John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah At-Talaaq

Tafsir Ibn Kathir · Divorce · 12 ayat · Quran text →

طلاق کے مسائل ٭٭

اولاً تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ” ان سے رجوع کر لو، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24244:ضعیف و مرسل] ‏ یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔

صفحہ نمبر9560

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اسے چاہیئے کہ رجوع کر لے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے، پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں“، یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ۔ [صحیح بخاری:4908] ‏ یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔

عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [65-الطلاق:1] ‏ [صحیح مسلم:1471] ‏

دوسری روایت میں «‏فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔

صفحہ نمبر9561

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «عدت» سے مراد طہر ہے۔‏“ «قرء» سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو، جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں، یہیں سے باسمجھ علماء نے احکام طلاق لیے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں طلاق سنت اور طلاق بدعت۔

طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟ طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9562

عدت کی حفاظت کرو ٭٭

پھر فرمان ہے ” عدت کی حفاظت کرو اور اس بارے میں اپنے ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو “۔ عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔

«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔

صفحہ نمبر9563

عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو، دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارا کرنے لگیں، نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے۔

اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔

ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔‏“

مسلم میں ہے نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ ۔ [صحیح مسلم:1480] ‏

صفحہ نمبر9564

مسند احمد میں ہے کہ ان کے خاوند کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا، انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی، ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ، انہوں نے کہا: نہیں! جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا، آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نان نفقہ، گھربار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو ۔ پھر فرمایا: ”وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے“ ۔ [مسند احمد:373/6:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ ۔ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9565

عائلی قوانین ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ “۔ (‏یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔

پھر فرمایا ہے ” اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو “۔

ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔‏“ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے ” گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں “۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو “۔

صفحہ نمبر9566

مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ ۔ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «‏إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» [16-النحل:90] ‏ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» [65-الطلاق:2] ‏، میں ہے۔‏“

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔‏“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔‏“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔‏“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔‏“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔‏“

آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ” متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287] ‏

صفحہ نمبر9567

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل] ‏

صفحہ نمبر9568

جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ [طبرانی صغیر:321:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9569

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد ۔ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» [13-الرعد:8] ‏ ” ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے “۔

صفحہ نمبر9570

عائلی قوانین ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ “۔ (‏یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔

پھر فرمایا ہے ” اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو “۔

ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔‏“ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے ” گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں “۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو “۔

صفحہ نمبر9566

مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ ۔ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «‏إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» [16-النحل:90] ‏ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» [65-الطلاق:2] ‏، میں ہے۔‏“

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔‏“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔‏“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔‏“

ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔‏“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔‏“

آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ” متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287] ‏

صفحہ نمبر9567

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل] ‏

صفحہ نمبر9568

جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ [طبرانی صغیر:321:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9569

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد ۔ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» [13-الرعد:8] ‏ ” ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے “۔

صفحہ نمبر9570

مسائل عدت ٭٭

جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» [2-البقرة:234] ‏ ” تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (‏دن) عدت میں رکھیں “۔

اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔

صفحہ نمبر9572

دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔‏“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف] ‏

پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ” وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے “، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔

ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔‏“

صفحہ نمبر9573

صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4909] ‏ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر9574

عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ ۔ [صحیح بخاری:3991] ‏

صفحہ نمبر9575

صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ” حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے “۔ [صحیح بخاری:4910] ‏

ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔

صفحہ نمبر9576

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔

پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے “۔

صفحہ نمبر9577

مسائل عدت ٭٭

جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» [2-البقرة:234] ‏ ” تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (‏دن) عدت میں رکھیں “۔

اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔

صفحہ نمبر9572

دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔‏“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری ۔ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف] ‏

پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ” وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے “، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔

ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔‏“

صفحہ نمبر9573

صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ ۔ [صحیح بخاری:4909] ‏ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر9574

عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ ۔ [صحیح بخاری:3991] ‏

صفحہ نمبر9575

صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ” حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے “۔ [صحیح بخاری:4910] ‏

ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔

صفحہ نمبر9576

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] ‏ یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔

پھر فرماتا ہے ” اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے “۔

صفحہ نمبر9577

طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔

یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔

صفحہ نمبر9579

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے “۔

اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ” رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے “۔

پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔

صفحہ نمبر9580

پھر فرماتا ہے کہ ” جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے “۔

ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ” تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے “، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» [2-البقرۃ:233] ‏ یعنی ” بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو “۔

پھر فرماتا ہے ” اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے “۔

صفحہ نمبر9581

پھر فرماتا ہے کہ ” بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا “۔

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“

جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔‏“

طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ [طبرانی:3439:ضعیف] ‏

جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:6] ‏ ” بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے “۔

صفحہ نمبر9582

اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭

مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ [مسند احمد:421/2:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔‏“ [مسند احمد:513/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9583

طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے “۔

یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔

صفحہ نمبر9579

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے “۔

اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ” رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے “۔

پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔

صفحہ نمبر9580

پھر فرماتا ہے کہ ” جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے “۔

ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ” تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے “، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» [2-البقرۃ:233] ‏ یعنی ” بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو “۔

پھر فرماتا ہے ” اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے “۔

صفحہ نمبر9581

پھر فرماتا ہے کہ ” بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا “۔

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“

جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔‏“

طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ [طبرانی:3439:ضعیف] ‏

جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [94-الشرح:6] ‏ ” بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے “۔

صفحہ نمبر9582

اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭

مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ [مسند احمد:421/2:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔‏“ [مسند احمد:513/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9583

شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔

«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏ [15-الحجر:9] ‏، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔

پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ‏ ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ‏، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔

چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [42-الشوریٰ:52] ‏ یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔

پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9585

شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔

«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏ [15-الحجر:9] ‏، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔

پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ‏ ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ‏، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔

چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [42-الشوریٰ:52] ‏ یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔

پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9585

شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔

«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏ [15-الحجر:9] ‏، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔

پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ‏ ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ‏، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔

چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [42-الشوریٰ:52] ‏ یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔

پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9585

شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔

«ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏ [15-الحجر:9] ‏، ” ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔

پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ” وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں “، جیسے اور جگہ «‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [14-ابراھیم:1] ‏ ” اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے “۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» [2-البقرة:257] ‏، ” اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے “، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔

چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [42-الشوریٰ:52] ‏ یعنی ” ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے “۔

پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9585

حیرت، افزا شان ذوالجلال ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے، تو فرمایا کہ ” ساتوں آسمانوں کا خلاق اللہ تعالیٰ ہے “، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «‏أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا» [71-نوح:15] ‏ ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ساتوں آسمانوں کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے؟ “

اور جگہ ارشاد ہے «‏تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» [17-الاسراء:44] ‏ یعنی ” ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے ” اسی کے مثال زمینیں ہیں “۔

جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے جو شخص ظلم کر کے کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے لے گا اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3196] ‏

صحیح بخاری میں ہے اسے ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3196] ‏ میں نے اس کی تمام سندیں اور کل الفاظ ابتداء اور انتہا میں زمین کی پیدائش کے ذکر میں بیان کر دیئے ہیں۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»

جن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہفت اقلیم ہے انہوں نے بے فائدہ دوڑ بھاگ کی ہے اور اختلاف بے جا میں پھنس گئے ہیں اور بلا دلیل قرآن حدیث کا صریح خلاف کیا ہے۔ سورۃ الحدید میں آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» [57- الحديد:3] ‏، کی تفسیر میں ساتوں زمینوں کا اور ان کے درمیان کی دوری کا اور ان کی موٹائی کا جو پانچ سو سال کی ہے پورا بیان ہو چکا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

ایک اور حدیث میں بھی ہے ساتوں آسمان اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی لمبے چوڑے بہت بڑے چٹیل میدان میں ایک چھلا پڑا ہو ۔ [البدایة و والنهایة:14/1] ‏

ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”اگر میں اس کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کروں تو اسے نہ مانو گے اور نہ ماننا جھوٹا جاننا ہے۔‏“ اور روایت میں ہے کہ کسی شخص نے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ”میں کیسے باور کر لوں کہ جو میں تجھے بتاؤں گا تو اس کا انکار کرے گا؟“

صفحہ نمبر9589

اور روایت میں مروی ہے کہ ہر زمین میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور اس زمین کی مخلوق کے ہے اور ابن مثنی والی اس روایت میں آیا ہے ہر آسمان میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے ہے۔

بیہقی کی کتاب «الْاَسْمَاءُ والصَّفَات» میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک میں نبی ہے مثل تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آدم ہیں مثل آدم علیہ السلام کے اور نوح ہیں مثل نوح علیہ السلام کے اور ابراہیم ہیں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور عیسیٰ ہیں مثل عیسیٰ علیہ السلام کے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:145/12] ‏

پھر امام بیہقی نے ایک اور روایت بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وارد کی ہے اور فرمایا ہے اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ بالکل شاذ ہے ابوالضحیٰ جو اس کے ایک راوی ہیں میرے علم میں تو ان کی متابعت کوئی نہیں کرتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9590

مخلوق خدا میں غور و خوض ٭٭

ایک مرسل اور بہت ہی منکر روایت ابن ابی الدنیا لائے ہیں جس میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع میں تشریف لائے دیکھا کہ سب کسی غور و فکر میں چپ چاپ ہیں، پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ جواب ملا، اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرمایا: ”ٹھیک ہے مخلوقات پر نظریں دوڑاؤ لیکن کہیں اللہ کی بابت غور و خوض میں نہ پڑ جانا، سنو اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے اس کی سفیدی اس کا نور ہے“ یا فرمایا ”اس کا نور اس کی سفیدی ہے، سورج کا راستہ چالیس دن کا ہے، وہاں اللہ کی ایک مخلوق ہے جس نے ایک آنکھ جھکپنے کے برابر بھی کبھی اس کی نافرمانی نہیں کی“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: پھر شیطان ان سے کہاں ہیں؟ فرمایا: ”انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان پیدا بھی کیا گیا ہے یا نہیں؟“ پوچھا: کیا وہ بھی انسان ہیں؟ فرمایا: ”انہیں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا بھی علم نہیں“ [كتابه التفكر والاعتبار:منکر] ‏

«فالْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطلاق کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔

صفحہ نمبر9591

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com