: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ قَذَفَ اِمْرَأَتَهُ فَتَلاَعَنَا ثُمَّ قَذَفَهَا بَعْدَ مَا تُفَرَّقُ أَيْضاً بِالزِّنَى أَ عَلَيْهِ حَدٌّ قَالَ «نَعَمْ عَلَيْهِ حَدٌّ».
اردو
محمد بن یحییٰ، محمد بن الحسین سے، صفوان سے، شعیب سے، ابی بصیر سے، ابی عبداللہ علیہ السلام سے، جنہوں نے فرمایا: میں نے ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، پھر دونوں نے لعان کیا، پھر جدا ہونے کے بعد اس نے دوبارہ اس پر زنا کی تہمت لگائی۔ کیا اس پر حد ہے؟ انہوں نے فرمایا: “ہاں، اس پر حد ہے۔”
Chapter (Bab)6 - بَابُ اَلْحَدِّ فِي اَلْفِرْيَةِ وَ اَلسَّبِّ وَ اَلتَّعْرِيضِ بِذَلِكَ وَ اَلتَّصْرِيحِ وَ اَلشَّهَادَةِ بِالزُّورِ
CollectionTahdhib al-Ahkam
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
Read on Thaqalayn Project ↗Open License
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.