John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Hud

Tafsir Ibn Kathir · Hud · 123 ayat · ayat 91–120 · Quran text →

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔

مدین والوں پر عذاب الٰہی جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔

مدین والوں پر عذاب الٰہی جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔

مدین والوں پر عذاب الٰہی جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑگئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑگئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑگئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑگئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کرلی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کردیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کرلی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کردیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔

جس طرح ان ظالموں کی ہلاکت ہوئی ان جیسا جو بھی ہوگا اسی نتیجے کو وہ بھی دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ المناک اور بہت سختی والی ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے کر پھر پکڑیں گے۔ وقت ناگہاں دبا لیتا ہے۔ پھر مہلت نہیں ملتی پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے اس دن صرف رسول ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے۔ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ اس آیت کے اترنے پر حضرت عمر ؓ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کرلی گئی ہے یا کسی نئی بنا پر ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہوچکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہوگا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے۔

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے اس دن صرف رسول ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے۔ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ اس آیت کے اترنے پر حضرت عمر ؓ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کرلی گئی ہے یا کسی نئی بنا پر ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہوچکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہوگا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے۔

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہوگا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہوگی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کرچکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہوگی۔ جس دن قیامت آجائے گی۔ کوئی نہ ہوگا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے اس دن صرف رسول ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے۔ مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ اس آیت کے اترنے پر حضرت عمر ؓ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کرلی گئی ہے یا کسی نئی بنا پر ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہوچکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہوگا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے۔

عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے (النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ01208) 6۔ الانعام :128) میں ہے۔ اس استثنا کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔

عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے (النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ01208) 6۔ الانعام :128) میں ہے۔ اس استثنا کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔

انبیاء کے فرماں بردار اور جنت رسولوں کے تابعدار جنت میں رہیں گے۔ جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ زمین و آسمان کی بقا تک ان کی بھی جنت میں بقا رہے گی مگر جو اللہ چاہے یعنی یہ بات بذاتہ واجب نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور اسکے ارادے پر ہے بقول ضحاک و حسن یہ بھی موحد گنہگاروں کے حق میں ہے وہ کچھ مدت جہنم میں گزار کر اس کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے یہ عطیہ ربانی ہے جو ختم نہ ہوگا۔ نہ گھٹے گا یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں ذکر مشیت سے یہ کھٹکا نہ گزرے کہ ہمیشگی نہیں۔ جیسے کہ دوزخیوں کے دوام کے بعد بھی اپنی مشیت اور ارادے کی طرف رجوع کیا ہے۔ سب اس کی حکمت و عدل ہے وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جس کا ارادہ کرے۔ بخاری و مسلم میں ہے موت کو چت کبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا۔ پھر فرما دیا جائے گا کہ اہل جنت تم ہمیشہ رہو گے اور موت نہیں اور جہنم والوں تمہارے لیے ہمیشگی ہے موت نہیں۔

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

مشرکوں کا حشر مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے ؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کا عاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ ؑ کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کردیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔ چونکہ ہم وقت مقرر کرچکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آجاتا ہے۔ کافروں کو اللہ اور اس کے رسول کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرآۃ کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

استقامت کی ہدایت استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پروردگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے ؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔

استقامت کی ہدایت استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔ پروردگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضامندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے ؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔

اوقات نماز کی نشاندہی ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔ قتادہ ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز بقول مجاہد وغیرہ مغرب و عشاء کی۔ نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سنن میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جس مسلمان سے کئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ مسند میں ہے کہ آپ ﷺ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، " بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا "؟ لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے "۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے " مسند احمد میں ہے " ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے۔ بخاری میں ہے کہ کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر حضرت ﷺ سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے ؟ آپ نے جواب دیا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے کہا میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کرلوں گا "۔ حضور ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ آنحضرت ﷺ برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا۔ اسے واپس بلا لاؤ۔ جب وہ آگیا تو آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت معاذ نے دریافت کیا کہ " کیا یہ اسی کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے۔ مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں۔ اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے۔ جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقینا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اسکی زبان مسلمان نہ ہوجائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اسکی ایذاؤں سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا ؟ فرمایا دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جاکر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے "۔ آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ نے فرمایا تم جاؤ حضرت ابوبکر صدیق سے یہ مسئلہ پوچھو۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی یہی سوال کیا پس آپ نے بھی حضرت عمر کی طرف فرمایا پھر وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا ؟ پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا " کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے "؟ تو حضرت عمر نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمر سچے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ حضرت عمر ؓ کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔ لیکن ابو الیسر ؓ کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہوسکا۔ میں نے جا کر حضور ﷺ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا ؟ حضور ﷺ نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت حضرت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے آکر حضور ﷺ سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا تو نے اچھی طرح وضو کیا ؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ حضرت ابو عثمان کا بیان ہے کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ابو عثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا ؟ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو۔ فرمایا اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ پھر فرمایا جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے "۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں برائی اگر کوئی ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو۔ اور حدیث میں ہے " جب تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا یارسول اللہ کیا لا الہ الا اللہ پڑھنا بھی نیکی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے۔ ابو یعلی میں ہے۔ " دن رات کے جس وقت میں کوئی لا الہ الا اللہ پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہوجاتی ہیں۔ اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔ بزار میں ہے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ حضور ﷺ میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا بس یہ ان سب پر غالب رہے گی۔

اوقات نماز کی نشاندہی ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔ قتادہ ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز بقول مجاہد وغیرہ مغرب و عشاء کی۔ نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سنن میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جس مسلمان سے کئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ مسند میں ہے کہ آپ ﷺ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ ﷺ وضو کیا کرتے تھے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، " بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا "؟ لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے "۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے " مسند احمد میں ہے " ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے۔ بخاری میں ہے کہ کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر حضرت ﷺ سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے ؟ آپ نے جواب دیا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے کہا میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کرلوں گا "۔ حضور ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ آنحضرت ﷺ برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا۔ اسے واپس بلا لاؤ۔ جب وہ آگیا تو آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت معاذ نے دریافت کیا کہ " کیا یہ اسی کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے۔ مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں۔ اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے۔ جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقینا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اسکی زبان مسلمان نہ ہوجائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اسکی ایذاؤں سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا ؟ فرمایا دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جاکر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے "۔ آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ نے فرمایا تم جاؤ حضرت ابوبکر صدیق سے یہ مسئلہ پوچھو۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی یہی سوال کیا پس آپ نے بھی حضرت عمر کی طرف فرمایا پھر وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی آپ نے فرمایا شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا ؟ پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا " کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے "؟ تو حضرت عمر نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمر سچے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ حضرت عمر ؓ کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔ لیکن ابو الیسر ؓ کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہوسکا۔ میں نے جا کر حضور ﷺ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا ؟ حضور ﷺ نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت حضرت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص نے آکر حضور ﷺ سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا تو نے اچھی طرح وضو کیا ؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ حضرت ابو عثمان کا بیان ہے کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ابو عثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا ؟ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو۔ فرمایا اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ پھر فرمایا جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے "۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں برائی اگر کوئی ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو۔ اور حدیث میں ہے " جب تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کرلیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا یارسول اللہ کیا لا الہ الا اللہ پڑھنا بھی نیکی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے۔ ابو یعلی میں ہے۔ " دن رات کے جس وقت میں کوئی لا الہ الا اللہ پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہوجاتی ہیں۔ اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔ بزار میں ہے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ حضور ﷺ میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ نے فرمایا کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ نے فرمایا بس یہ ان سب پر غالب رہے گی۔

نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ۔ یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گذشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ01004) 3۔ آل عمران :104) بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔ الخ، ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بیخبر ی میں ان پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں۔

نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ۔ یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گذشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں۔ یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ01004) 3۔ آل عمران :104) بھلائی اور نیکی کی دعوت دینے والی ایک جماعت تم میں ہر وقت موجود رہنی چاہیے۔ الخ، ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بیخبر ی میں ان پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں۔

جس پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہو اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کردے لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری وساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہوجائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چناچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے، صحابہ نہ پوچھا " یا رسول وہ کون لوگ ہیں " ؟ آپ نے جواب دیا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم) بقول عطا مختلفین سے مراد یہودی، نصرانی، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں۔ قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے۔ حضرت طاؤس کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا اس پر ایک شخص نے کہا اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا، غلط ہے اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے جیسے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 56؀) 51۔ الذاریات :56) میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ تیسرا قول ہے کہ رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ مالک اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا۔ اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا۔ تم دونوں پر ہوجاؤ گی۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے۔

جس پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہو اللہ کی قدر کسی کام سے عاجز نہیں۔ وہ چاہے تو سب کو ہی اسلام یا کفر پر جمع کردے لیکن اس کی حکمت ہے جو انسانی رائے ان کے دین و مذاہب جدا جدا برابر جاری وساری ہیں۔ طریقے مختلف، مالی حالات جداگانہ ایک ایک کے ماتحت یہاں مراد دین و مذہب کا اختلاف ہے۔ جن پر اللہ کا رحم ہوجائے وہ رسولوں کی تابعداری رب تعالیٰ کی حکم برداری میں برابر لگے رہتے ہیں۔ اب وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے مطیع ہیں۔ اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ چناچہ مسند و سنن میں حدیث ہے جس کی ہر سند دوسری سند کو تقویت پہنچا رہی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں کے اکہتر گروہ ہوئے۔ نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے، اس امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے، سب جہنمی ہیں سوائے ایک جماعت کے، صحابہ نہ پوچھا " یا رسول وہ کون لوگ ہیں " ؟ آپ نے جواب دیا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں ہو اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم) بقول عطا مختلفین سے مراد یہودی، نصرانی، مجوسی ہیں اور اللہ کے رحم والی جماعت سے مراد یک طرفہ دین اسلام کے مطیع لوگ ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہے گو ان کے وطن اور بدن جدا ہوں اور اہل معصیت فرقت و اختلاف والے ہیں گو ان کے وطن اور بدن ایک ہی جا جمع ہوں۔ قدرتی طور پر ان کی پیدائش ہی اسی لیے ہے شقی و سعید کی ازلی تقسیم ہے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ رحمت حاصل کرنے والی یہ جماعت بالخصوص اسی لیے ہے۔ حضرت طاؤس کے پاس دو شخص اپنا جھگڑا لے کر آئے اور آپس کے اختلاف میں بہت بڑھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جھگڑا اور اختلاف کیا اس پر ایک شخص نے کہا اسی لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا، غلط ہے اس نے اپنے ثبوت میں اسی آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس لیے نہیں پیدا کیا کہ آپس میں اختلاف کریں، بلکہ پیدائش تو جمع کے لیے اور رحمت حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے جیسے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ رحمت کے لیے پیدا کیا ہے نہ کہ عذاب کے لیے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 56؀) 51۔ الذاریات :56) میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ تیسرا قول ہے کہ رحمت اور اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ مالک اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک فرقہ جنتی اور ایک جہنمی۔ انہیں رحمت حاصل کرنے اور انہیں اختلاف میں مصروف رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کا یہ فیصلہ ناطق ہے کہ اس کی مخلوق میں ان دونوں اقسام کے لوگ ہوں گے اور ان دونوں سے جنت دوزخ پر کئے جائیں گے۔ اس کی کامل حکمتوں کو وہی جانتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت دوزخ دونوں میں آپس میں گفتگو ہوئی۔ جنت نے کہا مجھ میں تو صرف ضعیف اور کمزور لوگ ہی داخل ہوتے ہیں اور جہنم نے کہا میں تکبر اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کی گئی ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، جسے میں چاہوں اسے تجھ سے نواز دوں گا۔ اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے جس سے میں چاہوں تیرے عذاب کے ذریعہ اس سے انتقام لوں گا۔ تم دونوں پر ہوجاؤ گی۔ جنت میں تو برابر زیادتی رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا اور اسے اس میں بسائے گا اور جہنم بھی برابر زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس پر اللہ رب العزت اپنا قدم رکھ دے گا تب وہ کہے گی تیری عزت کی قسم اب بس ہے بس ہے۔

ذکر ماضی تمہارے لیے سامان سکون پہلی امتوں کا اپنے نبیوں کو جھٹلانا، نبیوں کا ان کی ایذاؤں پر صبر کرنا۔ آخر اللہ کے عذاب کا آنا، کافروں کا برباد ہونا، نبیوں رسولوں اور مومنوں کا نجات پانا، یہ سب واقعات ہم تجھے سنا رہے ہیں۔ تاکہ تیرے دل کو ہم اور مضبوط کردیں اور تجھے کامل سکون حاصل ہوجائے۔ اس سورت میں بھی حق تجھ پر واضح ہوچکا ہے کہ اس دنیا میں بھی تیرے سامنے سچے واقعات بیان ہوچکے ہیں۔ یہ عبرت ہے کفار کے لیے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے کہ وہ اس سے نفع حاصل کریں۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com