: «لَمَّا هَبَطَ جَبْرَئِيلُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ بِالْأَذَانِ عَلَى رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَانَ رَأْسُهُ فِي حَجْرِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَأَذَّنَ جَبْرَئِيلُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ أَقَامَ فَلَمَّا اِنْتَبَهَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ قَالَ «يَا عَلِيُّ سَمِعْتَ » قَالَ «نَعَمْ » قَالَ «حَفِظْتَ » قَالَ «نَعَمْ » قَالَ «اُدْعُ بِلاَلاً فَعَلِّمْهُ » فَدَعَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ بِلاَلاً فَعَلَّمَهُ ».
اردو
علی بن ابراہیم، ان کے والد سے، ابن ابی عمیر سے، حماد سے، منصور سے، ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، جنہوں نے فرمایا: جب جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پر اذان لے کر نازل ہوئے تو آپ کا سر علی علیہ السلام کی گود میں تھا۔ پس جبرئیل علیہ السلام نے اذان دی اور اقامہ کہی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ بیدار ہوئے تو فرمایا: “اے علی، کیا تم نے سنا؟” انہوں نے کہا: “جی ہاں۔” فرمایا: “کیا تم نے یاد کر لیا؟” انہوں نے کہا: “جی ہاں۔” فرمایا: “بلال کو بلاؤ اور اسے سکھاؤ۔” چنانچہ علی علیہ السلام نے بلال کو بلایا اور اسے سکھایا۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.