Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tahrim
Tafsir Ibn Kathir · The Prohibition · 12 ayat · Quran text →
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [سنن نسائی:3411،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34382:مرسل]
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34385:مرسل]
صفحہ نمبر9592
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:34383:مرسل]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟ فرمایا ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور ابتداءً ام ابراہیم قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہوئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی باری والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لیے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ کہہ دیا، اللہ نے بھی اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34397:صحیح]
صفحہ نمبر9593
بیوی یا لونڈی کو حرام کہنے پر کفارہ ٭٭
اسی واقعہ کو دلیل بنا کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ ”جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہیئے“، ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا ”وہ تجھ پر حرام نہیں، سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ میں غلام آزاد کرنا ہے۔“
امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی، اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔“
صفحہ نمبر9594
(۲) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا، لیکن یہ غریب ہے، [مسند بزار:2274] بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔
صفحہ نمبر9595
(۳) صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر کہ زینب بنت بخش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ! کہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت“ ۔ [صحیح بخاری:4912]
امام بخاری اس حدیث کو «کتاب الایمان والندوہ» میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ دونوں عورتوں سے یہاں مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے، کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔ [صحیح بخاری:5267]
پھر فرمایا ہے مغافیر گوند کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر9596
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ ٭٭
صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا، میں نے کہا: خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو۔ [صحیح بخاری:5268]
صفحہ نمبر9597
صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی ۔ [صحیح مسلم:1474] اسی لیے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے تو شہد پیا ہے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی۔
اس روایت میں لفظ «جَرَسَتْ» ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا اور شہد کی مکھیوں کو بھی «جَوَارِسُ» کہتے ہیں اور «جَرْسَ» مدہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «سَمِعْتُ جَرَسَ الطِّيْرِ» جبکہ پرند دانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے «فَيَسْمَعُونَ جَرْشَ طَيْرِ الْجَنَّةِ» پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے ، یہاں بھی عربی میں لفظ «جَرْسَ» ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں شعبہ رحمہ اللہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ «جَرْسَ» کو «جَرْشَ» بڑی «شین» کے ساتھ پڑھا میں نے کہا چھوٹے «سین» سے ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو۔“
الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا، بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9598
طلاق کی جھوٹی افواہ بزبان ٭٭
آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» [66-التحریم:4] الخ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راستہ چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لیے ہوئے پیچھے پیچھے گیا۔ آپ حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین! جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ابن عباس! افسوس“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لیے جواب دیا، اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ والوں پر عموماً ان کی عورتیں حاوی تھیں جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں امیہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے، مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟ یہ نئی بات کیسی؟ اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟ اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا، سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟ جواب ملا کہ سچ ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟ خبردار! آئندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ طلب کرنا، جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔
صفحہ نمبر9599
اب اور سنو میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں، ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے، ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے، عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آوازیں دینے لگے، میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟ اس نے کہا: آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا، میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے کہا: افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا، مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا، صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفصہ کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں، میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟ جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے الگ ہو کر اپنے اس بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔
میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے، میں نے کہا: جاؤ میرے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، میں وہاں سے واپس چلا آیا، مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں؟ پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لیے اجازت طلبب کرو، اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا، میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی۔ میں گیا دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟
صفحہ نمبر9600
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اللہ اکبر! یا رسول اللہ! بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ سنایا اور میرا یہ خبر پا کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں، یہ کہنا کہ کیا انہیں ڈر نہیں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں بیان کیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔
میں نے پھر اپنا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے، میں نے کہا: اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھک (دربار خاص) میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کرے، دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟
یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”اے ابن خطاب! کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دے دی گئیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ کی، یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5191]
صفحہ نمبر9601
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سال بھر اسی امید میں گزر گیا کہ موقعہ ملے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دونوں کے نام دریافت کروں لیکن ہیبت فاروقی سے ہمت نہیں پڑتی تھی یہاں تک کہ حج کی واپسی میں پوچھا پھر پوری حدیث بیان کی جو اوپر گزر چکی ۔ [صحیح بخاری:4931]
صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرح سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی ہو آئے تھے، اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے رباح رضی اللہ عنہ تھا ۔
صفحہ نمبر9602
باب
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ” جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے “۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر9605
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری [صحیح بخاری:4916]
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ [صحیح بخاری:4913]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی ۔ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9606
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ” ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے “، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو ۔ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
صفحہ نمبر9607
باب
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» [66-التحريم:4] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ” جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے “۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
صفحہ نمبر9605
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری [صحیح بخاری:4916]
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ [صحیح بخاری:4913]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [66-التحريم:1] ، نازل ہوئی ۔ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9606
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ” ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے “، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ ۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو ۔ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
صفحہ نمبر9607
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ” اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ “۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ ، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
صفحہ نمبر9609
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» [21-الانبیاء:98] ” تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو “، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ ، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
صفحہ نمبر9610
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ” اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
صفحہ نمبر9611
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ” آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا “۔
پھر ارشاد ہے کہ ” اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے “۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9612
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ” اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ “۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ ، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
صفحہ نمبر9609
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ ”اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔“
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» [21-الانبیاء:98] ” تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو “، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ ، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
صفحہ نمبر9610
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ” اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے “۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
صفحہ نمبر9611
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ” آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا “۔
پھر ارشاد ہے کہ ” اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے “۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9612
خالص توبہ ٭٭
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے“ ۔ [مسند احمد:33/1:صحیح]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں کہا گیا تھا کہ اس امت کے آخری لوگ قیامت کے قریب کیا کیا کام کریں گے؟ ان میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق حرام کر دیا ہے اور جس فعل پر اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے، اسی طرح مرد مرد سے بدفعلی کریں گے جو حرام اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے، ان لوگوں کی نماز بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک کہ یہ «توبتہ النصوح» نہ کریں۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «توبتہ النصوح» کیا ہے؟ فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصور سے گناہ ہو گیا، پھر اس پر نادم ہونا، اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اور پھر اس گناہ کی طرف مائل نہ ہونا۔“
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «توبتہ النصوح» یہ ہے کہ جیسے گناہ کی محبت تھی ویسا ہی بغض دل میں بیٹھ جائے اور جب وہ گناہ یاد آئے اس سے استغفار ہو، جب کوئی شخص توبہ کرنے پر پختگی کر لیتا ہے اور اپنی توبہ پر جما رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام اگلی خطائیں مٹا دیتا ہے، جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کی تمام برائیاں اسلام فنا کر دیتا ہے اور توبہ سے پہلے کی تمام خطائیں توبہ سوخت کر دیتی ہے ۔ [صحیح مسلم:121]
اب رہی یہ بات کہ «توبتہ النصوح» میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ متضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟
صفحہ نمبر9614
پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:6921]
پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے، جب اس کے بعد بھی اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی، تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
لفظ «عَسٰی» گو تمنا، امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔
پھر ارشاد ہے ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا، اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے “، جیسے کہ پہلے سورۃ الحدید کی تفسیر میں گزر چکا، جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھی عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔
صفحہ نمبر9615
بنو کنانہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو سنا ” «الَّلهُمَّ لاَ تُخْزِنِيْ يَوْمَ الْقِيَامَة» میرے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا“ ۔ [مسند احمد:234/4:صحیح]
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھ ہی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی امت کو پہچان لوں گا“ ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی امتیں مخلوط ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے، چمک رہے ہوں گے کسی اور امت میں یہ بات نہ ہو گی دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا“ ۔ [مسند احمد:199/5:ضعیف]
صفحہ نمبر9616
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے “۔
پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ” کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا “۔
یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
صفحہ نمبر9617
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف]
یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“
اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
صفحہ نمبر9618
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے “۔
پھر مثال دے کر سمجھایا کہ ” کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا، خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ علیہم السلام انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا “۔
یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد «خیانت فی الدین» ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
صفحہ نمبر9617
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف]
یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“
اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ”جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]
صفحہ نمبر9618
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی) ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ” اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً» [3-آل عمران:28] الخ ” ایمانداروں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں، جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں، ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لیے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔“
صفحہ نمبر9620
سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا، سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی، فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ علیہ السلام غالب رہے، بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے رب پر ایمان لائی۔
فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو، جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لیے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لیے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں، اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ ”اللہ! جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما“، اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔“ اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ [طبرانی:4379:ضعیف]
صفحہ نمبر9621
پھر دعا کرتی ہیں کہ ”مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ“، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا۔
ان کے ایمان لانے کا واقعہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”فرعون کے داروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا، وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی، اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوں اس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرے باپ کا اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی، فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے، میں اسی کی عبادت کرتی ہوں، فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا: اب تیرے خیالات درست ہوئے؟ وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے، فرعون نے کہا: اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا، انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال، اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا، جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا: اے ماں! خوش ہو جا، تیرے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی۔ انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں، فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔
صفحہ نمبر9622
اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی، فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوشخبری سنی تھی، اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوشخبری سنی اور ایمان لے آئیں، ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔
یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی، اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟ تم اسے کیا جانتے ہو؟ سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا: تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرے سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے، پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیا، اس وقت آسیہ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ”پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا“، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں، ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا، لوگو! تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقیناً اس کا دماغ ٹھکانے نہیں، الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں“ «رضی اللہ عنہا» ۔
صفحہ نمبر9623
مریم علیہا السلام ٭٭
پھر دوسری مثال مریم بنت عمران علیہا السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ ” وہ نہایت پاک دامن تھیں، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل علیہ السلام کی معرفت ان میں روح پھونکی “۔ جبرائیل علیہ السلام کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں، اسی سے حمل رہ گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
پس فرمان ہے کہ ” میں نے اس میں اپنی روح پھونکی “، پھر مریم علیہ السلام کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ وہ ” اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں “۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں“ ۔ [مسند احمد:293/1:صحیح]
صفحہ نمبر9624
صحیح بخاری، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور مریم بنت عمران ہیں اور خدیجہ بنت خویلد ہیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر“ ۔ [صحیح بخاری:3769] ہم نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کے بیان کے موقعہ پر اس حدیث کی سندیں اور الفاظ بیان کر دیئے ہیں۔ «فالحمداللہ»
اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سورت کی آیت کے الفاظ «سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» [66-التحریم:5] کی تفسیر کے موقعہ پر وہ حدیث بھی ہم بیان کر چکے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنتی بیویوں میں ایک آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم بھی ہیں ۔
صفحہ نمبر9625
الحمداللہ سورۃ التحریم کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے اٹھائیسویں پارے «قد سمع اللہ» کی تفسیر ختم ہوئی، پروردگار ہمیں اپنے کلام کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔ باری تعالیٰ تو اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں کر لے «آمین!» ۔
صفحہ نمبر9626