Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ad-Dhuhaa
Tafsir Ibn Kathir · The Morning Hours · 11 ayat · Quran text →
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
تفسیر سورۃ الضحى:
اسماعیل بن قسطنطین اور شبل بن عباد رحمہا اللہ کے سامنے عکرمہ رحمہ اللہ تلاوت قرآن کر رہے تھے جب اس سورت تک پہنچے تو دونوں نے فرمایا کہ اب سے آخر تک ہر سورت کے خاتمہ پر اللہ اکبر کہا کرو۔ ہم نے ابن کثیر کے سامنے پڑھا تو انہوں نے ہمیں یہی فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ ہم سے مجاہد رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی تعلیم تھی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا۔ [مستدرك حاكم:304/3،ضعيف ]
امام القرأت ابوالحسن رحمہ اللہ بھی اسی سنت کے روای ہیں، ابو حاتم رازی اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اس لیے کہ ابوالحسن ضعیف ہیں، ابوحاتم تو ان سے حدیث ہی نہیں لیتے، اسی طرح ابوجعفر عقیلی رحمہ اللہ بھی انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں لیکن شیخ شہاب الدین ابوشامہ شرح شاطبیہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سنا کہ وہ نماز میں اس تکبیر کو کہتے تھے تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا اور سنت کو پہنچ گیا۔ یہ واقعہ تو اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو۔ پھر قاریوں میں اس بات کا بھی اختلاف ہے کہ کس جگہ یہ تکبیر پڑھے اور کس طرح پڑھے، بعض تو یہ کہتے ہیں «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» [ 92-اليل:1] کے خاتمہ پر اور بعض کہتے ہیں «والضحيٰ» کے آخر پر۔ پھر بعض تو کہتے ہیں صرف اللہ اکبر کہے بعض کہتے ہیں «الله اكبر لا اله الله والله اكبر» کہے، بعض قاریوں نے سورۃ والضحیٰ سے ان تکبیروں کے کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جب وحی آنے میں دیر لگی اور کچھ مدت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ اتری پھر جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہی سورت لائے تو خوشی اور فرحت کے باعث آپ نے تکبیر کہی لیکن یہ کسی ایسی اسناد کے ساتھ مروی نہیں جس سے صحت و ضعف کا پتہ چل سکے۔ [قال الشيخ عبدالرزاق مهدي:لا اصل له] شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور مجھے اس کی کوئی سند بھی نہیں ملی۔ «والله اعلم»
باب
صحیح البخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:1124]
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَى» سے «وَمَا قَلَى» تک کی آیتیں اتاریں ۔ [صحیح مسلم:1797]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُع دَمِيتِ وَفِي سَبِيل اللَّه مَا لَقِيت؟» یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔“ طبعیت کچھ ناساز ہو جانے کی وجہ سے دو تین رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے جس پر اس عورت نے وہ ناشائستہ الفاظ نکالے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ [صحیح بخاری:6146] کہا گیا ہے کہ یہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی اس پر اللہ کی مار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کا زخمی ہونا، اور اس موزوں کلام کا بےساختہ زبان مبارک سے ادا ہونا تو بخاری و مسلم میں بھی ثابت ہے۔ لیکن ترک قیام کا سبب اسے بتانا اور اس پر ان آیتوں کا نازل ہونا یہ غریب ہے۔
10686
ابن جریر میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ کا رب آپ سے کہیں ناراض نہ ہو گیا ہو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37512:مرسل]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اس پر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ سبب بیان کیا اور اس پر یہ آیتیں اتریں ، یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام تو اس میں محفوظ نہیں معلوم ہوتا ہاں یہ ممکن ہے کہ ام المومنین نے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن اسحاق اور بعض سلف رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے تھے اور بہت ہی قریب ہو گئے تھے اس وقت اسی سورت کی وحی نازل فرمائی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وحی کے رک جانے کی بنا پر مشرکین کے اس ناپاک قول کی تردید میں یہ آیتیں اتریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دھوپ پڑنے کے وقت، دن کی روشنی، اور رات کے سکون اور اندھیرے کی قسم کھائی جو قدرت اور خلق خالق کی صاف دلیل ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:2-1] اور جگہ ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ، مطلب یہ ہے کہ اپنی اس قدرت کا یہاں بھی بیان کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا، نہ تجھ سے دشمنی کی، تیرے لیے آخرت اس دنیا سے بہت بہتر ہے “۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ تارک دنیا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔
10687
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بورئیے پر سوئے، جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑ گئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں آپ کی کروٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ اس بورئیے پر کچھ بچھا دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا واسطہ؟ میں کہاں، دنیا کہاں؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس راہرو سوار کی طرح ہے جو کسی درخت تلے ذرا سی دیر ٹھہر جائے پھر اسے چھوڑ کر چل دے“ ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ [سنن ترمذي:2377،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” تیرا رب تجھے آخرت میں تیری امت کے بارے میں اس قدر نعمتیں دے گا کہ تو خوش ہو جائے، ان کی بڑی تکریم ہو گی اور آپ کو خاص کر کے حوض کوثر عطا فرمایا جائے گا۔ جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے ہوں گے جس کی مٹی خالص مشک کی ہو گی “۔ یہ حدیثیں عنقریب آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
10688
ایک روایت میں ہے کہ جو خزانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملنے والے تھے وہ ایک ایک کر کے آپ کو بتا دئیے گئے۔ آپ بہت خوش ہوئے اس پر یہ آیت اتری۔ جب ایک ہزار محل آپ کو دئیے گئے ہر ہر محل میں پاک بیویاں اور بہترین غلام ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37513] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے اور بہ ظاہر ایسی بات بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے روایت نہیں ہو سکتی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد شفاعت ہے۔
10689
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697
باب
ابن ابی شیبہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت دنیا پر پسند کر لی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» کی تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی شیبہ377/7:ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا بچاؤ کیا۔ اور آپ کی حفاظت کی اور پرورش کی اور مقام و مرتبہ عنایت فرمایا۔ آپ کے والد کا انتقال تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی ہو چکا تھا بعض کہتے ہیں ولادت کے بعد ہوا چھ سال کی عمر میں والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دادا کی کفالت میں تھے لیکن جب آٹھ سال کی آپ کی عمر ہوئی تو دادا کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اب آپ اپنے چچا ابوطالب کی پرورش میں آئے، ابوطالب دل و جان سے آپ کی نگرانی اور امداد میں رہے۔ آپ کی پوری عزت و توقیر کرتے اور قوم کی مخالفت کے چڑھتے طوفان کو روکتے رہتے تھے اور اپنی جان کو بطور ڈھال کے پیش کر دیا کرتے تھے۔
کیونکہ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی اور قریش سخت تر مخالفت بلکہ دشمن جان ہو گئے تھے ابوطالب باوجود بت پرست مشرک ہونے کے آپ کا ساتھ دیتا تھا۔ اور مخالفین سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا۔ یہ تھی منجانب اللہ حسن تدبیر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کے ایام اسی طرح گزرے اور مخالفین سے آپ کی خدمت اس طرح لی، یہاں تک کہ ہجرت سے کچھ پہلے ابوطالب بھی فوت ہو گئے۔
اب سفہاء و جہلا قریش اٹھ کھڑے ہوئے تو پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کرنے کی رخصت عطا فرمائی اور اوس و خزرج جیسی قوموں کو آپ کا انصار بنا دیا۔ ان بزرگوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جگہ دی۔ مدد کی، حفاظت کی اور مخالفین سے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار لڑائیاں کیں۔ اللہ ان سب سے خوش رہے۔ یہ سب کا سب اللہ کی حفاظت اور اس کی عنایت احسان اور اکرام سے تھا۔
پھر فرمایا کہ ” راہ بھولا پا کر صحیح راستہ دکھا دیا “۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ» [42-الشورى:52] الخ، یعنی ” اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح کی وحی کی۔ تم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ تمہیں نہ کتاب کی خبر تھی بلکہ ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا ہدایت کر دی “۔
بعض کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں مکہ کی گلیوں میں گم ہو گئے تھے اس وقت اللہ نے لوٹا دیا۔ بعض کہتے ہیں شام کی طرف اپنے چچا کے ساتھ جاتے ہوئے رات کو شیطان نے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر راہ سے ہٹا کر جنگل میں ڈال دیا۔ پس جبرائیل علیہ السلام آئے اور پھونک مار کر شیطان کو تو حبشہ میں ڈال دیا اور سواری کو راہ لگا دیا۔ بغوی نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” بال بچوں والے ہوتے ہوئے تنگ دست پا کر ہم نے آپ کو غنی کر دیا “، پس فقیر صابر اور غنی شاکر ہونے کے درجات آپ کو مل گئے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
10694
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سب حال نبوت سے پہلے کے ہیں۔“ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تونگری مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ حقیقی تونگری وہ ہے جس کا دل بے پرواہ ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6446]
صحیح مسلم شریف میں ہے اس نے فلاح پا لی جسے اسلام نصیب ہوا اور جو کافی ہوا، اتنا رزق بھی ملا اللہ کے دئیے ہوئے پر قناعت کی توفیق بھی ملی ۔ [صحیح مسلم:1054]
پھر فرماتا ہے کہ ” یتیم کو حقیر جان کر نہ ڈانٹ ڈپٹ کر بلکہ اس کے ساتھ احسان و سلوک کر اور اپنی یتیمی کو نہ بھول “۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یتیم کے لیے ایسا ہو جانا چاہیئے جیسے سگا باپ اولاد پر مہربان ہوتا ہے۔“
” سائل کو نہ جھڑک جس طرح تم بے راہ تھے اور اللہ نے ہدایت دی تو اب جو تم سے علمی باتیں پوچھے صحیح راستہ دریافت کرے تو تم اسے ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، غریب مسکین ضعیف بندوں پر تکبر تجبر نہ کرو، انہیں ڈانٹو ڈپٹو نہیں برا بھلا نہ کہو سخت سست نہ بولو، اگر مسکین کو کچھ نہ دے سکے تو بھی بھلا اچھا جواب دے۔ نرمی اور رحم کا سلوک کر “۔
پھر فرمایا کہ ” اپنے رب کی نعمتیں بیان کرتے رہو “۔ یعنی جس طرح تمہاری فقیری کو ہم نے تونگری سے بدل دیا، تم بھی ہماری ان نعمتوں کو بیان کرتے رہو، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھا «وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِك مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْك قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» یعنی اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے والا، ان کی وجہ سے تیری ثنا بیان کرنے والا، ان کا اقرار کرنے والا کر دے اور ان نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے ۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابونضرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ نعمتوں کی شکر گزاری میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا بیان ہو۔
10695
مسند احمد کی حدیث میں ہے جس نے تھوڑے پر شکر نہ ادا کیا اس نے زیادہ پر بھی شکر نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کی شکر گزاری نہ کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ نعمتوں کا بیان بھی شکر ہے اور ان کا بیان نہ کرنا بھی ناشکری ہے، جماعت کے ساتھ رہنا رحمت کا سبب ہے اور تفرقہ عذاب کا باعث ہے ۔ [مسند احمد:375/4:حسن] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
بخاری و مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ! انصار سارا کا سارا اجر لے گئے۔ فرمایا: ”نہیں جب تک کہ تم ان کے لیے دعا کیا کرو اور ان کی تعریف کرتے رہو“ ۔ [سنن ابوداود:4812،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا جس نے بندوں کا شکر ادا نہ کیا ۔ [سنن ابوداود:4811،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جسے کوئی نعمت ملی اور اس نے اسے بیان کیا تو وہ شکر گزار ہے اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیئے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثناء بیان کرے جس نے ثناء کی وہ شکر گزار ہوا اور جس نے اس نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی ۔ [سنن ابوداود:4814،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10696
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہاں نعمت سے مراد نبوت ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ ”قرآن مراد ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”طلب یہ ہے کہ جو بھلائی کی باتیں آپ کو معلوم ہیں وہ اپنے بھائیوں سے بھی بیان کرو۔“ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ”جو نعمت و کرامت نبوت کی تمہیں ملی ہے اسے بیان کرو، اس کا ذکر کرو اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔“
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والوں میں سے جن پر آپ کو اطمینان ہوتا در پردہ سب سے پہلے پہل دعوت دینی شروع کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی جو آپ نے ادا کی۔
سورۃ الضحیٰ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ کے احسان پر اس کا شکر ہے۔
10697