John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Hadid

Tafsir Ibn Kathir · The Iron · 29 ayat · Quran text →

تفسیر سورۃ الحدید:

ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھتے تھے جن کا شروع «سبح» یا «یسبح» ہے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ (سنن ابوداود:5057،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

جس آیت کی فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے غالباً وہ آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» (57-الحديد:3) ہے۔ «واللہ اعلم»

اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»

کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭

تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏ ” ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ “ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔

ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «‏فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ‏ [10-یونس:94] ‏، یعنی ” اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔“

پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «‏هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔

بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔

صفحہ نمبر9276

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ ۔ [مسند احمد:404/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9277

ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ [صحیح مسلم:2813] ‏

ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (‏جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] ‏

اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔

صفحہ نمبر9278

بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (‏نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر9279

مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔

امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» [65-الطلاق:12] ‏ کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9280

تفسیر سورۃ الحدید:

ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھتے تھے جن کا شروع «سبح» یا «یسبح» ہے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ (سنن ابوداود:5057،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

جس آیت کی فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے غالباً وہ آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» (57-الحديد:3) ہے۔ «واللہ اعلم»

اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»

کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭

تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏ ” ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ “ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔

ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «‏فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ‏ [10-یونس:94] ‏، یعنی ” اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔“

پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «‏هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔

بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔

صفحہ نمبر9276

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ ۔ [مسند احمد:404/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9277

ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ [صحیح مسلم:2813] ‏

ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (‏جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] ‏

اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔

صفحہ نمبر9278

بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (‏نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر9279

مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔

امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» [65-الطلاق:12] ‏ کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9280

تفسیر سورۃ الحدید:

ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھتے تھے جن کا شروع «سبح» یا «یسبح» ہے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ (سنن ابوداود:5057،قال الشيخ الألباني:ضعیف)

جس آیت کی فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے غالباً وہ آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» (57-الحديد:3) ہے۔ «واللہ اعلم»

اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»

کل کائنات ثنأ خواں ہے ٭٭

تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ‏ ” ساتوں آسمان، زمینیں، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔ “ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام الحکمت سے پر ہیں۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے، خلق میں متصرف وہی ہے، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد کی آیت «هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔

ابوزمیل رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے «‏فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» ‏ [10-یونس:94] ‏، یعنی ” اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے۔“

پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر «‏هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ‏ [57-الحديد:3] ‏ اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں۔

بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔

صفحہ نمبر9276

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے «اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر» ”اے اللہ، اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے، تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے“ ۔ [مسند احمد:404/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9277

ابوصالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔ [صحیح مسلم:2813] ‏

ابو یعلیٰ میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (‏جو اوپر بیان ہوئی)“ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:4774ضعیف] ‏

اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”اسے عنان کہتے ہیں، یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں، نہ اللہ کے پکارنے والے“، پھر پوچھا: ”معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے؟“، انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے، فرمایا: ”بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے؟“، وہی جواب ملا، فرمایا: ”پانچ سو سال کا راستہ“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی“ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا: ”اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے“، پھر پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے“ اور جواب وہی سن کر فرمایا: ”دوسری زمین ہے“، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن رحمہ اللہ کا اپنے استاد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں جیسے کہ ایوب، یونس اور علی بن زید رحمہ اللہ علیہم محدثین کا قول ہے۔

صفحہ نمبر9278

بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (‏نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر9279

مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔

امام بزار رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

امام ابن جریر رحمہ اللہ آیت «وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ» [65-الطلاق:12] ‏ کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا، چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9280

ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» [57-الحديد:4] ‏ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

«يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» [57-الحديد:4] ‏ ” اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔“

جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ‏ [6-الأنعام:59] ‏، ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔“

اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔

صفحہ نمبر9283

جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:293] ‏

اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [3-آل عمران:156] ‏ وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔

جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] ‏ یعنی ” اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ “

ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13-الرعد:10] ‏ ہے ” پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔“ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔‏“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ ۔ [ابونعیم] ‏

اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] ‏

امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔

صفحہ نمبر9284

پھر فرماتا ہے کہ ” دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ “ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» [92-الليل:13] ‏ ” دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔“ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔

فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28-القصص:70] ‏ یعنی ” وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ “

ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» [34-سبأ:1] ‏ ” اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔“ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔

جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:95-93] ‏ ” آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے “۔

«إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ‏ [4-النسأ:40] ‏ ” وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔

ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ‏ ” قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں “۔

پھر فرمایا ” خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے “۔

صفحہ نمبر9285

ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» [57-الحديد:4] ‏ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

«يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» [57-الحديد:4] ‏ ” اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔“

جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ‏ [6-الأنعام:59] ‏، ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔“

اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔

صفحہ نمبر9283

جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:293] ‏

اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [3-آل عمران:156] ‏ وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔

جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] ‏ یعنی ” اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ “

ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13-الرعد:10] ‏ ہے ” پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔“ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔‏“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ ۔ [ابونعیم] ‏

اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] ‏

امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔

صفحہ نمبر9284

پھر فرماتا ہے کہ ” دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ “ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» [92-الليل:13] ‏ ” دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔“ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔

فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28-القصص:70] ‏ یعنی ” وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ “

ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» [34-سبأ:1] ‏ ” اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔“ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔

جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:95-93] ‏ ” آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے “۔

«إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ‏ [4-النسأ:40] ‏ ” وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔

ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ‏ ” قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں “۔

پھر فرمایا ” خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے “۔

صفحہ نمبر9285

ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ» [57-الحديد:4] ‏ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

«يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا» [57-الحديد:4] ‏ ” اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے۔“

جیسے اور آیت میں ہے «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ» ‏ [6-الأنعام:59] ‏، ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے، کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی تر و خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔“

اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں۔

صفحہ نمبر9283

جیسے صحیح حدیث میں ہے رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں ۔ [صحیح مسلم:293] ‏

اور آیت میں ہے «وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [3-آل عمران:156] ‏ وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لیے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔

جیسے فرمایا ہے کہ «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] ‏ یعنی ” اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟ “

ایک اور آیت میں «سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13-الرعد:10] ‏ ہے ” پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔“ یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ جبرائیل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:50] ‏

ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئیے کہ میری زندگی سنور جائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو“ ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:145/6:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے تین کام کر لیے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔ ایک اللہ کی عبادت کی اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضا مندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دئیے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا اور اپنے نفس کو پاک کیا۔‏“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے“ ۔ [ابونعیم] ‏

اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے۔ [ابونعیم فی الحلیة:124/6] ‏

امام احمد رحمہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے «إِذَا مَا خَلَوْت الدَّهْر يَوْمًا فَلَا تَقُلْ» * «خَلَوْت وَلَكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ» * «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّه يَغْفُل سَاعَة» * «وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَيْهِ يَغِيبُ» یعنی جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ، کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بے خبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔

صفحہ نمبر9284

پھر فرماتا ہے کہ ” دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔ “ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى» [92-الليل:13] ‏ ” دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔“ اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔

فرماتا ہے «وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28-القصص:70] ‏ یعنی ” وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ “

ایک اور آیت میں ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ» [34-سبأ:1] ‏ ” اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔“ پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔

جیسے فرمایا «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:95-93] ‏ ” آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے “۔

«إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ‏ [4-النسأ:40] ‏ ” وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے “۔

ارشاد ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ‏ ” قیامت کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا، رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں “۔

پھر فرمایا ” خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے، کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں، کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے۔ وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے “۔

صفحہ نمبر9285

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے، نہ تو چھوڑتا، نہ اڑاتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» ‏ الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ [صحیح مسلم:2985] ‏ اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔

صفحہ نمبر9288

پھر فرماتا ہے «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ» [57-الحديد:8] ‏ یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔

صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ ۔ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] ‏ سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] ‏ کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔

پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] ‏ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9289

ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے، نہ تو چھوڑتا، نہ اڑاتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» ‏ الخ پڑھ کر فرمانے لگے ”انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ [صحیح مسلم:2985] ‏ اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔

صفحہ نمبر9288

پھر فرماتا ہے «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ» [57-الحديد:8] ‏ یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔

صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ”وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ”ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ”واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ ۔ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] ‏ سورۃ البقرہ کے شروع میں آیت «الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ» [2-البقرة:3] ‏ کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔

پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [5-المائدة:7] ‏ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9289

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ٭٭

وہ اللہ جو اپنے بندے (‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی۔

ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ” ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا “۔

پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا ” میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لیے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔“

فرماتا ہے «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [34-سبأ:39] ‏ ” جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے۔ “

اور فرماتا ہے «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [16-النحل:96] ‏ ” اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔“ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔

پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لیے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں۔

صفحہ نمبر9291

بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے“ ۔ [مسند احمد:266/3:صحیح] ‏

ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا، ہم مسلمان ہو گئے ہم «صابی» ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لیے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔

صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا ۔ [صحیح بخاری:3673] ‏

صفحہ نمبر9292

ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے۔‏“ ہم نے کہا کیا قریشی؟ فرمایا: ”نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ» کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:674/11] ‏ لیکن یہ روایت غریب ہے۔

صفحہ نمبر9293

بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے۔ [صحیح مسلم:1064] ‏

ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا: ”وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے۔“ ہم نے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟ فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگلیا کو دراز کر کے فرمایا: ”خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔

پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہو، جیسے کہ سورۃ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ «وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] ‏ یعنی ” کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔“ پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر9294

پھر فرماتا ہے کہ «لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً» ‏ [4-النساء:95] ‏ ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعده دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔“

جیسے اور جگہ ہے کہ ” مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔“

صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گزرے اس لیے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا ” تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔“

حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ [سنن نسائی:2528،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصہ دار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی امت کے سردار ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں۔‏“ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ [بغوی فی التفسیر:229/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9295

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ٭٭

وہ اللہ جو اپنے بندے (‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )‏ پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے۔ اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی۔

ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ” ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا “۔

پھر صدقات کی رغبت دلائی، اور فرمایا ” میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لیے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔“

فرماتا ہے «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [34-سبأ:39] ‏ ” جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے۔ “

اور فرماتا ہے «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ» [16-النحل:96] ‏ ” اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔“ توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا۔

پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لیے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں۔

صفحہ نمبر9291

بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے“ ۔ [مسند احمد:266/3:صحیح] ‏

ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا، ہم مسلمان ہو گئے ہم «صابی» ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لیے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔

صحیح حدیث میں ہے میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا ۔ [صحیح بخاری:3673] ‏

صفحہ نمبر9292

ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے۔‏“ ہم نے کہا کیا قریشی؟ فرمایا: ”نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ» کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:674/11] ‏ لیکن یہ روایت غریب ہے۔

صفحہ نمبر9293

بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے کہ تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے۔ [صحیح مسلم:1064] ‏

ابن جریر میں ہے عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر فرمایا: ”وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے۔“ ہم نے پوچھا: کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟ فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگلیا کو دراز کر کے فرمایا: ”خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔

پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہو، جیسے کہ سورۃ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ «وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» [73-المزمل:20] ‏ یعنی ” کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔“ پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر9294

پھر فرماتا ہے کہ «لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً» ‏ [4-النساء:95] ‏ ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعده دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔“

جیسے اور جگہ ہے کہ ” مجاہد اور غیر مجاہد جو عذر والے بھی نہ ہوں درجے میں برابر نہیں گو بھلے وعدے میں دونوں شامل ہیں۔“

صحیح حدیث میں ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گزرے اس لیے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔ پھر فرمایا ” تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔“

حدیث شریف میں ہے ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔ [سنن نسائی:2528،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصہ دار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لئے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی امت کے سردار ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا کیا بات ہے جو ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں۔‏“ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔ جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔ [بغوی فی التفسیر:229/4:ضعیف] ‏ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9295

اللہ کو قرض دینا ٭٭

پھر فرماتا ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا» [57-الحديد:11] ‏ ” کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ “ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ہے۔

بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو۔ پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ ” اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی۔ “ اس آیت کو سن کر ابودحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا۔

آپ رضی اللہ عنہ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی، وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے، بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ”جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یاقوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کو اللہ نے دے دیں۔‏“ [مسند بزار:402/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9297

اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:672/11] ‏

صفحہ نمبر9298

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعاء دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:676/11] ‏

جنادہ بن ابوامیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوگو! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لیے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لیے پورا پورا کر۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے باآرام گزر جائیں۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا۔‏“ تو ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی، ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہو گا اور «فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ» [17-الإسراء:71] ‏ انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی“ ۔ [مستدرک حاکم:478/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9299

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔

اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دیدے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بے نور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ» [24-النور:40] ‏ میں ہے، «يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ» ‏ [24-النور:40] ‏ پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔

صفحہ نمبر9300

پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لیے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لیے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی، مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپا دھاپی میں ہو گا۔

جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت «وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ» [7-الاعراف:46] ‏ میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی۔

صفحہ نمبر9301

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لیے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علیین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں۔

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لیے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لیے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے۔

صفحہ نمبر9302

اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:672/11] ‏

صفحہ نمبر9298

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”بعض مومن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعاء دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:676/11] ‏

جنادہ بن ابوامیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوگو! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لیے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مومن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لیے پورا پورا کر۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے باآرام گزر جائیں۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی امت کو پہچان لوں گا۔‏“ تو ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کی تمام امتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی، ان میں سے آپ اپنی امت کی شناخت کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری امت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور امت میں نہ ہو گا اور «فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ» [17-الإسراء:71] ‏ انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی“ ۔ [مستدرک حاکم:478/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9299

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں، یہ زبردست کامیابی ہے۔

اس کے بعد کی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی۔ سلیم بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دیدے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بے نور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ» [24-النور:40] ‏ میں ہے، «يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ» ‏ [24-النور:40] ‏ پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء:142] ‏، میں ہے۔ اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مومنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے۔

صفحہ نمبر9300

پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مومن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لیے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لیے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی، مومنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مومنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مومن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپا دھاپی میں ہو گا۔

جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت «وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ» [7-الاعراف:46] ‏ میں ہے۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔ ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی۔

صفحہ نمبر9301

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لیے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علیین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں۔

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لیے سند نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لیے کھڑی کی جائے گی مومن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے۔

صفحہ نمبر9302

منافقین کا واویلہ ٭٭

اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔

انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔ سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:38-47] ‏ ” مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔“ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔

پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» [74-المدثر:48] ‏ ” کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ “ یہاں فرمایا ” آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔“

صفحہ نمبر9304

منافقین کا واویلہ ٭٭

اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔ ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو، گناہوں میں، نفسانی خواہشوں میں، اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔

انتظار میں ہی عمر گزاری دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت آئے گی بھی یا نہیں؟ اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الٰہی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مومنوں کے ساتھ تھے، نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔ سورۃ المدثر کی آیتوں میں ہے کہ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» [74-المدثر:38-47] ‏ ” مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بداعمال گنوائیں گے۔“ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔

پھر جیسے وہاں فرمایا تھا «فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» [74-المدثر:48] ‏ ” کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ “ یہاں فرمایا ” آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا، نہ منافقوں سے، نہ کافروں سے ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔“

صفحہ نمبر9304

ایمان والوں سے سوال ٭٭

پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ [صحیح مسلم:3028] ‏

اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] ‏

ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» [39-الزمر:23] ‏

پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» [57-الحديد:16] ‏ اترتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف] ‏

پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» [5-المائدة:13] ‏ ” ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ “ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔

صفحہ نمبر9306

ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔“

”اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔“

”ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔“

صفحہ نمبر9307

”چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟“ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔

چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا ”لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔“

امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔“

پھر ارشاد باری ہے کہ ” جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ “ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔

صفحہ نمبر9308

ایمان والوں سے سوال ٭٭

پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مومنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ، وعظ نصیحت، آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چار ہی سال گزرے تھے جو ہمیں یہ عتاب ہوا۔ [صحیح مسلم:3028] ‏

اصحاب رسول پر ملال ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اترتی ہے۔ «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] ‏

ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد یہی عرض کرتے ہیں تو آیت اترتی ہے۔ «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ» [39-الزمر:23] ‏

پھر ایک عرصہ بعد یہی کہتے ہیں تو یہ آیت «أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» [57-الحديد:16] ‏ اترتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے خیر جو میری امت سے اٹھ جائے گی وہ خشوع ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:681/11:ضعیف] ‏

پھر فرمایا تم یہود و نصاریٰ کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے و قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں دین میں داخل کر لیں، ان بداعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے، کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے، کوئی وعظ و نصیحت ان پر اثر نہیں کرتا، کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا، بلکہ ان میں کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» [5-المائدة:13] ‏ ” ان کی بدعہدی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ “ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے تحریف کر دیتے ہیں اور ہماری نصیحت کو بھلا دیتے ہیں، یعنی ان کے دل فاسد ہو گئے، اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے، نیکیاں چھوڑ دیں، برائیوں میں منہمک ہو گئے۔ اسی لیے رب العالمین اس امت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے، اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔

صفحہ نمبر9306

ابن ابی حاتم میں ہے ربیع بن ابوعمیلہ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بے حد محبوب اور مرغوب ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کر لیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لیے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے، ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے، جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لیے تھے اور انہی پر عامل بن گئے۔“

”اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے۔“

”ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے، انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نرسنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟ ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے۔“

صفحہ نمبر9307

”چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟“ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟ ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟ اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لیے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔

چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو، آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا، پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے، اب بات بنا لی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے، ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا، وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔“

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا ”لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بے بس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بے کسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔“

امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبداللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔“

پھر ارشاد باری ہے کہ ” جان رکھو مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے۔ “ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔ گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔ دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً منور کر دیتی ہے، اللہ کی وحی دل کے قفل کی کنجی ہے، سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت و عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔

صفحہ نمبر9308

صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭

فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں،

بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» [4-النساء:69] ‏ ” اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ “ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ ۔ [صحیح بخاری:3265] ‏

صفحہ نمبر9310

ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف] ‏

عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887] ‏

پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (‏۱)‏ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (‏۲)‏ دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (‏۳)‏ تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (‏۴)‏ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔

صفحہ نمبر9311

صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭

فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں،

بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» [4-النساء:69] ‏ ” اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ “ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ ۔ [صحیح بخاری:3265] ‏

صفحہ نمبر9310

ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف] ‏

عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887] ‏

پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (‏۱)‏ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (‏۲)‏ دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (‏۳)‏ تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (‏۴)‏ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔

صفحہ نمبر9311

دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ٭٭

امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ ” اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا؟“ جیسے اور آیت میں ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [3-آل عمران:14] ‏، یعنی ” لوگوں کے لیے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کر دیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔“

«غَيْثٍ» کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ» [42-الشورى:28] ‏، ” اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ “

پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی تروتازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟ جیسے ارشاد باری ہے آیت «اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ» ‏ [30-سورةالروم:54] ‏ ” اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔“

اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے۔

صفحہ نمبر9313

پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضا مندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کر لو، سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے ۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:685/11:صحیح] ‏۔ آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3250] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9314

مغفرت کی جستجو ٭٭

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی۔ [صحیح بخاری:6488] ‏

پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لیے اسے چاہیئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔ اسی لیے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ» [3-آل عمران:133] ‏ ” اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لیے بنائی گی ہیں۔ “

یہاں فرمایا ” یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے، اسی لیے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لیے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔“

پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو اور اتنی ہی بار «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اور اسی طرح «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ، کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔“ [صحیح بخاری:843] ‏

صفحہ نمبر9315

تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔

بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔

صفحہ نمبر9316

صحیح مسلم ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ [صحیح مسلم:34] ‏

اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ‏ یعنی ” اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے “۔

صفحہ نمبر9317

تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔

بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔

صفحہ نمبر9316

صحیح مسلم ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ [صحیح مسلم:34] ‏

اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ‏ یعنی ” اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے “۔

صفحہ نمبر9317

تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہیئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہی یہ علم اللہ میں مقرر تھا اور اس کا ہونا یقینی تھا۔

بعض کہتے ہیں مصیبت کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے۔ امام حسن رحمہ اللہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے۔ یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔

صفحہ نمبر9316

صحیح مسلم ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی۔ [صحیح مسلم:34] ‏

اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا [سنن ترمذي:2156،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بے صبری اور بےضبطی تم سے دور رہے۔ جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ، اسے عطیہ الٰہی مانو، تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے، ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لیے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا، میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی «آتٰکمْ» ہے دوسری «اتٰکُمْ» ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”رنج و راحت، خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔“

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بے نیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ‏ یعنی ” اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے “۔

صفحہ نمبر9317

لوہے کے فوائد ٭٭

اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو ظاہر حجتیں اور بھرپور دلائل دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا، پھر ساتھ ہی انہیں کتاب بھی دی جو کھری اور صاف سچی ہے اور عدل و حق دیا جس سے ہر عقلمند انسان ان کی باتوں کے قبول کر لینے پر فطرتاً مجبور ہو جاتا ہے، ہاں بیمار رائے والے اور خلاف عقل والے اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً» [11-ھود:17] ‏ ” جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔“

ایک اور جگہ ہے «فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے۔ “

اور فرماتا ہے «وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ» [55-الرحمن:7] ‏ ” آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان رکھ دی۔ “

پس یہاں فرمان ہے یہ اس لیے کہ لوگ حق و عدل پر قائم ہو جائیں، یعنی اتباع رسول کرنے لگیں امر رسول بجا لائیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تمام باتوں کو حق سمجھیں کیونکہ اس کے سوا حق کسی اور کا کلام نہیں۔

جیسے فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [6-الانعام:115] ‏ ” تیرے رب کا کلمہ جو اپنی خبروں میں سچا اور اپنے احکام میں عدل والا ہے پورا ہو چکا۔“ یہی وجہ ہے کہ جب ایماندار جنتوں میں پہنچ جائیں گے اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائیں گے تو کہیں گے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» [7-الأعراف:43] ‏ ” اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی اگر اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم اس راہ نہیں لگ سکتے تھے ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔“

پھر فرماتا ہے ” ہم نے منکرین حق کی سرکوبی کے لیے لوہا بنایا ہے۔ “ یعنی اولاً تو کتاب و رسول اور حق سے حجت قائم کی پھر ٹیڑھے دل والوں کی کجی نکالنے کے لیے لوہے کو پیدا کر دیا تاکہ اس کے ہتھیار بنیں اور اللہ دوست حضرات، اللہ کے دشمنوں کے دل کا کانٹا نکال دیں، یہی نمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بالکل عیاں نظر آتا ہے کہ مکہ شریف کے تیرہ سال مشرکین کو سمجھانے، توحید و سنت کی دعوت دینے، ان کے عقائد کی اصلاح کرنے میں گزارے۔ خود اپنے اوپر مصیبتیں جھیلیں لیکن جب یہ حجت ختم ہو گئی تو شرع نے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دی، پھر حکم دیا کہ اب ان مخالفین سے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو روک رکھا ہے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی زندگی دو بھر کر دی ہے ان سے باقاعدہ جنگ کرو، ان کی گردنیں مارو اور ان مخالفین وحی الٰہی سے زمین کو پاک کرو۔

صفحہ نمبر9320

مسند احمد اور ابوداؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں قیامت کے آگے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں، یہاں تک کہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی ہی عبادت کی جائے اور میرا رزق میرے نیزے کے سایہ تلے رکھا گیا ہے اور کمینہ پن اور ذلت ان لوگوں پر ہے جو میرے حکم کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے“ ۔ [سنن ابوداود:4031،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

پس لوہے سے لڑائی کے ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزے، چھریاں، تیز زرہیں وغیرہ اور لوگوں کے لیے اس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے سکے، کدال، پھاوڑے، آرے، کھیتی کے آلات، بننے کے آلات، پکانے کے برتن، توے وغیرہ وغیرہ اور بھی بہت سی ایسی ہی چیزیں جو انسانی زندگی کی ضروریات سے ہیں۔

صفحہ نمبر9321

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”تین چیزیں آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے آئیں نہائی، سنی اور ہتھوڑا۔ [ابن جریر] ‏

پھر فرمایا تاکہ اللہ جان لے کہ ان ہتھیاروں کے اٹھانے سے اللہ رسول کی مدد کرنے کا نیک ارادہ کس کا ہے؟ اللہ قوت و غلبہ والا ہے، اس کے دین کی جو مدد کرے وہ اس کی مدد کرتا ہے، دراصل اپنے دین کو وہی قوی کرتا ہے اس نے جہاد تو صرف اپنے بندوں کی آزمائش کے لیے مقرر فرمایا ہے ورنہ غلبہ و نصرت تو اسی کی طرف سے ہے۔

صفحہ نمبر9322

نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭

نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر ابراہیم علیہ السلام تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے آئے اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے ہوئے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» [29-العنكبوت:27] ‏ یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔

پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا عیسیٰ علیہ السلام تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد کر لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ طریقہ نکالا تھا۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔

صفحہ نمبر9323

پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیئے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے۔ پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی، دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے، ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا، قید بھی کیا، ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا، آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں، اس لیے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں، عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا» [57-الحديد:27] ‏ میں ہے۔ [طبرانی کبیر:10357:ضعیف] ‏

یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33677:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9324

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کر لیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (‏جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر9325

پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجئیے۔ چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ۔

اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں۔ ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سر زمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا۔ تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لیے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ» الخ [57-الحديد:27] ‏ نازل ہوئی۔

پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [57-سورةالحديد:28] ‏، یعنی ” ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (‏یعنی عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (‏یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (‏جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔“ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر9326

ابویعلیٰ میں ہے کہ لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے، جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟ فرمایا: فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور ایسے ہی گھروں میں اب بھی دیکھ لو، ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بہت اچھا“ ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟ فرمایا: خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے، ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ [سنن ابوداود:4904،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9327

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے“ ۔ [مسند احمد:266/3:ضعیف] ‏

ایک شخص ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں، تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے۔ [مسند احمد:82/3:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9328

نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت ٭٭

نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ نوح علیہ السلام کے بعد سے لے کر ابراہیم علیہ السلام تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے آئے اور پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے ہوئے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» [29-العنكبوت:27] ‏ یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔

پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا عیسیٰ علیہ السلام تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔ پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد کر لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ طریقہ نکالا تھا۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔

صفحہ نمبر9323

پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیئے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے۔ پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی، دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی، یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے، ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا، قید بھی کیا، ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا، آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں، اس لیے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں، عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا» [57-الحديد:27] ‏ میں ہے۔ [طبرانی کبیر:10357:ضعیف] ‏

یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33677:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9324

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد توریت و انجیل میں تبدیلیاں کر لیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (‏جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مومنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ نمبر9325

پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجئیے۔ چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ۔

اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں۔ ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سر زمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا۔ تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔ چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لیے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ» الخ [57-الحديد:27] ‏ نازل ہوئی۔

پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [57-سورةالحديد:28] ‏، یعنی ” ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (‏یعنی عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (‏یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (‏جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔“ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر9326

ابویعلیٰ میں ہے کہ لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے، جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟ فرمایا: فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور ایسے ہی گھروں میں اب بھی دیکھ لو، ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بہت اچھا“ ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟ فرمایا: خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے، ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔ [سنن ابوداود:4904،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9327

مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری امت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے“ ۔ [مسند احمد:266/3:ضعیف] ‏

ایک شخص ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں، تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے۔ [مسند احمد:82/3:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9328

مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭

اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“

جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ [صحیح بخاری:97] ‏

سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر] ‏

اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» [8-الانفال:29] ‏ ہے یعنی ” اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔“

صفحہ نمبر9330

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ”ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“

مسند احمد کی حدیث میں ہے تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔ [صحیح بخاری:2268] ‏

صفحہ نمبر9331

صحیح بخاری میں ہے مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ [صحیح بخاری:2271] ‏

پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔

صفحہ نمبر9332

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِئَلَّا يَعْلَمَ» کا معنی «لِیَعْلَمَ» ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لِکَیْ یَعْلَمَ» ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔

غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» [7-الأعراف:12] ‏ میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:109] ‏ میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» [21-الأنبياء:95] ‏ میں۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9333

اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔

میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!

صفحہ نمبر9334

مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭

اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“

جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ [صحیح بخاری:97] ‏

سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر] ‏

اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» [8-الانفال:29] ‏ ہے یعنی ” اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔“

صفحہ نمبر9330

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ”ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“

مسند احمد کی حدیث میں ہے تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔ [صحیح بخاری:2268] ‏

صفحہ نمبر9331

صحیح بخاری میں ہے مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ [صحیح بخاری:2271] ‏

پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔

صفحہ نمبر9332

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِئَلَّا يَعْلَمَ» کا معنی «لِیَعْلَمَ» ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لِکَیْ یَعْلَمَ» ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔

غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» [7-الأعراف:12] ‏ میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [6-الأنعام:109] ‏ میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» [21-الأنبياء:95] ‏ میں۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر9333

اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔

میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!

صفحہ نمبر9334

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com