نَوَادِرِ اِبْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحَدِهِمَا عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ أَنَّهُ قَالَ : فِي اَلرَّجُلِ يَطُوفُ فَتَعْرِضُ لَهُ اَلْحَاجَةُ قَالَ «لاَ بَأْسَ بِأَنْ يَذْهَبَ فِي حَاجَتِهِ أَوْ حَاجَةِ غَيْرِهِ وَ يَقْطَعَ اَلطَّوَافَ وَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَرِيحَ فِي طَوَافِهِ وَ يَقْعُدَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ فَإِذَا رَجَعَ بَنَى عَلَى طَوَافِهِ وَ إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ اَلنِّصْفِ ».
اردو
اور ابن ابی عمیر کے نوادر میں، ہمارے بعض صحابہ سے، دونوں اماموں میں سے ایک، علیہم السلام، سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک شخص کے طواف کرنے کے بارے میں جب اس کے لیے کوئی حاجت پیش آ جائے: انہوں نے فرمایا: “اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی حاجت یا کسی اور کی حاجت کے لیے جائے اور طواف کو روک دے۔ اور اگر وہ طواف کے دوران آرام کرنا چاہے اور بیٹھ جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ پھر جب وہ واپس آئے تو جہاں سے طواف روکا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کرے، چاہے وہ آدھے سے کم ہی کیوں نہ ہو۔”
Translation
Hadith.2795 - In Nawadir of Ibn Abi Umayr, narrated from some of our companions, from one of the Imams (as), it is said regarding a man performing tawaf who is interrupted by a need: "There is no harm if he goes to fulfill his own need or someone else's and interrupts his tawaf. Similarly, if he wishes to rest during his tawaf and sit down, there is no harm in doing so. When he returns, he resumes his tawaf from where he left off, even if he had completed less than half of it."
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.