: «اَلْعَبْدُ إِذَا أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ عِنْدَ اَلْإِمَامِ مَرَّةً أَنَّهُ سَرَقَ قَطَعَهُ وَ اَلْأَمَةُ إِذَا أَقَرَّتْ عَلَى نَفْسِهَا عِنْدَ اَلْإِمَامِ بِالسَّرِقَةِ قَطَعَهَا». لِأَنَّ اَلْوَجْهَ فِي هَذَا اَلْخَبَرِ أَنْ نَحْمِلَهُ عَلَى أَنَّهُ إِذَا اِنْضَافَ إِلَى اَلْإِقْرَارِ اَلْبَيِّنَةُ فَأَمَّا مُجَرَّدُ اَلْإِقْرَارِ فَلاَ قَطْعَ عَلَيْهِمَا حَسَبَ مَا تَضَمَّنَهُ اَلْخَبَرُ اَلْأَوَّلُ .
اردو
احمد بن محمد، الحسن بن محبوب سے، وہ علی بن ریاب سے، وہ ضریس کنانی سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، جنہوں نے فرمایا: "اگر غلام امام کے سامنے ایک مرتبہ اپنے خلاف اقرار کرے کہ اس نے چوری کی ہے، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا؛ اور اگر لونڈی امام کے سامنے اپنے خلاف چوری کا اقرار کرے، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔" کیونکہ اس روایت کے بارے میں درست طریقہ یہ ہے کہ اسے اس معنی پر محمول کیا جائے کہ اگر اقرار کے ساتھ بیِّنہ بھی مل جائے تو حکم جاری ہوگا؛ لیکن محض اقرار کی صورت میں ان دونوں پر قطع نہیں، جیسا کہ پہلی روایت میں مذکور ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.