Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Faatir
Tafsir Ibn Kathir · The Originator · 45 ayat · ayat 31–45 · Quran text →
فضائل قرآن ٭٭
قرآن اللہ کا حق کلام ہے اور جس طرح اگلی کتابیں اس کی خبر دیتی رہی ہیں یہ بھی ان اگلی سچی کتابوں کی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ رب خبیر و بصیر ہے۔ ہر مستحق فضیلت کو بخوبی جانتا ہے۔ انبیاء کو انسانوں پر اس نے اپنے وسیع علم سے فضیلت دی ہے۔ پھر انبیاء میں بھی آپس میں مرتبے مقرر کر دیئے ہیں اور علی الاطلاق حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ سب سے بڑا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء پر درود و سلام بھیجے۔
صفحہ نمبر7281
عظمت قرآن کریم اور ملت بیضا ٭٭
جس کتاب کا اوپر ذکر ہوا تھا اس بزرگ کتاب یعنی قرآن کریم کو ہم نے اپنے چیدہ بندوں کے ہاتھوں میں دیا ہے یعنی اس امت کے ہاتھوں۔ پھر حرمت والے کام بھی اس سے سرزد ہو گئے۔ بعض درمیانہ درجے کے رہے جنہوں نے محرمات سے تو اجتناب کیا واجبات بجا لاتے رہے لیکن کبھی کبھی کوئی مستحب کام ان سے چھوٹ بھی گیا اور کبھی کوئی ہلکی پھلکی نافرمانی بھی سرزد ہو گئی۔ بعض درجوں میں بہت ہی آگے نکل گئے۔ واجبات چھوڑ کر مستحباب کو بھی انہوں نے نہ چھوڑا اور محرمات چھوڑ کر مکروہات سے بھی یکسر الگ رہے۔ بلکہ بعض مرتبہ مباح چیزوں کو بھی ڈر کر چھوڑ دیا۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پسندیدہ بندوں سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اللہ کی ہر کتاب کی وارث بنائی گئی ہے۔ ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں بخشا جائے گا اور ان میں جو درمیانہ لوگ ہیں ان سے آسانی سے حساب لیا جائے گا اور ان میں جو نیکیوں میں بڑھ جانے والے ہیں انہیں بیحساب جنت میں پہنچایا جائے گا۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہے۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سابق لوگ تو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور میانہ رو رحمت رب سے داخل جنت ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے اور اصحاب اعراف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جنت میں آئیں گے۔ الغرض اس امت کے ہلکے پھلکے گنہگار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں داخل ہیں [طبرانی کبیر:11454:موضوع] «فالحمدللہ»
صفحہ نمبر7282
گو اکثر سلف کا قول یہی ہے۔ لیکن بعض سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ لوگ نہ تو اس امت میں داخل ہیں نہ چیدہ اور پسندیدہ ہیں نہ وارثین کتاب ہیں۔ بلکہ مراد اس سے کافر منافق اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جانے والے ہیں پس یہ تین قسمیں وہی ہیں جن کا بیان سورۃ الواقعہ کے اول و آخر میں ہے۔ لیکن صحیح قول یہی ہے کہ یہ اسی امت میں ہیں۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ تینوں گویا ایک ہیں اور تینوں ہی جنتی ہیں۔ [مسند احمد::78/3صحیح]
صفحہ نمبر7283
یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راویوں میں ایک راوی ہیں جن کا نام مذکور نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ہونے کے اعتبار سے اور اس اعتبار سے کہ وہ جنتی ہیں گویا ایک ہی ہیں۔ ہاں مرتبوں میں فرق ہونا لازمی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا سابقین تو بیحساب جنت میں جائیں گے اور درمیانہ لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے طول محشر میں روکے جائیں گے۔ پھر اللہ کی رحمتوں سے تلافی ہو جائے گی اور یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا ہمارا رب بڑا ہی غفور و شکور ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے رہائش کی ایسی جگہ عطا فرمائی جہاں ہمیں کوئی درد دکھ نہیں۔ [مسند احمد: 198/5:ضعیف]
صفحہ نمبر7284
ابن ابی حاتم کی اس روایت میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے۔ ابن جریر نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ابوثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے ہیں اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ! میری وحشت کا انیس میرے لیے مہیا کر دے اور میری غربت پر رحم کر اور مجھے کوئی اچھا رفیق عطا فرما۔ یہ سن کر صحابی ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں میں تیرا ساتھی ہوں سن میں آج تجھے وہ حدیث رسول سناتا ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں سنائی پھر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا «سابق بالخیرات» تو جنت میں بیحساب جائیں گے اور مقتصد لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور «ظالم لنفسہ» کو اس مکان میں غم و رنج پہنچے گا۔ جس سے نجات پا کر وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
صفحہ نمبر7285
تیسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی نسبت فرمایا کہ یہ سب اسی امت میں سے ہیں۔ [طبرانی کبیر:410:ضعیف] چوتھی حدیث:میری امت کے تین حصے ہیں ایک بیحساب و بےعذاب جنت میں جانے والا۔ دوسرا آسانی سے حساب لیا جانے والا اور پھر بہشت نشیں ہونے والا۔ تیسری وہ جماعت ہو گی جن سے تفتیش و تلاش ہو گی لیکن پھرفرشتے حاضر ہو کر کہیں گے کہ ہم نے انہیں «لا الہٰ الا اللہ وحدہ» کہتے ہوئے پایا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا سچ ہے میرے سوا کوئی معبود نہیں اچھا انہیں میں نے ان کے اس قول کی وجہ سے چھوڑا جاؤ انہیں جنت میں لے جاؤ اور ان کی خطائیں دوزخیوں پر لاد دو اسی کا ذکر آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] میں ہے یعنی وہ ان کے بوجھ اپنے بوجھ کے ساتھ اٹھائیں گے اس کی تصدیق اس میں ہے جس میں فرشتوں کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے جنہیں وارثین کتاب بنایا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تین قسمیں بتائی ہیں پس ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ بازپرس کئے جائیں گے۔ [طبرانی کبیر:79/18:ضعیف] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر7286
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس امت کی قیات کے دن تین جماعتیں ہوں گی۔ ایک بیحساب جنت میں جانے والی ایک آسانی سے حساب لیے جانے والی ایک گنہگار جن کی نسبت اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ فرشتے کہیں گے اللہ ان کے پاس بڑے بڑے گناہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ رب عزوجل فرمائے گا انہیں میری وسیع رحمت میں داخل کر دو پھر عبداللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر7287
دوسرا اثر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتی ہیں بیٹا یہ سب جنتی لوگ ہیں سابق بالخیرات تو وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہیں خود آپ نے جنت کی بشارت دی۔ مقتصد وہ ہیں جنہوں نے آپ کے نقش قدم کی پیروی کی یہاں تک کہ ان سے مل گئے۔ اور ظالم لنفسہ مجھ تجھ جیسے ہیں [ابوداؤد طیالسی] خیال فرمایئے کہ صدیقہ رضی اللہ عنہا باوجودیکہ سابق بالخیرات میں سے بلکہ ان میں سے بھی بہترین درجے والوں میں سے ہیں لیکن کس طرح اپنے تئیں متواضع بناتی ہیں حالانکہ حدیث میں آ چکا ہے کہ تمام عورتوں پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہی فضیلت ہے جو فضیلت ثرید کو ہر قسم کے طعام پر ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم لنفسہ تو ہمارے بدوی لوگ ہیں اور مقتصد ہمارے شہری لوگ ہیں اور سابق ہمارے مجاہد ہیں۔ [ابن ابی حاتم] [صحیح بخاری:3770]
صفحہ نمبر7288
کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں قسم کے لوگ اسی امت میں سے ہیں اور سب جنتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے ذکر کے بعد جنت کا ذکر کر کے پھر فرمایا «وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [35-فاطر:36] پس یہ لوگ دوزخی ہیں۔ [ابن جریررحمہ اللہ] سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعب سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کعب کے اللہ کی قسم یہ سب ایک ہی زمرے میں ہیں ہاں اعمال کے مطابق ان کے درجات کم و بیش ہیں۔ ابواسحاق سیعی بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں ناجی ہیں۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ امت مرحومہ ہے۔ ان کے گنہگاروں کو بخش دیا جائے گا اور ان کے مقصد اللہ کے پاس جنت میں ہوں گے۔ اور ان کے سابق بلند درجوں میں ہوں گے۔ محمد بن علی باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جن لوگوں کو ظالم لنفسہ کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گناہ بھی کئے تھے اور نیکیاں بھی۔ ان احادیث اور آثار کو سامنے رکھ کر یہ تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں عموم ہے اور اس امت کی ان تینوں قسموں کو یہ شامل ہے۔ پس علماء کرام اس نعمت کے ساتھ سب سے زیادہ رشک کے قابل ہیں اور اس رحمت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ جیسے کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص مدینے سے دمشق میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے تو آپ دریافت فرماتے ہیں کہ پیارے بھائی یہاں کیسے آنا ہوا؟ وہ کہتے ہیں اس حدیث کے سننے کے لیے آیا ہوں جو آپ بیان کرتے ہیں۔ پوچھا کیا کسی تجارت کی غرض سے نہیں آئے؟ جواب دیا نہیں۔ پوچھا پھر کوئی اور مطلب بھی ہو گا؟ فرمایا کوئی مقصد نہیں۔ پوچھا پھر کیا صرف حدیث کی طلب کے لیے یہ سفر کیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص علم کی تلاشی میں کسی راستے کو قطع کرے اللہ اسے جنت کے راستوں میں چلائے گا۔ اللہ کی رحمت کے فرشتے طالب علموں کے لیے پر بچھا دیتے ہیں کیونکہ وہ ان سے بہت خوش ہیں اور ان کی خوشی کے خواہاں ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین کی ہرچیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ عابد و عالم کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسی چاند کی فضیلت ستاروں پر، علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنے ورثے میں درہم و دینار نہیں چھوڑے ان کا ورثہ علم دین ہے۔ جس نے اسے لیا اس نے بڑی دولت حاصل کر لی۔ [سنن ابوداود:3641،قال الشيخ ا لألباني:صحیح] [ابوداؤد، ترمذی وغیرہ] اس حدیث کے تمام طریق اور الفاظ اور شرح میں نے صحیح بخاری کتاب العلم کی شرح میں مفصلاً بیان کر دی ہے فالحمداللہ۔ سورۃ طہٰ کے شروع میں وہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا۔ میں نے اپنا علم و حکمت تمہیں اس لیے ہی دیا تھا کہ تمہیں بخش دوں گو تم کیسے ہی ہو مجھے اس کی کچھ پرواہ ہی نہیں۔ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
صفحہ نمبر7289
عظمت قرآن کریم اور ملت بیضا ٭٭
جس کتاب کا اوپر ذکر ہوا تھا اس بزرگ کتاب یعنی قرآن کریم کو ہم نے اپنے چیدہ بندوں کے ہاتھوں میں دیا ہے یعنی اس امت کے ہاتھوں۔ پھر حرمت والے کام بھی اس سے سرزد ہو گئے۔ بعض درمیانہ درجے کے رہے جنہوں نے محرمات سے تو اجتناب کیا واجبات بجا لاتے رہے لیکن کبھی کبھی کوئی مستحب کام ان سے چھوٹ بھی گیا اور کبھی کوئی ہلکی پھلکی نافرمانی بھی سرزد ہو گئی۔ بعض درجوں میں بہت ہی آگے نکل گئے۔ واجبات چھوڑ کر مستحباب کو بھی انہوں نے نہ چھوڑا اور محرمات چھوڑ کر مکروہات سے بھی یکسر الگ رہے۔ بلکہ بعض مرتبہ مباح چیزوں کو بھی ڈر کر چھوڑ دیا۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پسندیدہ بندوں سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اللہ کی ہر کتاب کی وارث بنائی گئی ہے۔ ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں بخشا جائے گا اور ان میں جو درمیانہ لوگ ہیں ان سے آسانی سے حساب لیا جائے گا اور ان میں جو نیکیوں میں بڑھ جانے والے ہیں انہیں بیحساب جنت میں پہنچایا جائے گا۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہے۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سابق لوگ تو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور میانہ رو رحمت رب سے داخل جنت ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے اور اصحاب اعراف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جنت میں آئیں گے۔ الغرض اس امت کے ہلکے پھلکے گنہگار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں داخل ہیں [طبرانی کبیر:11454:موضوع] «فالحمدللہ»
صفحہ نمبر7282
گو اکثر سلف کا قول یہی ہے۔ لیکن بعض سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ لوگ نہ تو اس امت میں داخل ہیں نہ چیدہ اور پسندیدہ ہیں نہ وارثین کتاب ہیں۔ بلکہ مراد اس سے کافر منافق اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جانے والے ہیں پس یہ تین قسمیں وہی ہیں جن کا بیان سورۃ الواقعہ کے اول و آخر میں ہے۔ لیکن صحیح قول یہی ہے کہ یہ اسی امت میں ہیں۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ تینوں گویا ایک ہیں اور تینوں ہی جنتی ہیں۔ [مسند احمد::78/3صحیح]
صفحہ نمبر7283
یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راویوں میں ایک راوی ہیں جن کا نام مذکور نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ہونے کے اعتبار سے اور اس اعتبار سے کہ وہ جنتی ہیں گویا ایک ہی ہیں۔ ہاں مرتبوں میں فرق ہونا لازمی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا سابقین تو بیحساب جنت میں جائیں گے اور درمیانہ لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے طول محشر میں روکے جائیں گے۔ پھر اللہ کی رحمتوں سے تلافی ہو جائے گی اور یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا ہمارا رب بڑا ہی غفور و شکور ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے رہائش کی ایسی جگہ عطا فرمائی جہاں ہمیں کوئی درد دکھ نہیں۔ [مسند احمد: 198/5:ضعیف]
صفحہ نمبر7284
ابن ابی حاتم کی اس روایت میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے۔ ابن جریر نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ابوثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے ہیں اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ! میری وحشت کا انیس میرے لیے مہیا کر دے اور میری غربت پر رحم کر اور مجھے کوئی اچھا رفیق عطا فرما۔ یہ سن کر صحابی ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں میں تیرا ساتھی ہوں سن میں آج تجھے وہ حدیث رسول سناتا ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں سنائی پھر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا «سابق بالخیرات» تو جنت میں بیحساب جائیں گے اور مقتصد لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور «ظالم لنفسہ» کو اس مکان میں غم و رنج پہنچے گا۔ جس سے نجات پا کر وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
صفحہ نمبر7285
تیسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی نسبت فرمایا کہ یہ سب اسی امت میں سے ہیں۔ [طبرانی کبیر:410:ضعیف] چوتھی حدیث:میری امت کے تین حصے ہیں ایک بیحساب و بےعذاب جنت میں جانے والا۔ دوسرا آسانی سے حساب لیا جانے والا اور پھر بہشت نشیں ہونے والا۔ تیسری وہ جماعت ہو گی جن سے تفتیش و تلاش ہو گی لیکن پھرفرشتے حاضر ہو کر کہیں گے کہ ہم نے انہیں «لا الہٰ الا اللہ وحدہ» کہتے ہوئے پایا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا سچ ہے میرے سوا کوئی معبود نہیں اچھا انہیں میں نے ان کے اس قول کی وجہ سے چھوڑا جاؤ انہیں جنت میں لے جاؤ اور ان کی خطائیں دوزخیوں پر لاد دو اسی کا ذکر آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] میں ہے یعنی وہ ان کے بوجھ اپنے بوجھ کے ساتھ اٹھائیں گے اس کی تصدیق اس میں ہے جس میں فرشتوں کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے جنہیں وارثین کتاب بنایا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تین قسمیں بتائی ہیں پس ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ بازپرس کئے جائیں گے۔ [طبرانی کبیر:79/18:ضعیف] [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر7286
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس امت کی قیات کے دن تین جماعتیں ہوں گی۔ ایک بیحساب جنت میں جانے والی ایک آسانی سے حساب لیے جانے والی ایک گنہگار جن کی نسبت اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ فرشتے کہیں گے اللہ ان کے پاس بڑے بڑے گناہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ رب عزوجل فرمائے گا انہیں میری وسیع رحمت میں داخل کر دو پھر عبداللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر7287
دوسرا اثر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتی ہیں بیٹا یہ سب جنتی لوگ ہیں سابق بالخیرات تو وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہیں خود آپ نے جنت کی بشارت دی۔ مقتصد وہ ہیں جنہوں نے آپ کے نقش قدم کی پیروی کی یہاں تک کہ ان سے مل گئے۔ اور ظالم لنفسہ مجھ تجھ جیسے ہیں [ابوداؤد طیالسی] خیال فرمایئے کہ صدیقہ رضی اللہ عنہا باوجودیکہ سابق بالخیرات میں سے بلکہ ان میں سے بھی بہترین درجے والوں میں سے ہیں لیکن کس طرح اپنے تئیں متواضع بناتی ہیں حالانکہ حدیث میں آ چکا ہے کہ تمام عورتوں پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہی فضیلت ہے جو فضیلت ثرید کو ہر قسم کے طعام پر ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم لنفسہ تو ہمارے بدوی لوگ ہیں اور مقتصد ہمارے شہری لوگ ہیں اور سابق ہمارے مجاہد ہیں۔ [ابن ابی حاتم] [صحیح بخاری:3770]
صفحہ نمبر7288
کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں قسم کے لوگ اسی امت میں سے ہیں اور سب جنتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے ذکر کے بعد جنت کا ذکر کر کے پھر فرمایا «وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [35-فاطر:36] پس یہ لوگ دوزخی ہیں۔ [ابن جریررحمہ اللہ] سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعب سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کعب کے اللہ کی قسم یہ سب ایک ہی زمرے میں ہیں ہاں اعمال کے مطابق ان کے درجات کم و بیش ہیں۔ ابواسحاق سیعی بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں ناجی ہیں۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ امت مرحومہ ہے۔ ان کے گنہگاروں کو بخش دیا جائے گا اور ان کے مقصد اللہ کے پاس جنت میں ہوں گے۔ اور ان کے سابق بلند درجوں میں ہوں گے۔ محمد بن علی باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جن لوگوں کو ظالم لنفسہ کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گناہ بھی کئے تھے اور نیکیاں بھی۔ ان احادیث اور آثار کو سامنے رکھ کر یہ تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں عموم ہے اور اس امت کی ان تینوں قسموں کو یہ شامل ہے۔ پس علماء کرام اس نعمت کے ساتھ سب سے زیادہ رشک کے قابل ہیں اور اس رحمت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ جیسے کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص مدینے سے دمشق میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے تو آپ دریافت فرماتے ہیں کہ پیارے بھائی یہاں کیسے آنا ہوا؟ وہ کہتے ہیں اس حدیث کے سننے کے لیے آیا ہوں جو آپ بیان کرتے ہیں۔ پوچھا کیا کسی تجارت کی غرض سے نہیں آئے؟ جواب دیا نہیں۔ پوچھا پھر کوئی اور مطلب بھی ہو گا؟ فرمایا کوئی مقصد نہیں۔ پوچھا پھر کیا صرف حدیث کی طلب کے لیے یہ سفر کیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص علم کی تلاشی میں کسی راستے کو قطع کرے اللہ اسے جنت کے راستوں میں چلائے گا۔ اللہ کی رحمت کے فرشتے طالب علموں کے لیے پر بچھا دیتے ہیں کیونکہ وہ ان سے بہت خوش ہیں اور ان کی خوشی کے خواہاں ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین کی ہرچیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ عابد و عالم کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسی چاند کی فضیلت ستاروں پر، علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنے ورثے میں درہم و دینار نہیں چھوڑے ان کا ورثہ علم دین ہے۔ جس نے اسے لیا اس نے بڑی دولت حاصل کر لی۔ [سنن ابوداود:3641،قال الشيخ ا لألباني:صحیح] [ابوداؤد، ترمذی وغیرہ] اس حدیث کے تمام طریق اور الفاظ اور شرح میں نے صحیح بخاری کتاب العلم کی شرح میں مفصلاً بیان کر دی ہے فالحمداللہ۔ سورۃ طہٰ کے شروع میں وہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا۔ میں نے اپنا علم و حکمت تمہیں اس لیے ہی دیا تھا کہ تمہیں بخش دوں گو تم کیسے ہی ہو مجھے اس کی کچھ پرواہ ہی نہیں۔ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]
صفحہ نمبر7289
اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭
فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [صحیح مسلم:250] ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔ [صحیح بخاری:5834]
صفحہ نمبر7291
اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔ [صحیح بخاری:5831] اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے، ] ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔ [ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف]
صفحہ نمبر7292
طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔ [مجمع الزوائد:18324] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔ [صحیح بخاری:5673] وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔
صفحہ نمبر7293
اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ٭٭
فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [صحیح مسلم:250] ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔ [صحیح بخاری:5834]
صفحہ نمبر7291
اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لیے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لیے آخرت میں ہے۔ [صحیح بخاری:5831] اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے، ] ابو نعیم فی صفۃ الجنۃ: [267وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔ [ابن حبان فی المجروحین:202/1:ضعیف]
صفحہ نمبر7292
طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی۔ [مجمع الزوائد:18324] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم،لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی۔ [صحیح بخاری:5673] وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی مشقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں۔
صفحہ نمبر7293
برے لوگوں کا روح فرسا حال ٭٭
نیک لوگوں کا حال بیان فرما کر اب برے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ انہیں وہاں موت بھی نہیں آئے گی جو مر جائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي» [87-الأعلى:13] نہ وہاں انہیں موت آئے گی نہ کوئی اچھی زندگی ہو گی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جوابدی جہنمی ہیں انہیں وہاں موت نہیں آئے گی اور نہ اچھائی کی زندگی ملے گی۔ [صحیح مسلم:185] وَنادَوا يا مالِكُ لِيَقضِ عَلَينا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُم ماكِثونَ وہ تو کہیں گے کہ اے داروغہ جہنم تم ہی اللہ سے دعا کرو کہ اللہ ہمیں موت دیدے لیکن جواب ملے گا کہ تم تو یہیں پڑے رہو گے۔ [43-الزخرف:77] پس وہ موت کو اپنے لیے رحمت سمجھیں گے لیکن وہ آئے گی ہی نہیں۔ نہ مریں نہ عذابوں میں کمی دیکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ۔ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ» [43-الزخرف:-7574] یعنی کفار دائماً عذاب جہنم میں رہیں گے جو عذاب کبھی بھی نہ ہٹیں گے نہ کم ہوں گے۔ یہ تمام بھلائی سے محض مایوس ہوں گے اور جگہ فرمان ہے «كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:79] آگ جہنم ہمیشہ تیز ہوتی رہے گی۔ فرماتا ہے «فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] لو اب مزے چکھو، عذاب ہی عذاب تمہارے لیے بڑھتے رہیں گے۔ کافروں کا یہی بدلہ ہے، وہ چیخ و پکار کریں گے ہائے وائے کریں گے دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں گے اقرار کریں گے کہ ہم گناہ نہیں کریں گے نیکیاں کریں گے۔ لیکن رب العالمین خوب جانتا ہے کہ اگر یہ واپس بھی جائیں گے تو وہی سرکشی کریں گے اسی لیے ان کا یہ ارمان پورا نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا کہ انہیں ان کے اس سوال پر جواب ملے گا کہ تم تو وہی ہو کہ جب اللہ کی وحدانیت کا بیان ہوتا تھا تو تم کفر کرنے لگتے تھے وہاں اس کے ساتھ شرک کرنے میں تمہیں مزہ آتا تھا۔ پس اب بھی اگر تمہیں لوٹا دیا گیا تو وہی کرو گے جس سے ممانعت کئے جاتے ہو۔ پس فرمایا انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں تو تم بہت جئے، تم اس لمبی مدت میں بہت کچھ کر سکتے تھے مثلاً سترہ سال جئے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبی عمر میں بھی اللہ کی طرف سے حجت پوری کرنا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہیئے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہی انسان برائیوں میں بڑھتا چلا جائے دیکھو تو یہ آیت جب اتری ہے اس وقت بعض لوگ صرف اٹھارہ سال کی عمر کے ہی تھے۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں مراد بیس سال کی عمر ہے۔ حسن فرماتے ہیں چالیس سال۔ مسروق فرماتے ہیں چالیس سال کی عمر میں انسان کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے۔
صفحہ نمبر7295
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس عمر تک پہنچنا اللہ کی طرف سے عذر بندی ہو جاتا ہے۔ آپ ہی سے ساٹھ سال بھی مروی ہیں اور یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ جیسے ایک حدیث میں بھی ہے گو امام ابن جریر رحمہ اللہ اس کی سند میں کلام کرتے ہیں لیکن وہ کلام ٹھیک نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے بھی ساٹھ سال ہی مروی ہیں۔ سید ناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی یہ بھی ہو گی کہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے والے کہاں ہیں؟ لیکن اس کی سند ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساٹھ سال یا سترسال کی عمر کو پہنچا دیا اس کا کوئی عذر پھر اللہ کے ہاں نہیں چلنے کا۔ [مسند احمد: 275/6:صحیح] صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے اس شخص کا عذر اللہ نے کاٹ دیا جسے ساٹھ سال تک دنیا میں رکھا۔ [صحیح بخاری:6419] اس حدیث کی اور سندیں بھی ہیں لیکن اگر نہ بھی ہوتیں تو بھی صرف امام بخاری رحمہ اللہ کا اسے اپنی صحیح میں وارد کرنا ہی اس کی صحت کا ثبوت تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ اس کی سند کی جانچ کی ضرورت ہے امام بخاری رحمہ اللہ کے صحیح کہنے کے مقابلے میں ایک جو کی بھی قیمت نہیں رکھتا۔ واللہ اعلم، بعض لوگ کہتے ہیں اطباء کے نزدیک طبعی عمر ایک سو بیس برس کی ہے ساٹھ سال تک تو انسان بڑھوتری میں رہتا ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس آیت میں بھی اسی عمر کو مراد لینا اچھا ہے اور یہی اس امت کی غالب عمر ہے۔
صفحہ نمبر7296
چنانچہ ایک حدیث میں ہے میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال تک ہیں اور اس سے تجاوز کرنے والے کم ہیں۔ [سنن ترمذي:3550،قال الشيخ الألباني:حسن] [ترمذی وغیرہ] امام ترمذی رحمہ اللہ تو اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں اس کی اور کوئی سند نہیں لیکن تعجب ہے کہ امام صاحب نے یہ کیسے فرما دیا؟ اس کی ایک دوسری سند ابن ابی الدنیا میں موجود ہے۔ خود ترمذی میں بھی یہی حدیث دوسری سند سے کتاب الزہد میں مروی ہے۔ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے میری امت میں ستر سال کی عمر والے بھی کم ہوں گے [مسند ابویعلی:6544:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی عمر کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا پچاس سے ساٹھ سال تک کی عمر ہے پوچھا گیا ستر سال کی عمر والے؟ فرمایا بہت کم اللہ ان پر اور اسی سال والوں پر اپنا رحم فرمائے۔ [مسند بزار:3586:ضعیف] [بزار] اس حدیث کا ایک راوی عثمان بن مطر قوی نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال کی تھی [صحیح بخاری:3536] ایک قول ہے کہ ساٹھ سال کی تھی [صحیح بخاری5900:] یہ بھی کہا گیا ہے کہ پینسٹھ برس کی تھی۔ [صحیح مسلم:2352] واللہ اعلم۔ [تطبیق یہ ہے کہ ساٹھ سال کہنے والے راوی دہائیوں کو لگاتے ہیں اکائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں پینسٹھ سال والے سال تولد اور سال وفات کو بھی گنتے ہیں اور تریسٹھ والے ان دونوں برسوں کو نہیں لگاتے۔ پس کوئی اختلاف نہیں فالحمداللہ۔ مترجم] اور تمہارے پاس ڈرانے والے آ گئے یعنی سفید بال۔ یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ زیادہ صحیح قول دوسرا ہی ہے جیسے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [ [53-النجم:56] یہ پیغمبر نذیر ہیں۔ پس عمر دے کر، رسول بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی۔ چنانچہ قیامت کے دن بھی جب دوزخی تمنائے موت کریں گے تو یہی جواب ملے گا کہ تمہارے پاس حق آ چکا تھا یعنی رسولوں کی زبانی ہم پیغام حق تمہیں پہنچا چکے تھے لیکن تم نہ مانے اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر7297
سورۃ تبارک الذی میں فرمان جب جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے وہاں کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں آئے تھے لیکن ہم نے انہیں نہ مانا، انہیں جھوٹا جانا اور کہہ دیا کہ اللہ نے تو کوئی کتاب وغیرہ نازل نہیں فرمائی۔ [67-الملك:-98] تم یونہی بک رہے ہو، پس آج قیامت کے دن ان سے کہہ دیا جائے گا کہ نبیوں کی مخالفت کا مزہ چکھو مدت العمر انہیں جھٹلاتے رہے اب آج اپنے اعمال کے بدلے اٹھاؤ اور سن لو کوئی نہ کھڑا ہو گا جو تمہارے کام آ سکے تمہاری کچھ مدد کر سکے اور عذابوں سے بچا سکے یا چھڑا سکے۔
صفحہ نمبر7298
برے لوگوں کا روح فرسا حال ٭٭
نیک لوگوں کا حال بیان فرما کر اب برے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ انہیں وہاں موت بھی نہیں آئے گی جو مر جائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي» [87-الأعلى:13] نہ وہاں انہیں موت آئے گی نہ کوئی اچھی زندگی ہو گی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جوابدی جہنمی ہیں انہیں وہاں موت نہیں آئے گی اور نہ اچھائی کی زندگی ملے گی۔ [صحیح مسلم:185] وَنادَوا يا مالِكُ لِيَقضِ عَلَينا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُم ماكِثونَ وہ تو کہیں گے کہ اے داروغہ جہنم تم ہی اللہ سے دعا کرو کہ اللہ ہمیں موت دیدے لیکن جواب ملے گا کہ تم تو یہیں پڑے رہو گے۔ [43-الزخرف:77] پس وہ موت کو اپنے لیے رحمت سمجھیں گے لیکن وہ آئے گی ہی نہیں۔ نہ مریں نہ عذابوں میں کمی دیکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ۔ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ» [43-الزخرف:-7574] یعنی کفار دائماً عذاب جہنم میں رہیں گے جو عذاب کبھی بھی نہ ہٹیں گے نہ کم ہوں گے۔ یہ تمام بھلائی سے محض مایوس ہوں گے اور جگہ فرمان ہے «كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:79] آگ جہنم ہمیشہ تیز ہوتی رہے گی۔ فرماتا ہے «فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] لو اب مزے چکھو، عذاب ہی عذاب تمہارے لیے بڑھتے رہیں گے۔ کافروں کا یہی بدلہ ہے، وہ چیخ و پکار کریں گے ہائے وائے کریں گے دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں گے اقرار کریں گے کہ ہم گناہ نہیں کریں گے نیکیاں کریں گے۔ لیکن رب العالمین خوب جانتا ہے کہ اگر یہ واپس بھی جائیں گے تو وہی سرکشی کریں گے اسی لیے ان کا یہ ارمان پورا نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا کہ انہیں ان کے اس سوال پر جواب ملے گا کہ تم تو وہی ہو کہ جب اللہ کی وحدانیت کا بیان ہوتا تھا تو تم کفر کرنے لگتے تھے وہاں اس کے ساتھ شرک کرنے میں تمہیں مزہ آتا تھا۔ پس اب بھی اگر تمہیں لوٹا دیا گیا تو وہی کرو گے جس سے ممانعت کئے جاتے ہو۔ پس فرمایا انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں تو تم بہت جئے، تم اس لمبی مدت میں بہت کچھ کر سکتے تھے مثلاً سترہ سال جئے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبی عمر میں بھی اللہ کی طرف سے حجت پوری کرنا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہیئے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہی انسان برائیوں میں بڑھتا چلا جائے دیکھو تو یہ آیت جب اتری ہے اس وقت بعض لوگ صرف اٹھارہ سال کی عمر کے ہی تھے۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں مراد بیس سال کی عمر ہے۔ حسن فرماتے ہیں چالیس سال۔ مسروق فرماتے ہیں چالیس سال کی عمر میں انسان کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے۔
صفحہ نمبر7295
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس عمر تک پہنچنا اللہ کی طرف سے عذر بندی ہو جاتا ہے۔ آپ ہی سے ساٹھ سال بھی مروی ہیں اور یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ جیسے ایک حدیث میں بھی ہے گو امام ابن جریر رحمہ اللہ اس کی سند میں کلام کرتے ہیں لیکن وہ کلام ٹھیک نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے بھی ساٹھ سال ہی مروی ہیں۔ سید ناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی یہ بھی ہو گی کہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے والے کہاں ہیں؟ لیکن اس کی سند ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساٹھ سال یا سترسال کی عمر کو پہنچا دیا اس کا کوئی عذر پھر اللہ کے ہاں نہیں چلنے کا۔ [مسند احمد: 275/6:صحیح] صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے اس شخص کا عذر اللہ نے کاٹ دیا جسے ساٹھ سال تک دنیا میں رکھا۔ [صحیح بخاری:6419] اس حدیث کی اور سندیں بھی ہیں لیکن اگر نہ بھی ہوتیں تو بھی صرف امام بخاری رحمہ اللہ کا اسے اپنی صحیح میں وارد کرنا ہی اس کی صحت کا ثبوت تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ اس کی سند کی جانچ کی ضرورت ہے امام بخاری رحمہ اللہ کے صحیح کہنے کے مقابلے میں ایک جو کی بھی قیمت نہیں رکھتا۔ واللہ اعلم، بعض لوگ کہتے ہیں اطباء کے نزدیک طبعی عمر ایک سو بیس برس کی ہے ساٹھ سال تک تو انسان بڑھوتری میں رہتا ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس آیت میں بھی اسی عمر کو مراد لینا اچھا ہے اور یہی اس امت کی غالب عمر ہے۔
صفحہ نمبر7296
چنانچہ ایک حدیث میں ہے میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال تک ہیں اور اس سے تجاوز کرنے والے کم ہیں۔ [سنن ترمذي:3550،قال الشيخ الألباني:حسن] [ترمذی وغیرہ] امام ترمذی رحمہ اللہ تو اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں اس کی اور کوئی سند نہیں لیکن تعجب ہے کہ امام صاحب نے یہ کیسے فرما دیا؟ اس کی ایک دوسری سند ابن ابی الدنیا میں موجود ہے۔ خود ترمذی میں بھی یہی حدیث دوسری سند سے کتاب الزہد میں مروی ہے۔ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے میری امت میں ستر سال کی عمر والے بھی کم ہوں گے [مسند ابویعلی:6544:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی عمر کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا پچاس سے ساٹھ سال تک کی عمر ہے پوچھا گیا ستر سال کی عمر والے؟ فرمایا بہت کم اللہ ان پر اور اسی سال والوں پر اپنا رحم فرمائے۔ [مسند بزار:3586:ضعیف] [بزار] اس حدیث کا ایک راوی عثمان بن مطر قوی نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال کی تھی [صحیح بخاری:3536] ایک قول ہے کہ ساٹھ سال کی تھی [صحیح بخاری5900:] یہ بھی کہا گیا ہے کہ پینسٹھ برس کی تھی۔ [صحیح مسلم:2352] واللہ اعلم۔ [تطبیق یہ ہے کہ ساٹھ سال کہنے والے راوی دہائیوں کو لگاتے ہیں اکائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں پینسٹھ سال والے سال تولد اور سال وفات کو بھی گنتے ہیں اور تریسٹھ والے ان دونوں برسوں کو نہیں لگاتے۔ پس کوئی اختلاف نہیں فالحمداللہ۔ مترجم] اور تمہارے پاس ڈرانے والے آ گئے یعنی سفید بال۔ یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ زیادہ صحیح قول دوسرا ہی ہے جیسے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [ [53-النجم:56] یہ پیغمبر نذیر ہیں۔ پس عمر دے کر، رسول بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی۔ چنانچہ قیامت کے دن بھی جب دوزخی تمنائے موت کریں گے تو یہی جواب ملے گا کہ تمہارے پاس حق آ چکا تھا یعنی رسولوں کی زبانی ہم پیغام حق تمہیں پہنچا چکے تھے لیکن تم نہ مانے اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر7297
سورۃ تبارک الذی میں فرمان جب جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے وہاں کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں آئے تھے لیکن ہم نے انہیں نہ مانا، انہیں جھوٹا جانا اور کہہ دیا کہ اللہ نے تو کوئی کتاب وغیرہ نازل نہیں فرمائی۔ [67-الملك:-98] تم یونہی بک رہے ہو، پس آج قیامت کے دن ان سے کہہ دیا جائے گا کہ نبیوں کی مخالفت کا مزہ چکھو مدت العمر انہیں جھٹلاتے رہے اب آج اپنے اعمال کے بدلے اٹھاؤ اور سن لو کوئی نہ کھڑا ہو گا جو تمہارے کام آ سکے تمہاری کچھ مدد کر سکے اور عذابوں سے بچا سکے یا چھڑا سکے۔
صفحہ نمبر7298
وسیع العلم اللہ تعالٰی کا فرمان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر7300
وسیع العلم اللہ تعالٰی کا فرمان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے وسیع اور بےپایاں علم کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے دلوں کے بھید سینوں کی باتیں اس پر عیاں ہیں۔ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ وہ دے گا، اس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ کافروں کے کفر کا وبال خود ان پر ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے کفر میں بڑھتے ہیں ویسے ہی اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھتی ہے اور ان کا نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ برخلاف مومن کے کہ اس کی عمر جس قدر بڑھتی ہے نیکیاں بڑھتی ہیں اور درجے پاتا ہے اور اللہ کے ہاں مقبول ہوتا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر7300
مدلل پیغام ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے؟ یا یہی ثابت کر دو کہ آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارتے ہو؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کر دو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے ان جھوٹے معبودوں کی کمزوری اپنے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جو سچا معبود ہے قدرت و طاقت دیکھو کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ رکا اور تھما ہوا ہے۔ ادھر ادھر جنبش بھی تو نہیں کر سکتا۔ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے اللہ تعالیٰ رکے ہوئے ہے۔ یہ دونوں اس کے فرمان سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے، روک سکے، نظام پر قائم رکھ سکے۔ اس حلیم و غفور اللہ کو دیکھو کہ مخلوق و مملوک، نافرمانی و سرکشی، کفر و شرک دیکھتے ہوئے بھی بربادی اور بخشش سے کام لے رہا ہے، ڈھیل اور مہلت دیئے ہوئے ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
صفحہ نمبر7302
ابن ابی حاتم میں اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب بلکہ منکر حدیث ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی سوتا بھی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیج دیا جس نے انہیں تین دن تک سونے نہ دیا۔ پھر ان کے ایک ایک ہاتھ میں ایک ایک بوتل دے دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو یہ گریں نہیں، ٹوٹیں نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام انہیں ہاتھوں میں لے کر حفاظت کرنے لگے لیکن نیند کا غلبہ ہونے لگا اونگھ آنے گی۔ کچھ جھکولے تو ایسے آئے کہ آپ ہوشیار ہو گئے اور بوتل گرنے نہ دی لیکن آخر نیند غالب آ گئی اور بوتلیں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئیں اور چورا چور ہو گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ سونے والا دو بوتلیں بھی تھام نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کی حفاظت کیسے ہوتی؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:5782] لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی گھڑنت ہے۔
صفحہ نمبر7303
بھلا موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر پیغمبر یہ تصور بھی کر سکتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ سو جاتا ہے۔ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں فرما چکا ہے کہ اسے نہ تو اونگھ آئے نہ نیند۔ زمین و آسمان کی کل چیزوں کا مالک صرف وہی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو سوتا ہے نہ سونا اس کی شایان شان ہے۔ وہ ترازو کو اونچا نیچا کرتا رہتا ہے۔ دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ یا آگ ہے۔ اگر اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے سب مخلوق کو جلا دیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا شام سے۔ پوچھا وہاں کس سے ملے؟ کہا کعب رحمہ اللہ سے۔ پوچھا کعب نے کیا بات بیان کی؟ کہا یہ کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے تک گھوم رہے ہیں۔ پوچھا تم نے اسے سچ جانا یا جھٹلا دیا؟ جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سنو کعب نے غلط کہا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔
صفحہ نمبر7304
دوسری سند میں آنے والے کا نام ہے کہ وہ جندب بجلی رضی اللہ عنہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ بھی اس کی تردید کرتے تھے کہ آسمان گردش میں ہیں اور اسی آیت سے دلیل لیتے تھے اور اس حدیث سے بھی جس میں ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کا دروازہ ہے وہ بند نہ ہو گا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو۔ [سنن ترمذي:3536،قال الشيخ الألباني:حسن] حدیث بالکل صحیح ہے۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم»
صفحہ نمبر7305
مدلل پیغام ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے؟ یا یہی ثابت کر دو کہ آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارتے ہو؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کر دو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے ان جھوٹے معبودوں کی کمزوری اپنے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جو سچا معبود ہے قدرت و طاقت دیکھو کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ رکا اور تھما ہوا ہے۔ ادھر ادھر جنبش بھی تو نہیں کر سکتا۔ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے اللہ تعالیٰ رکے ہوئے ہے۔ یہ دونوں اس کے فرمان سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے، روک سکے، نظام پر قائم رکھ سکے۔ اس حلیم و غفور اللہ کو دیکھو کہ مخلوق و مملوک، نافرمانی و سرکشی، کفر و شرک دیکھتے ہوئے بھی بربادی اور بخشش سے کام لے رہا ہے، ڈھیل اور مہلت دیئے ہوئے ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔
صفحہ نمبر7302
ابن ابی حاتم میں اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب بلکہ منکر حدیث ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی سوتا بھی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیج دیا جس نے انہیں تین دن تک سونے نہ دیا۔ پھر ان کے ایک ایک ہاتھ میں ایک ایک بوتل دے دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو یہ گریں نہیں، ٹوٹیں نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام انہیں ہاتھوں میں لے کر حفاظت کرنے لگے لیکن نیند کا غلبہ ہونے لگا اونگھ آنے گی۔ کچھ جھکولے تو ایسے آئے کہ آپ ہوشیار ہو گئے اور بوتل گرنے نہ دی لیکن آخر نیند غالب آ گئی اور بوتلیں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئیں اور چورا چور ہو گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ سونے والا دو بوتلیں بھی تھام نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کی حفاظت کیسے ہوتی؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:5782] لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی گھڑنت ہے۔
صفحہ نمبر7303
بھلا موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر پیغمبر یہ تصور بھی کر سکتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ سو جاتا ہے۔ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں فرما چکا ہے کہ اسے نہ تو اونگھ آئے نہ نیند۔ زمین و آسمان کی کل چیزوں کا مالک صرف وہی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو سوتا ہے نہ سونا اس کی شایان شان ہے۔ وہ ترازو کو اونچا نیچا کرتا رہتا ہے۔ دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ یا آگ ہے۔ اگر اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے سب مخلوق کو جلا دیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا شام سے۔ پوچھا وہاں کس سے ملے؟ کہا کعب رحمہ اللہ سے۔ پوچھا کعب نے کیا بات بیان کی؟ کہا یہ کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے تک گھوم رہے ہیں۔ پوچھا تم نے اسے سچ جانا یا جھٹلا دیا؟ جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سنو کعب نے غلط کہا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔
صفحہ نمبر7304
دوسری سند میں آنے والے کا نام ہے کہ وہ جندب بجلی رضی اللہ عنہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ بھی اس کی تردید کرتے تھے کہ آسمان گردش میں ہیں اور اسی آیت سے دلیل لیتے تھے اور اس حدیث سے بھی جس میں ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کا دروازہ ہے وہ بند نہ ہو گا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو۔ [سنن ترمذي:3536،قال الشيخ الألباني:حسن] حدیث بالکل صحیح ہے۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم»
صفحہ نمبر7305
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ» [6-الأنعام:156] ، یعنی اس لیے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہو جاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل آ پہنچی ہدایت و رحمت خود تمہارے ہاتھوں میں دی جا چکی اب بتاؤ کہ رب کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان سے منہ موڑنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہے؟ اور آیتوں میں ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے اپنے پاس اگلے لوگوں کے عبرتناک واقعات ہوتے تو ہم تو اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اس کے ان کے پاس آچکنے کے بعد کفر کیا اب انہیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ ان کے پاس اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور رب کی آخری اور افضل تر کتاب آ چکی لیکن یہ کفر میں اور بڑھ گئے، انہوں نے اللہ کی باتیں ماننے سے تکبر کیا خود نہ مان کر پھر اپنی مکاریوں سے اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔
صفحہ نمبر7307
لیکن انہیں باور کر لینا چاہیئے کہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا۔ یہ اللہ کا نہیں البتہ اپنا بگاڑ رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکاریوں سے پرہیز کرو مکر کا بوجھ مکار پر ہی پڑتا ہے اور اس کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ [الدرالمنثور للسیوطی:480/5] محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین کاموں کاکرنے والا نجات نہیں پا سکتا، ان کاموں کا وبال ان پر یقیناً آئے گا، مکر، بغاوت اور وعدوں کو توڑ دینا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، انہیں صرف اسی کا انتظار ہے جو ان جیسے ان پہلے گزرنے والوں کا حال ہوا۔ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے اللہ کے دائمی عذب ان پر آ گئے۔ پس یہ تو اللہ تعالیٰ کی عادت ہی ہے اور تو غور کر۔ رب کی عادت بدلتی نہیں نہ پلٹتی ہے۔ جس قوم پر عذاب کا ارادہ الہی ہو چکا پھر اس ارادے کے بدلنے پر کوئی قدرت نہیں رکھتا کہ ان پر سے عذاب ہٹیں نہ وہ ان سے بچیں۔ نہ کوئی انہیں گھما سکے۔ واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر7308
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ» [6-الأنعام:156] ، یعنی اس لیے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہو جاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل آ پہنچی ہدایت و رحمت خود تمہارے ہاتھوں میں دی جا چکی اب بتاؤ کہ رب کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان سے منہ موڑنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہے؟ اور آیتوں میں ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے اپنے پاس اگلے لوگوں کے عبرتناک واقعات ہوتے تو ہم تو اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اس کے ان کے پاس آچکنے کے بعد کفر کیا اب انہیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ ان کے پاس اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور رب کی آخری اور افضل تر کتاب آ چکی لیکن یہ کفر میں اور بڑھ گئے، انہوں نے اللہ کی باتیں ماننے سے تکبر کیا خود نہ مان کر پھر اپنی مکاریوں سے اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔
صفحہ نمبر7307
لیکن انہیں باور کر لینا چاہیئے کہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا۔ یہ اللہ کا نہیں البتہ اپنا بگاڑ رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکاریوں سے پرہیز کرو مکر کا بوجھ مکار پر ہی پڑتا ہے اور اس کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ [الدرالمنثور للسیوطی:480/5] محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین کاموں کاکرنے والا نجات نہیں پا سکتا، ان کاموں کا وبال ان پر یقیناً آئے گا، مکر، بغاوت اور وعدوں کو توڑ دینا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، انہیں صرف اسی کا انتظار ہے جو ان جیسے ان پہلے گزرنے والوں کا حال ہوا۔ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے اللہ کے دائمی عذب ان پر آ گئے۔ پس یہ تو اللہ تعالیٰ کی عادت ہی ہے اور تو غور کر۔ رب کی عادت بدلتی نہیں نہ پلٹتی ہے۔ جس قوم پر عذاب کا ارادہ الہی ہو چکا پھر اس ارادے کے بدلنے پر کوئی قدرت نہیں رکھتا کہ ان پر سے عذاب ہٹیں نہ وہ ان سے بچیں۔ نہ کوئی انہیں گھما سکے۔ واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر7308
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لیے گئے، تباہ و برباد کر دیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کر سکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا، وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہو جاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہو جاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو مؤخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہو جائے اور حساب کتاب شروع ہو جائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ بخوبی دیکھنے والا ہے۔
صفحہ نمبر7310
عبرت ناک مناظر سے سبق لو ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لیے گئے، تباہ و برباد کر دیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کر سکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا، وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہو جاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہو جاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو مؤخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہو جائے اور حساب کتاب شروع ہو جائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہ بخوبی دیکھنے والا ہے۔
صفحہ نمبر7310