرِفَ خَبَرَ عِلَّةِ أَبِي جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) وَ كَانَ الرَّسُولُ الَّذِي يَخْتَلِفُ بَيْنَ أَبِي جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) وَ بَيْنَ أَبِي إِذَا حَضَرَ قَامَ أَحْمَدُ وَ خَلَا بِهِ أَبِي فَخَرَجْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَ قَامَ أَحْمَدُ عَنِ الْمَجْلِسِ وَ خَلَا أَبِي بِالرَّسُولِ وَ اسْتَدَارَ أَحْمَدُ فَوَقَفَ حَيْثُ يَسْمَعُ الْكَلَامَ فَقَالَ الرَّسُولُ لِأَبِي إِنَّ مَوْلَاكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ إِنِّي مَاضٍ وَ الْأَمْرُ صَائِرٌ إِلَى ابْنِي عَلِيٍّ وَ لَهُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ بَعْدَ أَبِي ثُمَّ مَضَى الرَّسُولُ وَ رَجَعَ أَحْمَدُ إِلَى مَوْضِعِهِ وَ قَالَ لِأَبِي مَا الَّذِي قَدْ قَالَ لَكَ قَالَ خَيْراً قَالَ قَدْ سَمِعْتُ مَا قَالَ فَلِمَ تَكْتُمُهُ وَ أَعَادَ مَا سَمِعَ فَقَالَ لَهُ أَبِي قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَا فَعَلْتَ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ وَ لا تَجَسَّسُوا فَاحْفَظِ الشَّهَادَةَ لَعَلَّنَا نَحْتَاجُ إِلَيْهَا يَوْماً مَا وَ إِيَّاكَ أَنْ تُظْهِرَهَا إِلَى وَقْتِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبِي كَتَبَ نُسْخَةَ الرِّسَالَةِ فِي عَشْرِ رِقَاعٍ وَ خَتَمَهَا وَ دَفَعَهَا إِلَى عَشْرَةٍ مِنْ وُجُوهِ الْعِصَابَةِ وَ قَالَ إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ الْمَوْتِ قَبْلَ أَنْ أُطَالِبَكُمْ بِهَا فَافْتَحُوهَا وَ أَعْلِمُوا بِمَا فِيهَا فَلَمَّا مَضَى أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) ذَكَرَ أَبِي أَنَّهُ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى قَطَعَ عَلَى يَدَيْهِ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِمِائَةِ إِنْسَانٍ وَ اجْتَمَعَ رُؤَسَاءُ الْعِصَابَةِ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ يَتَفَاوَضُونَ هَذَا الْأَمْرَ فَكَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ إِلَى أَبِي يُعْلِمُهُ بِاجْتِمَاعِهِمْ عِنْدَهُ وَ أَنَّهُ لَوْ لَا مَخَافَةُ الشُّهْرَةِ لَصَارَ مَعَهُمْ إِلَيْهِ وَ يَسْأَلُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَرَكِبَ أَبِي وَ صَارَ إِلَيْهِ فَوَجَدَ الْقَوْمَ مُجْتَمِعِينَ عِنْدَهُ فَقَالُوا لِأَبِي مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ أَبِي لِمَنْ عِنْدَهُ الرِّقَاعُ أَحْضِرُوا الرِّقَاعَ فَأَحْضَرُوهَا فَقَالَ لَهُمْ هَذَا مَا أُمِرْتُ بِهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ كُنَّا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مَعَكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ شَاهِدٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُمْ قَدْ أَتَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِ هَذَا أَبُو جَعْفَرٍ الْأَشْعَرِيُّ يَشْهَدُ لِي بِسَمَاعِ هَذِهِ الرِّسَالَةِ وَ سَأَلَهُ أَنْ يَشْهَدَ بِمَا عِنْدَهُ فَأَنْكَرَ أَحْمَدُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ هَذَا شَيْئاً فَدَعَاهُ أَبِي إِلَى الْمُبَاهَلَةِ فَقَالَ لَمَّا حَقَّقَ عَلَيْهِ قَالَ قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَ هَذَا مَكْرُمَةٌ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبُ لَا لِرَجُلٍ مِنَ الْعَجَمِ فَلَمْ يَبْرَحِ الْقَوْمُ حَتَّى قَالُوا بِالْحَقِّ جَمِيعاً .


اردو

اس نے کہا: وہ (میرے والد) ابو جعفر علیہ السلام کے دروازے پر اس خدمت کے لیے حاضر رہتے تھے جس پر وہ مامور تھے۔ احمد بن محمد بن عیسیٰ ہر رات سحر کے وقت آتے تھے تاکہ ابو جعفر علیہ السلام کی بیماری کی خبر معلوم کریں۔ ایک قاصد تھا جو ابو جعفر علیہ السلام اور میرے والد کے درمیان آیا جایا کرتا تھا؛ جب بھی وہ آتا، احمد اٹھ جاتا اور میرے والد اس سے اکیلے ملتے تھے۔ ایک رات میں باہر نکلا اور احمد مجلس سے اٹھ گیا اور میرے والد قاصد کے ساتھ اکیلے ہو گئے، اور احمد چکر لگا کر وہاں کھڑا ہو گیا جہاں سے بات سنی جا سکتی تھی۔ قاصد نے میرے والد سے کہا: 'آپ کے مولا آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے کہتے ہیں: میں جانے والا ہوں، اور یہ امر (امامت) میرے بیٹے علی کو منتقل ہو گا، اور میرے بعد ان کا آپ پر وہی حق ہو گا جو میرا اپنے والد کے بعد آپ پر تھا۔' پھر قاصد چلا گیا اور احمد اپنی جگہ واپس آ گیا اور میرے والد سے کہا: 'انہوں نے آپ سے کیا کہا؟' والد نے کہا: 'خیر کی بات۔' اس نے کہا: 'میں نے سن لیا جو انہوں نے کہا، تو آپ اسے کیوں چھپاتے ہیں؟' اور اس نے جو سنا وہ دہرایا۔ تو میرے والد نے اس سے کہا: 'اللہ نے آپ پر جو کام آپ نے کیا اسے حرام کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جاسوسی مت کرو" پس اس گواہی کو محفوظ رکھو، شاید ہمیں کسی دن اس کی ضرورت پڑے، اور ہوشیار رہو کہ اسے اس کے وقت سے پہلے ظاہر نہ کرو۔' جب صبح ہوئی، میرے والد نے پیغام کی نقل دس پرچوں پر لکھی اور انہیں مہر کر کے شیعہ برادری کے دس سرکردہ افراد کو دے دیا اور کہا: 'اگر میرے ساتھ موت کا حادثہ ہو جائے اس سے پہلے کہ میں آپ سے یہ واپس لوں، تو انہیں کھولنا اور جو ان میں ہو اس پر عمل کرنا۔' جب ابو جعفر علیہ السلام کا وصال ہوا، میرے والد نے ذکر کیا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نہ نکلے یہاں تک کہ تقریباً چار سو افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، اور شیعہ برادری کے سردار محمد بن فرج کے گھر جمع ہوئے اور اس معاملے پر گفتگو کرنے لگے۔ تو محمد بن فرج نے میرے والد کو خط لکھا کہ لوگ ان کے پاس جمع ہیں اور اگر شہرت کا خوف نہ ہوتا تو وہ ان کے ساتھ آتے، اور انہوں نے ان سے آنے کی درخواست کی۔ میرے والد سوار ہو کر وہاں گئے اور قوم کو جمع پایا۔ انہوں نے میرے والد سے کہا: 'اس معاملے میں آپ کیا کہتے ہیں؟' میرے والد نے پرچے رکھنے والوں سے کہا: 'پرچے لاؤ۔' وہ لے آئے۔ تو انہوں نے کہا: 'یہ وہ ہے جس کا مجھے حکم دیا گیا تھا۔' بعض نے کہا: 'ہم چاہتے تھے کہ اس معاملے میں آپ کے ساتھ کوئی اور گواہ بھی ہوتا۔' انہوں نے کہا: 'اللہ عزوجل نے وہ گواہ آپ کے پاس پہلے ہی بھیج دیا ہے۔ یہ ابو جعفر اشعری ہیں جو میرے لیے اس پیغام کے سننے کی گواہی دیں گے۔' اور انہوں نے ان سے اپنے علم کی گواہی دینے کی درخواست کی۔ لیکن احمد نے انکار کیا کہ انہوں نے اس میں سے کچھ سنا ہو۔ تو میرے والد نے انہیں مباہلے کی دعوت دی۔ جب ان پر پختہ دلیل آئی تو انہوں نے کہا: 'میں نے وہ بات سنی تھی، لیکن یہ شرف ایک عربی مرد کو ملتا تو بہتر تھا، نہ کہ عجمی مرد کو۔' اور لوگ وہاں سے نہیں اٹھے یہاں تک کہ سب نے حق کا اقرار کر لیا۔


Translation

Al Husayn Bin Muhammad, from Al Kahyrani, from his father, said, ‘He (my father) had necessitated the door of Abu Ja’far<sup>asws</sup> for the service (as a doorman) which he<sup>asws</sup> had allocated with, and it was so that Ahmad Bin Muhammad Bin Isa used to come during the dawn of every night in order to know the news of the illness of Abu Ja’far<sup>asws</sup> (9<sup>th</sup> Imam<sup>asws</sup>) and there was the messenger who used to come and go between Abu Ja’far<sup>asws</sup> and my father. Whenever he (the messenger) was present, Ahmad would arise and my father would be alone with him (the messenger). So I went out one night and Ahmad stood from the gathering and my father was alone with the messenger, and Ahmad was circling around. So he paused, when he heard the speech, and the messenger said to my father, ‘Your Master<sup>asws</sup> conveys the greetings upon you and is saying to you: ‘I<sup>asws</sup> am going to pass away and the command (Imamate) is going to (be with) my<sup>asws</sup> son<sup>asws</sup> Ali<sup>asws</sup>, and for him<sup>asws</sup> upon you all, after me<sup>asws</sup> would be what is for me<sup>asws</sup> upon you after my<sup>asws</sup> father<sup>asws</sup>’. Then the messenger went away and Ahmad returned to his place and said to my father, ‘What is that which he had said to you?’ He said, ‘Good’. He said, ‘I have heard what he said, therefore do not conceal it’, and he repeated what he had heard. So my father said to him, ‘Allah<sup>azwj</sup> has Prohibited upon you what you did because Allah<sup>azwj</sup> the Exalted is Saying <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:49#h12"><a href="/books/quran:49#h12">[49:12]</a></a> and do not spy</span>, therefore preserve the testimony for perhaps we would be needy to it one day and beware of manifesting it before its time’. So when it was morning, my father copied the message in ten papers and sealed these and handed these over to ten from the clan and said, ‘If there occurs with me an occurrence of death before I seek these from you all, so open these and get to know with whatever is in it’. So when Abu Ja’far<sup>asws</sup> passed away, my father mentioned that he would not come out from his house until about four hundred persons had cut off (from others) upon his hands, and he gathered the chiefs of the community in the presence of Muhammad Bin Al-Faraj negotiating this matter. So Muhammad Bin Al-Faraj wrote to my father letting him know of their gathering in his presence, and that he, if he does not fear the publicity, should come to be with them, and he asked him to come over. So my father rode and went over to him and he found the people have had gathered with him. So they said to my father, ‘What are you saying regarding this matter?’ So my father said, ‘To the one with whom there is a parchment, should display the parchment’. So they displayed these, and he said to them, ‘This is what I had been ordered with’. So some of them said, ‘We would have loved it if there had been other witnesses with you regarding this matter’. So he said to them, ‘Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic has Already Come with it. This is Abu Ja’far Al-Ashary. He would testify for me that he heard this message, and ask him that he should testify with whatever is with him’. But, Ahmad denied that he had been hearing anything from this. So my father called him to the imprecation (Mubahila). So he (the narrator) said, ‘When it was proven against him, he said, ‘I had heard that and this is a prestige. I had liked it that it would happen to be from a man from the Arabs, not to a man from the non-Arabs’. (Al-Khayrani was a non-Arab). So the people did not depart until they had spoken with the truth, altogether’.


Book (Kitab)كِتَابُ الْحُجَّةِ
Chapter (Bab)بَابُ الْإِشَارَةِ وَ النَّصِّ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ الثَّالِثِ ( عليه السلام )
CollectionAl-Kafi

Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.