Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Taghaabun
Tafsir Ibn Kathir · Mutual Disillusion · 18 ayat · Quran text →
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
تفسیر سورۃ التغابن:
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔
اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
صفحہ نمبر9537
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے “۔
اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
صفحہ نمبر9541
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے “۔
اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
صفحہ نمبر9541
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
صفحہ نمبر9543
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
صفحہ نمبر9547
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں ۔ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ ۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ” امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی “۔
پھر فرمان ہے کہ ” اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں “، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ” چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو “۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ” مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے “۔
صفحہ نمبر9548
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے “۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا “۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو “۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
صفحہ نمبر9551
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [64-التغابن:14] ، یعنی ” اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ” بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے “۔
صفحہ نمبر9552
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ ۔ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]
بزاز میں ہے اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے ۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]
طبرانی میں ہے تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ ۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
صفحہ نمبر9553
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے “۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا “۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو “۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
صفحہ نمبر9551
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [64-التغابن:14] ، یعنی ” اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو “۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ” بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے “۔
صفحہ نمبر9552
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ ۔ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]
بزاز میں ہے اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے ۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]
طبرانی میں ہے تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ ۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
صفحہ نمبر9553
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ” اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو “۔
بخاری و مسلم میں ہے جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ ۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے “، لیکن اب فرما دیا کہ ” اپنی طاقت کے مطابق “۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
صفحہ نمبر9555
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے “۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ” جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے “۔
صفحہ نمبر9556
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ “ ۔ [صحیح مسلم:758]
پس فرماتا ہے ” وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا “، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرۃ:245] ” کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا “۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر9557