John Shaqi

: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ عَمَّا يَقَعُ فِي اَلْآبَارِ قَالَ «أَمَّا اَلْفَأْرَةُ فَيُنْزَحُ مِنْهَا حَتَّى تَطِيبَ وَ إِنْ سَقَطَ فِيهَا كَلْبٌ فَقَدَرْتَ عَلَى أَنْ تَنْزَحَ مَا فِيهَا فَافْعَلْ وَ كُلُّ شَيْ ءٍ سَقَطَ فِي اَلْبِئْرِ لَيْسَ لَهُ دَمٌ مِثْلُ اَلْعَقَارِبِ وَ اَلْخَنَافِسِ وَ أَشْبَاهِ ذَلِكَ فَلاَ بَأْسَ » .


اردو

الشیخ، رحمہ اللہ تعالیٰ، نے مجھے احمد بن محمد سے، ان کے والد سے، الحسين بن الحسن بن أبان سے، الحسين بن سعيد سے، ابن سنان سے، ابن مسکان سے خبر دی، جنہوں نے کہا: میں نے ابا عبداللہ علیہ السلام سے پوچھا کہ کنوؤں میں جو چیز گر جائے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: “رہی چوہیا، تو اس سے پانی نکالا جائے یہاں تک کہ وہ پاکیزہ ہو جائے۔ اور اگر اس میں کتا گر جائے، تو اگر تم اس میں جو کچھ ہے سب نکالنے پر قادر ہو تو ایسا کرو۔ اور ہر وہ چیز جو کنویں میں گرے جس میں خون نہ ہو، جیسے بچھو، بھونرے اور ان جیسے دیگر جانور، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔”


Chapter (Bab)10 - بَابُ اَلْمِيَاهِ وَ أَحْكَامِهَا وَ مَا يَجُوزُ اَلتَّطَهُّرُ بِهِ وَ مَا لاَ يَجُوزُ

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.