: «كَانَ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ يَجْلِدُ اَلْيَهُودِيَّ وَ اَلنَّصْرَانِيَّ فِي اَلْخَمْرِ وَ مُسْكِرِ اَلنَّبِيذِ ثَمَانِينَ جَلْدَةً إِذَا أَظْهَرُوا شُرْبَهُ فِي مِصْرٍ مِنَ اَلْأَمْصَارِ وَ إِنْ هُمْ شَرِبُوهُ فِي كَنَائِسِهِمْ وَ بِيَعِهِمْ لَمْ يَعْتَرِضْ لَهُمْ حَتَّى يَصِيرُوا بَيْنَ اَلْمُسْلِمِينَ ».
اردو
ابن محبوب نے خالد بن نافع سے، انہوں نے ابو خالد القماط سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا: امیر المؤمنین علیہ السلام یہودی اور نصرانی کو شراب اور مسکر نبیذ کے بارے میں، جب وہ کسی شہر میں اسے علانیہ پیتے تو اسی کوڑے مارتے تھے؛ لیکن اگر وہ اسے اپنی کلیساؤں اور عبادت گاہوں میں پیتے تو جب تک وہ مسلمانوں کے درمیان نہ آ جاتے، آپ ان سے تعرض نہ فرماتے تھے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.