#239
Muwatta Malik 239
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ . فَقُلْتُ بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ . فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنَ الطُّورِ . فَقَالَ لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلْيَاءَ أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . يَشُكُّ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ بِهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ . قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبَ كَعْبٌ . فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ صَدَقَ كَعْبٌ . ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضِنَّ عَلَىَّ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " . وَتِلْكَ السَّاعَةُ سَاعَةٌ لاَ يُصَلَّى فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ بَلَى . قَالَ فَهُوَ ذَلِكَ .
اردو
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں گیا کوہ طور پر تو ملا میں کعب بن الاحبار سے اور بیٹھا میں ان کے پاس پس بیان کیں کعب الاحبار نے مجھ سے باتیں تورات کی اور میں نے بیان کیں باتیں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو جو باتیں میں نے ان سے کہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر سب دنوں میں جن میں سورج نکلا ہے جمعہ کا دن ہے اسی دن پیدا ہوئے آدم اور اسی دن اتارے گئے جنت سے اور اسی دن معاف ہوا گناہ ان کا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو کان نہ لگائے جمعہ کے دن آفتاب نکلنے تک قیامت کے خوف سے مگر جنات اور آدمی غافل رہتے ہیں اور جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا مسلمان بندہ نماز میں اور وہ مانگے اللہ سے کچھ مگر دے اللہ جل جلالہ اس کو کعب الاحبار نے کہا یہ تو ہر سال میں ایک دن ہوتا ہے میں نے کہا نہیں بلکہ ہر جمعہ کو تو کعب نے تورات کو پڑھا پھر کہا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے تو کہا انہوں نے کہاں سے آتے ہو میں نے کہا کہ کوہ طور سے کہا انہوں نے اگر قبل طور جانے کے تم مجھ سے ملتے تو تم نہ جاتے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہ تیار کئے جائیں اونٹ مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسری میری مسجد یہ تیسری مسجد ایلیا یا بیت المقدس شک ہے راوی کو کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں عبداللہ بن سلام سے اور بیان کیا میں نے ان سے جو گفتگو کی تھی میں نے کعب الاحبار سے جمعہ کے باب میں اور میں نے یہ کہا کہ کعب الاحبار نے کہا یہ دن ہر سال میں ایک بار ہوتا ہے تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جھوٹ بولا کعب نے پھر میں نے کہا کہ کعب نے تورات کو پڑھ کر یہ کہا کہ بے شک یہ ساعت ہر جمعہ کو ہوتی ہے تب عبداللہ بن سلام نے کہا کہ سچ کہا کعب نے پھر کہا عبداللہ بن سلام نے میں جانتا ہوں اس ساعت کو وہ کونسی ہے ابوہریرہ نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو اور بخل نہ کرو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ آخر ساعت ہے جمعہ کی ابوہریرہ نے کہا کیونکہ آخر ساعت ہوگی حالانکہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ نما میں مگر جو مانگتا ہے اللہ سے دیتا ہے اس کو یہ ساعت تو ایسی ہے کہ اس میں نماز نہیں ہو سکتی ہے تو جواب دیا عبداللہ بن سلام نے کیا نہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص بیٹھے نماز کے انتظار میں تو وہ نماز میں ہے یہاں تک کہ نماز پڑھے ابوہریرہ نے کہا ہاں عبداللہ بن سلام نے کہا پس یہی مطلب ہے ۔
Translation
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Abdullah ibn al-Had from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith at-Taymi from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that Abu Hurayra said, "I went out to at-Tur (Mount Sinai) and met Kab al Ahbar and sat with him. He related to me things from the Tawrah and I related to him things from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. Among the things I related to him was that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'The best of days on which the sun rises is the day of jumua. In it Adam was created, and in it he fell from the Garden. In it he was forgiven, and in it he died. In it the Hour occurs, and every moving thing listens from morning till sunset in apprehension of the Hour except jinn and men. In it is a time when Allah gives toa muslim slave standing in prayer whatever he asks for.' Kab said, 'That is one day in every year.' I said, 'No, in every jumua.' Then Kab recited the Tawrah and said, 'The Messenger of Allah has spoken the truth.' " Abu Hurayra continued, "I met Basra ibn Abi Basra al-Ghiffari and he said, 'Where have you come from?' I said, 'From at-Tur.' He said, 'If I had seen you before you left, you would not have gone. I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Only make a special journey to three mosques:the mosque of the Haram (Makka), this mosque (Madina), and the mosque of Ilya or the Bait al-Maqdis (two names of Jerusalem)." ' " (He was not sure which expression was used.) Abu Hurayra continued, "Then I met Abdullah ibn Salam and I told him that I had sat with Kabal-Ahbar, and I mentioned what I had related to him about the day of jumua, and told him that Kab had said, 'That is one day in every year.' Abdullah ibn Salam said, 'Kab lied,' and I added, 'Kab then recited the Tawrah and said, "No, it is in every jumua.'' ' Abdullah ibn Salam said, 'Kab spoke the truth. 'Then Abdullah ibn Salam said, 'I know what time that is.' " Abu Hurayra continued, "I said to him, 'Let me know it - don't keep it from me.' Abdullah ibn Salam said, 'It is the last period of time in the dayof jumua.' " Abu Hurayra continued, "I said, 'How can it be the last period of time in the day of jumua, when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "a muslim slave standing in prayer", and that is a time when there is no prayer?' Abdullah ibn Salam replied, 'Didn't the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Whoever sits waiting for the prayer is in prayer until he prays?" "' Abu Hurayra added, "I said, 'Of course.' He said, 'Then it is that
Provided for research and educational purposes. External Reference Only.