John Shaqi

1511 - وَقَالَ اَلصَّادِقُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: «إِنَّ ذَا اَلْقَرْنَيْنِ لَمَّا اِنْتَهَى إِلَى اَلسَّدِّ جَاوَزَهُ فَدَخَلَ فِي اَلظُّلُمَاتِ فَإِذَا هُوَ بِمَلَكٍ قَائِمٍ عَلَى جَبَلٍ طُولُهُ خَمْسُمِائَةِ ذِرَاعٍ فَقَالَ لَهُ اَلْمَلَكُ يَا ذَا اَلْقَرْنَيْنِ أَ مَا كَانَ خَلْفَكَ مَسْلَكٌ فَقَالَ لَهُ ذُو اَلْقَرْنَيْنِ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مَلَكٌ مِنْ مَلاَئِكَةِ اَلرَّحْمَنِ مُوَكَّلٌ بِهَذَا اَلْجَبَلِ وَ لَيْسَ مِنْ جَبَلٍ خَلَقَهُ اَللَّهُ إِلاَّ وَ لَهُ عِرْقٌ مُتَّصِلٌ بِهَذَا اَلْجَبَلِ فَإِذَا أَرَادَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ يُزَلْزِلَ مَدِينَةً أَوْحَى إِلَيَّ فَزَلْزَلْتُهَا.


اردو

اَلصَّادِق علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘بے شک، جب ذو القرنین اس بندش تک پہنچا تو اس نے اسے عبور کیا اور تاریکی میں داخل ہو گیا۔ پھر اچانک وہ ایک فرشتے کے پاس پہنچا جو ایک پہاڑ پر کھڑا تھا جس کی بلندی پانچ سو ذرع تھی۔ فرشتے نے اس سے کہا، ‘اے ذو القرنین، کیا تمہارے پیچھے کوئی راستہ نہیں تھا؟’ ذو القرنین نے اس سے کہا، ‘تم کون ہو؟’ اس نے کہا، ‘میں رحمن کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہوں، جسے اس پہاڑ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا پہاڑ نہیں بنایا جس کا ایک رگ اس پہاڑ سے منسلک نہ ہو۔ جب اللہ عزّوجل چاہتا ہے کہ کسی شہر کو زلزلہ دے، تو وہ مجھے وحی کرتا ہے اور میں اسے زلزلہ دیتا ہوں۔’’


Translation

Hadith.1511 - Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) said: "When Dhu al-Qarnayn reached the barrier (the wall), he passed beyond it and entered the darkness. There, he encountered an angel standing upon a mountain whose height was five hundred cubits. The angel said to him, 'O’ Dhu al-Qarnayn, was there no way back behind you?' Dhu al-Qarnayn asked: 'Who are you?' The angel replied: 'I am an angel from among the angels of the Most Merciful, assigned to this mountain. There is no mountain that Allah (swt) has created except that it has a root connected to this mountain. When Allah (swt), the Mighty and Glorious, intends to cause an earthquake in a city, He commands me, and I cause it to quake.'"


Chapter (Bab)باب - صلاة الكسوف والزلازل والرياح والظلم وعلتها

Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.