Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ibrahim
Tafsir Ibn Kathir · Abraham · 52 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۂ ابراھیم ٭٭
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اے نبی! یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ، رسول تمام رسولوں سے افضل و بالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لا سکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں۔
«اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ” ا اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “
«الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّـهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [57-الحديد:9] اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پا لیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہو جاتی ہے۔
«اللهِ ِ» کی دوسری قرأت «اللهُ» بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت «قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [7-الأعراف:158] ، میں۔
جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہو گی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید؟
صفحہ نمبر4186
تفسیر سورۂ ابراھیم ٭٭
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اے نبی! یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ، رسول تمام رسولوں سے افضل و بالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لا سکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں۔
«اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ” ا اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “
«الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّـهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [57-الحديد:9] اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پا لیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہو جاتی ہے۔
«اللهِ ِ» کی دوسری قرأت «اللهُ» بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت «قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [7-الأعراف:158] ، میں۔
جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہو گی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید؟
صفحہ نمبر4186
تفسیر سورۂ ابراھیم ٭٭
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اے نبی! یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ، رسول تمام رسولوں سے افضل و بالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لا سکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں۔
«اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ” ا اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “
«الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّـهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [57-الحديد:9] اصل ہادی اللہ ہی ہے رسولوں کے ہاتھوں جن کی ہدایت اسے منظور ہوتی ہے وہ راہ پا لیتے ہیں اور غیر مغلوب پر غالب زبردست اور ہر چیز پر بادشاہ بن جاتے ہیں اور ہر حال میں تعریفوں والے اللہ کی راہ کی طرف ان کی رہبری ہو جاتی ہے۔
«اللهِ ِ» کی دوسری قرأت «اللهُ» بھی ہے پہلی قرأت بطور صفت کے ہے اور دوسری بطور نئے جملے کے جیسے آیت «قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [7-الأعراف:158] ، میں۔
جو کافر تیرے مخالف ہیں تجھے نہیں مانتے انہیں قیامت کے دن سخت عذاب ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں دنیا کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں رسولوں کی تابعداری سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ حق جو سیدھی اور صاف ہے اسے ٹیڑھی ترچھی کرنا چاہتے ہیں یہ اسی جہالت ضلالت میں رہیں گے لیکن اللہ کی راہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ ہو گی۔ پھر ایسی حالت میں ان کی صلاحیت کی کیا امید؟
صفحہ نمبر4186
ہر قوم کی اپنی زبان میں رسول ٭٭
یہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی انتہائی درجے کی مہربانی ہے کہ ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا تاکہ سمجھنے سمجھانے کی آسانی رہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی رسول کو اللہ تعالیٰ نے اس کی امت کی زبان میں ہی بھیجا ہے ۔ [مسند احمد:158/5:ضعیف و منقطع]
حق ان پر کھل تو جاتا ہی ہے پھر ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے، اس کے چاہنے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ غالب ہے، اس کا ہر کام الحکمت سے ہے، گمراہ وہی ہوتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں اور ہدایت پر وہی آتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں۔ چونکہ ہر نبی صرف اپنی اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا رہا اس لیے اسے اس کی قومی زبان میں ہی کتاب اللہ ملتی تھی اور اس کی اپنی زبان بھی وہی ہوتی تھی۔
صفحہ نمبر4189
آنحضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام تھی ساری دنیا کی سب قوموں کی طرف آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جیسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے پانچ چیزیں خصوصیت سے دی گئی ہیں جو کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں مہینے بھر کی راہ کی دوری پر صرف رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاکیزہ قرار دی گئی ہے، مجھ پر مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہیں تھے، مجھے شفاعت سونپی گئی ہے ہر نبی علیہ السلام صرف اپنی قوم ہی کی طرف آتا تھا اور میں تمام عام لوگوں کی طرف رسول اللہ بنایا گیا ہوں ۔ [صحیح بخاری:335]
قرآن یہی فرماتا ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [ 7-الاعراف: 158 ] ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دو کہ میں تم سب کی جانب اللہ کا رسول ہوں صلی اللہ علیہ وسلم “۔
صفحہ نمبر4190
نو نشانیاں ٭٭
” جیسے ہم نے تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور تجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے کہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے، اسی طرح ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تھا بہت سی نشانیاں بھی دی تھیں “، جن کا بیان آیت «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا» [17-الإسراء:101] میں ہے۔
انہیں بھی یہی حکم تھا کہ ” لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں اور جہالت و ضلالت سے ہٹا کر علم و ہدایت کی طرف لے آ۔ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا، کہ اللہ نے انہیں فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا ان کے لیے دریا کو کھڑا کر دیا ان پر ابر کا سایہ کر دیا ان پر من و سلوی اتارا اور بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائیں “۔
مسند کی مرفوع حدیث میں «بِأَيَّامِ اللَّهِ» کی تفسیر اللہ کی نعمتوں سے مروی ہے۔ [مسند احمد:122/5:حدیث صحیح و اسنادہ ضیعف] لیکن ابن جریر رحمہ اللہ میں یہ روایت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی سے موقوفاً بھی آئی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ ہم نے اپنے بندوں بنی اسرائیل کے ساتھ جو احسان کئے فرعون سے نجات دلوانا، اس کے ذلیل عذابوں سے چھڑوانا، اس میں ہر صابر و شاکر کے لیے عبرت ہے۔ جو مصیبت میں صبر کرے اور راحت میں شکر کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:418/7]
صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کا تمام کام عجیب ہے اسے مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے وہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے راحت و آرام ملے شکر کرتا ہے اس کا انجام بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2999]
صفحہ نمبر4191
اولاد کا قاتل ٭٭
فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔
یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [7-الأعراف:168] یعنی ” ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا “۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ” جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی “۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» [7-الأعراف:167] ، میں۔
پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
صفحہ نمبر4192
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا ۔
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو ۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف]
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [39-الزمر:7] ” تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے “۔
اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی “۔
صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا “۔ ” اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
صفحہ نمبر4193
اولاد کا قاتل ٭٭
فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔
یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [7-الأعراف:168] یعنی ” ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا “۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ” جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی “۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» [7-الأعراف:167] ، میں۔
پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
صفحہ نمبر4192
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا ۔
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو ۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف]
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [39-الزمر:7] ” تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے “۔
اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی “۔
صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا “۔ ” اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
صفحہ نمبر4193
اولاد کا قاتل ٭٭
فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔
یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [7-الأعراف:168] یعنی ” ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا “۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ” جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی “۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» [7-الأعراف:167] ، میں۔
پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔ حدیث میں ہے بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]
صفحہ نمبر4192
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا ۔
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو ۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف]
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [39-الزمر:7] ” تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے “۔
اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» [64-التغابن:6] ” انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی “۔
صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا “۔ ” اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔
صفحہ نمبر4193
موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ”دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے؟“ یہ قول تو ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ کا لیکن ذرا غور طلب ہے۔
بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے، کہا گیا ہے کہ ”عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔“ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔“ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا۔“
وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر «فِي» معنی میں ”بے“ کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں «أَدْخَلَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ» یعنی «فِي الْجَنَّةِ» شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے، اور بقول مجاہد رحمہ اللہ اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ «وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [3-آل عمران:119] ” یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں “۔ یہ بھی ہے کہ ” کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں “۔
صفحہ نمبر4196
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
صفحہ نمبر4197
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
صفحہ نمبر4197
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔ اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
صفحہ نمبر4197
آل لوط ٭٭
کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ «لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا» [7-الأعراف:88] ” ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے “۔
لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ «أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ» [27-النمل:55] ” آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو، وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:76] ” یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اس سر زمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے نکال دیں۔ پھر یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت ہی کم ٹھہر پاتے “۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کے ساتھ مکے سے لے گیا مدینے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار و مددگار بنا دیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں شامل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ بھی فتح کر لیا۔
اور آیت میں ہے «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» [8-الأنفال:30] ” اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر لیں، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر والا اللہ ہے “۔
اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ان کی آرزویں پامال ہو گئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہو گیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند و بالا ہو گیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہو گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
یہاں فرمان ہے کہ ” ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے “۔
صفحہ نمبر4200
باب
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:171-173] کہ ” ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-الأنبياء:105] ” ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے “۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [7-الأعراف:137] ” ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں “۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ” یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں “۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:41-37] ، یعنی ” جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» [55-الرحمن:46] ” اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں “۔
صفحہ نمبر4201
رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ” الٰہی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر “۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [8-الأنفال:19] ” تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے “ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» [50-ق:26-24] ” ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ “۔
صفحہ نمبر4202
حدیث شریف میں ہے کہ «إِنَّهُ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُنَادِي الْخَلَائِقَ فَتَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں ۔ [سنن ترمذي:2574، قال الشيخ الألباني:صحیح] الخ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی ۔ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» [18-الکھف:29] ” ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے “۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68-64] ” وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے “۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
صفحہ نمبر4203
فرمان رب عالیشان ہے آیت «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [55-الرحمن:43] ” یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے “۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» [44-الدخان:43-50] ” زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے “۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ” وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت “۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58-55] ”سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» [41-فصلت:46] ” یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم “۔
صفحہ نمبر4204
باب
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:171-173] کہ ” ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-الأنبياء:105] ” ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے “۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [7-الأعراف:137] ” ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں “۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ” یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں “۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:41-37] ، یعنی ” جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» [55-الرحمن:46] ” اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں “۔
صفحہ نمبر4201
رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ” الٰہی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر “۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [8-الأنفال:19] ” تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے “ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» [50-ق:26-24] ” ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ “۔
صفحہ نمبر4202
حدیث شریف میں ہے کہ «إِنَّهُ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُنَادِي الْخَلَائِقَ فَتَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں ۔ [سنن ترمذي:2574، قال الشيخ الألباني:صحیح] الخ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی ۔ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» [18-الکھف:29] ” ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے “۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68-64] ” وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے “۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
صفحہ نمبر4203
فرمان رب عالیشان ہے آیت «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [55-الرحمن:43] ” یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے “۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» [44-الدخان:43-50] ” زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے “۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ” وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت “۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58-55] ”سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» [41-فصلت:46] ” یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم “۔
صفحہ نمبر4204
باب
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:171-173] کہ ” ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-الأنبياء:105] ” ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے “۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [7-الأعراف:137] ” ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں “۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ” یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں “۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:41-37] ، یعنی ” جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» [55-الرحمن:46] ” اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں “۔
صفحہ نمبر4201
رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ” الٰہی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر “۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [8-الأنفال:19] ” تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے “ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» [50-ق:26-24] ” ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ “۔
صفحہ نمبر4202
حدیث شریف میں ہے کہ «إِنَّهُ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُنَادِي الْخَلَائِقَ فَتَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں ۔ [سنن ترمذي:2574، قال الشيخ الألباني:صحیح] الخ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی ۔ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» [18-الکھف:29] ” ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے “۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68-64] ” وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے “۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
صفحہ نمبر4203
فرمان رب عالیشان ہے آیت «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [55-الرحمن:43] ” یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے “۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» [44-الدخان:43-50] ” زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے “۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ” وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت “۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58-55] ”سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» [41-فصلت:46] ” یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم “۔
صفحہ نمبر4204
باب
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37-الصافات:171-173] کہ ” ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» [21-الأنبياء:105] ” ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے “۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [7-الأعراف:137] ” ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں “۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ” یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں “۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» [79-النازعات:41-37] ، یعنی ” جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» [55-الرحمن:46] ” اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں “۔
صفحہ نمبر4201
رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» [8-الأنفال:32] ” الٰہی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر “۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [8-الأنفال:19] ” تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے “ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» [50-ق:26-24] ” ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ “۔
صفحہ نمبر4202
حدیث شریف میں ہے کہ «إِنَّهُ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُنَادِي الْخَلَائِقَ فَتَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں ۔ [سنن ترمذي:2574، قال الشيخ الألباني:صحیح] الخ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی ۔ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» [47-محمد:15] ” جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» [18-الکھف:29] ” ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے “۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68-64] ” وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے “۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
صفحہ نمبر4203
فرمان رب عالیشان ہے آیت «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [55-الرحمن:43] ” یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے “۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» [44-الدخان:43-50] ” زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے “۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ” وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت “۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» [38-ص:58-55] ”سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» [41-فصلت:46] ” یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم “۔
صفحہ نمبر4204
بے سود اعمال ٭٭
کافر جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادتوں کے خوگر تھے پیغمبروں کی نہیں مانتے تھے جن کے اعمال ایسے تھے جیسے بنیاد کے بغیر عمارت ہو جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت ضرورت کے وقت خالی ہاتھ کھڑے رہ گئے۔
پس فرمان ہے کہ ” ان کافروں کی یعنی ان کے اعمال کی مثال۔ قیامت کے دن جب کہ یہ پورے محتاج ہوں گے سمجھ رہے ہوں گے کہ اب ابھی ہماری بھلائیوں کا بدلہ ہمیں ملے گا لیکن کچھ نہ پائیں گے، مایوس رہ جائیں گے، حسرت سے منہ تکنے لگیں گے “۔
«وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» [25-الفرقان:23] جیسے تیز آندھی والے دن ہوا راکھ کو اڑا کر ذرہ ذرہ ادھر ادھر بکھیر دے اسی طرح ان کے اعمال محض اکارت ہو گئے جیسے اس بکھری ہوئی اور اڑی ہوئی راکھ کا جمع کرنا محال ایسے ہی ان کے بےسود اعمال کا بدلہ محال۔ وہ تو وہاں ہوں گے ہی نہیں ان کے آنے سے پہلے ہی «ھَبَاۤءً مَّنْشُوْراً» ہو گئے۔ «مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ» [3-آل عمران:117] ” یہ کفار جو کچھ اس حیات دنیا میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس آگ کے گولے جیسی ہے جو ظالموں کی کھیتی جھلسا دے۔ اللہ ظالم نہیں لیکن وہ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرہ:264] ” ایمان والو! اپنے صدقے خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر برباد نہ کرو جیسے وہ جو ریا کاری کے لیے خرچ کرتا ہو اور اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہ رکھتا ہو اس کی مثال اس چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی تھی لیکن بارش کے پانی نے اسے دھو دیا اب وہ بالکل صاف ہو گیا یہ لوگ اپنی کمائی میں سے کسی چیز پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ کافروں کی رہبری نہیں فرماتا “۔
اس آیت میں ارشاد ہوا کہ ” یہ دور کی گمراہی ہے ان کی کوشش ان کے کام بے پایہ اور بے ثبات ہیں سخت حاجت مندی کے وقت ثواب گم پائیں گے یہی انتہائی بد قسمتی ہے “۔
صفحہ نمبر4208
حیات ثانیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” قیامت کے دن کی دوبارہ پیدائش پر میں قادر ہوں۔ جب میں نے آسمان زمین کی پیدائش کر دی تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ آسمان کی اونچائی کشادگی بڑائی پھر اس میں ٹھہرے ہوئے اور چلتے پھرتے ستارے۔ اور یہ زمین پہاڑوں اور جنگلوں درختوں اور حیوانوں والی سب اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے جو ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا وہ کیا مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے “۔
سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [36-يس:77-83] ” کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ جھگڑا لو بن بیٹھا۔ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ کہہ دے کہ وہی اللہ جس نے انہیں اول بار پیدا کیا وہ ہر چیز کی پیدائش کو بخوبی جانتا ہے اسی نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ بنائی ہے کہ تم اسے جلاتے ہو۔ کیا آسمان و زمین کا خالق ان جیسوں کی پیدائش پر قادر نہیں؟ بیشک ہے، وہی بڑا خالق اور بہت بڑا عالم ہے اس کے ارادے کے بعد اس کا صرف اتنا حکم بس ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ ہو جاتا ہے وہ اللہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تمہارا سب کا لوٹنا ہے “۔
صفحہ نمبر4209
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [35-فاطر:15-17] ” اس کے قبضے میں ہے کہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق تمہارے قائم مقام یہاں آباد کر دے اس پر یہ کام بھی بھاری نہیں تم اس کے امر کا خلاف کرو گے تو یہی ہو گا “۔
جیسے فرمایا «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑ لو گے تو وہ تمہارے بدلے اور قوم لائے گا جو تمہاری طرح کی نہ ہوگی “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ» [5-المائدہ:54] ” اے ایمان والو تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لائے گا جو اس کی پسندیدہ ہوگی اور اس سے محبت رکھنے والی ہو گی “۔
اور جگہ ہے «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» [4-النساء:133] ” اگر وہ چاہے تمہیں برباد کر دے اور دوسرے لائے اللہ اس پر قادر ہے “۔
صفحہ نمبر4210
حیات ثانیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ” قیامت کے دن کی دوبارہ پیدائش پر میں قادر ہوں۔ جب میں نے آسمان زمین کی پیدائش کر دی تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ آسمان کی اونچائی کشادگی بڑائی پھر اس میں ٹھہرے ہوئے اور چلتے پھرتے ستارے۔ اور یہ زمین پہاڑوں اور جنگلوں درختوں اور حیوانوں والی سب اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے جو ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا وہ کیا مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے “۔
سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [36-يس:77-83] ” کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ جھگڑا لو بن بیٹھا۔ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ کہہ دے کہ وہی اللہ جس نے انہیں اول بار پیدا کیا وہ ہر چیز کی پیدائش کو بخوبی جانتا ہے اسی نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ بنائی ہے کہ تم اسے جلاتے ہو۔ کیا آسمان و زمین کا خالق ان جیسوں کی پیدائش پر قادر نہیں؟ بیشک ہے، وہی بڑا خالق اور بہت بڑا عالم ہے اس کے ارادے کے بعد اس کا صرف اتنا حکم بس ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ ہو جاتا ہے وہ اللہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تمہارا سب کا لوٹنا ہے “۔
صفحہ نمبر4209
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» [35-فاطر:15-17] ” اس کے قبضے میں ہے کہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق تمہارے قائم مقام یہاں آباد کر دے اس پر یہ کام بھی بھاری نہیں تم اس کے امر کا خلاف کرو گے تو یہی ہو گا “۔
جیسے فرمایا «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» [47-محمد:38] ” اگر تم منہ موڑ لو گے تو وہ تمہارے بدلے اور قوم لائے گا جو تمہاری طرح کی نہ ہوگی “۔
اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ» [5-المائدہ:54] ” اے ایمان والو تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لائے گا جو اس کی پسندیدہ ہوگی اور اس سے محبت رکھنے والی ہو گی “۔
اور جگہ ہے «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» [4-النساء:133] ” اگر وہ چاہے تمہیں برباد کر دے اور دوسرے لائے اللہ اس پر قادر ہے “۔
صفحہ نمبر4210
چٹیل میدان اور مخلوقات ٭٭
صاف چٹیل میدان میں ساری مخلوق نیک و بد اللہ کے سامنے موجود ہو گی۔ اس وقت جو لوگ ماتحت تھے ان سے کہیں گے جو سردار اور بڑے تھے۔ اور جو انہیں اللہ کی عبادت اور رسول علیہم السلام کی اطاعت سے روکتے تھے، کہ ہم تمہارے تابع فرمان تھے جو حکم تم دیتے تھے ہم بجا لاتے تھے۔ جو تم فرماتے تھے ہم مانتے تھے۔
پس جیسے کہ تم ہم سے وعدے کرتے تھے اور ہمیں تمنائیں دلاتے تھے کیا آج اللہ کے عذابوں کو ہم سے ہٹاؤ گے؟ اس وقت یہ پیشوا اور سردار کہیں گے کہ ہم تو خود راہ راست پر نہ تھے تمہاری رہبری کیسے کرتے؟ ہم پر اللہ کا کلمہ سبقت کرگیا، عذاب کے مستحق ہم سب ہو گئے اب نہ ہائے وائے اور نہ بے قراری نفع دے اور نہ صبر و برداشت۔
صفحہ نمبر4212
عذاب کے بچاؤ کی تمام صورتیں ناپید ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں کہ دوزخی لوگ کہیں گے کہ دیکھو یہ مسلمان اللہ کے سامنے روتے دھوتے تھے اس وجہ سے وہ جنت میں پہنچے، آؤ ہم بھی اللہ کے سامنے روئیں گڑگڑائیں۔ خوب روئیں پیٹیں گے، چیخیں چلائیں گے لیکن بےسود رہے گا تو کہیں گے جنتیوں کے جنت میں جانے کی ایک وجہ صبر کرنا تھی۔ آؤ ہم بھی خاموش اور صبر اختیار کریں اب ایسا صبر کریں گے کہ ایسا صبر کبھی دیکھا نہیں گیا لیکن یہ بھی لا حاصل رہے گا اس وقت کہیں گے ہائے صبر بھی بےسود اور بے قراری بھی بے نفع۔ ظاہر تو یہ ہے کہ پیشواؤں اور تابعداروں کی یہ بات چیت جہنم میں جانے کے بعد ہو گی۔
جیسے آیت «وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِقَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُلٌّ فِيهَا إِنَّ اللَّـهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ» [40-غافر:48، 47] ، ” جب کہ وہ جہنم میں جھگڑیں گے اس وقت ضعیف لوگ تکبر والوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے ماتحت تھے تو کیا آگ کے کسی حصہ سے تم ہمیں نجات دلا سکو گے؟ وہ متکبر لوگ کہیں گے ہم تو سب جہنم میں موجود ہیں اللہ کے فیصلے بندوں میں ہو چکے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَـٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ» [7-الأعراف:39، 38] ” فرمائے گا کہ جاؤ ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو انسان جنات تم سے پہلے جہنم میں پہنچ چکے ہیں جو گروہ جائے گا وہ دوسرے کو لعنت کرتا جائے گا۔ جب سب کے سب جمع ہو جائیں گے تو پچھلے پہلوں کی نسبت جناب باری میں عرض کریں گے کہ پروردگار ان لوگوں نے ہمیں تو بہکا دیا۔ انہیں دوہرا عذاب کر۔ جواب ملے گا کہ ہر ایک کو دوہرا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اور اگلے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر فضیلت نہیں تھی اپنے کئے ہوئے کاموں کے بدلے کا عذاب چکھو “۔
صفحہ نمبر4213
اور آیت میں ہے کہ وہ کہیں گے «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» [33-الأحزاب:68،67] الخ، ” اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے پیشواؤں اور بڑوں کی اطاعت کی جنہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا اے ہمارے پالنہار تو انہیں دوہرا عذاب کر اور بڑی لعنت کر “۔
یہ لوگ محشر میں بھی جھگڑیں گے فرمان ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:33-31] ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ ظالم لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہے ہوں گے تابعدار لوگ اپنے بڑوں سے کہتے ہوں گے کہ کیا ہدایت آ جانے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روک دیا؟ نہیں بلکہ تم تو آپ گنہگار بدکار تھے۔ یہ کمزور لوگ پھر ان زور اوروں سے کہیں گے کہ تمہارے رات دن کے داؤ گھات اور ہمیں یہ حکم دینا کہ ہم اللہ سے کفر کریں اس کے شریک ٹھرائیں اب سب لوگ پوشیدہ طور پر اپنی اپنی جگہ نادم ہو جائیں گے جب کہ عذابوں کو سامنے دیکھ لیں گے ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا “۔
صفحہ نمبر4214
طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ ”اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لیے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بے دلیل تھیں میرا کلام بے حجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی با دلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں۔“
جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف5، 6] ، ” اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں “۔
اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:82] ، ” یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے “۔
یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔
صفحہ نمبر4215
لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ پس آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے ۔
صفحہ نمبر4216
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جہنمی اپنا صبر اور بے صبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ «لَمَقْتُ اللَّـهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ» [40-غافر:10] ” تمہاری اس وقت کی اس بیزاری سے بھی زیادہ بیزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے “۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا “ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» [5-المائدہ:116-119] الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» [14-ابراھیم:22] ۔“
برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا “۔
جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» [39-الزمر:73] ، یعنی ” جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے “، الخ۔
اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» [13-الرعد:23، 24] ” ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے “۔
اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» [25-الفرقان:75] ” وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے “۔
اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ” ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی “۔
صفحہ نمبر4217
طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ ”اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لیے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بے دلیل تھیں میرا کلام بے حجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی با دلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں۔“
جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف5، 6] ، ” اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں “۔
اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:82] ، ” یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے “۔
یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔
صفحہ نمبر4215
لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ پس آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔ اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔ آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے ۔
صفحہ نمبر4216
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جہنمی اپنا صبر اور بے صبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ «لَمَقْتُ اللَّـهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ» [40-غافر:10] ” تمہاری اس وقت کی اس بیزاری سے بھی زیادہ بیزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے “۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا “ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» [5-المائدہ:116-119] الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» [14-ابراھیم:22] ۔“
برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ” ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا “۔
جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» [39-الزمر:73] ، یعنی ” جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے “، الخ۔
اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» [13-الرعد:23، 24] ” ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے “۔
اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» [25-الفرقان:75] ” وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے “۔
اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [10-یونس:10] ” ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی “۔
صفحہ نمبر4217
لا الہ الا اللہ کی شہادت ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کلمہ طیبہ سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف]
صفحہ نمبر4219
صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ سا ہو رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا ہے ۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا“ ۔ [صحیح بخاری:4698]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا ۔ [صحیح بخاری:2209]
اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا ۔ [صحیح بخاری:131]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں ۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔
صفحہ نمبر4220
اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لیے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:ضعیف مرفوع]
اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
صفحہ نمبر4221
لا الہ الا اللہ کی شہادت ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کلمہ طیبہ سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف]
صفحہ نمبر4219
صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ سا ہو رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا ہے ۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا“ ۔ [صحیح بخاری:4698]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا ۔ [صحیح بخاری:2209]
اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا ۔ [صحیح بخاری:131]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں ۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔
صفحہ نمبر4220
اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لیے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:ضعیف مرفوع]
اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
صفحہ نمبر4221
لا الہ الا اللہ کی شہادت ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کلمہ طیبہ سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف]
صفحہ نمبر4219
صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ سا ہو رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا ہے ۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا“ ۔ [صحیح بخاری:4698]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا ۔ [صحیح بخاری:2209]
اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا ۔ [صحیح بخاری:131]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں ۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔
صفحہ نمبر4220
اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لیے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:ضعیف مرفوع]
اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔
صفحہ نمبر4221
باب
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان سے جب اس کی قبر میں سوال ہوتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ ہیں یہی مراد اس آیت کی ہے ۔ [صحیح بخاری:1369]
مسند میں ہے [مسند احمد:287/4:صحیح] کہ ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے قبرستان پہنچے ابھی تک قبر تیار نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر لکیریں نکال رہے تھے جو سر اٹھا کر دو تین مرتبہ فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہو بندہ جب دنیا کی آخرت اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے نورانی چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے والے فرشتے آتے ہیں۔ گویا کہ ان کے چہرے سورج جیسے ہیں ان کے ساتھ جنتی کفن اور جنتی خوشبو ہوتی ہے اس کے پاس جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے وہاں تک بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرھانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے پاک روح اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کی رضا مندی کی طرف چل وہ اس آسانی سے نکل آتی ہے جیسے کسی مشک سے پانی کا قطرہ ٹپ آیا ہو ایک آنکھ جھپکے کے برابر کی دیر ہی میں وہ فرشتے اسے ان کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے فوراً لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ خود اس روح میں سے بھی مشک سے بھی عمدہ خوشبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر ایسی عمدہ خوشبو نہ سونگھی گئی ہو۔ وہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا جو بہترین نام دنیا میں مشہور تھا۔ وہ بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازے کھلواتے ہیں آسمان کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور وہاں کے فرشتے اسے دوسرے آسمان تک اور دوسرے آسمان کے تیسرے آسمان تک ۔
صفحہ نمبر4224
اسی طرح ساتویں آسمان پر وہ پہنچتا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے ” میرے بندے کو کتاب علیین میں لکھ لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے اسی سے اسے پیدا کیا ہے اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا “۔ پس اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اللہ تعالیٰ۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اسلام۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ یہ کہتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے پوچھتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے میں نے کتاب اللہ پڑھی اس پر ایمان لایا اسے سچا مانا۔ اسی وقت آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے، کہ ” میرا بندہ سچا ہے “۔ اس کے لیے جنتی فرش بچھا دو اور جنتی لباس پہنا دو اور جنت کی طرف کا دروازہ کھول دو پس جنت کی روح پرور خوشبودار ہواؤں کی لپٹیں اسے آنے لگتی ہیں اس کی قبر بقدر درازگی نظر کے وسیع کر دی جاتی ہے۔ اس کے پاس ایک شخص خوبصورت نورانی چہرے والا عمدہ کپڑوں والا اچھی خوشبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے۔ آپ خوش ہو جائیں اسی دن کا وعدہ آپ دئے جاتے تھے۔ یہ اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ آپ کے چہرے سے بھلائی ہی بھلائی نظر آتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے۔ کہ تیرا نیک عمل ہوں۔ اس وقت مسلمان آرزو کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت جلد قائم ہو جائے تو میں اپنے اہل و عیال اور ملک و مال کی طرف لوٹ جاؤں۔
صفحہ نمبر4225
اور کافر بندہ جب دنیا کی آخری ساعت اور آخرت کی اول ساعت میں ہوتا ہے اس کے پاس سیاہ چہرے کے آسمانی فرشتے آتے ہیں اور ان کے ساتھ جہنمی ٹاٹ ہوتا ہے جہاں تک نگاہ پہنچے وہاں تک وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آ کر اس کے سرہانے بیٹھ کر فرماتے ہیں اے خبیث روح اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر کی طرف چل۔ اس کی روح جسم میں چھپتی پھرتی ہے جسے بہت سختی کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ اسی وقت ایک آنکھ جھپکنے جتنی دیر میں اسے فرشتے ان کے ہاتھوں سے لے لیتے ہیں اور اس جہنمی بورے میں لپیٹ لیتے ہیں اس میں سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ روئے زمین پر اس سے زیادہ بدبو نہیں پائی گئی اب یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے؟ وہ اس کا بدترین نام جو دنیا میں تھا بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں لیکن کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ» [7-الأعراف:40] کی تلاوت فرمائی کہ ” نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں نہ وہ جنت میں جا سکیں یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزر جائے “۔ اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ ” اس کو کتاب سجین میں لکھ لو جو سب سے نیچے کی زمین میں ہے پس اس کو روح وہیں پھینک دی جاتی ہے “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» [22-الج:31] ، کی تلاوت فرمائی یعنی ” اللہ کے ساتھ جو شرک کرے گویا کہ وہ آسمان سے گر پڑا۔ یا تو اسے پرند اچک لے جائیں گے یا آندھی اسے کسی دور کے گڑھے میں پھینک مارے گی “۔ پھر اس کی روح اسی جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں جو اسے اٹھا بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہائے ہائے مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے اس کا بھی علم نہیں۔ پھر پوچھتے ہیں وہ کون تھا جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے معلوم نہیں اسی وقت آسمان سے ایک منادی کی ندا آتی ہے کہ میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لیے جہنم کی آگ کا فرش کر دو اور دوزخ کی جانب کا دروازہ کھول دو وہیں سے اسے دوزخی ہوا اور دوزخ کا جھونکا پہنچتا رہتا ہے اور اس کی قبر اس پر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں ۔
صفحہ نمبر4226
بڑی بری اور ڈراؤنی صورت والا برے میلے کچیلے خراب کپڑوں والا بڑی بدبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اب غمناک ہو جاؤ۔ اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے برائی برستی ہے۔ وہ کہتا ہے میں تیرے بد اعمال کا مجسمہ ہوں تو یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ قیامت قائم نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4793، قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے کہ نیک بندے کی روح نکلنے کے وقت آسمان و زمین کے درمیان کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے سب اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور آسمانوں کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں ہر دروازے کے فرشتوں کی دعا ہوتی ہے کی اس کی پاک اور نیک روح ان کے دروازے سے چڑھائی جائے الخ اور برے شخص کے بارے میں اس میں ہے کہ اس کی قبر میں ایک اندھا بہرا گونگا فرشتہ مقرر ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ مٹی بن جائے۔ اس سے وہ اسے مارتا ہے یہ مٹی ہو جاتا ہے اسے اللہ عزوجل پھر لوٹاتا ہے۔ جیسا تھا ویسا ہی ہو جاتا ہے وہ اسے پھر وہی گرز ماتا ہے یہ ایسا چیختا ہے کہ اس کی چیخ کو سوائے انسانوں اور جن کے ہر کوئی سنتا ہے ۔ [مسند احمد:295/4:الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر4227
قبر کا عذاب ٭٭
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی آیت سے قبر کے عذاب کا ثبوت ملتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”مراد اس سے قبر کے سوالوں کے جواب میں مومن کو استقامت کا ملنا ہے۔“
مسند عبد بن حمید میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے لوگ منہ پھیرتے ہیں ابھی ان کی واپسی کی چال کی جوتیوں کی آہٹ اس کے کانوں ہی میں ہے جو دو فرشتے اس کے پاس پہنچ کر اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے مومن جواب دیتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اسے کہا جاتا ہے کہ دیکھ جہنم میں تیرا یہ ٹھکانا تھا۔ لیکن اب اسے بدل کر اللہ نے جنت کی یہ جگہ تجھے عنایت فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اسے دونوں جگہ نظر آتی ہیں ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اس کی قبر ستر گز چوڑی کر دی جاتی ہے اور قیامت تک سر سبزی سے بھری رہتی ہے۔“ [صحیح بخاری:1338]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس امت کی آزمائش ان کی قبروں میں سے ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مومن اس وقت آرزو کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو میں اپنے لوگوں کو یہ خوشخبری سنا دوں وہ کہتے ہیں ٹھہر جاؤ اس میں یہ بھی ہے کہ منافق کو بھی اس کی دونوں جگہیں دکھا دی جاتی ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ ہر شخص جس پر مرا ہے اسی پر اٹھایا جاتا ہے۔ مومن اپنے ایمان پر منافق اپنے نفاق پر ۔ [مسند احمد:346/3:ضعیف]
صفحہ نمبر4228
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ فرشتہ جو آتا ہے اس کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا ہوتا ہے مومن اللہ کی معبودیت اور توحید کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی دیتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اپنا جنت کا مکان دیکھ کر اس میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن اسے کہا جاتا ہے ابھی یہیں آرام کرو ۔ اس کے آخر میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک فرشتے کو ہاتھ میں گرز لیے دیکھیں گے تو حواس کیسے قائم رہیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ۔ [مسند احمد:3/3:حسن] یعنی اللہ کی طرف سے انہیں ثابت قدمی ملتی ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ روح نکلنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے کہ اے اطمینان والی روح جو پاک جسم میں تھی۔ نکل تعریفوں والی ہو کر اور خوش ہو جا۔ راحت و آرام اور پھل پھول اور رحیم و کریم اللہ کی رحمت کے ساتھ۔ اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس روح کو مرحبا کہتے ہیں اور یہی خوشخبری سناتے ہیں۔ اس میں ہے کہ برے انسان کی روح کو کہا جاتا ہے کہ اے خبیث روح جو خبیث جسم میں تھی نکل بری بن کر اور تیار ہو جا آگ جیسا پانی پینے کے لیے اور لہو پیپ کھانے کے لیے اور اسی جیسے اور بےشمار عذابوں کے لیے اس میں ہے کہ آسمان کے فرشتے اس کے لیے دروازہ نہیں کھولتے اور کہتے ہیں بری ہو کر مذمت کے ساتھ لوٹ جا تیرے لیے دروازے نہیں کھلیں گے ۔ [سنن ابن ماجه:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر4229
اور روایت میں ہے کہ آسمانی فرشتے نیک روح کے لیے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحمت کرے اور اس جسم پر بھی جس میں تو تھی۔ یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل کے پاس پہنچاتے ہیں وہاں سے ارشاد ہوتا ہے کہ ” اسے آخری مدت تک کے لیے لے جاؤ “۔ اس میں ہے کہ کافر کی روح کی بدبو کا بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اپنی ناک پر رکھ لی
اور روایت میں ہے کہ رحمت کے فرشتے مومن کی روح کے لیے جنتی سفید ریشم لے کر اترتے ہیں۔ ایک ایک کے ہاتھ سے اس روح کو لینا چاہتا ہے۔ جب یہ پہلے کے مومنوں کی ارواح سے ملتی ہے۔ تو جیسے کوئی نیا آدمی سفر سے آئے اور اس کے گھر والے خوش ہوتے ہیں اس سے زیادہ یہ روحیں اس روح سے مل کر راضی ہوتی ہیں پھر پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ابھی سوال جواب نہ کرو ذرا آرام تو کر لینے دو۔ یہ تو غم سے ابھی ہی چھوٹی ہے۔ لیکن وہ جواب دیتی ہے کہ وہ تو مر گیا کیا تمھارے پاس نہیں پہنچا وہ کہتے ہیں چھوڑو اس کے ذکر کو وہ اپنی اماں ہاویہ میں گیا ۔ [مستدرک حاکم353/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ کافر کی روح کو جب زمین کے دروازے کے پاس لاتے ہیں تو وہاں داروغہ فرشتے اس کی بدبو سے گھبراتے ہیں آخر اسے سب سے نیچے کی زمین میں پہنچاتے ہیں ۔
صفحہ نمبر4230
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”مومنوں کی روحیں جابیہ میں اور کافروں کی روحیں برھوت نامی حضر موت کے قید خانے میں جمع رہتی ہیں، اس کی قبر بہت تنگ ہو جاتی ہے۔“
ترمذی میں ہے کہ میت کے قبر میں رکھے جانے کے بعد اس کے پاس دو سیاہ فام کیری آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں ایک منکر دوسرا نکیر۔ اس کے جواب کو سن کر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تم ایسے ہی جواب دو گے پھر اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور نورانی بنا دی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے سوجا۔ یہ کہتا ہے کہ میں تو اپنے گھر والوں سے کہوں گا۔ لیکن وہ دونوں کہتے ہیں کہ دلہن کی سی بے فکری کی نیند سو جا۔ جسے اس کے اہل میں سے وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ پیارا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ خود اسے اس خواب گاہ سے جگائے۔ منافق جواب میں کہتا ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے تھے میں بھی کہتا رہا لیکن جانتا نہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم تو جانتے ہی تھے کہ تیرا یہ جواب ہوگا۔ اسی وقت زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ سمٹ جا۔ وہ سمٹتی ہے یہاں تک کہ اس پسلیاں ادھر ادھر گھس جاتی ہیں پھر اسے عذاب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے اور اسے اس کی قبر سے اٹھائے ۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر4231
اور حدیث میں ہے کہ مومن کے جواب پر کہا جاتا ہے کہ اسی پر تو جیا اسی پر تیری موت ہوئی اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20760]
ابن جریر میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میت تمہاری جوتیوں کی آہٹ سنتی ہے جب کہ تم اسے دفنا کر واپس لوٹتے ہو اگر وہ ایمان پر مرا ہے تو نماز اس کے سرہانے ہوتی ہے زکوٰۃ دائیں جانب ہوتی ہے روزہ بائیں طرف ہوتا ہے۔ نیکیاں مثلاً صدقہ خیرات صلہ رحمی بھلائی لوگوں سے احسان وغیرہ اس کے پیروں کی طرف ہوتے ہیں جب اس کے سر کی طرف سے کوئی آتا ہے تو نماز کہتی ہے یہاں سے جانے کی جگہ نہیں۔ دائیں طرف سے زکوٰۃ روکتی ہے۔ بائیں طرف سے روزہ۔ پیروں کی طرف سے اور نیکیاں۔ پس اس سے کہا جاتا ہے بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے ایسا معلوم دیتا ہے کہ گویا سورج ڈوبنے کے قریب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھو جو ہم پوچھیں اس کا جواب دو۔ وہ کہتا ہے تم چھوڑو پہلے میں نماز ادا کر لوں۔ وہ کہتے ہیں وہ تو تو کرے گا ہی۔ ابھی تو ہمیں ہمارے سوالوں کا جواب دے۔ وہ کہتا ہے اچھا تم کیا پوچھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا ہے اور کیا شہادت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے ہمارے پاس دلیلیں لے کر آئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا مانا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رکھا گیا اور اسی پر مرا اور ان شاءاللہ اسی پر دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کی قبر ستر ہاتھ پھیلا دی جاتی ہے اور نورانی کر دی جاتی ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے دیکھ یہ ہے تیرا اصلی ٹھکانا۔ اب تو اسے خوشی اور راحت ہی راحت ہوتی ہے۔ پھر اس کی روح پاک روحوں میں سبز پرندوں کے قالب میں جنتی درختوں میں رہتی ہے۔ اور اس کا جسم جس سے اس کی ابتداء کی گئی تھی اسی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ یعنی مٹی کی طرف یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ [عبدالرزاق،6703:حسن]
صفحہ نمبر4232
اور روایت میں ہے کہ موت کے وقت کی راحت و نور کو دیکھ کر مومن اپنی روح کے نکل جانے کی تمنا کرتا ہے اور اللہ کو بھی اسی کی ملاقات محبوب ہوتی ہے۔ جب اس کی روح آسمان پر چڑھ جاتی ہے تو اس کے پاس مومنوں کی اور روحیں آتی ہیں اور اپنی جان پہچان کے لوگوں کی بابت اس سے سوالات کرتے ہیں۔ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو زندہ ہے تو خیر۔ اور اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں تو مر چکا ہے تو یہ ناراض ہو کر کہتے ہیں یہاں نہیں لایا گیا۔ مومن کو اس کی قبر میں بیٹھا دیا جاتا ہے۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے۔ تیرا نبی کون ہے؟ یہ کہتا ہے میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے کہ تیرا دین کیا ہے؟ یہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ اسی میں ہے کہ اللہ کے دشمن کو جب موت آنے لگتی ہے اور یہ اللہ کی ناراضگی کے اسباب دیکھ لیتا ہے تو نہیں چاہتا کہ اس کی روح نکلے۔ اللہ بھی اس کی ملاقات سے ناخوش ہوتا ہے۔ اس میں ہے کہ اسے سوال جواب اور مارپیٹ کے بعد کہا جاتا ہے ایسا سو جیسے سانپ کٹا ہوا ۔ [مسندبزار:874:صحیح بالشواھد]
اور روایت میں ہے کہ جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تجھے کیسے معلوم ہو گیا کیا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایا ہے؟ اس میں ہے کہ کافر کی قبر میں ایسا بہرا فرشتہ عذاب کرنے والا ہوتا ہے کہ جو نہ کبھی سنے نہ رحم کرے ۔ [مسند احمد:352/6:]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”موت کے وقت مومن کے پاس فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں لوگوں کے ساتھ اس کے جنازے کی نماز میں شرکت کرتے ہیں۔ اس میں ہے کہ کافروں کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ان کی کمر پر مار مارتے ہیں۔ اسے اس کی قبر میں جواب بھلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ظالموں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے۔“
صفحہ نمبر4233
حضرت ابوقتادہ انصاری رحمہ اللہ سے بھی ایسا ہی قول مروی ہے۔ اس میں ہے کہ ”مومن کہتا ہے کہ میرے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کئی دفعہ اس سے سوال ہوتا ہے اور یہ یہی جواب دیتا ہے اسے جہنم کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ اگر ٹیڑھا چلتا تو تیری یہ جگہ تھی۔ اور جنت کا ٹھکانا دکھا کر کہا جاتا ہے کہ توبہ کی وجہ سے یہ ٹھکانہ ہے۔“
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا میں ثابت قدمی کلمہ توحید پر استقامت ہے اور آخرت میں ثابت قدمی منکر نکیر کے جواب کی ہے۔“ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”خیر اور عمل صالح کے ساتھ دنیا میں رکھے جاتے ہیں اور قبر میں بھی۔“
ابوعبداللہ حکیم ترمذی اپنی کتاب نوادر الاصول میں لائے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے پاس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی مسجد میں فرمایا کہ گزشتہ رات میں نے عجیب باتیں دیکھیں، دیکھا کہ میرے ایک امتی کو عذاب قبر نے گھیر رکھا ہے آخر اس کے وضو نے آ کر اسے چھڑا لیا، میرے ایک امتی کو دیکھا کہ شیطان اسے وحشی بنائے ہوئے ہیں لیکن ذکر اللہ نے آ کر اسے خلاصی دلوائی۔ ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے گھیر رکھا ہے۔ اس کی نماز نے آ کر اسے بچا لیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہے جب حوض پر جاتا ہے دھکے لگتے ہیں۔ اس کا روزہ آیا اور اس نے اسے پانی پلا دیا۔ اور آسودہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور امتی کو دیکھا کہ انبیاء علیہم السلام حلقے باندھ باندھ کر بیٹھے ہیں یہ جس حلقے میں بیٹھنا چاہتا ہے وہاں والے اسے اٹھا دیتے ہیں۔ اسی وقت اس کی جنابت کا غسل آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس بٹھا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ چاروں طرف سے اسے اندھیرا گھیرے ہوئے ہے اور اوپر نیچے سے بھی وہ اسی میں گھرا ہوا ہے جو اس کا حج اور عمرہ آیا اور اسے اس اندھیرے میں سے نکال کر نور میں پہنچا دیا۔ ایک امتی کو دیکھا کہ وہ مومنوں سے کلام کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس سے بولتے نہیں اسی وقت صلہ رحمی آئی اور اعلان کیا کہ اس سے بات چیت کرو چنانچہ وہ بولنے چالنے لگے۔ ایک امتی کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ پر سے آگ کے شعلے ہٹانے کو ہاتھ بڑھا رہا ہے اتنے میں اس کی خیرات آئی اور اس کے منہ پر پردہ اور اوٹ ہوگئی اور اس کے سر پر سایہ بن گئی اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اسے ہر طرف سے قید کر لیا ہے۔ لیکن اس کا نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا آیا اور ان کے ہاتھوں سے چھڑا کر رحمت کے فرشتوں سے ملا دیا۔ اپنے ایک ایک امتی کو دیکھا کہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ اور اللہ میں اور اس میں حجاب ہے اس کے اچھے اخلاق آئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کے پاس پہنچا آئے۔ اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ اس کا نامہ اعمال اس کی بائیں طرف سے آ رہا ہے لیکن اس کے خوف الٰہی نے آ کر اسے اس کے سامنے کر دیا۔ اپنے ایک امتی کو میں نے جہنم کے کنارے کھڑا دیکھا اسی وقت اس کا اللہ سے کپکپانا آیا اور اسے جہنم سے بچا لے گیا۔ میں نے ایک امتی کو دیکھا کہ پل صراط پر لڑھکنیاں کھا رہا ہے کہ اس کا مجھ پر درود پڑھانا آیا اور ہاتھ تھام کر سیدھا کر دیا۔ اور وہ پار اتر گیا ایک کو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر پہنچا لیکن دروازہ بند ہو گیا۔ اسی وقت «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت پہنچی دروازے کھلوا دیے اور اسے جنت میں پہنچا دیا ۔ قرطبی اس حدیث کو وارد کر کے فرماتے ہیں یہ حدیث بہت بڑی ہے اس میں ان مخصوص اعمال کا ذکر ہے جو مخصوص مصیبتوں سے نجات دلوانے والے ہیں۔
صفحہ نمبر4234
(تذکرہ) اسی بارے میں حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے بھی ایک غریب مطول حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے ” تو میرے دوست کے پاس جا۔ میں نے اسے آسانی اور سختی دونوں طرح سے آزما لیا ہر ایک حالت میں اسے اپنی خوشی میں خوش پایا تو جا اور اسے میرے پاس لے آ۔ کہ میں اسے ہر طرح کا آرام و عیش دوں “۔ ملک الموت علیہ السلام اپنے ساتھ پانچ سو فرشتوں کو لے کر چلتے ہیں ان کے پاس جنتی کفن وہاں کی خوشبو اور ریحان کے خوشے ہوتے ہیں جس کے سرے پر بیس رنگ ہوتے ہیں ہر رنگ کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے سفید ریشمی کپڑے میں اعلیٰ مشک بہ تکلف لپٹی ہوئی ہوتی ہے یہ سب آتے ہیں ملک الموت علیہ السلام تو اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرشتے اس کے چاروں طرف بیٹھ جاتے ہیں ہر ایک کے ساتھ جو کچھ جنتی تحفہ ہے وہ اس کے اعضاء پر رکھ دیا جاتا ہے اور سفید ریشم اور مشک اذفر اس کی ٹھوڑی تلے رکھ دیا جاتا ہے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کی روح کبھی جنتی پھولوں سے کبھی جنتی لباسوں سے کبھی جنتی پھلوں سے اس طرح بہلائی جاتی ہے جیسے روتے ہوئے بچہ کو لوگ بہلاتے ہیں۔ اس وقت اس کی حوریں ہنس ہنس کر اس کی چاہت کرتی ہیں روح ان مناظر کو دیکھ کر بہت جلد جسمانی قید سے نکل جانے کا قصد کرتی ہے ملک الموت فرماتے ہیں ہاں اے پاک روح بغیر کانٹے کی بیریوں کی طرف اور لدے ہوئے کیلوں کی طرف اور لمبی لمبی چھاؤں کی طرف اور پانی کے جھرنوں کی طرف چل۔ واللہ ماں جس قدر بچے پر مہربان ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ ملک الموت اس پر شفقت و رحمت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسے علم ہے کہ یہ محبوب الٰہی ہے اگر اسے ذرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میرے رب کی ناراضگی مجھ پر ہوگی۔ بس اس طرح اس روح کو اس جسم سے الگ کر لیتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے میں سے بال۔ انہیں کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ ان کی روح کو پاک فرشتے فوت کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر4235
اور جگہ فرمان ہے کہ ” اگر وہ مقربین میں سے ہے تو اس کے لیے آرام و آسائش ہے “۔ یعنی موت آرام کی اور آسائش کی ملنے والی اور دنیا کے بدلے کی جنت ہے۔ ملک الموت کے روح کو قبض کرتے ہی روح جسم سے کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل تجھے جزا خیر دے تو اللہ کی اطاعت کی طرف جلدی کرنے والا اور اللہ کی معصیت سے دیر کرنے والا تھا۔ تو نے آپ بھی نجات پائی اور مجھے بھی نجات دلوائی جسم بھی روح کو ایسا ہی جواب دیتا ہے۔ زمین کے وہ تمام حصے جن پر یہ عبادت الٰہی کرتا تھا اس کے مرنے سے چالیس دن تک روتے ہیں اسی طرح آسمان کے وہ کل دروازے جن سے اس کے نیک اعمال چڑھتے تھے اور جن سے اس کی روزیاں اترتی تھیں اس پر روتے ہیں۔
اس وقت وہ پانچ سو فرشتے اس جسم کے اردگرد کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے نہلانے میں شامل رہتے ہیں انسان اس کی کروٹ بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدلے اس سے پہلے خود فرشتے بدل دیتے ہیں اور اسے نہلا کر انسانی کفن سے پہلے اپنا ساتھ لایا ہوا کفن پہنا دیتے ہیں ان کی خوشبو سے پہلے اپنی خوشبو لگا دیتے ہیں اور اس کے گھر کے دروازے سے لے کر اس کی قبر تک دو طرفہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے استغفار کرنے لگتے ہیں اس وقت شیطان اس زور سے رنج کے ساتھ چیختا ہے کہ اس کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں اور کہتا ہے میرے لشکریو تم برباد ہو جاؤ ہائے یہ تمہارے ہاتھوں سے کیسے بچ گیا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ تو معصوم تھا۔ جب اس کی روح کو لے کر ملک الموت چڑھتے ہیں تو جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کو لے کر اس کا استقبال کرتے ہیں ہر ایک اسے جدگانہ بشارت الٰہی سناتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح عرش الٰہی کے پاس پہنچتی ہے وہاں جاتے ہی سجدے میں گر پڑتی ہے۔
صفحہ نمبر4236
اسی وقت جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ ” میرے بندے کی روح کو بغیر کانٹوں کی بیروں میں اور تہ بہ تہ کیلوں کے درختوں میں اور لمبے لمبے سایوں میں اور بہتے پانیوں میں جگہ دو “۔
پھر جب اسے قبر میں رکھا جاتا ہے تو دائیں طرف نماز کھڑی ہو جاتی ہے بائیں جانب روزہ کھڑا ہو جاتا ہے سر کی طرف قرآن آجاتا ہے نمازوں کو چل کر جانا پیروں کی طرف ہوتا ہے ایک کنارے صبر کھڑا ہو جاتا ہے، عذاب کی ایک گردن لپکتی آتی ہے لیکن دائیں جانب سے نماز اسے روک دیتی ہے کہ یہ ہمیشہ چوکنا رہا اب اس قبر میں آ کر ذرا راحت پائی ہے وہ بائیں طرف سے آتی ہے یہاں سے روزہ یہی کہہ کر اسے آنے نہیں دیتا سرہانے سے آتی ہے یہاں سے قرآن اور ذکر یہی کہہ کر آڑے آتے ہیں وہ پائنتیوں سے آتی ہے یہاں اسے اس کا نمازوں کے لیے چل کر جانا اسے روک دیتا ہے غرض چاروں طرف سے اللہ کے محبوب کے لیے روک ہو جاتی ہے اور عذاب کو کہیں سے راہ نہیں ملتی وہ واپس چلا جاتا ہے اس وقت صبر کہتا ہے کہ میں دیکھ رہا تھا کہ اگر تم سے ہی یہ عذاب دفع ہو جائے تو مجھے بولنے کی کیا ضرورت؟ ورنہ میں بھی اس کی حمایت کرتا اب میں پل صراط پر اور میزان کے وقت اس کے کام آؤں گا۔ اب دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں ایک کو نکیر کہا جاتا ہے دوسرے کو منکر۔ یہ اچک لے جانے والی بجلی جیسے ہوتے ہیں ان کے دانت سیہ جیسے ہوتے ہیں ان کے سانس سے شعلے نکلتے ہیں ان کے بال پیروں تلے لٹکتے ہوتے ہیں ان کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔ ان کے دل نرمی اور رحمت سے بالکل خالی ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ہتھوڑے ہوتے ہیں کہ اگر قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضرم جمع ہو کر اسے اٹھانا چاہیں تو ناممکن۔ وہ آتے ہی اسے کہتے ہیں اٹھ بیٹھ۔ یہ اٹھ کر سیدھے طرح بیٹھ جاتا ہے اس کا کفن اس کے پہلو پر آ جاتا ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے تیرا نبی کون ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم سے نہ رہا گیا انہوں نے کہا رسول اللہ ایسے ڈراؤنے فرشتوں کو کون جواب دے سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي» [14-ابراھیم:27] کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: وہ بے جھجک جواب دیتا ہے کہ میرا رب «اللہ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اور میرا دین اسلام ہے جو فرشتوں کا بھی دین ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو خاتم الانبیاء تھے صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہتے ہیں آپ نے صحیح جواب دیا۔ اب تو وہ اس کے لیے اس کی قبر کو اس کے آگے سے اس کے دائیں سے اس کے بائیں سے اس کے پیچھے سے اس کے سر کی طرف سے اس کے پاؤں کی طرف سے چالیس چالیس ہاتھ کشادہ کر دیتے ہیں دو سو ہاتھ کی وسعت کر دیتے ہیں اور چالیس ہاتھ کا احاطہٰ کر دیتے ہیں اور اس سے فرماتے ہیں اپنے اوپر نظریں اٹھا یہ دیکھتا ہے کہ جنت کا دروازہ کھلا ہوا ہے وہ کہتے ہیں اے اللہ کے دوست چونکہ تو نے اللہ کی بات مان لی تیری منزل یہ ہے ۔
صفحہ نمبر4237
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کی جان ہے اس وقت جو سرور و راحت اس کے دل کو ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے اب اپنے نیچے کی طرف دیکھ۔ یہ دیکھتا ہے کہ جہنم کا دروازہ کھلا ہوا ہے فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھ اس سے اللہ نے تجھے ہمیشہ کے لیے نجات بخشی پھر تو اس کا دل اتنا خوش ہوتا ہے کہ یہ خوشی ابد الا باد تک ہٹتی نہیں ۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے لیے ستر دروازے جنت کے کھل جاتے ہیں جہاں سے بادصبا کی لپٹیں خوشبو اور ٹھنڈک کے ساتھ آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل اس کی اس خواب گاہ سے قیامت کے قائم ہو جانے پر اٹھائے۔
اسی اسناد سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ برے بندے کے لیے ملک الموت سے فرماتا ہے ” جا اور اس میرے دشمن کو لے آ۔ اسے میں نے تیری زندگی میں برکت دے رکھی تھی اپنی نعمیتں عطا فرما رکھی تھیں لیکن پھر بھی یہ میری نافرمانیوں سے نہ بچا اسے لے آ تاکہ میں اس سے انتقام لوں “، اسی وقت ملک الموت علیہ السلام اس کے سامنے انتہائی بد اور ڈراؤنی صورت میں آتے ہیں ایسی کہ کسی نے اتنی بھیانک اور گھناؤنی صورت نہ دیکھی ہو بارہ آنکھیں ہوتی ہیں جہنم کا خار دار لباس ساتھ ہوتا ہے پانچ سو فرشتے جو جہنمی آگ کے انگارے اور آگ کے کوڑے اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ملک الموت وہ خار دار کھال جو جہنم کی آگ کی ہے اس کے جسم پر مارتے ہیں روئیں روئیں میں آگ کے کانٹے گھس جاتے ہیں پھر اس طرح گہماتے ہیں کہ اس کا جوڑ جوڑ ڈھیلا پڑ جاتا ہے پھر اس کی روح اس کے پاؤں کے انگوٹھوں سے کھینچتے ہیں اور اس کے گھٹنوں پر ڈال دیتے ہیں اس وقت اللہ کا دشمن بیہوش ہو جاتا ہے پس ملک الموت اسے اٹھا لیتے ہیں فرشتے اپنے جہنمی کوڑے اس کے چہرے پر اور پیٹھ پر مارتے ہیں پھر اس کے تہ بند باندھنے کی جگہ پر ڈال دیتے ہیں یہ دشمن رب اس وقت پھر بے تاب ہو جاتا ہے فرشتہ موت پھر اس بیہوشی کو اٹھا لیتا ہے اور فرشتے پھر اس کے چہرے پر اور کمر پر کوڑے برسانے لگتے ہیں آخر یہاں تک کہ روح سینے پر چڑھ جاتی ہے پھر حلق تک پہنچتی ہے پھر فرشتے جہنمی تانبے اور جہنمی انگاروں کو اس کو ٹھوڑی کے نیچے رکھ دیتے ہیں اور ملک الموت علیہ السلام فرماتے ہیں ”اے لعین و ملعون روح چل سینک میں اور جھلستے پانی اور کالے سیاہ دھویں کے غبار میں جس میں نہ تو خنکی ہے نہ اچھی جگہ۔“
جب یہ روح قبض ہو جاتی ہے تو اپنے جسم سے کہتی ہے اللہ تجھ سے سمجھے تو مجھے اللہ کی نافرمانیوں کی طرف بھگائے لیے جا رہا تھا۔ خود بھی ہلاک ہوا اور مجھے بھی برباد کیا۔ جسم بھی روح سے یہی کہتا ہے۔ زمین کے وہ تمام حصے جہاں یہ اللہ کی معصیت کرتا تھا اس پر لعنت کرنے لگتے ہیں۔
صفحہ نمبر4238
شیطانی لشکر دوڑتا ہوا شیطان کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نے آج ایک کو جہنم میں پہنچا دیا۔ اس کی قبر اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں دائیں میں گھس جاتی ہے کالے ناگ بختی اونٹوں کے برابر اس کی قبر میں بھیجے جاتے ہیں جو اس کے کانوں اور اس کے پاؤں کے انگوٹھوں سے اسے ڈسنا شروع کرتے ہیں اور اوپر چڑھتے آتے ہیں یہاں تک کہ وسط جسم میں مل جاتے ہیں۔ دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جن کی آنکھیں تیز بجلی جیسی جن کی آواز گرج جیسی جن کے دانت درندے جیسے جن کے سانس آگ کے شعلے جیسے جن کے بال پیروں کے نیچے تک جن کے دو مونڈھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہے جن کے دل میں رحمت و رحم کا نام نشان بھی نہیں جن کا نام ہی منکر نکیر ہے جن کے ہاتھ میں لوہے کے اتنے بڑے ہتھوڑے ہیں جنہیں ربیعہ اور مضرم مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے وہ اسے کہتے ہیں اٹھ بیٹھ یہ سیدھا بیٹھ جاتا ہے اور تہ بند باندھنے کی جگہ اس کا کفن آ پڑتا ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟
یہ کہتا ہے مجھے تو کچھ خبر نہیں وہ کہتے ہیں ہاں نہ تو نے معلوم کیا نہ تو نے پڑھا پھر اس زور سے اسے ہتھوڑا مارتے ہیں کہ اس کے شرارے اس کی قبر کو پر کر دیتے ہیں پھر لوٹ کر اس سے کہتے ہیں اپنے اوپر کو دیکھ یہ ایک کھلا ہوا دروازہ دیکھتا ہے وہ کہتے ہیں واللہ اگر تو اللہ کا فرمانبردار رہتا تو تیری یہ جگہ تھی۔
صفحہ نمبر4239
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اب تو اسے وہ حسرت ہوتی ہے جو کبھی اس کے دل سے جدا نہیں ہونے کی۔ پھر وہ کہتے ہیں اب اپنے نیچے دیکھ وہ دیکھتا ہے کہ ایک دروازہ جہنم کا کھلا ہوا ہے فرشتے کہتے ہیں اے دشمن رب چونکہ تو نے اللہ کی مرضی کے خلاف کام کئے ہیں اب تیری جگہ یہ ہے واللہ اس وقت اس کا دل رنج و افسوس سے بیٹھ جاتا ہے جو صدمہ اسے کبھی بھولنے کا نہیں اس کے لیے ستر دروازے جہنم کے کھل جاتے ہیں جہاں سے گرم ہوا اور بھاپ اسے ہمیشہ ہی آیا کرتی ہے یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اٹھا بٹھائے ۔ [الدر المنثور للسیوطی، 528/3:ضعیف] یہ حدیث بہت غریب ہے اور یہ سیاق بہت عجیب ہے اور اس کا راوی یزید رقاضی جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے نیچے کا راوی ہے اس کی غرائب و منکرات بہت ہیں اور ائمہ کے نزدیک وہ ضعیف الروایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابوداؤد میں ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھہر جاتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی طلب کرو اس وقت اس سے سوال ہو رہا ہے ۔ [سنن ابوداود:3221،قال الشيخ الألباني:صحیح] حافظ ابن مردویہ نے فرمان باری «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ» [6-الأنعام:93] کی تفسیر میں ایک بہت لمبی حدیث وارد کی ہے وہ بھی غرائب سے پر ہے۔
صفحہ نمبر4240
منافقین قریش ٭٭
صحیح بخاری میں ہے [صحیح بخاری:کتاب التفسیر:سورۃ ابراھیم باب:3] «أَلَمْ تَرَ» معنی میں «أَلَمْ تَعْلَمْ» کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا «بَوَارِ» کے معنی ہلاکت کے ہیں «بَارَ يَبُورُ بَوْرًا» سے «بُورًا» کے معنی «هَالِكِينَ» کے ہیں۔
مراد ان لوگوں سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”کفار اہل مکہ ہیں“ اور قول ہے کہ ”مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے۔“ [تفسیر قرطبی:451/7]
لیکن مشہور اور صحیح قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لیے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایک قول سیدنا ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کواء کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ ”یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔“ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔“
صفحہ نمبر4241
اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا؟ واللہ! میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا؟
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔“
اور روایت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔“ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابوجہل تھا اور احد میں ابوسفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔
اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر4242
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔“
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ دنیا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے “۔
جیسے فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے “۔
«مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-یونس:70] ” دنیاوی نفع اگرچہ ہو گا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے “۔
صفحہ نمبر4243
منافقین قریش ٭٭
صحیح بخاری میں ہے [صحیح بخاری:کتاب التفسیر:سورۃ ابراھیم باب:3] «أَلَمْ تَرَ» معنی میں «أَلَمْ تَعْلَمْ» کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا «بَوَارِ» کے معنی ہلاکت کے ہیں «بَارَ يَبُورُ بَوْرًا» سے «بُورًا» کے معنی «هَالِكِينَ» کے ہیں۔
مراد ان لوگوں سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”کفار اہل مکہ ہیں“ اور قول ہے کہ ”مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے۔“ [تفسیر قرطبی:451/7]
لیکن مشہور اور صحیح قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لیے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایک قول سیدنا ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کواء کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ ”یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔“ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔“
صفحہ نمبر4241
اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا؟ واللہ! میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا؟
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔“
اور روایت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔“ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابوجہل تھا اور احد میں ابوسفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔
اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر4242
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔“
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ دنیا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے “۔
جیسے فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے “۔
«مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-یونس:70] ” دنیاوی نفع اگرچہ ہو گا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے “۔
صفحہ نمبر4243
منافقین قریش ٭٭
صحیح بخاری میں ہے [صحیح بخاری:کتاب التفسیر:سورۃ ابراھیم باب:3] «أَلَمْ تَرَ» معنی میں «أَلَمْ تَعْلَمْ» کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا «بَوَارِ» کے معنی ہلاکت کے ہیں «بَارَ يَبُورُ بَوْرًا» سے «بُورًا» کے معنی «هَالِكِينَ» کے ہیں۔
مراد ان لوگوں سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”کفار اہل مکہ ہیں“ اور قول ہے کہ ”مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے۔“ [تفسیر قرطبی:451/7]
لیکن مشہور اور صحیح قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لیے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایک قول سیدنا ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کواء کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ ”یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔“ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔“
صفحہ نمبر4241
اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا؟ واللہ! میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا؟
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔“
اور روایت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔“ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابوجہل تھا اور احد میں ابوسفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔
اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر4242
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔“
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ دنیا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے “۔
جیسے فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ” ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے “۔
«مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-یونس:70] ” دنیاوی نفع اگرچہ ہو گا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے “۔
صفحہ نمبر4243