John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-A'laa

Tafsir Ibn Kathir · The Most High · 19 ayat · Quran text →

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏

مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏

مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74ۧ) 56۔ الواقعة :74) اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آیت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۙ) 87۔ الأعلی :1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت (اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀) 75۔ القیامة :40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20۔ طه :50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد ﷺ ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور ﷺ تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت (وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43۔ الزخرف :77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ ۔ [مسند بزار:2284،ضعیف] ‏

10529

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں ۔ [مسند احمد:81/6،ضعیف] ‏

10530

ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ۔ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ] ‏

10531

پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا ۔ [مسند بزار:2285،ضعیف] ‏

نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» [53-النجم:38] ‏ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔

سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» [53-النجم:42-36] ‏ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔

بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» [87-الأعلى:14] ‏ سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] ‏ تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»

10532

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com