John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Mujaadila

Tafsir Ibn Kathir · The Pleading Woman · 22 ayat · Quran text →

باب

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ تعالیٰ کی ذات حمد و ثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:7386] ‏

اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ اللہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یا رسول اللہ! میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی، بچے ان سے ہوئے، اب جبکہ میں بڑھیا ہو گئی، بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی، تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں، ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے، ان کے خاوند کا نام سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33727:صحیح] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

صفحہ نمبر9336

انہیں بھی کچھ جنون سا ہو جاتا تھا اس حالت میں اپنی بیوی صاحبہ سے ظہار کر لیتے پھر جب اچھے ہو جاتے تو گویا کچھ کہا ہی نہ تھا، یہ بی بی صاحبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے اور اللہ کے سامنے اپنی التجا بیان کرنے کو آئیں تھیں جس پر یہ آیت اتری۔ [سنن ابوداود:2219،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرا لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جا کر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کرا چکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ بھی واپس ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے کہا: امیر المؤمنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا، آپ نے فرمایا: افسوس! جانتے بھی ہو یہ کون تھیں؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کر دیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا، ہاں نماز کے وقت نماز ادا کر لیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہو جاتا (‏ابن ابی حاتم) اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدہ خولہ بن صامت رضی اللہ عنہا تھیں اور ان کی والدہ کا نام سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا تھا جن کے بارے میں آیت «وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» [24-النور:33] ‏ نازل ہوئی تھی، لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ خولہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔

صفحہ نمبر9337

خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا اور مسئلہ ظہار ٭٭

سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورۃ المجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی، یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے، تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آ گئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ! اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو، وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں“، پھر آپ نے آیات «قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏ سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏ [58-المجادلة:4] ‏ تک پڑھ سنائیں۔

صفحہ نمبر9338

اور فرمایا: ”جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ان کے پاس غلام کہاں؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (‏تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ”اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا“ میں نے کہا: بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کر دو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو۔“ [سنن ابوداود:2214،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان کا نام بعض روایتوں میں خویلہ کے بجائے خولہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔

صفحہ نمبر9339

خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا اور مسئلہ ظہار ٭٭

سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورۃ المجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی، یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے، تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آ گئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ! اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو، وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں“، پھر آپ نے آیات «قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏ سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏ [58-المجادلة:4] ‏ تک پڑھ سنائیں۔

صفحہ نمبر9338

اور فرمایا: ”جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ان کے پاس غلام کہاں؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (‏تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ”اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا“ میں نے کہا: بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کر دو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو۔“ [سنن ابوداود:2214،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ان کا نام بعض روایتوں میں خویلہ کے بجائے خولہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔

صفحہ نمبر9339

ظہار کے احکام ٭٭

سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی؟ اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آ کر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہو گیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے؟ سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تو نے ایسا کیوں کیا؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چنانچہ میں گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول ! مجھ سے ایسا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم نے ایسا کیا؟“ میں نے پھر یہی عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھ سے یہ خطا ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں موجود ہوں جو سزا میرے لیے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا اے اللہ کے رسول ! میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے پے در پے روزے رکھو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ صدقہ کرو“ میں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے، پھر فرمایا: ”اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دیدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دے دو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ“، میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دے دو چنانچہ انہوں نے مجھے دے دیئے۔ [سنن ابوداود:3299،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9341

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بعد کا ہے، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کا ہے جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام سیدہ خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی اللہ عنہا تھا، اس واقعہ سے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہو گئی، انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہو گئے تو دونوں برباد ہو جائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [58-المجادلة:4] ‏ تک اتریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے قسم کھا کر انکار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33730] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9342

لفظ «ظِّهَار» «ظَّهْر» سے مشتق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ «أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي» یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہو جائے گا، ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کر دیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔ سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کر کے فرماتے ہیں اسلام میں جب سیدہ خویلہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو سیدنا اوس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ سن کر فرمایا: ”ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں“ اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خویلہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہو جائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا وسق تیس صاع منگوا کر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کر دو اور اپنی بیوی سے رجوع کر لو [تفسیر ابن جریر الطبری:33717ضعیف] ‏ اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔

صفحہ نمبر9343

ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے، مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کر لیا جو ان کی طلاق تھی۔ یہ بیوی صاحبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اس وقت آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور ام المؤمنین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو رہی تھیں، جا کر سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہو گئی“ یہ سن کر کہنے لگیں، اللہ! میری عرض تجھ سے ہے، اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے سر مبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت کہاں ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے انہیں آواز دے کر بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اپنے خاوند کو لے آؤ“، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا، آپ نے «أَسْتَعِيذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم، بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم» پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں «قَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّتي تُجادِلُكَ في زَوجِها وَتَشتَكي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسمَعُ تَحاوُرَكُما إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏، اور فرمایا: ”تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، کہا: ”دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو؟“ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے، فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اعانت کی اور فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:33714:مرسل] ‏

صفحہ نمبر9344

سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «ایلا» اور «ظہار» جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے «ایلا» میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور «ظہار» میں کفارہ مقرر فرمایا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے لفظ «مِنكُم» سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مومنوں سے ہے اس لیے اس حکم میں کافر داخل نہیں۔

جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لیے بطور قید کے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے۔ لفظ «مِّن نِّسَائِهِم» سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں، نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔

پھر فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لیے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے، یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کر دیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔ چنانچہ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری بہن ہے؟“ [سنن ابوداود:2210،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہو جاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔ جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں۔

صفحہ نمبر9345

بقول امام شافعی رحمہ اللہ مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد، پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہو جائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں، قبل کفارہ کے بھی، ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یہاں اس سے مراد صحبت کرنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/32:] ‏

زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا، پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔ سنن میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا؟“ کہنے لگا یا رسول اللہ ! چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بیتاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کر دے“، [سنن ابوداود:2221،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔

پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مومن ہی ہو جیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مومن ہونے کی قید ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہو گی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے“، [صحیح مسلم:537] ‏

اوپر واقعہ گزر چکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کر کے پھر کفارہ سے قبل واقع ہونے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔

صفحہ نمبر9346

پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔ جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد، پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔ [صحیح بخاری:1936] ‏

ہم نے یہ احکام اس لیے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو جائے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں! خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔ جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہیں۔

صفحہ نمبر9347

احکامات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم ٭٭

فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرعی سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کر دیئے گئے، اسی طرح یہ بھی اس سرکشی کے باعث برباد اور رسوا کر دئیے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کر دی ہیں اور نشانیاں ظاہر کر دی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بے انتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے۔

صفحہ نمبر9348

تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [9-التوبہ:78] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے “،

اور جگہ ارشاد ہے «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] ‏ ” کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں “، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔

بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہیئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم کے بیان پر کیا (‏مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔مترجم)

صفحہ نمبر9349

احکامات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم ٭٭

فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرعی سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کر دیئے گئے، اسی طرح یہ بھی اس سرکشی کے باعث برباد اور رسوا کر دئیے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کر دی ہیں اور نشانیاں ظاہر کر دی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بے انتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے۔

صفحہ نمبر9348

تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [9-التوبہ:78] ‏ ” کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے “،

اور جگہ ارشاد ہے «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] ‏ ” کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں “، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔

بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہیئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم کے بیان پر کیا (‏مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔مترجم)

صفحہ نمبر9349

معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭

کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکں انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔

ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آ گئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آ گئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہو گئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (‏یعنی ریاکاری)“ اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السَّام عَلَيْك يَا أَبَا الْقَاسِم»، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رہا نہ گیا فرمایا «وَعَلَيْكُمْ السَّام»، «سَّام» کے معنی موت کے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو «السلام» نہیں کہا بلکہ «السام» کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا «وَعَلَيْكُمْ» ۔‏“ [صحیح مسلم:2165] ‏

اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں فرمایا تھا «عَلَیْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ وَاللَّعْنَتَهُ» اور آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کوسنا نامقبول ہے۔ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏ [صحیح بخاری:6030] ‏

صفحہ نمبر9351

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آ کر سلام کیا،صحابہ نے جواب دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! سلام کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اس نے کہا تھا «سَام عَلَيْكُمْ» یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آ گیا تو آپ نے فرمایا: ”سچ سچ بتا کیا تو نے «سَام عَلَيْكُمْ» نہیں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، میں نے یہی کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف «عَلَيْك» کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر۔ [سنن ابن ماجہ:3697،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، [مسند احمد:170/2:صحیح] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔

صفحہ نمبر9352

معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭

کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکں انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔

ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آ گئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آ گئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہو گئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (‏یعنی ریاکاری)“ اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السَّام عَلَيْك يَا أَبَا الْقَاسِم»، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رہا نہ گیا فرمایا «وَعَلَيْكُمْ السَّام»، «سَّام» کے معنی موت کے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو «السلام» نہیں کہا بلکہ «السام» کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا «وَعَلَيْكُمْ» ۔‏“ [صحیح مسلم:2165] ‏

اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں فرمایا تھا «عَلَیْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ وَاللَّعْنَتَهُ» اور آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کوسنا نامقبول ہے۔ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏ [صحیح بخاری:6030] ‏

صفحہ نمبر9351

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آ کر سلام کیا،صحابہ نے جواب دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! سلام کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اس نے کہا تھا «سَام عَلَيْكُمْ» یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آ گیا تو آپ نے فرمایا: ”سچ سچ بتا کیا تو نے «سَام عَلَيْكُمْ» نہیں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، میں نے یہی کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف «عَلَيْك» کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر۔ [سنن ابن ماجہ:3697،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے “۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، [مسند احمد:170/2:صحیح] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔

صفحہ نمبر9352

مومن کی سرگوشی ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔

صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہو گی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏

صفحہ نمبر9354

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے، شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لیے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہیئے کہ «اعوذ» پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، ان شاءاللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔، ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہو گا“ [صحیح بخاری:6290] ‏

اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم:2183] ‏

صفحہ نمبر9355

مومن کی سرگوشی ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔

صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہو گی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏

صفحہ نمبر9354

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے، شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لیے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہیئے کہ «اعوذ» پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، ان شاءاللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔، ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہو گا“ [صحیح بخاری:6290] ‏

اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم:2183] ‏

صفحہ نمبر9355

آداب مجلس باہم معاملات اور علمائے حق و باعمل کی توقیر ٭٭

یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلسی آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال و لحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹا کر اسے بھی جگہ دو۔ مجلس میں کشادگی کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لیے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنا دے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ [صحیح بخاری:450] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ تعالیٰ خود اپنے اس بندے کی مدد پر رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2699] ‏ اور بھی اسی طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مجلس ذکر کے بارے میں اتری ہے مثلاً وعظ ہو رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نصیحت کی باتیں بیان فرما رہے ہیں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں، اب جو دوسرا کوئی آیا تو کوئی اپنی جگہ سے نہیں سرکتا تاکہ اسے بھی جگہ مل جائے، قرآن کریم نے حکم دیا کہ ایسا نہ کرو ادھر ادھر کھل جایا کرو تاکہ آنے والے کی جگہ ہو جائے۔

صفحہ نمبر9357

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن یہ آیت اتری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن صفہ میں تھے یعنی مسجد کے ایک چھپر تلے جگہ تنگ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جو مہاجر اور انصاری بدر کی لڑائی میں آپ کے ساتھ تھے آپ ان کی بڑی عزت اور تکریم کیا کرتے تھے، اس دن اتفاق سے چند بدری صحابہ رضی اللہ عنہم دیر سے آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس کھڑے ہو گئے، آپ سے سلام علیک ہوئی، آپ نے جواب دیا پھر اور اہل مجلس کو سلام کیا، انہوں نے بھی جواب دیا، اب یہ اسی امید پر کھڑے رہے کہ مجلس میں ذرا کشادگی دیکھیں تو بیٹھ جائیں لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا جو ان کیلئے جگہ ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو نہ رہا گیا، نام لے لے کر بعض لوگوں کو ان کی جگہ سے کھڑا کیا اور ان بدری صحابیوں کو بیٹھنے کو فرمایا، جو لوگ کھڑے کرائے گئے تھے انہیں ذرا بھاری پڑا ادھر منافقین کے ہاتھ میں ایک مشغلہ لگ گیا، کہنے لگے، لیجئے یہ عدل کرنے کے مدعی نبی ہیں کہ جو لوگ شوق سے آئے، پہلے آئے، اپنے نبی کے قریب جگہ لی، اطمینان سے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، انہیں تو ان کی جگہ سے کھڑا کر دیا اور دیر سے آنے والوں کو ان کی جگہ دلوا دی کس قدر ناانصافی ہے، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ان کے دل میلے نہ ہوں دعا کی کہ اللہ اس پر رحم کرے جو اپنے مسلمان بھائی کیلئے مجلس میں جگہ کر دے۔ اس حدیث کو سنتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم نے فوراً خود بخود اپنی جگہ سے ہٹنا اور آنے والوں کو جگہ دینا شروع کر دیا اور جمعہ ہی کے دن یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:244/23:مرسل] ‏

صفحہ نمبر9358

بخاری، مسلم، مسند وغیرہ میں حدیث ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا کر وہاں نہ بیٹھے بلکہ تمہیں چاہیئے کہ ادھر ادھر سرک کر اس کیلئے جگہ بنا دو۔ [صحیح بخاری:911] ‏

مسند شافعی میں ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے بلکہ کہہ دے کہ گنجائش کرو۔ [مسند شافعی:159/1ضعیف] ‏

اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ کسی آنے والے کیلئے کھڑے ہو جانا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ تو اجازت دیتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ۔ ” [صحیح بخاری:2550] ‏

بعض علماء منع کرتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ لوگ اس کیلئے سیدھے کھڑے ہوں وہ جہنم میں اپنی جگہ بنا لے۔ [سنن ترمذي:2755،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9359

بعض بزرگ تفصیل بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سفر سے اگر کوئی آیا ہو تو حاکم کیلئے عہدہ حکمرانی کے سبب لوگوں کا کھڑے ہو جانا درست ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کیلئے کھڑا ہونے کو فرمایا تھا یہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔ بنو قریظہ کے آپ حاکم بنائے گئے تھے جب انہیں آتا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور یہ (‏بطور تعظیم کے نہ تھا بلکہ) صرف اس لیے تھا کہ ان کے احکام کو بخوبی جاری کرائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ہاں اسے عادت بنا لینا کہ مجلس میں جہاں کوئی بڑا آدمی آیا اور لوگ کھڑے ہو گئے یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، سنن کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور باعزت کوئی نہ تھا لیکن تاہم آپ کو دیکھ کر وہ کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے، جانتے تھے کہ آپ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2754،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سنن کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی مجلس کے خاتمہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور جہاں آپ تشریف فرما ہو جاتے وہی جگہ صدارت کی جگہ ہو جاتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے مراتب کے مطابق مجلس میں بیٹھ جاتے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے آپ دائیں جانب، سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں اور عموماً سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے بیٹھتے تھے کیونکہ یہ دونوں بزرگ کاتب وحی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے اور یہ وحی کو لکھ لیا کرتے تھے۔

صفحہ نمبر9360

صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ مجھ سے قریب ہو کر عقلمند، صاحب فراست لوگ بیٹھیں پھر درجہ بدرجہ۔ [صحیح مسلم:432] ‏

اور یہ انتظام اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات یہ حضرات سنیں اور بخوبی سمجھیں، یہی وجہ تھی کہ صفہ والی مجلس میں جس کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے آپ نے اور لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر وہ جگہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کو دلوائی، گو اس کے ساتھ اور وجوہات بھی تھیں مثلاً ان لوگوں کو خود چاہیئے تھا کہ ان بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال کرتے اور لحاظ و مروت برت کر خود ہٹ کر انہیں جگہ دیتے، جب انہوں نے از خود ایسا نہیں کیا تو پھر حکماً ان سے ایسا کرایا گیا، اسی طرح پہلے کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے کلمات پوری طرح سن چکے تھے اب یہ حضرات آئے تھے تو آپ نے چاہا کہ یہ بھی باآرام بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور دینی تعلیم حاصل کر لیں، اسی طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صفوں کی درستی کے وقت ہمارے مونڈھے خود پکڑ پکڑ کر ٹھیک ٹھاک کرتے اور زبانی بھی فرماتے جاتے سیدھے رہو، ٹیڑھے ترچھے نہ کھڑے ہوا کرو، دانائی اور عقلمندی والے مجھ سے بالکل قریب رہیں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے اس حکم کے باوجود افسوس کہ اب تم بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو۔ [صحیح مسلم:432] ‏

مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ظاہر ہے کہ جب آپ کا یہ حکم نماز کیلئے تھا تو نماز کے سوا کسی اور وقتوں میں تو بطور اولیٰ یہی حکم رہے گا، ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو درست کرو، مونڈھے ملائے رکھو، صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو، اپنے بھائیوں کے پاس صف میں نرم بن جایا کرو، صف میں شیطان کیلئے سوراخ نہ چھوڑو صف ملانے والے کو اللہ تعالیٰ ملاتا ہے اور صف توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ کاٹ دیتا ہے۔ [سنن ابوداود:666،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اسی لیے سید القراء سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جب پہنچتے تو صف اول میں سے کسی ضعیف العقل شخص کو پیچھے ہٹا دیتے اور خود پہلی صف میں کھڑے ہو جاتے اور اسی حدیث کو دلیل میں لاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھ سے قریب ذی رائے اور اعلیٰ عقلمند کھڑے ہوں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔“ [مسند احمد:140/5:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9361

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر اگر کوئی شخص کھڑا ہو جاتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔ [صحیح بخاری:6280] ‏

اور اس حدیث کو پیش کرتے جو اوپر گزری کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ میں کوئی اور نہ بیٹھے، یہاں بطور نمونے کے یہ چند مسائل اور تھوڑی حدیثیں لکھ کر ہم آگے چلتے ہیں بسط و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، نہ یہ موقع ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آ کر بیٹھ گئے دوسرے نے مجلس کے آخر میں جگہ بنا لی تیسرے واپس چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں، ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی، دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیاء کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ [صحیح بخاری:66] ‏

مسند احمد میں ہے کہ کسی کو حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان تفریق کرے، ہاں ان کی خوشنودی سے ہو تو اور بات ہے۔ [سنن ابوداود:4845،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن بصری وغیرہ فرماتے ہیں مجلسوں کی کشادگی کا حکم جہاد کے بارے میں ہے، اسی طرح اٹھ کھڑے ہونے کا حکم بھی جہاد کے بارے میں ہے۔

صفحہ نمبر9362

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جب تمہیں بھلائی اور کارخیر کی طرف بلایا جائے تو تم فوراً آ جاؤ، مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں نماز کیلئے بلایا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جایا کرو، عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آتے تو جاتے وقت ہر ایک کی چاہت یہ ہوتی کہ سب سے آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا میں ہوں، بسا اوقات آپ کو کوئی کام کاج ہوتا تو بڑا حرج ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروت سے کچھ نہ فرماتے اس پر یہ حکم ہوا کہ جب تم سے کھڑے ہونے کو کہا جائے تو کھڑے ہو جایا کرو، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قيلَ لَكُمُ ارجِعوا فَارجِعوا هُوَ أَزكىٰ لَكُم وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ عَليمٌ» [24-النور:28] ‏ ” اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو لوٹ جاؤ “۔

پھر فرماتا ہے کہ مجلسوں میں جگہ دینے کو جب کہا جائے تو جگہ دینے میں اور جب چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جانے میں اپنی ہتک نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ بلند کرنا اور اپنی توقیر کرانا ہے، اسے اللہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس پر دنیا اور آخرت میں نیک بدلہ دے گا، جو شخص احکام الٰہیہ پر تواضع سے گردن جھکا دے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور اس کی شہرت نیکی کے ساتھ کرتا ہے۔ ایمان والوں اور صحیح علم والوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے گردن جھکا دیا کریں اور اس سے وہ بلند درجوں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ بلند مرتبوں کا مستحق کون ہے اور کون نہیں؟

صفحہ نمبر9363

نافع بن عبدالحارث رحمہ اللہ سے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ملاقات عسفان میں ہوئی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ کا عامل بنایا تھا تو ان سے پوچھا کہ تم مکہ میں اپنی جگہ کسے چھوڑ آئے ہو؟ جواب دیا کہ ابن ابزیٰ کو، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تو ہمارے مولیٰ ہیں یعنی آزاد کردہ غلام، انہیں تم اہل مکہ کا امیر بنا کر چلے آئے ہو؟ کہا: ہاں، اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کا ماہر اور فرائض کا جاننے والا اور اچھا وعظ کہنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا: سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے ایک قوم کو عزت پر پہنچا کر بلند مرتبہ کرے گا اور بعض کو پست و کم مرتبہ بنا دے گا ۔ [صحیح مسلم:817] ‏

علم اور علماء کی فضیلت، جو اس آیت اور دیگر آیات و احادیث سے ظاہر ہے میں نے ان سب کو بخاری شریف کی کتاب العلم کی شرح میں جمع کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر9364

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی منسوخ شرط ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کر سکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔

صفحہ نمبر9365

پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا، اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33788:ضعیف] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔

صفحہ نمبر9366

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مسلمان برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کر دیئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کر دی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کر دی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا، عکرمہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، قتادہ رحمہ اللہ اور مقاتل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔

صفحہ نمبر9367

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی منسوخ شرط ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کر سکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔

صفحہ نمبر9365

پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا، اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33788:ضعیف] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔

صفحہ نمبر9366

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مسلمان برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کر دیئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کر دی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کر دی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا، عکرمہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، قتادہ رحمہ اللہ اور مقاتل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔

صفحہ نمبر9367

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

صفحہ نمبر9369

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

صفحہ نمبر9370

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔

جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51] ‏ ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا “۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔

صفحہ نمبر9376

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔

جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51] ‏ ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا “۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔

صفحہ نمبر9376

اللہ کے دشمنوں سے عداوت ٭٭

پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ» [3-آل عمران:28] ‏ مسلمانوں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دلی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لیے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے۔

اور جگہ ہے «قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبہ:24] ‏ اے نبی! آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھربار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو، اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔

صفحہ نمبر9378

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لیے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں اس وقت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا [مستدرک حاکم 268/3:منقطع] ‏

اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9379

اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہو سکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہو جائیں، مشرکوں سے جہاد کرنے کے لیے آلات حرب جمع کر لیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ ! جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کر دیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں، مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئیے اور علی کے حوالے عقیل کر دیجئیے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئیے وغیرہ۔

پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جما لی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت جچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہو گئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے۔ ابوحازم اعرج رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں، یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صفحہ نمبر9380

نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا: ”اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے۔‏“ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:2975،ضعیف] ‏

سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں۔ [ابواحمدعسکری] ‏

«الحمداللہ» سورۃ المجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9381

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com