: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ جُعِلْتُ فِدَاكَ تَفُوتُنِي صَلاَةُ اَللَّيْلِ فَأُصَلِّي اَلْفَجْرَ فَلِي أَنْ أُصَلِّيَ بَعْدَ صَلاَةِ اَلْفَجْرِ مَا فَاتَنِي مِنْ صَلاَةِ اَللَّيْلِ وَ أَنَا فِي مُصَلاَّيَ قَبْلَ طُلُوعِ اَلشَّمْسِ فَقَالَ «نَعَمْ وَ لَكِنْ لاَ تُعْلِمْ بِهِ أَهْلَكَ فَيَتَّخِذُونَهُ سُنَّةً ».
اردو
محمد بن احمد بن یحیی نے محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے علی بن الحکم سے، انہوں نے زرعہ سے، انہوں نے مفضل بن عمر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہو جاؤں، مجھ سے نمازِ شب فوت ہو جاتی ہے، پھر میں فجر کی نماز ادا کرتا ہوں۔ کیا میرے لیے جائز ہے کہ فجر کی نماز کے بعد، طلوعِ آفتاب سے پہلے، اپنی نماز گاہ ہی میں رہتے ہوئے، نمازِ شب کا جو حصہ مجھ سے رہ گیا ہے اسے ادا کروں؟ انہوں نے فرمایا: “ہاں، لیکن اپنے اہلِ خانہ کو اس کی خبر نہ دو، مبادا وہ اسے سنت سمجھ لیں۔”
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.