John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ghafir

Tafsir Ibn Kathir · The Forgiver · 85 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ غافر:

بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ [ بغوی]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔

مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔

صفحہ نمبر7896

ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا، [سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔

جیسے فرمان ہے «‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏ [ 15- الحجر: 50، 49 ] ‏ یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [ 14-إبراهيم: 34 ] ‏ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 13-الرعد: 41 ] ‏ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7897

سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔

جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏ اور جب «‏شدید العقاب» ‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔

۔

صفحہ نمبر7898

سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔

صفحہ نمبر7899

تفسیر سورۃ غافر:

بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ [ بغوی]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔

مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔

صفحہ نمبر7896

ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا، [سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔

جیسے فرمان ہے «‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏ [ 15- الحجر: 50، 49 ] ‏ یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [ 14-إبراهيم: 34 ] ‏ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 13-الرعد: 41 ] ‏ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7897

سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔

جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏ اور جب «‏شدید العقاب» ‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔

۔

صفحہ نمبر7898

سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔

صفحہ نمبر7899

تفسیر سورۃ غافر:

بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ [ بغوی]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔

مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔

صفحہ نمبر7896

ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا، [سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔

جیسے فرمان ہے «‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏ [ 15- الحجر: 50، 49 ] ‏ یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [ 14-إبراهيم: 34 ] ‏ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 13-الرعد: 41 ] ‏ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر7897

سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔

جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏ اور جب «‏شدید العقاب» ‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔

۔

صفحہ نمبر7898

سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔

صفحہ نمبر7899

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

صفحہ نمبر7902

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7903

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

صفحہ نمبر7902

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7903

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

صفحہ نمبر7902

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7903

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭

عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر7906

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732] ‏

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف] ‏

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

صفحہ نمبر7907

جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ‏ ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟ کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔

صفحہ نمبر7908

پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» ‏ یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «‏سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔

صفحہ نمبر7909

بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ‏، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] ‏ کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910

سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔

صفحہ نمبر7911

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭

عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر7906

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732] ‏

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف] ‏

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

صفحہ نمبر7907

جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ‏ ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟ کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔

صفحہ نمبر7908

پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» ‏ یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «‏سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔

صفحہ نمبر7909

بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ‏، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] ‏ کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910

سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔

صفحہ نمبر7911

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے ٭٭

عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایماندار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کر دیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر7906

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ [صحیح مسلم:2732] ‏

مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔ [مسند احمد:256/1:ضعیف] ‏

اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔

صفحہ نمبر7907

جیسے قرآن مجید میں ہے «وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ‏ ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں؟ کہا ہاں! فرمایا عنان بھی؟ عرض کیا ہاں!۔

صفحہ نمبر7908

پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4723،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» ‏ یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «‏سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔

صفحہ نمبر7909

بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آ جائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے درد ناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کو جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔

جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [ 52- الطور: 21 ] ‏، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [ 40- غافر: 8 ] ‏ کی تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر7910

سیدنا مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔

صفحہ نمبر7911

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭

قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ کے ہے۔

صفحہ نمبر7914

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کر دیئے گئے۔ حضرت ابن زیدرحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے روزِ میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لیے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے،

صحیح قول سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ [ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں ] ‏ مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے۔

صفحہ نمبر7915

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] ‏، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئیے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-سورة الأنعام: 28، 27 ] ‏ یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور با ایمان ہوتے، بلکہ ان کے لیے وہ ظاہر ہو گیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے۔

صفحہ نمبر7916

اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہو جائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے «رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ» [ 35- فاطر: 37 ] ‏، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقیناً کر سکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

کہیں گے کہ «رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [ 23-المؤمنون: 107، 108 ] ‏ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقیناً ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہو جاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

صفحہ نمبر7917

اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کر دیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقیناً ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقیناً تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لیے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آ جاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہو جائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔

صفحہ نمبر7918

پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بےشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔

وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہٰذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکرو غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر7919

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ «‏لا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد:4/4:صحیح] ‏ یہ حدیث مسلم ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے [صحیح مسلم:594] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔ [سنن ترمذي:3479،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7920

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭

قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ کے ہے۔

صفحہ نمبر7914

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کر دیئے گئے۔ حضرت ابن زیدرحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے روزِ میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لیے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے،

صحیح قول سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ [ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں ] ‏ مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے۔

صفحہ نمبر7915

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] ‏، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئیے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-سورة الأنعام: 28، 27 ] ‏ یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور با ایمان ہوتے، بلکہ ان کے لیے وہ ظاہر ہو گیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے۔

صفحہ نمبر7916

اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہو جائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے «رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ» [ 35- فاطر: 37 ] ‏، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقیناً کر سکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

کہیں گے کہ «رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [ 23-المؤمنون: 107، 108 ] ‏ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقیناً ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہو جاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

صفحہ نمبر7917

اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کر دیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقیناً ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقیناً تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لیے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آ جاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہو جائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔

صفحہ نمبر7918

پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بےشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔

وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہٰذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکرو غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر7919

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ «‏لا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد:4/4:صحیح] ‏ یہ حدیث مسلم ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے [صحیح مسلم:594] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔ [سنن ترمذي:3479،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7920

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭

قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ کے ہے۔

صفحہ نمبر7914

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کر دیئے گئے۔ حضرت ابن زیدرحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے روزِ میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لیے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے،

صحیح قول سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ [ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں ] ‏ مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے۔

صفحہ نمبر7915

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] ‏، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئیے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-سورة الأنعام: 28، 27 ] ‏ یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور با ایمان ہوتے، بلکہ ان کے لیے وہ ظاہر ہو گیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے۔

صفحہ نمبر7916

اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہو جائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے «رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ» [ 35- فاطر: 37 ] ‏، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقیناً کر سکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

کہیں گے کہ «رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [ 23-المؤمنون: 107، 108 ] ‏ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقیناً ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہو جاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

صفحہ نمبر7917

اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کر دیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقیناً ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقیناً تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لیے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آ جاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہو جائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔

صفحہ نمبر7918

پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بےشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔

وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہٰذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکرو غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر7919

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ «‏لا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد:4/4:صحیح] ‏ یہ حدیث مسلم ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے [صحیح مسلم:594] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔ [سنن ترمذي:3479،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7920

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭

قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ کے ہے۔

صفحہ نمبر7914

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کر دیئے گئے۔ حضرت ابن زیدرحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے روزِ میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لیے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے،

صحیح قول سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ [ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں ] ‏ مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے۔

صفحہ نمبر7915

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] ‏، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئیے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-سورة الأنعام: 28، 27 ] ‏ یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور با ایمان ہوتے، بلکہ ان کے لیے وہ ظاہر ہو گیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے۔

صفحہ نمبر7916

اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہو جائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے «رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ» [ 35- فاطر: 37 ] ‏، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقیناً کر سکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

کہیں گے کہ «رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [ 23-المؤمنون: 107، 108 ] ‏ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقیناً ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہو جاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

صفحہ نمبر7917

اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کر دیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقیناً ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقیناً تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لیے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آ جاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہو جائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔

صفحہ نمبر7918

پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بےشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔

وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہٰذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکرو غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر7919

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ «‏لا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد:4/4:صحیح] ‏ یہ حدیث مسلم ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے [صحیح مسلم:594] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔ [سنن ترمذي:3479،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7920

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭

قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏ کے ہے۔

صفحہ نمبر7914

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کر دیئے گئے۔ حضرت ابن زیدرحمہ اللہ فرماتے ہیں آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے روزِ میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لیے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے،

صحیح قول سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ [ یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں ] ‏ مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے۔

صفحہ نمبر7915

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] ‏، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئیے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-سورة الأنعام: 28، 27 ] ‏ یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور با ایمان ہوتے، بلکہ ان کے لیے وہ ظاہر ہو گیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے۔

صفحہ نمبر7916

اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہو جائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے «رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ» [ 35- فاطر: 37 ] ‏، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقیناً کر سکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

کہیں گے کہ «رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [ 23-المؤمنون: 107، 108 ] ‏ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقیناً ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہو جاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

صفحہ نمبر7917

اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کر دیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کر دیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقیناً ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقیناً تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لیے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آ جاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہو جائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔

صفحہ نمبر7918

پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بےشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔

وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہٰذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکرو غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہو جاؤ۔

صفحہ نمبر7919

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ «‏لا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ ؛ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد:4/4:صحیح] ‏ یہ حدیث مسلم ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے [صحیح مسلم:594] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔ [سنن ترمذي:3479،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر7920

روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» [ 70- المعارج: 4، 3 ] ‏، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان ان شاءاللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [ 16- النحل: 2 ] ‏، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [ 26- الشعراء: 194-192 ] ‏ یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔

صفحہ نمبر7925

حضرت ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہو گی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے؟ کون ہو گا جو جواب تک دے؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔

صفحہ نمبر7926

پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟ [صحیح مسلم:2788] ‏

صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» ‏ [ 31- لقمان: 28 ] ‏ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [ 54- القمر: 50 ] ‏ یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔

صفحہ نمبر7927

روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» [ 70- المعارج: 4، 3 ] ‏، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان ان شاءاللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [ 16- النحل: 2 ] ‏، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [ 26- الشعراء: 194-192 ] ‏ یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔

صفحہ نمبر7925

حضرت ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہو گی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے؟ کون ہو گا جو جواب تک دے؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔

صفحہ نمبر7926

پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟ [صحیح مسلم:2788] ‏

صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» ‏ [ 31- لقمان: 28 ] ‏ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [ 54- القمر: 50 ] ‏ یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔

صفحہ نمبر7927

روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» [ 70- المعارج: 4، 3 ] ‏، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان ان شاءاللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [ 16- النحل: 2 ] ‏، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [ 26- الشعراء: 194-192 ] ‏ یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔

صفحہ نمبر7925

حضرت ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہو گی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے؟ کون ہو گا جو جواب تک دے؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔

صفحہ نمبر7926

پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟ [صحیح مسلم:2788] ‏

صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» ‏ [ 31- لقمان: 28 ] ‏ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [ 54- القمر: 50 ] ‏ یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔

صفحہ نمبر7927

اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭

«‏الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» ‏ [ 53- النجم: 57 ] ‏، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [ 54- القمر: 1 ] ‏، قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 1 ] ‏ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور فرمان ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [ 16-النحل: 1 ] ‏ اللہ کا امر آ چکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے «‏فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ» [ 67- الملك: 27 ] ‏ جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔

صفحہ نمبر7930

الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام «ازِفَةِ» ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آ جائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہو گا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہو گا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بے اجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔

جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔

صفحہ نمبر7931

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔

صفحہ نمبر7932

اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭

«‏الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» ‏ [ 53- النجم: 57 ] ‏، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [ 54- القمر: 1 ] ‏، قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 1 ] ‏ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور فرمان ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [ 16-النحل: 1 ] ‏ اللہ کا امر آ چکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے «‏فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ» [ 67- الملك: 27 ] ‏ جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔

صفحہ نمبر7930

الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام «ازِفَةِ» ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آ جائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہو گا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہو گا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بے اجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔

جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔

صفحہ نمبر7931

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔

صفحہ نمبر7932

اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭

«‏الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» ‏ [ 53- النجم: 57 ] ‏، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [ 54- القمر: 1 ] ‏، قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 1 ] ‏ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور فرمان ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [ 16-النحل: 1 ] ‏ اللہ کا امر آ چکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے «‏فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ» [ 67- الملك: 27 ] ‏ جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔

صفحہ نمبر7930

الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام «ازِفَةِ» ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آ جائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہو گا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہو گا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بے اجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔

جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔

صفحہ نمبر7931

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔

صفحہ نمبر7932

باب

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کفار کے لیے انہیں باعث عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔

صفحہ نمبر7935

باب

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کفار کے لیے انہیں باعث عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔

صفحہ نمبر7935

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

صفحہ نمبر7937

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

صفحہ نمبر7938

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔

فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7939

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

صفحہ نمبر7937

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

صفحہ نمبر7938

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔

فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7939

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

صفحہ نمبر7937

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

صفحہ نمبر7938

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔

فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7939

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

صفحہ نمبر7937

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

صفحہ نمبر7938

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔

فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7939

فرعون کا بدترین حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔

صفحہ نمبر7937

جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» ‏ [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ‏، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] ‏ تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

صفحہ نمبر7938

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔

فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «‏صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «‏اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر7939

ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت ٭٭

مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے [ رحمہ اللہ تعالیٰ ] ‏ اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایماندار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے موسیٰ علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ» [ 28-القص: 20 ] ‏ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ علیہ السلام کی سن کر ضبط نہ ہو سکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے «رحمہ اللہ علیہ» ۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔

البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3856] ‏

صفحہ نمبر7944

ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کامجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت «أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ» [ الغافر: 28 ] ‏ کی تلاوت کی۔ [نسائی فی السنن الکبری:11462،صحیح:] ‏۔

صفحہ نمبر7945

پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقیناً تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہو؟

موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت «وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّـهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ» ‏ [ 44- الدخان: 21-17 ] ‏ تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول اللہ کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو،

یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو! مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ علیہم السلام اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی،

پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہیئے۔

صفحہ نمبر7946

یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آ جائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [ 17- الإسراء: 102 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں۔

اور آیت میں ہے «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [ 27- النمل: 14 ] ‏، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوکے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی۔ «إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ» [ 11-هود: 97 ] ‏ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے «وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ» [ 20-طه: 79 ] ‏ فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ [صحیح بخاری:1750] ‏ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب»

صفحہ نمبر7947

ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت ٭٭

مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے [ رحمہ اللہ تعالیٰ ] ‏ اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایماندار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے موسیٰ علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ» [ 28-القص: 20 ] ‏ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ علیہ السلام کی سن کر ضبط نہ ہو سکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے «رحمہ اللہ علیہ» ۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔

البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ [صحیح بخاری:3856] ‏

صفحہ نمبر7944

ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کامجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت «أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ» [ الغافر: 28 ] ‏ کی تلاوت کی۔ [نسائی فی السنن الکبری:11462،صحیح:] ‏۔

صفحہ نمبر7945

پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقیناً تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہو؟

موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت «وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّـهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ» ‏ [ 44- الدخان: 21-17 ] ‏ تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول اللہ کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو،

یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو! مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ علیہم السلام اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی،

پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہیئے۔

صفحہ نمبر7946

یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آ جائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [ 17- الإسراء: 102 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں۔

اور آیت میں ہے «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [ 27- النمل: 14 ] ‏، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوکے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی۔ «إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ» [ 11-هود: 97 ] ‏ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے «وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ» [ 20-طه: 79 ] ‏ فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ [صحیح بخاری:1750] ‏ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب»

صفحہ نمبر7947

مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت ٭٭

اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یا روکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لیے وبالِ جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔

صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضررت ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔

صفحہ نمبر7949

جیسے فرمان اللہ ہے «وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] ‏ یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [ 55- الرحمن: 33 ] ‏، یعنی اے انسانو! اور جنو! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حضرت حسن رحمہ اللہ اور حضرت ضحاک رحمہ اللہ کی قرأت میں «یوم التناد» دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے «ندالبعیر» سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے،

کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہو گا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہو گیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہو گیا اور تباہ و برباد ہو گیا۔

صفحہ نمبر7950

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کو «يَوْمَ التَّنَادِ» اس لیے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ» [ 7-الأعراف: 44 ] ‏ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [ 7-الأعراف: 50 ] ‏ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کر دیا ہے اسی طرح سورۃ الاعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام «‏يَوْمَ التَّنَادِ» ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»

، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا «كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [ 75-القيامة: 11، 12 ] ‏ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،

پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس یوسف علیہ السلام اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بعثت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ علیہ السلام ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم بالکل مایوس ہو گئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گزرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بیہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کر دیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ حضرت ابوعمران جونی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7951

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com