Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Ankaboot
Tafsir Ibn Kathir · The Spider · 69 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
فرشتوں کی آمد ٭٭
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔
صفحہ نمبر6692
اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر6693
پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
صفحہ نمبر6694
فرشتوں کی آمد ٭٭
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔
صفحہ نمبر6692
اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر6693
پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
صفحہ نمبر6694
فرشتوں کی آمد ٭٭
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔
صفحہ نمبر6692
اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر6693
پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
صفحہ نمبر6694
فرشتوں کی آمد ٭٭
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔
صفحہ نمبر6692
اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر6693
پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
صفحہ نمبر6694
فرشتوں کی آمد ٭٭
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔
صفحہ نمبر6692
اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔
صفحہ نمبر6693
پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
صفحہ نمبر6694
فساد نہ کرو ٭٭
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔
صفحہ نمبر6699
فساد نہ کرو ٭٭
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔
صفحہ نمبر6699
احقاف کے لوگ ٭٭
عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔
قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6701
احقاف کے لوگ ٭٭
عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔
قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6701
احقاف کے لوگ ٭٭
عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔
قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6701
مکڑی کا جالا ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ رب العالمین کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد، روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف، اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر6704
باب
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔
ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ (مسند احمد) [مسند احمد:203/4:ضعیف] اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
صفحہ نمبر6705
باب
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔
ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ (مسند احمد) [مسند احمد:203/4:ضعیف] اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
صفحہ نمبر6705
مقصد کائنات ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے۔ اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بے کار نہیں بنایا۔ بلکہ اس لیے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
صفحہ نمبر6707
اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا: جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ [ضعیف و منقطع]
اور روایت میں ہے کہ وہ اللہ سے دور ہی ہوتا چلا جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:11025:ضعیف]
ایک موقوف روایت میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جا رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بدفعلیوں سے روکتی ہے، اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔
شعیب علیہ السلام سے جب ان کی قوم نے کہا کہ اے شعیب علیہ السلام! کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو سفیان رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ہاں اللہ کی قسم! نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27784:ضعیف و منقطع]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔
میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6708
بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑا دے گی۔ [مسند احمد:447/2:صحیح] چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز میں تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں۔ ۱۔ اخلاص وخلوص ۲۔ خوف الہی اور ۳۔ ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہو جاتا ہے اور خوف الہی سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتا دیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کررہا ہے وہ تیرے لیے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا: ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کرو گے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ» [2-البقرة:152] ” تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ “ اسے سن کر آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔
یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں «سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُلِلہِ، اَللہُ اَکْبَرُ» وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابودرداء، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ پسند فرماتے ہیں۔
صفحہ نمبر6709
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو ٭٭
قتادۃ رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہیئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ» [16-النحل:125] ” اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو۔ “
موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو جب فرعون کے طرف بھیجا جاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ» [20-طه:44] یعنی ” اس سے نرمی سے گفتگو کرنا، کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کر لے اور اس کا دل پگھل جائے “۔
یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور ابن زید رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال وقتال کا حکم ہے۔ جیسے جناب باری عز اِسمہُ کا ارشاد ہے آیت «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ» [57-الحديد:25] ” ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب ومیزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہو سکے۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے “۔
صفحہ نمبر6710
پس اللہ کا حکم یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے۔ جو لڑے اسی سے لڑاجائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے۔ پھر فرماتا ہے جس کے کھرے کھوٹے ہونے کا تمہیں یقینی علم نہ ہو تو اس کی تکذیب کی طرف قدم نہ بڑھاؤ اور نہ بے تأمل تصدیق کر دیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل وتحریف کر دی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت «وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» سے آخر آیت تک پڑھ دیا کرو ۔ [صحیح بخاری:4485]
صفحہ نمبر6711
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ ہی کو علم ہے۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقیناً بولتے ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہہ دو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ یہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتا دو۔ [مسند احمد:136/4:حسن]
یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموماً بہتان و افتراء ہوتا ہے۔ ان میں تحریف و تبدل، تغیر وتاویل رواج پا چکی ہے۔ اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے۔ جیسے مال کی خواہش ہے۔ (ابن جریر)
صفحہ نمبر6712
صحیح بخاری شریف میں ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں؟ کہ تم ان سے دریافت کرو۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو؟ [صحیح بخاری:4363]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے کعب بن احبار رضی اللہ عنہا ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:7361]
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمداً جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کر لیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کر دیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئیے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑ لی ہیں۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کر دیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر6713
حق تلاوت ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نازل فرمایا ہے۔
پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور جیسے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اس کے بھی منکر ہیں۔
صفحہ نمبر6714
باب
پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ» [7-الأعراف:157] یعنی ” جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ “
لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ [صحیح بخاری:2698-2699] لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا
اور ایک روایت میں ہے کہ ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا [صحیح بخاری:7131] یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔
صفحہ نمبر6715
قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ» [6-الأنعام:38] میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ” اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ “ [25-الفرقان:5]
باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ” انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ “ [25-الفرقان:6]
یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» [54-القمر:17] یعنی ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ “
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ [صحیح بخاری:4981]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ [صحیح مسلم:2865-63]
مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ [مسند احمد:155/4:حسن] اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔
صفحہ نمبر6716
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔
قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے: ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ “ [10-يونس:96-97]
صفحہ نمبر6717
باب
پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ» [7-الأعراف:157] یعنی ” جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ “
لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ [صحیح بخاری:2698-2699] لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا
اور ایک روایت میں ہے کہ ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا [صحیح بخاری:7131] یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔
صفحہ نمبر6715
قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ» [6-الأنعام:38] میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ” اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ “ [25-الفرقان:5]
باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ” انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ “ [25-الفرقان:6]
یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» [54-القمر:17] یعنی ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ “
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ [صحیح بخاری:4981]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ [صحیح مسلم:2865-63]
مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ [مسند احمد:155/4:حسن] اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔
صفحہ نمبر6716
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔
قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے: ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ “ [10-يونس:96-97]
صفحہ نمبر6717
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭
کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ” آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ “ [17-الإسراء:59] کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ” تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ “ [2-البقرة:277] بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
صفحہ نمبر6719
تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ” اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ “ [69-الحاقة:44-47]
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
صفحہ نمبر6720
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭
کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ” آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ “ [17-الإسراء:59] کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ” تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ “ [2-البقرة:277] بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
صفحہ نمبر6719
تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ” اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ “ [69-الحاقة:44-47]
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
صفحہ نمبر6720
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭
کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ” آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ “ [17-الإسراء:59] کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ” تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ “ [2-البقرة:277] بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔
صفحہ نمبر6719
تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔
جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ” اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ “ [69-الحاقة:44-47]
چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
صفحہ نمبر6720
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت ٭٭
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کہ ” جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی درد ناک عذاب کر۔ “ [8-الأنفال:32]
یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العالمین یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ان کے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرور آئیں گے بلکہ ان کی بےخبری میں اچانک اور یک بہ یک آ پڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یعنی یقیناً انہیں عذاب ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے، ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج، چاند اسی میں بے نور کر کے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث یعلیٰ سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا» یعنی ” وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں “ تو فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلیٰ کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گا جب تک کہ اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤں اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6723
پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” ان کے لیے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ» [39-الزمر:16] یعنی ” ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہو گا۔ “
اور مقام پر ارشاد ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ» [21-الأنبياء:39] یعنی ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جب کہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیچھے سے۔ “
ان آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہو گی، آگے پیچھے سے، اوپر نیچے سے، دائیں بائیں سے۔ تو اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہو گی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا: لو اب عذاب کے مزے چکھو۔ پس ایک تو وہ ظاہری، جسمانی عذاب، دوسرا یہ باطنی، روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» [40-غافر:71] اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] میں ہے یعنی ” جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ اب بتاؤ! یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔ “
صفحہ نمبر6724
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت ٭٭
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کہ ” جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی درد ناک عذاب کر۔ “ [8-الأنفال:32]
یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العالمین یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ان کے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرور آئیں گے بلکہ ان کی بےخبری میں اچانک اور یک بہ یک آ پڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یعنی یقیناً انہیں عذاب ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے، ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج، چاند اسی میں بے نور کر کے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث یعلیٰ سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا» یعنی ” وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں “ تو فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلیٰ کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گا جب تک کہ اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤں اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6723
پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” ان کے لیے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ» [39-الزمر:16] یعنی ” ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہو گا۔ “
اور مقام پر ارشاد ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ» [21-الأنبياء:39] یعنی ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جب کہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیچھے سے۔ “
ان آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہو گی، آگے پیچھے سے، اوپر نیچے سے، دائیں بائیں سے۔ تو اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہو گی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا: لو اب عذاب کے مزے چکھو۔ پس ایک تو وہ ظاہری، جسمانی عذاب، دوسرا یہ باطنی، روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» [40-غافر:71] اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] میں ہے یعنی ” جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ اب بتاؤ! یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔ “
صفحہ نمبر6724
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت ٭٭
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کہ ” جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی درد ناک عذاب کر۔ “ [8-الأنفال:32]
یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العالمین یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ان کے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرور آئیں گے بلکہ ان کی بےخبری میں اچانک اور یک بہ یک آ پڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یعنی یقیناً انہیں عذاب ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے، ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج، چاند اسی میں بے نور کر کے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث یعلیٰ سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا» یعنی ” وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں “ تو فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلیٰ کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گا جب تک کہ اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤں اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6723
پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [7-الأعراف:41] ” ان کے لیے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ» [39-الزمر:16] یعنی ” ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہو گا۔ “
اور مقام پر ارشاد ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ» [21-الأنبياء:39] یعنی ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جب کہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیچھے سے۔ “
ان آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہو گی، آگے پیچھے سے، اوپر نیچے سے، دائیں بائیں سے۔ تو اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہو گی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا: لو اب عذاب کے مزے چکھو۔ پس ایک تو وہ ظاہری، جسمانی عذاب، دوسرا یہ باطنی، روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» [40-غافر:71] اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] میں ہے یعنی ” جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ اب بتاؤ! یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔ “
صفحہ نمبر6724
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف]
چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن]
صفحہ نمبر6727
پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔
فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔
یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔
اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف]
پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
صفحہ نمبر6728
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف]
چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن]
صفحہ نمبر6727
پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔
فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔
یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔
اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف]
پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
صفحہ نمبر6728
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف]
چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن]
صفحہ نمبر6727
پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔
فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔
یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔
اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف]
پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
صفحہ نمبر6728
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف]
چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن]
صفحہ نمبر6727
پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔
فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔
یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔
اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف]
پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
صفحہ نمبر6728
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف]
چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن]
صفحہ نمبر6727
پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔
فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔
یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔
اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف]
پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
صفحہ نمبر6728