John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah As-Saaffaat

Tafsir Ibn Kathir · Those drawn up in Ranks · 182 ayat · ayat 151–180 · Quran text →

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ” اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں “۔

پس فرماتا ہے ” ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ “

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے “۔

قرآن کی اور آیت «‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏ [43-الزخرف:19] ‏، میں بھی یہی بیان ہے۔

دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔

صفحہ نمبر7622

پھر فرماتا ہے کہ «‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] ‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَ‌بُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» [17-الإسراء:40] ‏ ” تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے “۔

یہاں فرمایا ” کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی “۔

اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] ‏ نعوذ باللہ۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ” سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے “۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7623

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [40-غافر:51] ‏، یعنی ” میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے “۔

یہاں بھی یہی فرمایا کہ ” رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ “

پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ” جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے “۔

صفحہ نمبر7647

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:371] ‏

پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ” تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے “۔

صفحہ نمبر7648

اللہ تعالٰی مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برأت بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔

اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر7657

حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29704:] ‏ یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔

ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے ۔ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف] ‏، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔ [بغوی:40/4:ضعیف] ‏

طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا ۔ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف] ‏

مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ» ۔ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔

صفحہ نمبر7658

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com