John Shaqi

: أَ تَدْرِي لِمَ جُعِلَ اَلذِّرَاعُ وَ اَلذِّرَاعَانِ قُلْتُ لِمَ قَالَ «لِمَكَانِ اَلْفَرِيضَةِ لَكَ أَنْ تَتَنَفَّلَ مِنْ زَوَالِ اَلشَّمْسِ إِلَى أَنْ يَبْلُغَ ذِرَاعاً فَإِذَا بَلَغَ ذِرَاعاً بَدَأْتَ بِالْفَرِيضَةِ وَ تَرَكْتَ اَلنَّافِلَةَ ».


اردو

الحسن بن محمد بن سماعہ، ابن مسکان سے، زرارہ سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، جنہوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ذراع اور دو ذراع کیوں مقرر کیے گئے؟ میں نے کہا: کیوں؟ فرمایا: “فرض نماز کے سبب؛ تم زوالِ شمس سے لے کر اس وقت تک نفل نماز پڑھ سکتے ہو جب تک وہ ایک ذراع تک نہ پہنچ جائے۔ پھر جب وہ ایک ذراع تک پہنچ جائے تو تم فرض نماز شروع کرو اور نفل نماز چھوڑ دو۔”


Chapter (Bab)12 - بَابُ فَضْلِ اَلصَّلاَةِ وَ اَلْمَفْرُوضِ مِنْهَا وَ اَلْمَسْنُونِ

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.