John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Lail

Tafsir Ibn Kathir · The Night · 21 ayat · Quran text →

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

تفسیر سورۃ اللیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ تو نے «سبح اسم»، «والشمس» اور «والليل» سے امامت کیوں نہ کرائی؟ [سنن نسائی:999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ٭٭

مسند احمد میں ہے علقمہ رحمہ اللہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو علقمہ رحمہ اللہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد رضی اللہ عنہ اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے؟ میں نے کہا «والذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے تھے، سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لئے گئے تھے وہ نہیں؟ [مسند احمد:449/6:صحیح] ‏ یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

10658

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور ساتھی سیدنا ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والا کون ہے؟ لوگوں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ» کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تم نے کس طرح سنا؟ تو کہا وہ «وَالذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھتے تھے کہا میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّكَر وَالْأُنْثَى» پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں۔ [صحیح بخاری:4944] ‏

الغرض سیدنا ابن مسعود اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے، اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا «وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا» [78-النبأ:8] ‏ ” ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے “ اور فرمایا «وَمِنْ كُلّ شَيْء خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ» [51-الذاريات:49] ‏ ” ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں “۔ ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھا کر اب فرماتا ہے کہ ” تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں “۔

پھر فرمایا ہے کہ ” جس نے دیا “ یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا۔

حسنیٰ کے معنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں۔ (‏ضعیف:شیخ عبدالرزاق مہدی فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی دو علتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں زھیر بن محمد راوی اھل شام سے منکر رواتیں بیان کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں ایک راوی مجہول ہے)۔

پھر فرمایا ہے کہ ” ہم آسانی کی راہ آسان کر دیں گے “ یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بے نیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے۔

جیسے فرمایا «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ» [6-الأنعام:110] ‏ الخ، یعنی ” ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے “۔

اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں کہ ” ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے “۔

اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق“، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت؟ فرمایا: ”ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“ ۔ [مسند احمد:6/1:حسن لغیرہ] ‏

10659

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے، اور لکھی ہوئی ہے۔‏“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس پر بھروسہ کر کے بیٹھ کیوں نہ رہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ [صحیح بخاری:4945] ‏

10660

اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1362] ‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما کا گزرا مروی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی تقریباً ً ایسا ہی مروی ہے۔ [مسند احمد:52/2:صحیح] ‏

ابن جریر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2648] ‏

ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ! ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37479:مرسل] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مسند احمد:446/6:حسن لغیرہ] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ! سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر“ یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37456:ضعیف] ‏

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آ کر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرما دیا کہ ”اچھا تم جاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ والے سے ملے اور فرمایا ”تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دیدے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا۔‏“ وہ کہنے لگا اچھا میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

10661

ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‏“

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دیدے۔ لیکن کون دے سکتا ہے؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہو گئے۔ پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئیے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے ”یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:26/6:ضعیف] ‏

10662

ابن جریر میں مروی ہے کہ ”یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد ابوقحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔

تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37457] ‏

«تَرَدَّى» کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

10663

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ٭٭

یعنی ” حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمہ ہے “، یہ بھی معنی ہیں کہ ” جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا “۔

جیسے فرمایا «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» [16-النحل:9] ‏ ” آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے “۔ ” میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے “۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور باربار فرماتے جاتے تھے ”لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں“، باربار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی ۔ [مسند احمد:272/4:حسن] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6561] ‏

10674

مسلم شریف کی حدیث میں ہے ہلکے عذاب والا ہے جہنمی ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا وہ گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا ۔ [صحیح مسلم:213] ‏

اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بدبخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو۔ مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا: ”جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو“ ۔ [مسند احمد:349/2:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں، لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا ۔ [صحیح بخاری:7280] ‏

اور فرمایا ” جہنم سے دوری اسے ہو گی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائے گا “۔

10675

اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بے شک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری امت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے۔

آپ صدیق تھے، پرہیزگار تھے، بزرگ تھے، سخی تھے۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کے ساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہما جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ صدیق رضی اللہ عنہما نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دو باتیں سنائیں تو اس نے کہا کہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا۔ [صحیح بخاری:2731] ‏ پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں؟

اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ ” کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے “۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ ”اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔‏“ [صحیح بخاری:1897] ‏ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ اللیل کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا احسان ہے اور اس کا شکر ہے۔

10676

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com