هَا إِلَى أَنْفُسِهِمْ وَ يُخْبِرُونَهُ بِاجْتِمَاعِهِمْ وَ يَأْمُرُونَهُ بِالْخُرُوجِ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) هَذِهِ الْكُتُبُ ابْتِدَاءٌ مِنْهُمْ أَوْ جَوَابُ مَا كَتَبْتَ بِهِ إِلَيْهِمْ وَ دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ فَقَالَ بَلِ ابْتِدَاءٌ مِنَ الْقَوْمِ لِمَعْرِفَتِهِمْ بِحَقِّنَا وَ بِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) وَ لِمَا يَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ وُجُوبِ مَوَدَّتِنَا وَ فَرْضِ طَاعَتِنَا وَ لِمَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الضِّيقِ وَ الضَّنْكِ وَ الْبَلَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) إِنَّ الطَّاعَةَ مَفْرُوضَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ سُنَّةٌ أَمْضَاهَا فِي الْأَوَّلِينَ وَ كَذَلِكَ يُجْرِيهَا فِي الْآخِرِينَ وَ الطَّاعَةُ لِوَاحِدٍ مِنَّا وَ الْمَوَدَّةُ لِلْجَمِيعِ وَ أَمْرُ اللَّهِ يَجْرِي لِأَوْلِيَائِهِ بِحُكْمٍ مَوْصُولٍ وَ قَضَاءٍ مَفْصُولٍ وَ حَتْمٍ مَقْضِيٍّ وَ قَدَرٍ مَقْدُورٍ وَ أَجَلٍ مُسَمًّى لِوَقْتٍ مَعْلُومٍ فَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً فَلَا تَعْجَلْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْجَلُ لِعَجَلَةِ الْعِبَادِ وَ لَا تَسْبِقَنَّ اللَّهَ فَتُعْجِزَكَ الْبَلِيَّةُ فَتَصْرَعَكَ قَالَ فَغَضِبَ زَيْدٌ عِنْدَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لَيْسَ الْإِمَامُ مِنَّا مَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ وَ أَرْخَى سِتْرَهُ وَ ثَبَّطَ عَنِ الْجِهَادِ وَ لَكِنَّ الْإِمَامَ مِنَّا مَنْ مَنَعَ حَوْزَتَهُ وَ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ وَ دَفَعَ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَ ذَبَّ عَنْ حَرِيمِهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) هَلْ تَعْرِفُ يَا أَخِي مِنْ نَفْسِكَ شَيْئاً مِمَّا نَسَبْتَهَا إِلَيْهِ فَتَجِيءَ عَلَيْهِ بِشَاهِدٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَوْ حُجَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْ تَضْرِبَ بِهِ مَثَلًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَحَلَّ حَلَالًا وَ حَرَّمَ حَرَاماً وَ فَرَضَ فَرَائِضَ وَ ضَرَبَ أَمْثَالًا وَ سَنَّ سُنَناً وَ لَمْ يَجْعَلِ الْإِمَامَ الْقَائِمَ بِأَمْرِهِ شُبْهَةً فِيمَا فَرَضَ لَهُ مِنَ الطَّاعَةِ أَنْ يَسْبِقَهُ بِأَمْرٍ قَبْلَ مَحَلِّهِ أَوْ يُجَاهِدَ فِيهِ قَبْلَ حُلُولِهِ وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الصَّيْدِ لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ أَنْتُمْ حُرُمٌ أَ فَقَتْلُ الصَّيْدِ أَعْظَمُ أَمْ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَ جَعَلَ لِكُلِّ شَيْءٍ مَحَلًّا وَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ إِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا وَ قَالَ عَزَّ وَ جَلَّ لا تُحِلُّوا شَعائِرَ اللَّهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرامَ فَجَعَلَ الشُّهُورَ عِدَّةً مَعْلُومَةً فَجَعَلَ مِنْهَا أَرْبَعَةً حُرُماً وَ قَالَ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ثُمَّ قَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ فَجَعَلَ لِذَلِكَ مَحَلًّا وَ قَالَ وَ لا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتابُ أَجَلَهُ فَجَعَلَ لِكُلِّ شَيْءٍ أَجَلًا وَ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَاباً فَإِنْ كُنْتَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكَ وَ يَقِينٍ مِنْ أَمْرِكَ وَ تِبْيَانٍ مِنْ شَأْنِكَ فَشَأْنَكَ وَ إِلَّا فَلَا تَرُومَنَّ أَمْراً أَنْتَ مِنْهُ فِي شَكٍّ وَ شُبْهَةٍ وَ لَا تَتَعَاطَ زَوَالَ مُلْكٍ لَمْ تَنْقَضِ أُكُلُهُ وَ لَمْ يَنْقَطِعْ مَدَاهُ وَ لَمْ يَبْلُغِ الْكِتَابُ أَجَلَهُ فَلَوْ قَدْ بَلَغَ مَدَاهُ وَ انْقَطَعَ أُكُلُهُ وَ بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ لَانْقَطَعَ الْفَصْلُ وَ تَتَابَعَ النِّظَامُ وَ لَأَعْقَبَ اللَّهُ فِي التَّابِعِ وَ الْمَتْبُوعِ الذُّلَّ وَ الصَّغَارَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ إِمَامٍ ضَلَّ عَنْ وَقْتِهِ فَكَانَ التَّابِعُ فِيهِ أَعْلَمَ مِنَ الْمَتْبُوعِ أَ تُرِيدُ يَا أَخِي أَنْ تُحْيِيَ مِلَّةَ قَوْمٍ قَدْ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَ عَصَوْا رَسُولَهُ وَ اتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ وَ ادَّعَوُا الْخِلَافَةَ بِلَا بُرْهَانٍ مِنَ اللَّهِ وَ لَا عَهْدٍ مِنْ رَسُولِهِ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ يَا أَخِي أَنْ تَكُونَ غَداً الْمَصْلُوبَ بِالْكُنَاسَةِ ثُمَّ ارْفَضَّتْ عَيْنَاهُ وَ سَالَتْ دُمُوعُهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ مَنْ هَتَكَ سِتْرَنَا وَ جَحَدَنَا حَقَّنَا وَ أَفْشَى سِرَّنَا وَ نَسَبَنَا إِلَى غَيْرِ جَدِّنَا وَ قَالَ فِينَا مَا لَمْ نَقُلْهُ فِي أَنْفُسِنَا .
اردو
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے، انہوں نے الحسن بن سعید سے، انہوں نے الحسن بن الجارود سے، انہوں نے موسیٰ بن بکر بن داب سے، انہوں نے ایک ایسے شخص سے جس نے یہ روایت ان تک پہنچائی، اور انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی کہ زید بن علی بن الحسین علیہ السلام، ابو جعفر محمد بن علی کے پاس اہلِ کوفہ کے خطوط لے کر آئے، انہیں اپنی طرف بلاتے ہوئے، ان کے اجتماع کی خبر دیتے ہوئے، اور انہیں خروج کا حکم دیتے ہوئے۔ ابو جعفر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: “کیا یہ خطوط ان کی طرف سے ابتداء ہیں، یا اس کا جواب ہیں جو تم نے انہیں لکھا اور جس کی طرف تم نے انہیں دعوت دی؟” انہوں نے کہا: “بلکہ یہ لوگوں کی طرف سے ابتداء ہے، اس لیے کہ وہ ہمارے حق، رسولِ اللہ صلى الله عليه وآله کے ساتھ ہماری قرابت، اور اللہ عز وجل کی کتاب میں ہمارے ساتھ محبت کی فرضیت اور ہماری اطاعت کے وجوب کو جانتے ہیں، اور اس لیے بھی کہ ہم جس تنگی، سختی اور آزمائش میں مبتلا ہیں۔” ابو جعفر علیہ السلام نے ان سے فرمایا: “بے شک اطاعت اللہ عز وجل کی طرف سے فرض ہے، اور ایک سنت ہے جسے اس نے پہلے لوگوں میں جاری فرمایا، اور اسی طرح اسے بعد والوں میں بھی جاری کرتا ہے۔ اطاعت ہم میں سے ایک کے لیے ہے، اور محبت ہم سب کے لیے۔ اللہ کا امر اپنے اولیاء کے لیے ایک مربوط حکم، ایک فیصلہ کن قضا، ایک قطعی حتم، ایک مقدر اندازے، اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ ایک معلوم وقت تک جاری ہوتا ہے۔” “پس ان لوگوں سے متاثر نہ ہو جنہیں یقین نہیں؛ بے شک وہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آئیں گے۔” “تو جلدی نہ کرو، کیونکہ اللہ بندوں کی جلدی کی وجہ سے جلدی نہیں کرتا، اور اللہ سے پہلے بڑھنے کی کوشش نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ مصیبت تم پر غالب آ جائے اور تمہیں گرا دے۔” اس نے کہا: اس پر زید غصے میں آ گیا، پھر اس نے کہا: “ہم میں سے امام وہ نہیں جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے، اپنا پردہ لٹکا لے، اور جہاد سے لوگوں کو روک دے؛ بلکہ ہم میں سے امام وہ ہے جو اپنی سرحد کی حفاظت کرے، اللہ کی راہ میں اس طرح جہاد کرے جیسا اس کا حق ہے، اپنی رعایا کا دفاع کرے، اور اپنے حریم کی حفاظت کرے۔” ابو جعفر عليه السلام نے فرمایا: “اے میرے بھائی، کیا تم اپنے اندر اس چیز میں سے کچھ جانتے ہو جسے تم نے اس کی طرف منسوب کیا ہے، تاکہ تم اس کے لیے اللہ کی کتاب سے کوئی گواہ، یا رسول اللہ صلى الله عليه وآله سے کوئی دلیل، یا اس کی مثال پیش کر سکو؟ اللہ عز وجل نے حلال کو حلال کیا، حرام کو حرام کیا، فرائض مقرر کیے، مثالیں بیان کیں، اور سنتیں قائم کیں، اور اس نے اس امام کو، جو اس کے حکم سے قیام کرتا ہے، اس چیز میں مشتبہ نہیں بنایا جو اس نے اس کے لیے اطاعت میں فرض کی ہے، کہ وہ کسی معاملے میں اس کے اپنے مقام سے پہلے بڑھ جائے یا اس کے آنے سے پہلے اس میں جہاد کرے۔” اور اللہ عز وجل نے شکار کے بارے میں فرمایا: “جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو قتل نہ کرو۔” “کیا شکار کو قتل کرنا زیادہ بڑا ہے، یا اس جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے؟ اور اس نے ہر چیز کے لیے ایک مناسب مقام مقرر کیا ہے۔” اور اللہ عز وجل نے فرمایا: “اور جب تم احرام سے باہر آ جاؤ، تو شکار کرو۔” اور اس نے فرمایا: “اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو، اور نہ ہی حرمت والے مہینے کی۔” پس اس نے مہینوں کو ایک معلوم تعداد بنایا، اور ان میں سے چار کو حرمت والے بنایا۔ اور اس نے فرمایا: “پس زمین میں چار مہینے تک آزادانہ چلو پھرو، اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔” پھر اُس نے، جو بابرکت اور بلند و برتر ہے، فرمایا: “پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو۔” پس اُس نے اس کے لیے ایک مناسب جگہ مقرر کی۔ اور اُس نے فرمایا: “اور نکاح کی گرہ کو پختہ کرنے کا ارادہ نہ کرو یہاں تک کہ مقررہ مدت اپنی انتہا کو پہنچ جائے۔” پس اُس نے ہر چیز کے لیے ایک مقررہ مدت اور ہر مدت کے لیے ایک حکم مقرر کیا۔ “پس اگر تم اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل، اپنے معاملے میں یقین، اور اپنے حال کے بارے میں وضاحت پر ہو، تو اپنے معاملے پر آگے بڑھو۔ ورنہ ایسے معاملے کی طلب نہ کرو جس کے بارے میں تم شک اور تردد میں ہو، اور ایسی سلطنت کے زوال کی کوشش نہ کرو جس کا پھل ابھی ختم نہ ہوا ہو، جس کی مدت ابھی منقطع نہ ہوئی ہو، اور جس کا فیصلہ ابھی اپنی مقررہ میعاد تک نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ اگر اس کی مدت پوری ہو چکی ہوتی، اس کا پھل ختم ہو چکا ہوتا، اور فیصلہ اپنی میعاد تک پہنچ چکا ہوتا، تو جدائی ختم ہو جاتی، نظام ترتیب وار چل پڑتا، اور اللہ پیروکار اور جس کی پیروی کی گئی، دونوں پر ذلت اور پستی کو لازم کر دیتا۔” “میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ایسے امام سے جو اپنے وقت سے بھٹک جائے، یہاں تک کہ اس میں پیروکار، جس کی پیروی کی جا رہی ہو، اس سے زیادہ جاننے والا ہو۔ اے میرے بھائی! کیا تم ایک ایسی قوم کے دین کو زندہ کرنا چاہتے ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی، اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کی، اور اللہ کی طرف سے کسی دلیل اور نہ اس کے رسول کی طرف سے کسی عہد کے بغیر خلافت کا دعویٰ کیا؟ میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، اے میرے بھائی، کہیں کل تم ہی الکنّاسہ میں سولی پر چڑھائے جانے والے نہ ہو۔” پھر اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور اس کے آنسو بہنے لگے، پھر اس نے کہا: “اللہ ہمارے اور اس کے درمیان ہے جس نے ہماری پردہ دری کی، ہمارے حق کا انکار کیا، ہمارا راز فاش کیا، ہمیں ہمارے دادا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کیا، اور ہمارے بارے میں وہ کچھ کہا جو ہم نے اپنے بارے میں نہیں کہا۔”
Translation
Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Al Husayn Bin Saeed, from Al Husayn Bin Al Jaroud, from Musa Bin Bakr Bin Dab, from the one who narrated it, (It has been narrated) from Abu Ja’far<sup>asws</sup>. Zayd son of Ali<sup>asws</sup> Bin Al-Husayn<sup>asws</sup> went to Abu Ja’far Muhammad<sup>asws</sup> Bin Ali<sup>asws</sup>, and with him were letters from the people of Al-Kufa, inviting him in these to themselves and informing him of their groups, and instructing him with the rising (against the ruling authorities). So Abu Ja’far<sup>asws</sup> said to him: ‘These letter are an initiative from them or a response to what you had written with to them and inviting them to it?’ So he said, ‘But, it is an initiative from the people due to their recognition of our rights and due to their acknowledgment of our relationship from Rasool-Allah<sup>saww</sup>, and due to what they are finding in the Book of Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic from the Obligation of having our cordiality and the necessity of being obedient to us, and due to what we are in from the straightness, and the impediments, and the afflictions’. So Abu Ja’far<sup>asws</sup> said to him: ‘The obedience is an Imposition from Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic and a Sunnah established among the former ones, and similar to that it flows among the later ones, and the obedience is to one of us<sup>asws</sup> and the cordiality is for the entirety (all of us<sup>asws</sup>), and the Command of Allah<sup>azwj</sup> Flows for His<sup>azwj</sup> friends by the Decisions Made and the decisive Judgment and Ordained Accomplishments, and Determinations Determined, and a specified term for a known time. Therefore do not let those who have no conviction belittle you, for they will never benefit you of anything from Allah<sup>azwj</sup>. So, do not be hasty, for Allah<sup>azwj</sup> does not Haste due to the hastiness of the servants, nor precede Allah<sup>azwj</sup>, for the afflictions would frustrate you and destroy you’. He (the narrator) said, ‘So Zayd got angered during that, then said, ‘The Imam<sup>asws</sup> from us doesn’t sit in his<sup>asws</sup> house and draw his curtains and discourage from the Jihad, but the Imam<sup>asws</sup> from is the one who defends his<sup>asws</sup> possessions and does Jihad in the Way of Allah<sup>azwj</sup> as is rightful for the Jihad, and defends his<sup>asws</sup> citizens and protects his<sup>asws</sup> sanctity’. Abu Ja’far<sup>asws</sup> said: ‘O brother, do you recognise anything from yourself from what you are linking it to, so you can come with a witness upon it from the Book of Allah<sup>azwj</sup>, or a proof from Rasool-Allah<sup>saww</sup>, or you can strike an example with? Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic Permitted the Permissible and Prohibited the Prohibition, and Necessitated the necessities, and Struck examples, and Established the Sunnahs and He<sup>azwj</sup> did not Make The rising Imam<sup>asws</sup> by His<sup>azwj</sup> Command as being doubtful with regards to what is Necessitated for him<sup>asws</sup> from the obedience, that he<sup>asws</sup> would precede a matter before its (rightful) time or he<sup>asws</sup> would struggle with regards to it before its resolution. And Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic has Said regarding the hunting: <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h95"><a href="/books/quran:5#h95">[5:95]</a></a> O you who believe! Do not kill game while you are in the Sanctuary</span>. Is the killing of the prey more grievous or killing the soul whom Allah<sup>azwj</sup> has Prohibited? And He<sup>azwj</sup> Made a place for everything, and Said: <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h2"><a href="/books/quran:5#h2">[5:2]</a></a> and when you are free from the Obligations of the Pilgrimage, then hunt</span>. And the Mighty and Majestic Said <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:5#h2"><a href="/books/quran:5#h2">[5:2]</a></a> Do not violate the Signs Appointed by Allah nor the Sacred Month</span>. So He<sup>azwj</sup> Made the months to be of a known number, and He<sup>azwj</sup> Made four of these to be sanctimonious and Said: <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:9#h2"><a href="/books/quran:9#h2">[9:2]</a></a> So go about in the land for four months and know that you cannot frustrate Allah and that Allah will Frustrate the unbelievers</span>. Then the Blessed and High Said: <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:9#h5"><a href="/books/quran:9#h5">[9:5]</a></a> So when the Sacred Months have passed away, then fight the Polytheists wherever you find them</span>. Thus, He<sup>azwj</sup> Made a place for it. And He<sup>azwj</sup> Said: <span class="ibTxt"><a href="/#/books/quran:2#h235"><a href="/books/quran:2#h235">[2:235]</a></a> and do not confirm the marriage tie until the writing is fulfilled</span>. Thus, He<sup>azwj</sup> Made a term for everything and for every term a writing. Therefore, if you were upon a proof from your Lord<sup>azwj</sup> and conviction of your affairs, and a clarification of your occupation, so (do) your occupation, or else do not indulge in a matter while you are in doubt with regards to it and confusion, nor try to decline a kingdom whose consumption has not expired yet and its term has yet to be cut off and its Ordained term has not reached. So had its term reached, and its consumption cut-off, and the Ordained term reached, the gap would be eradicated and the system would be followed, and Allah<sup>azwj</sup> would Punish the followers and the followed one to be humiliated and belittled. I<sup>asws</sup> seek Refuge with Allah<sup>azwj</sup> from a leader who strays from his time, and the follower in it being more knowledgeable than the followed one. O brother! Are you intending to revive a nation of people who have disbelieved in the Signs of Allah<sup>azwj</sup> and disobeyed His<sup>azwj</sup> Rasool<sup>saww</sup> and followed their own desires without a Guidance from Allah<sup>azwj</sup> and claimed the Caliphate without a proof from Allah<sup>azwj</sup>, nor any covenant from His<sup>azwj</sup> Rasool<sup>saww</sup>? I seek Refuge with Allah<sup>azwj</sup>, O bother that you would happen to be crucified tomorrow by the rubbish dump’. Then his<sup>asws</sup> eyes filled up and his<sup>asws</sup> tears flowed, then he<sup>asws</sup> said: ‘Allah<sup>azwj</sup> is between us<sup>asws</sup> and the ones who tore down our<sup>asws</sup> veils and fought against us<sup>asws</sup> of our<sup>asws</sup> rights, and publicised our<sup>asws</sup> secrets, and linked us to other than our<sup>asws</sup> grandfather<sup>saww</sup>, and said regarding us<sup>asws</sup> what we<sup>asws</sup> did not say regarding ourselves<sup>asws</sup>’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.