Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Qasas
Tafsir Ibn Kathir · The Stories · 88 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
صفحہ نمبر6568
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔
یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ” اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں “۔
اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ” اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو “۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ” اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں “۔
اب مطلع فرمایا کہ ” لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی “۔
یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
صفحہ نمبر6569
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔
اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ” موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے “۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
صفحہ نمبر6570
پھر حکم دیا کہ ” تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا “۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ” اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ “۔
صفحہ نمبر6571
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
صفحہ نمبر6568
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔
یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ” اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں “۔
اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ” اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو “۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ” اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں “۔
اب مطلع فرمایا کہ ” لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی “۔
یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
صفحہ نمبر6569
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔
اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ” موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے “۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
صفحہ نمبر6570
پھر حکم دیا کہ ” تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا “۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ” اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ “۔
صفحہ نمبر6571
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
صفحہ نمبر6575
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ” میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں “۔
یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» [28-القصص:34] ہے۔
آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ” آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے “۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔
جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ” تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے “۔
صفحہ نمبر6576
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» [ 20- طه: 36 ] ” موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا “۔
اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» [19-مريم:53] میں ہے ” ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا “۔
اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے “۔
جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» [58-المجادلة:21] ” میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:51،52] ، ” ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں “۔
ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6577
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
صفحہ نمبر6575
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ” میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں “۔
یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» [28-القصص:34] ہے۔
آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ” آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے “۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔
جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ” تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے “۔
صفحہ نمبر6576
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» [ 20- طه: 36 ] ” موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا “۔
اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» [19-مريم:53] میں ہے ” ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا “۔
اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے “۔
جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» [58-المجادلة:21] ” میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:51،52] ، ” ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں “۔
ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6577
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
صفحہ نمبر6575
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ” میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں “۔
یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» [28-القصص:34] ہے۔
آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ” آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے “۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔
جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ” تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے “۔
صفحہ نمبر6576
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» [ 20- طه: 36 ] ” موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا “۔
اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» [19-مريم:53] میں ہے ” ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا “۔
اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے “۔
جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» [58-المجادلة:21] ” میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:51،52] ، ” ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں “۔
ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6577
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔
لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
صفحہ نمبر6580
اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔“
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
صفحہ نمبر6581
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔
لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
صفحہ نمبر6580
اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔“
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
صفحہ نمبر6581
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:23-26] ” تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے “، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔
ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] کہ ” سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا “۔
انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر6583
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» [26-الشعراء:23] کہ ” موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ “ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] ” اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا “۔
اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ” لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں “۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔
جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا “۔
دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» [11-ھود:99] ” یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت “۔
صفحہ نمبر6584
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:23-26] ” تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے “، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔
ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] کہ ” سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا “۔
انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر6583
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» [26-الشعراء:23] کہ ” موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ “ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] ” اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا “۔
اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ” لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں “۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔
جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا “۔
دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» [11-ھود:99] ” یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت “۔
صفحہ نمبر6584
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:23-26] ” تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے “، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔
ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] کہ ” سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا “۔
انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر6583
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» [26-الشعراء:23] کہ ” موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ “ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] ” اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا “۔
اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ” لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں “۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔
جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا “۔
دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» [11-ھود:99] ” یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت “۔
صفحہ نمبر6584
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:23-26] ” تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے “، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔
ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] کہ ” سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا “۔
انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر6583
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» [26-الشعراء:23] کہ ” موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ “ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] ” اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا “۔
اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ” لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں “۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔
جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا “۔
دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» [11-ھود:99] ” یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت “۔
صفحہ نمبر6584
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» [79-النازعات:23-26] ” تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے “، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔
ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] کہ ” سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا “۔
انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
صفحہ نمبر6583
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» [26-الشعراء:23] کہ ” موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ “ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» [26-الشعراء:29] ” اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا “۔
اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ” لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں “۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔
جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» [47-محمد:13] ” ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا “۔
دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» [11-ھود:99] ” یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت “۔
صفحہ نمبر6584
موسیٰ علیہ السلام کو تورات کا انعام ٭٭
اس آیت میں ایک لطیف بات یہ ہے کہ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد والی امتیں اس طرح عذاب آسمانی سے ہلاک نہیں ہوئیں بلکہ جس امت نے سرکشی کی اس کی سرکشی کا بدلہ اسی زمانے کے نیک لوگوں کے ہاتھوں اللہ نے اسے دلوایا۔ مومنین مشرکین سے جہاد کرتے رہے۔
صفحہ نمبر6589
جیسے فرمان باری ہے آیت «وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِ فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً» [69-الحاقة:10-9] ، یعنی ” فرعون اور جو امتیں اس سے پہلے ہوئیں اور الٹی ہوئی بستی کے رہنے والے یعنی قوم لوط یہ سب لوگ بڑے بڑے قصوروں کے مرتکب ہوئے اور اپنے زمانے کے رسولوں کی نافرمانیوں پر کمر کس لی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بھی بڑی سخت پکڑ سے پکڑ لیا “۔
اس گروہ کی ہلاکت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے انعام موسیٰ «الْكَلِيم عَلَيْهِ مِنْ رَبّه أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» پر نازل ہوتے رہے جن میں سے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر یہاں ہے کہ انہیں تورات ملی۔ اس تورات کے نازل ہونے کے بعد کسی قوم کو آسمان کے یا زمین کے عام عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا سوائے اس بستی کے چند مجرموں کے جنہوں نے اللہ کی حرمت کے خلاف ہفتے کے دن شکار کھیلا تھا اور اللہ نے انہیں سور اور بندر بنا دیا تھا۔ یہ واقعہ بیشک موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ جیسے کہ ابوسیعد خدری رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور اس کے بعد ہی آپ نے اپنے قول کی شہادت میں یہی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [28-القص:43] کی تلاوت فرمائی۔ [مسند بزار:2247:صحیح]
ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی قوم کو عذاب آسمانی یا زمینی سے ہلاک نہیں کیا۔ اسے عذاب جتنے آئے آپ علیہ السلام سے پہلے آئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔
پھر تورات کے اوصاف بیان ہور ہے ہیں کہ وہ کتاب کو اندھاپے سے گمراہی سے نکالنے والی تھی اور حق کی ہدات کرنے والی تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی رحمت سے تھی نیک اعمال کی ہادی تھی۔ تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور نصیحت بھی۔ اور راہ راست پر آجائیں۔
صفحہ نمبر6590
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے “۔
مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» [3-آل عمران:44] ، ” جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے “۔
پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔
اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» [11-ھود:49] ، ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں “۔
سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» [12-يوسف:102] کہ ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے “۔
سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» [20-طه:99] ” اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں “۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ” تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں “۔
تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔
نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا ۔
مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» [26-الشعراء:10] ” جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی “ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16] میں ہے کہ ” وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا “۔
اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» [19-مريم:52] کہ ” طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا “۔
صفحہ نمبر6591
پھر فرماتا ہے کہ ” ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں “۔
اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» [6-الأنعام:156،157] ” یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی “۔
اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ” رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے “۔
اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» [5-المائدة:19] ، ” اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا “۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
صفحہ نمبر6592
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے “۔
مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» [3-آل عمران:44] ، ” جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے “۔
پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔
اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» [11-ھود:49] ، ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں “۔
سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» [12-يوسف:102] کہ ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے “۔
سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» [20-طه:99] ” اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں “۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ” تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں “۔
تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔
نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا ۔
مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» [26-الشعراء:10] ” جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی “ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16] میں ہے کہ ” وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا “۔
اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» [19-مريم:52] کہ ” طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا “۔
صفحہ نمبر6591
پھر فرماتا ہے کہ ” ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں “۔
اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» [6-الأنعام:156،157] ” یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی “۔
اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ” رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے “۔
اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» [5-المائدة:19] ، ” اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا “۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
صفحہ نمبر6592
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے “۔
مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» [3-آل عمران:44] ، ” جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے “۔
پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔
اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» [11-ھود:49] ، ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں “۔
سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» [12-يوسف:102] کہ ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے “۔
سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» [20-طه:99] ” اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں “۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ” تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں “۔
تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔
نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا ۔
مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» [26-الشعراء:10] ” جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی “ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16] میں ہے کہ ” وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا “۔
اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» [19-مريم:52] کہ ” طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا “۔
صفحہ نمبر6591
پھر فرماتا ہے کہ ” ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں “۔
اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» [6-الأنعام:156،157] ” یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی “۔
اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ” رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے “۔
اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» [5-المائدة:19] ، ” اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا “۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
صفحہ نمبر6592
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے “۔
مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» [3-آل عمران:44] ، ” جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے “۔
پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔
اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» [11-ھود:49] ، ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں “۔
سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» [12-يوسف:102] کہ ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے “۔
سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» [20-طه:99] ” اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں “۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ” تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں “۔
تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔
نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا ۔
مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» [26-الشعراء:10] ” جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی “ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16] میں ہے کہ ” وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا “۔
اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» [19-مريم:52] کہ ” طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا “۔
صفحہ نمبر6591
پھر فرماتا ہے کہ ” ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں “۔
اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» [6-الأنعام:156،157] ” یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی “۔
اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ” رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے “۔
اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» [5-المائدة:19] ، ” اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا “۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
صفحہ نمبر6592
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ” اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے “۔
بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» [10-يونس:78] ” یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے “۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» [23-المؤمنون:48] ” دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے “۔
صفحہ نمبر6596
تو فرمایا کہ ” ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے “۔
یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔
مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
صفحہ نمبر6597
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ” تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں “۔
تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے “۔
اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:154] ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی “ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “۔
جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] کہ ” انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “۔
ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
صفحہ نمبر6598
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔
انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ” ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا “۔
پھر فرمایا کہ ” جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں “۔
اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
صفحہ نمبر6599
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ” اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے “۔
بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» [10-يونس:78] ” یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے “۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» [23-المؤمنون:48] ” دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے “۔
صفحہ نمبر6596
تو فرمایا کہ ” ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے “۔
یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔
مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
صفحہ نمبر6597
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ” تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں “۔
تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے “۔
اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:154] ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی “ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “۔
جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] کہ ” انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “۔
ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
صفحہ نمبر6598
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔
انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ” ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا “۔
پھر فرمایا کہ ” جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں “۔
اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
صفحہ نمبر6599
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ” اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے “۔
بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» [10-يونس:78] ” یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے “۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» [23-المؤمنون:48] ” دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے “۔
صفحہ نمبر6596
تو فرمایا کہ ” ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے “۔
یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔
مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
صفحہ نمبر6597
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ” تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں “۔
تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے “۔
اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:154] ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی “ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “۔
جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] کہ ” انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “۔
ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
صفحہ نمبر6598
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔
انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ” ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا “۔
پھر فرمایا کہ ” جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں “۔
اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
صفحہ نمبر6599
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ” اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے “۔
بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» [10-يونس:78] ” یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے “۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» [23-المؤمنون:48] ” دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے “۔
صفحہ نمبر6596
تو فرمایا کہ ” ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے “۔
یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔
مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
صفحہ نمبر6597
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ” تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں “۔
تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے “۔
اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:154] ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی “ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [6-الأنعام:155] ” اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے “۔
جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] کہ ” انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “۔
ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
صفحہ نمبر6598
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔
انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ” ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا “۔
پھر فرمایا کہ ” جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں “۔
اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
صفحہ نمبر6599
اہل کتاب علماء ٭٭
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] کہ ” بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» [17-الإسراء:107-108] ” پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» “۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» [5-المائدة:82] ، یعنی ” مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں “، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ” یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں “۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے ۔ [صحیح بخاری:98]
صفحہ نمبر6603
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ یہود ونصاریٰ میں جو مسلمان ہو جائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں ۔ [مسند احمد:259/5:صحیح]
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
صفحہ نمبر6604
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریباً بیس نصرانی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کر کے انہیں سنائی۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
صفحہ نمبر6605
اہل کتاب علماء ٭٭
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] کہ ” بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» [17-الإسراء:107-108] ” پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» “۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» [5-المائدة:82] ، یعنی ” مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں “، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ” یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں “۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے ۔ [صحیح بخاری:98]
صفحہ نمبر6603
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ یہود ونصاریٰ میں جو مسلمان ہو جائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں ۔ [مسند احمد:259/5:صحیح]
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
صفحہ نمبر6604
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریباً بیس نصرانی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کر کے انہیں سنائی۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
صفحہ نمبر6605
اہل کتاب علماء ٭٭
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] کہ ” بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» [17-الإسراء:107-108] ” پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» “۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» [5-المائدة:82] ، یعنی ” مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں “، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ” یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں “۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے ۔ [صحیح بخاری:98]
صفحہ نمبر6603
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ یہود ونصاریٰ میں جو مسلمان ہو جائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں ۔ [مسند احمد:259/5:صحیح]
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
صفحہ نمبر6604
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریباً بیس نصرانی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کر کے انہیں سنائی۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
صفحہ نمبر6605
اہل کتاب علماء ٭٭
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] کہ ” بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» [17-الإسراء:107-108] ” پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» “۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» [5-المائدة:82] ، یعنی ” مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں “، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ” یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں “۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے ۔ [صحیح بخاری:98]
صفحہ نمبر6603
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ یہود ونصاریٰ میں جو مسلمان ہو جائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں ۔ [مسند احمد:259/5:صحیح]
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
صفحہ نمبر6604
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریباً بیس نصرانی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کر کے انہیں سنائی۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
صفحہ نمبر6605
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے ٭٭
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ” تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے “۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے “ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا ۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے ۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» [9-التوبة:113] یعنی ” نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں “ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:3884]
صفحہ نمبر6609
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ابوطالب کے مرض الموت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ چجا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لو میں اس کی گواہی قیامت کے دن دے دونگا ، تو اس نے کہا اگر مجھے اپنے خاندان قریش کے اس طعنے کا خوف نہ ہو اس نے موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے یہ کہہ لیا تو میں اسے کہہ کر تیری آنکھوں کو ٹھنڈی کر دیتا مگر پھر بھی اسے تیری خوشی کے لیے کہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:25]
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
صفحہ نمبر6610
قیصر کا قاصد جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیصر کا خط خدمت نبوی میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں رکھ کر فرمایا: تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا تیرج قبیلے کا آدمی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا قصد ہے کہ تو اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر آ جائے؟ اس نے جواب دیا کہ میں جس قوم کا قاصد ہوں جب تک ان کے پیغام کا جواب انہیں نہ پہنچا دوں ان کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر یہی آیت پڑھی ۔ [مسند احمد:441/3:ضعیف]
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ” یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟“
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔
صفحہ نمبر6611
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے ٭٭
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ” تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے “۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے “ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا ۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے ۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» [9-التوبة:113] یعنی ” نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں “ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:3884]
صفحہ نمبر6609
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ابوطالب کے مرض الموت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ چجا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لو میں اس کی گواہی قیامت کے دن دے دونگا ، تو اس نے کہا اگر مجھے اپنے خاندان قریش کے اس طعنے کا خوف نہ ہو اس نے موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے یہ کہہ لیا تو میں اسے کہہ کر تیری آنکھوں کو ٹھنڈی کر دیتا مگر پھر بھی اسے تیری خوشی کے لیے کہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:25]
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
صفحہ نمبر6610
قیصر کا قاصد جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیصر کا خط خدمت نبوی میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں رکھ کر فرمایا: تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا تیرج قبیلے کا آدمی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا قصد ہے کہ تو اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر آ جائے؟ اس نے جواب دیا کہ میں جس قوم کا قاصد ہوں جب تک ان کے پیغام کا جواب انہیں نہ پہنچا دوں ان کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر یہی آیت پڑھی ۔ [مسند احمد:441/3:ضعیف]
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ” یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟“
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔
صفحہ نمبر6611
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112-113] ، یہاں فرماتا ہے کہ ” ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک اجڑی پڑی ہیں۔ کچھ یونہی سی آبادی اگرچہ ہو گئی ہو لیکن دیکھو ان کے کھنڈرات سے آج تک وحشت برس رہی ہے ہم ہی ان کے مالک رہ گئے ہیں “۔
کعب رحمہ اللہ [تابعی] کا قول ہے کہ ”الو سے سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”تو کھیتی اناج کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے پوچھا ”پانی کیوں نہیں پیتا؟“ کہا اس لیے کہ قوم نوح علیہ السلام اسی میں ڈبودی گئی۔ پوچھا ”ویرانے میں کیوں رہتا ہے؟“ کہا اس لیے کہ وہ اللہ کی میراث ہے۔ پھر کعب رحمہ اللہ نے آیت «وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ» [28-القص:58] پڑھا۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل وانصاف کو بیان فرما رہا ہے کہ ” وہ کسی کے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا پہلے ان پر اپنی حجت ختم کرتا ہے اور ان کا عذر دور کرتا ہے۔ رسولوں کو بھیج کر اپنا کلام ان تک پہنچاتا ہے “۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عام تھی آپ ام القریٰ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور تمام عرب وعجم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے فرمان ہے آیت «لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا» [42-الشورى:7] ” تاکہ تو مکہ والوں کو اور دوسرے شہر والوں کو ڈرادے “
اور فرمایا آیت «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [7-الأعراف:158] ” کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “
اور آیت میں ہے «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ” تاکہ اس قرآن سے میں تمہیں بھی ڈرادوں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ قرآن پہنچے “۔
صفحہ نمبر6613
اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [11-ھود:17] ” اس قرآن کے ساتھ دنیا والوں میں سے جو بھی کفر کریں اس کے وعدے کی جگہ جہنم ہے “۔
اور جگہ اللہ کا فرمان ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» [17-الإسراء:58] ، یعنی ” تمام بستیوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب کرنے والے ہیں “۔ پس خبر دی کہ قیامت سے پہلے وہ سب بستیوں کو برباد کر دے گا۔
اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [17-الإسراء:15] کہ ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو عام کر دیا اور تمام جہاں کے لیے کر دیا اور مکہ میں جو کہ تمام دنیا کا مرکز ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ساری دنیا پر اپنی حجت ختم کر دی۔
بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ میں تمام سیاہ سفید کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:521]
اسی لیے نبوت ورسالت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ کہا گیا کہ مراد «اُمُّ الْقُرَىٰ» سے اصل اور بڑا قریہ ہے۔
صفحہ نمبر6614
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112-113] ، یہاں فرماتا ہے کہ ” ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک اجڑی پڑی ہیں۔ کچھ یونہی سی آبادی اگرچہ ہو گئی ہو لیکن دیکھو ان کے کھنڈرات سے آج تک وحشت برس رہی ہے ہم ہی ان کے مالک رہ گئے ہیں “۔
کعب رحمہ اللہ [تابعی] کا قول ہے کہ ”الو سے سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”تو کھیتی اناج کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے پوچھا ”پانی کیوں نہیں پیتا؟“ کہا اس لیے کہ قوم نوح علیہ السلام اسی میں ڈبودی گئی۔ پوچھا ”ویرانے میں کیوں رہتا ہے؟“ کہا اس لیے کہ وہ اللہ کی میراث ہے۔ پھر کعب رحمہ اللہ نے آیت «وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ» [28-القص:58] پڑھا۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل وانصاف کو بیان فرما رہا ہے کہ ” وہ کسی کے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا پہلے ان پر اپنی حجت ختم کرتا ہے اور ان کا عذر دور کرتا ہے۔ رسولوں کو بھیج کر اپنا کلام ان تک پہنچاتا ہے “۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عام تھی آپ ام القریٰ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور تمام عرب وعجم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے فرمان ہے آیت «لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا» [42-الشورى:7] ” تاکہ تو مکہ والوں کو اور دوسرے شہر والوں کو ڈرادے “
اور فرمایا آیت «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» [7-الأعراف:158] ” کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “
اور آیت میں ہے «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ” تاکہ اس قرآن سے میں تمہیں بھی ڈرادوں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ قرآن پہنچے “۔
صفحہ نمبر6613
اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [11-ھود:17] ” اس قرآن کے ساتھ دنیا والوں میں سے جو بھی کفر کریں اس کے وعدے کی جگہ جہنم ہے “۔
اور جگہ اللہ کا فرمان ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» [17-الإسراء:58] ، یعنی ” تمام بستیوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب کرنے والے ہیں “۔ پس خبر دی کہ قیامت سے پہلے وہ سب بستیوں کو برباد کر دے گا۔
اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» [17-الإسراء:15] کہ ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو عام کر دیا اور تمام جہاں کے لیے کر دیا اور مکہ میں جو کہ تمام دنیا کا مرکز ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ساری دنیا پر اپنی حجت ختم کر دی۔
بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ میں تمام سیاہ سفید کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:521]
اسی لیے نبوت ورسالت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ کہا گیا کہ مراد «اُمُّ الْقُرَىٰ» سے اصل اور بڑا قریہ ہے۔
صفحہ نمبر6614
دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ ٭٭
اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت و ذلت اس کی ناپائیداری بے ثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [16-النحل:96] ” تمہارے پاس جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے پاس تمام چیزیں بقا والی ہیں “۔ «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ” اللہ کے پاس جو ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہت ہی بہتر اور عمدہ ہے “۔ «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ» [13-الرعد:26] ” آخرت کے مقابلہ میں دنیا تو کچھ بھی نہیں “۔ «بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:16،17] ” لیکن افسوس کہ لوگ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور آخرت سے غافل ہو رہے ہیں جو بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے ۔ [صحیح مسلم:2858] افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔
صفحہ نمبر6616
خیال کر لو ایک تو وہ جو اللہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و یقین رکھتا ہو اور ایک وہ جو ایمان نہ لایا ہو نتیجے کے اعتبار سے برابر ہو سکتے ہیں؟ ایمان والوں کے ساتھ تو اللہ کا جنت کا اور اپنی بےشمار ان مٹ غیر فانی نعمتوں کا وعدہ ہے اور کافر کے ساتھ وہاں کے عذابوں کا ڈراوا ہے گو دنیا میں کچھ روز عیش ہی منالے۔
مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا «وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ» [37-الصافات:57] ” اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا “۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» [37-الصافات:158] ” جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں “۔
صفحہ نمبر6617