: سَأَلَتْهُ أُمُّ وَلَدٍ لِأَبِيهِ فَقَالَتْ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ شَيْ ءٍ وَ أَنَا أَسْتَحِي مِنْهُ فَقَالَ «سَلِينِي وَ لاَ تَسْتَحْيِ » قَالَتْ أَصَابَ ثَوْبِي دَمُ اَلْحَيْضِ فَغَسَلْتُهُ فَلَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ قَالَ «اِصْبَغِيهِ بِمِشْقٍ حَتَّى يَخْتَلِطَ وَ يَذْهَبَ أَثَرُهُ ».
اردو
شیخ نے مجھے یہ خبر دی، احمد بن محمد سے، ان کے والد سے، الحسن بن ابان کے بیٹے حسین سے، حسین بن سعید سے، قاسم سے، علی بن ابی حمزہ سے، العبد الصالح علیہ السلام سے، جنہوں نے فرمایا: اس کے والد کی ایک لونڈی ماں نے اس سے پوچھا اور کہا: “میں آپ پر قربان ہو جاؤں، میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں، مگر مجھے اس سے شرم آتی ہے۔” تو انہوں نے فرمایا: “مجھ سے پوچھو، اور شرم نہ کرو۔” اس نے کہا: “میرے کپڑے پر حیض کا خون لگ گیا تھا، میں نے اسے دھویا، مگر اس کا نشان نہ گیا۔” انہوں نے فرمایا: “اسے مشق سے رنگ دو یہاں تک کہ وہ مل جائے اور اس کا نشان ختم ہو جائے۔”
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.