John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah At-Takwir

Tafsir Ibn Kathir · The Overthrowing · 29 ayat · Quran text →

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

تفسیر سورۃ التکویر:

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے۔ وہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یعنی سورج بے نور ہو گا ٭٭

یعنی سورج بے نور ہو گا، جاتا رہے گا، اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورج، چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بے نور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے گا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائے گی۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

اور ایک حدیث میں سورج چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ [مسند ابو یعلی:4116:ضعیف] ‏

صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3200] ‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسے «كِتَابِ بِدْءِ الْخَلْقِ» میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے امام صاحب کی عادت ہے۔

10328

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ قیامت کے دن یہ ہو گا، تو حسن رحمہ اللہ کہنے لگے ان کا کیا گناہ ہے؟ فرمایا ”میں نے حدیث کہی اور تم اس پر باتیں بناتے ہو، سورج کی قیامت والے دن یہ حالت ہو گی ستارے سارے متغیر ہو کر جھڑ جائیں گے جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ یہ بھی گدلے اور بے نور ہو کر بجھ جائیں گے۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی لوگ اپنے بازاروں میں ہوں گے کہ اچانک سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور پھر ناگہاں ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں گے پھر اچانک پہاڑ زمین پر گر پڑیں گے اور زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگے گی اور بے طرح ہلنے لگے گی بس پھر کیا انسان، کیا جنات، کیا جانور اور کیا جنگلی جانور سب آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے، جانور بھی جو انسانوں سے بھاگے پھرتے ہیں انسانوں کے پاس آ جائیں گے لوگوں کو اس قدر بدحواسی اور گھبراہٹ ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال اونٹنیاں جو بیاہنے والیاں ہوں گی ان کی بھی خیر خبر نہ لیں گے۔

جنات کہیں گے کہ ہم جاتے ہیں کہ تحقیق کریں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ سمندروں میں بھی آگ لگ رہی ہے، اسی حال میں ایک دم زمین پھٹنے لگے گی اور آسمان بھی ٹوٹنے لگیں گے، ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمانوں کا یہی حال ہو گا ادھر سے ایک تند ہوا چلے گی جس سے تمام جاندار مر جائیں گے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

10329

ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”سارے ستارے اور جن جن کی اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے سب جہنم میں گرا دیئے جائیں صرف عیسیٰ علیہ السلام اور مریم سلام اللہ علیہا بچ رہیں گے اگر یہ بھی اپنی عبادت سے خوش ہوتے تو یہ بھی جہنم میں داخل کر دئیے جاتے“ ۔ [ابن ابی حاتم:] ‏

پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے اور بے نام و نشان ہو جائیں گے، زمین چٹیل اور ہموار میدان رہ جائے گی، اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی، نہ ان کی کوئی نگرانی کرے گا نہ چرائے چگائے گا، نہ دودھ نکالے گا نہ سواری لے گا۔ «عِشَارُ» جمع ہے «عُشَرَاءُ» کی، جو حاملہ اونٹنی دسویں مہینے میں لگ جائے اسے «عُشَرَاءُ» کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ گھبراہٹ اور بدحواسی بےچینی اور پریشانی اس قدر ہو گی کہ بہتر سے بہتر مال کی بھی پرواہ نہ رہے گی قیامت کی ان بلاؤں نے دل اڑا دیا ہو گا کلیجے منہ کو آئیں گے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور لوگوں کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو گا ہاں ان کے دیکھنے میں یہ ہو گا، اس قول کے قائل «عِشَارُ» کے کئی معنی بیان کرتے ہیں، ایک تو یہ کہتے ہیں اس سے مراد بادل ہیں جو دنیا کی بربادی کی وجہ سے آسمان و زمین کے درمیان پھرتے پھریں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ زمین ہے جس کا عشر دیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد گھر ہیں جو پہلے آباد تھے اب ویران ہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ ان اقوال کو بیان کر کے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ مراد اس سے اونٹنیاں ہیں اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ سلف سے اور ائمہ سے اس کے سوا کچھ وارد ہی نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10330

اور وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، جیسے فرمان ہے «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام:38] ‏ یعنی ” زمین پر چلنے والے کل جانور اور ہوا میں اڑنے والے کل پرند بھی تمہاری طرح گروہ ہیں، ہم نے اپنی کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے “۔

سب جانداروں کا حشر اسی کے پاس ہو گا یہاں تک کہ مکھیاں بھی، ان سب میں اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا، ان جانوروں کا حشر ان کی موت ہی ہے، البتہ جن و انس اللہ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے حساب کتاب ہو گا۔ ربیع بن خثیم نے کہا مراد وحشیوں کے حشر سے ان پر اللہ کا امر آنا ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سن کر فرمایا کہ ”اس سے مراد موت ہے، یہ تمام جانور بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔‏“

خود قرآن میں اور جگہ ہے «وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ» [38-ص:19] ‏ یعنی ” پرند جمع کیے ہوئے “، پس ٹھیک مطلب اس آیت کا بھی یہی ہے کہ ” وحشی جانور جمع کیے جائیں گے “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوچھا: جہنم کہاں ہے؟ اس نے کہا سمندر میں، آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ سچا ہے قرآن کہتا ہے «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ اور فرماتا ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ مغربی ہوائیں بھیجے گا وہ اسے بھڑکا دیں گی اور شعلے مارتی ہوئی آگ بن جائے گا۔‏“ «وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ» [52-الطور:6] ‏ کی تفسیر میں اس کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔

10331

سیدنا معاویہ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”بحر روم میں برکت ہے یہ زمین کے درمیان میں ہے، سب نہریں اس میں گرتی ہیں اور بحر کبیر بھی اس میں پڑتا ہے، اس کے نیچے کنویں ہیں جن کے منہ تانبہ سے بند کیے ہوئے ہیں قیام کے دن وہ سلگ اٹھیں گے۔‏“ یہ اثر عجیب ہے اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔

ہاں ابوداؤد میں ایک حدیث ہے کہ سمندر کا سفر صرف حاجی کریں اور عمرہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے غازی اس لیے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے ۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا بیان بھی سورۃ فاطر کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

«سُجِّرَتْ» کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ خشک کر دیا جائے گا، ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ بہا دیا جائے گا اور ادھر ادھر بہ نکلے گا۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ہر قسم کے لوگ یکجا جمع کر دئیے جائیں گے “۔ جیسے اور جگہ ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:22] ‏ یعنی ” ظالموں کو اور ان کے جوڑوں یعنی ان جیسوں کو جمع کرو “۔

حدیث میں ہے ہر شخص کا اس قوم کے ساتھ حشر کیا جائے گا جو اس جیسے اعمال کرتی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً» * «فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ» * «وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» * «وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ» [56-الواقعة:10-7] ‏ یعنی ” تم تین طرح کے گروہ ہو جاؤ گے کچھ وہ جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ہوں گے کچھ بائیں ہاتھ والے کچھ سبقت کرنے والے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36451:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہر جماعت اپنے جیسوں میں مل جائیگی۔‏“

دوسری روایت میں ہے کہ ”وہ دو شخص جن کے عمل ایک جیسے ہوں وہ یا تو جنت میں ساتھ رہیں گے یا جہنم میں ساتھ جلیں گے۔‏“

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: ”نیک نیکوں کے ساتھ مل جائیں گے اور بد بدوں کے ساتھ آگ میں۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو سب خاموش رہے، آپ نے فرمایا: ”لو میں بتاؤں، آدمی کا جوڑا جنت میں اسی جیسا ہو گا اسی طرح جہنم میں بھی۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”مطلب اس سے یہی ہے کہ تین قسم کے لوگ ہو جائیں گے یعنی «أَصْحَابُ الْمَيْمَنَ»، «اصحاب الشمال» اور «لسَّابِقُینَ» ۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر قسم کے لوگ ایک ساتھ ہوں گے یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی پسند کرتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔

10332

دوسرا قول یہ ہے کہ ”عرش کے پاس سے پانی کا ایک دریا جاری ہو گا جو چالیس سال تک بہتا رہے گا اور بڑی نمایاں چوڑان میں ہو گا، اس سے تمام مرے، سڑے، گلے اگنے لگیں گے اس طرح کے ہو جائیں گے کہ جو انہیں پہچانتا ہو وہ اگر انہیں اب دیکھ لے تو بیک نگاہ پہچان لے پھر روحیں چھوڑی جائیں گی اور ہر روح اپنے جسم میں آ جائے گی یہی معنی ہیں آیت «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ‏ کے یعنی ” روحیں جسموں میں ملا دی جائیں گی “۔

اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ” مومنوں کا جوڑا حوروں سے لگایا جائے گا اور کافروں کا شیطانوں کے ساتھ “۔ [ تذکرہ قرطبی ] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ جمہور کی قراءت یہی ہے اہل جاہلیت لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ یہ کیوں قتل کی گئیں؟ تاکہ ان کے قاتلوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور شرمندگی ہو اور یہ بھی سمجھ لیجئے کہ جب مظلوم سے سوال ہوا تو ظالم کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خود پوچھیں گی کہ انہیں کس بنا پر زندہ درگور کیا گیا؟

اس کے متعلق احادیث سنئے مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو حالت حمل کی مجامعت سے روک دوں لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور فارسی یہ کام کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔‏“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا یعنی بروقت نطفہ کو باہر ڈال دینے کے بارے میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درپردہ زندہ گاڑ دینا ہے اور اسی کا بیان «وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ» [81-التكوير:8] ‏ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:1442:صحیح] ‏

سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سرکار نبوت میں حاضر ہو کر سوال کرتے ہیں کہ ہماری ماں امیر زادی تھیں وہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور بھی نیک کام بہت کچھ کرتی تھیں، لیکن جاہلیت میں ہی مر گئی ہیں تو کیا اس کے یہ نیک کام اسے کچھ نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا کہ اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا ہے کیا وہ بھی اسے کچھ نفع دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ گاڑی ہوئی اور زندہ گاڑنے والی جہنم میں ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلے۔‏“ [مسند احمد:478/3:صحیح] ‏

10333

ابن ابی حاتم میں ہے زندہ دفن کرنے والی اور جسے دفن کیا ہے دونوں جہنم میں ہیں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر کہ جنت میں کون جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، بچے اور زندہ درگور کی ہوئی۔‏“ [مسند احمد:409/5:صحیح] ‏ یہ حدیث مرسل ہے، حسن رحمہ اللہ سے جسے بعض محدثین نے قبولیت کا مرتبہ دیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کے چھوٹی عمر میں مرے ہوئے بچے جنتی ہیں جو انہیں جہنمی کہے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» “ [81-التكوير:8] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏

سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی بچیوں کو زندہ دبا دیا ہے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام والا تو میں ہوں نہیں، البتہ میرے پاس اونٹ ہیں فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک اونٹ اللہ کے نام پر قربان کرو۔‏“ [مسند بزار:2280:حسن] ‏

10334

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیاں اس طرح زندہ دبا دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر چاہے تو یوں کر۔ [ابن مندہ:3/353:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ بارہ تیرہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کے مطابق غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا بہت بہتر میں یہی کروں گا، دوسرے سال وہاں ایک سو اونٹ لے کر آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول! یہ میری قوم کا صدقہ ہے جو اس کے بدلے ہے جو میں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ان اونٹوں کو لے جاتے تھے اور ان کا قیسیہ رکھ چھوڑا تھا ۔ [طبرانی:138/18،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏

پھر ارشاد ہے کہ ” نامہ اعمال بانٹے جائیں گے کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں، اے ابن آدم! تو لکھوا رہا ہے جو لپیٹ کر پھیلا کر تجھے دیا جائے گا دیکھ لے گا کہ کیا لکھوا کے لایا ہے، آسمان گھسیٹ لیا جائے گا اور کھینچ لیا جائے گا اور سمیٹ لیا جائے گا اور برباد ہو جائے گا جہنم بھڑکائی جائے گی، اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں سے اس کی آگ تیز ہو جائے گی، جنت جنتیوں کے پاس آ جائے گی، جب یہ تمام کام ہو چکیں گے اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں کیا کچھ اعمال کیے تھے، وہ سب عمل اس کے سامنے موجود ہوں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا» [3-آل عمران:30] ‏ الخ یعنی ” جس دن ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو پا لے گا نیک ہیں تو سامنے دیکھ لے گا اور بد ہیں تو اس دن وہ آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی “۔

اور جگہ ہے «يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ یعنی ” اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے پچھلے اعمال سے تنبیہہ کی جائے گی “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کو سنتے رہے اور اس کو سنتے ہی فرمایا: ”اگلی تمام باتیں اسی لیے بیان ہوئی تھیں۔‏“

10335

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

ستارے، نیل گائے اور ہرن ٭٭

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا ۔ [صحیح مسلم:456] ‏

یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں، اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے - بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو «خُنَّسِ» کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں «جَوَارِ» کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں «كُُنَّسِ» کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے، یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔

ابراہیم رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس کے معنی پوچھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔‏“ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ”ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے، جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جائے۔‏“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے «أَسْفَلَ» کو اعلیٰ اور اعلی کو «أَسْفَلَ» کا ضامن بنایا۔‏“

10349

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس میں سے کسی کی تعیین نہیں کی اور فرمایا ہے ”ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے، نیل گائے اور ہرن۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/467] ‏

«عَسْعَسَ» کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ ”وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں؟“ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے۔

شاعروں نے «عَسْعَسَ» کو «أَدْبَرَ» کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ‏ [92-الليل:2،1] ‏

اور جگہ ہے «وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ» [93-الضحى:2،1] ‏

اور جگہ ہے «‏فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6-الأنعام:96] ‏ اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ «واللہ اعلم»

10350

” اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے “۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ ” یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے (‏یعنی جبرائیل علیہ السلام کا)، وہ قوت والے ہیں “۔

جیسے کہ اور جگہ ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» ‏ [53-النجم:6،5] ‏ یعنی ” سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے “۔

وہ نور کے ستر پردوں میں جا سکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے، برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے اور فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں، یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں۔

10351

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

باب

مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔

اس لیے اس کے بعد فرمایا، ” تمہارے ساتھی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے “۔ یہ واقعہ بطحاء کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل علیہ السلام حاصل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے «عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ» [53-النجم:10-5] ‏ یعنی ” انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند و بالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آ گیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی “۔ اس آیت کی تفسیر سورۃ النجم میں گزر چکی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» [53-النجم:16-13] ‏ یعنی ” انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی “۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔

«‏بِضَنِينٍ» کی دوسری قرأت «بِـظَنِـیْنٍ» بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، اور «ضاد» سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قراءتیں مشہور ہیں، اور صحیح ہیں۔

10357

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے، نہ اس کے مطلب کی یہ چیز، نہ اس کے قابل۔

جیسے اور جگہ ہے «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:210-212] ‏ ” نہ اسے لے کر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی محروم اور دور ہے “۔

پھر فرمایا ” تم کہاں جا رہے ہو؟ “ یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ۔‏“ جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو، آپ نے فرمایا ”تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ جانتے رہے ناممکن ہے کہ ایسا بے معنی اور بے نور کلام اللہ کا کلام ہو۔‏“

یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ تم کتاب اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو؟ پھر فرمایا ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے “۔

10358

ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیئے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اس کے سوا دوسرے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے گمراہ ہو جائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔

سورۃ التکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمداللہ»

10359

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com