John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Yaseen

Tafsir Ibn Kathir · Yaseen · 83 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

منکرین کی ندامت ٭٭

بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ باربار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں «یٰحَسرَۃَ العِبَادِ عَلٰی اَنفُسِھَم» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا؟

صفحہ نمبر7355

دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کر دیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گزرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لیے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے۔

صفحہ نمبر7356

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ» [ 11-ھود: 111 ] ‏ یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں «لما» ہے تو، «اِنَّ»، اثبات کے لیے ہو گا، اور «لَمَاّ» پڑھنے کے وقت، «اِنَّ»، نافیہ ہو گا اور «لَمَاّ» معنی میں الا کے ہو گا تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ «واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر7357

منکرین کی ندامت ٭٭

بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ باربار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں «یٰحَسرَۃَ العِبَادِ عَلٰی اَنفُسِھَم» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا؟

صفحہ نمبر7355

دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کر دیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گزرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لیے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے۔

صفحہ نمبر7356

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ» [ 11-ھود: 111 ] ‏ یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں «لما» ہے تو، «اِنَّ»، اثبات کے لیے ہو گا، اور «لَمَاّ» پڑھنے کے وقت، «اِنَّ»، نافیہ ہو گا اور «لَمَاّ» معنی میں الا کے ہو گا تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ «واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم»

صفحہ نمبر7357

وجود باری تعالٰی کی ایک نشانی ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کھیتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گزاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟

صفحہ نمبر7360

ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ» [ 36- يس: 35 ] ‏ ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ 51- الذاريات: 49 ] ‏ ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

صفحہ نمبر7361

وجود باری تعالٰی کی ایک نشانی ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کھیتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گزاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟

صفحہ نمبر7360

ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ» [ 36- يس: 35 ] ‏ ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ 51- الذاريات: 49 ] ‏ ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

صفحہ نمبر7361

وجود باری تعالٰی کی ایک نشانی ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کھیتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گزاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟

صفحہ نمبر7360

ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ» [ 36- يس: 35 ] ‏ ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ 51- الذاريات: 49 ] ‏ ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

صفحہ نمبر7361

وجود باری تعالٰی کی ایک نشانی ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کھیتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لیے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گزاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟

صفحہ نمبر7360

ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ» [ 36- يس: 35 ] ‏ ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» [ 51- الذاريات: 49 ] ‏ ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

صفحہ نمبر7361

گردش شمس و قمر ٭٭

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا «يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا» [ 7- الاعراف: 54 ] ‏ رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آ گئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] ‏

ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت «ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ» [ 22-الحج: 61 ] ‏ کے ہے یعنی اللہ تعالٰی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر7365

حضرت امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ «ایلاج» ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ «مستقر» سے مراد یا تو «مستقر مکانی» یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لیے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آ جاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہو جاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔

صفحہ نمبر7366

صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 36-یس: 38 ] ‏، تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، [صحیح بخاری:4803] ‏

مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہو گا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہو جا۔ یہی قیامت کا دن ہو گا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہو گا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لیے جو اس سے پہلے ایماندار اور نیکوکار نہ تھے بے کار ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔

صفحہ نمبر7367

دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی یہ بے نور ہو جائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہو جائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لیے سکون و قرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا «وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاىِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ» [ 14- ابراھیم: 33 ] ‏ یعنی اس نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے۔

جیسے فرمایا «فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [ 6- الانعام: 96 ] ‏، صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔

حم سجدہ کی آیت «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 41-فصلت: 12 ] ‏ کو بھی اسی طرح ختم کیا۔

صفحہ نمبر7368

پھر فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ» [ 10-یونس: 5 ] ‏ چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہو جائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہو جاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [ 2-البقرة: 189 ] ‏ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لیے ہے۔

اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کر لو۔ ایک آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا» [ 17-الإسراء: 12 ] ‏ ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کر سکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ہم نے ہرچیز کو خوب تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔

صفحہ نمبر7369

مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھٹتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہو جاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔

پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لیے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لیے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لیے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لیے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو «شاۃ درعاء» کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لیے کہ اس میں چاند ختم ہو جاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہو جائے یا آگے پیچھے ہو جائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔

صفحہ نمبر7370

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابوصالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کر سکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آ سکتی بلکہ درمیان میں دن آ جائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بے نظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔

صفحہ نمبر7371

گردش شمس و قمر ٭٭

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا «يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا» [ 7- الاعراف: 54 ] ‏ رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آ گئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] ‏

ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت «ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ» [ 22-الحج: 61 ] ‏ کے ہے یعنی اللہ تعالٰی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر7365

حضرت امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ «ایلاج» ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ «مستقر» سے مراد یا تو «مستقر مکانی» یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لیے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آ جاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہو جاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔

صفحہ نمبر7366

صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 36-یس: 38 ] ‏، تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، [صحیح بخاری:4803] ‏

مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہو گا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہو جا۔ یہی قیامت کا دن ہو گا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہو گا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لیے جو اس سے پہلے ایماندار اور نیکوکار نہ تھے بے کار ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔

صفحہ نمبر7367

دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی یہ بے نور ہو جائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہو جائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لیے سکون و قرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا «وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاىِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ» [ 14- ابراھیم: 33 ] ‏ یعنی اس نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے۔

جیسے فرمایا «فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [ 6- الانعام: 96 ] ‏، صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔

حم سجدہ کی آیت «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 41-فصلت: 12 ] ‏ کو بھی اسی طرح ختم کیا۔

صفحہ نمبر7368

پھر فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ» [ 10-یونس: 5 ] ‏ چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہو جائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہو جاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [ 2-البقرة: 189 ] ‏ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لیے ہے۔

اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کر لو۔ ایک آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا» [ 17-الإسراء: 12 ] ‏ ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کر سکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ہم نے ہرچیز کو خوب تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔

صفحہ نمبر7369

مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھٹتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہو جاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔

پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لیے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لیے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لیے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لیے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو «شاۃ درعاء» کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لیے کہ اس میں چاند ختم ہو جاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہو جائے یا آگے پیچھے ہو جائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔

صفحہ نمبر7370

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابوصالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کر سکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آ سکتی بلکہ درمیان میں دن آ جائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بے نظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔

صفحہ نمبر7371

گردش شمس و قمر ٭٭

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا «يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا» [ 7- الاعراف: 54 ] ‏ رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آ گئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] ‏

ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت «ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ» [ 22-الحج: 61 ] ‏ کے ہے یعنی اللہ تعالٰی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر7365

حضرت امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ «ایلاج» ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ «مستقر» سے مراد یا تو «مستقر مکانی» یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لیے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آ جاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہو جاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔

صفحہ نمبر7366

صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 36-یس: 38 ] ‏، تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، [صحیح بخاری:4803] ‏

مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہو گا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہو جا۔ یہی قیامت کا دن ہو گا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہو گا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لیے جو اس سے پہلے ایماندار اور نیکوکار نہ تھے بے کار ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔

صفحہ نمبر7367

دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی یہ بے نور ہو جائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہو جائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لیے سکون و قرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا «وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاىِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ» [ 14- ابراھیم: 33 ] ‏ یعنی اس نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے۔

جیسے فرمایا «فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [ 6- الانعام: 96 ] ‏، صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔

حم سجدہ کی آیت «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 41-فصلت: 12 ] ‏ کو بھی اسی طرح ختم کیا۔

صفحہ نمبر7368

پھر فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ» [ 10-یونس: 5 ] ‏ چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہو جائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہو جاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [ 2-البقرة: 189 ] ‏ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لیے ہے۔

اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کر لو۔ ایک آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا» [ 17-الإسراء: 12 ] ‏ ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کر سکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ہم نے ہرچیز کو خوب تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔

صفحہ نمبر7369

مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھٹتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہو جاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔

پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لیے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لیے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لیے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لیے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو «شاۃ درعاء» کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لیے کہ اس میں چاند ختم ہو جاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہو جائے یا آگے پیچھے ہو جائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔

صفحہ نمبر7370

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابوصالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کر سکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آ سکتی بلکہ درمیان میں دن آ جائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بے نظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔

صفحہ نمبر7371

گردش شمس و قمر ٭٭

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا «يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا» [ 7- الاعراف: 54 ] ‏ رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آ گئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] ‏

ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت «ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ» [ 22-الحج: 61 ] ‏ کے ہے یعنی اللہ تعالٰی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر7365

حضرت امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ «ایلاج» ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ «مستقر» سے مراد یا تو «مستقر مکانی» یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لیے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آ جاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہو جاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔

صفحہ نمبر7366

صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 36-یس: 38 ] ‏، تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، [صحیح بخاری:4803] ‏

مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہو گا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ [صحیح بخاری:3199] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہو جا۔ یہی قیامت کا دن ہو گا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہو گا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لیے جو اس سے پہلے ایماندار اور نیکوکار نہ تھے بے کار ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔

صفحہ نمبر7367

دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی یہ بے نور ہو جائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہو جائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لیے سکون و قرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا «وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاىِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ» [ 14- ابراھیم: 33 ] ‏ یعنی اس نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے۔

جیسے فرمایا «فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [ 6- الانعام: 96 ] ‏، صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔

حم سجدہ کی آیت «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [ 41-فصلت: 12 ] ‏ کو بھی اسی طرح ختم کیا۔

صفحہ نمبر7368

پھر فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ» [ 10-یونس: 5 ] ‏ چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہو جائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہو جاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [ 2-البقرة: 189 ] ‏ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لیے ہے۔

اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کر لو۔ ایک آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا» [ 17-الإسراء: 12 ] ‏ ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کر سکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ہم نے ہرچیز کو خوب تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔

صفحہ نمبر7369

مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھٹتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہو جاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔

پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لیے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لیے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لیے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لیے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو «شاۃ درعاء» کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لیے کہ اس میں چاند ختم ہو جاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہو جائے یا آگے پیچھے ہو جائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔

صفحہ نمبر7370

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابوصالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کر سکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آ سکتی بلکہ درمیان میں دن آ جائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بے نظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔

صفحہ نمبر7371

سمندر کی تسخیر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔

صفحہ نمبر7375

اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 11، 12 ] ‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔

صفحہ نمبر7376

سمندر کی تسخیر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔

صفحہ نمبر7375

اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 11، 12 ] ‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔

صفحہ نمبر7376

سمندر کی تسخیر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔

صفحہ نمبر7375

اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 11، 12 ] ‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔

صفحہ نمبر7376

سمندر کی تسخیر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتا رہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کر دیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی نوح علیہ السلام کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لیے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر نوح کی کشتی پر صادق آتی ہے۔

صفحہ نمبر7375

اسی طرح کی خشکی کی سواریاں بھی اللہ نے ان کے لیے پیدا کر دی ہیں مثلاً اونٹ جو خشکی میں وہی کام دیتا ہے جو تری میں کشتی کام دیتی ہے۔ اسی طرح دیگر چوپائے جانور ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کشتی نوح نمونہ بنی اور پھر اس نمونے پر اور کشتیاں اور جہاز بنتے چلے گئے۔ اس مطلب کی تائید آیت «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 11، 12 ] ‏، سے بھی ہوتی ہے یعنی جب پانی نے طغیانی کی تو ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر لیا تاکہ اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ہمارے اس احسان کو فراموش نہ کرو کہ سمندر سے ہم نے تمہیں پار کر دیا اگر ہم چاہتے تو اسی میں تمہیں ڈبو دیتے کشتی کی کشتی بیٹھ جاتی کوئی نہ ہوتا جو اس وقت تمہاری فریاد رسی کرتا نہ کوئی ایسا تمہیں ملتا جو تمہیں بچا سکتا۔ لیکن یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ خشکی اور تری کے لمبے چوڑے سفر تم با آرام و راحت طے کر رہے ہو اور ہم تمہیں اپنے ٹھہرائے ہوئے وقت تک ہر طرح سلامت رکھتے ہیں۔

صفحہ نمبر7376

کفار کا تکبر ٭٭

کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔

ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7380

کفار کا تکبر ٭٭

کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔

ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7380

کفار کا تکبر ٭٭

کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔

ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7380

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭

کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7383

دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔

صفحہ نمبر7384

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭

کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7383

دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔

صفحہ نمبر7384

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭

کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7383

دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔

صفحہ نمبر7384

قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی،

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7387

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔

تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7388

قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی،

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7387

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔

تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7388

قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی،

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7387

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔

تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7388

قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی،

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7387

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔

تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

صفحہ نمبر7388

جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔

سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

صفحہ نمبر7392

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7393

جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔

سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

صفحہ نمبر7392

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7393

جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔

سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

صفحہ نمبر7392

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7393

جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔

سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

صفحہ نمبر7392

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏

امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7393

نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

صفحہ نمبر7397

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔

جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟

ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7398

نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏ [ ترجمہ ] ‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

صفحہ نمبر7397

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔

جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟

ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر7398

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com