: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ عَنِ اَلصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ اَلْإِبِلِ فَقَالَ «إِنْ تَخَوَّفْتَ اَلضَّيْعَةَ عَلَى مَتَاعِكَ فَاكْنُسْهُ وَ اِنْضِحْهُ وَ صَلِّ وَ لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ فِي مَرَابِضِ اَلْغَنَمِ ».
اردو
الحسین بن سعید، حماد سے، حریز سے، محمد بن مسلم سے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابا عبد اللہ علیہ السلام سے اونٹوں کے باڑوں میں نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: “اگر تمہیں اپنے سامان کے ضائع ہونے کا خوف ہو تو اسے جھاڑ دو، اس پر پانی چھڑکو، اور salat (نماز) ادا کرو۔ اور بھیڑوں کے باڑوں میں salat (نماز) ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔”
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.