Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Alaq
Tafsir Ibn Kathir · The Clot · 19 ayat · Quran text →
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
باب
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہیں عبادت میں گزارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں، شروع شروع میں وحی آئی، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا «اقْرَأْ» یعنی پڑھئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔“ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا: پڑھو! میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر دبایا اور تکلیف پہنچائی، پھر چھوڑ دیا اور «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] سے «عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» [96-العلق:5] تک پڑھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کو لیے ہوئے کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اڑھا دو“، چنانچہ کپڑا اڑھا دیا یہاں تک کہ ڈر خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”مجھے اپنی جان جانے کا خوف ہے۔“
10727
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضور آپ خوش ہو جائیے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی باتیں کرتے ہیں، دوسروں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق پر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس آئیں، جاہلیت کے زمانہ میں یہ نصرانی ہو گئے تھے عربی کتاب لکھتے تھے اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھی بہت بڑی عمر کے انتہائی بوڑھے تھے آنکھیں جا چکی تھیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کا واقعہ سنئے۔
ورقہ نے پوچھا بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے سنتے ہی کہا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی اللہ کا بھیجا ہوا آیا کرتا تھا، کاش کہ میں اس وقت جوان ہوتا، کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے سوال کیا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: ہاں، ایک آپ کیا جتنے بھی لوگ آپ کی طرح نبوت سے سرفراز ہو کر آئے ان سب سے دشمنیاں کی گئیں۔ اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا لیکن اس واقعہ کے بعد ورقہ بہت کم زندہ رہے۔
ادھر وحی بھی رک گئی اور اس کے رکنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا قلق تھا کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہار کی چوٹی پر سے اپنے تئیں گرا دینا چاہا لیکن ہر وقت جبرائیل علیہ السلام آ جاتے اور فرما دیتے کہ ”اے محمد آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلق اور رنج و غم جاتا رہتا اور دل میں قدرے اطمینان پیدا ہو جاتا اور آرام سے گھر واپس آ جاتے۔ [صحیح بخاری:4956]
10728
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بروایت زہری مروی ہے۔ [صحیح بخاری:3] اس کی سند میں، اس کے متن میں، اس کے معانی میں جو کچھ بیان کرنا چاہیئے تھا وہ ہم نے اپنی شرح بخاری میں پورے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اگر جی چاہا وہیں دیکھ لیا جائے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس قرآن کریم کی باعتبار نزول کے سب سے پہلی آیتیں یہی ہیں، یہی پہلی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الراحمین نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں دی اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پر کہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتاز نظر آئے علم کبھی تو ذہن میں ہی ہوتا ہے اور کبھی زبان پر ہوتا ہے اور کبھی کتابی صورت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس علم کی تین قسمیں ہوئیں ذہنی، لفظی اور رسمی اور رسمی علم ذہنی اور لفظی کو مستلزم ہے لیکن وہ دونوں اسے مستلزم نہیں اسی لیے فرمایا کہ پڑھ! تیرا رب تو بڑے اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی کو جو وہ نہیں جانتا تھا معلوم کرا دیا۔ ایک اثر میں وارد ہے کہ علم کو لکھ لیا کرو۔ [مستدرک حاکم:106/1:ضعیف جدا]
اور اسی اثر میں ہے کہ جو شخص اپنے علم پر عمل کرے اسے اللہ تعالیٰ اس علم کا بھی وارث کر دیتا ہے جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔ [ابو نعیم15/10-14:لا اصل لہ فی المرفوع]
10729
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
طالب علم اور طالب دنیا ٭٭
فرماتا ہے کہ ” انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اس کے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیئے اور خیال رکھنا چاہیئے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے، خرچ کہاں کیا؟ “
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضا مندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیا کا لالچی سرکشی اور خودپسندی میں بڑھتا رہتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [35-فاطر:28] ۔ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا ۔ [طبرانی کبیر:10388:صحیح]
اس کے بعد کی آیات ابوجہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا۔
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
10734
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
10735
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔
ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔
پس یہ آیتیں «كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ» [96-العلق:6] سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
10736
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743
باب
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482]
پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578]
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔
10743