John Shaqi

: «لاَ حَدَّ لِمَنْ لاَ حَدَّ عَلَيْهِ ». قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ : مَعْنَى هَذَا اَلْخَبَرِ أَنَّ اَلْإِنْسَانَ لَوْ قَذَفَ مَجْنُوناً أَوْ مَجْنُونَةً لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ اَلْحَدُّ لِأَنَّهُ لَوْ قَذَفَهُ اَلْمَجْنُونُ لَمَا كَانَ عَلَيْهِ اَلْحَدُّ وَ سَنُبَيِّنُ ذَلِكَ فِيمَا بَعْدُ فِي بَابِ اَلْقَذْفِ إِنْ شَاءَ اَللَّهُ .


اردو

اس سے، الحسن بن محبوب سے، ابی ایوب سے، الفضیل سے، ابی عبد اللہ علیہ السلام سے، جنہوں نے فرمایا: “جس شخص پر حد لازم نہ ہو، اس پر حد نہیں ہے۔” محمد بن الحسن نے کہا: اس روایت کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجنون مرد یا مجنونہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد واجب نہیں ہوگی، کیونکہ اگر مجنون اس پر تہمت لگاتا تو مجنون پر حد نہ ہوتی۔ ہم اس کی وضاحت بعد میں باب القذف میں کریں گے، اگر اللہ نے چاہا۔


Chapter (Bab)1 - بَابُ حُدُودِ اَلزِّنَى

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.