John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ibrahim

Tafsir Ibn Kathir · Abraham · 52 ayat · ayat 31–52 · Quran text →

احسان اور احسن سلوک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ نماز برابر پڑھتے رہیں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت ہے اور زکوٰۃ ضرور دیتے رہیں قرابت داروں کو بھی اور انجان لوگوں کو بھی۔ اقامت سے مراد وقت کی، حد کی، رکوع کی، خشوع کی، سجدے کی حفاظت کرنا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی روزی اس کی راہ میں پوشیدہ اور کھلے طور پر اس کی خوشنودی کے لئے اوروں کو بھی دینی چاہئے تاکہ اس دن نجات ملے جس دن کوئی خریدو فروخت نہ ہوگی نہ کوئی دوستی آشنائی ہوگی۔ کوئی اپنے آپ کو بطور فدیے کے بیچنا بھی چاہے تو بھی ناممکن جیسے فرمان ہے آیت (فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭ هِىَ مَوْلٰىكُمْ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 15؀) 57۔ الحدید :15) یعنی آج تم سے اور کافروں سے کوئی فدیہ اور بدلہ نہ لیا جائے گا۔ وہاں کسی کی دوستی کی وجہ سے کوئی چھوٹے گا نہیں بلکہ وہاں عدل و انصاف ہی ہوگا۔ خلال مصدر ہے۔ امراء لقیس کے شعر میں بھی یہ لفظ ہے۔ دنیا میں لین دین، محبت دوستی کام آجاتی ہے لیکن وہاں یہ چیز اگر اللہ کے لئے نہ ہو تو محض بےسود رہے گی۔ کوئی سودا گری۔ کوئی شناسا وہاں کام نہ آئے گا۔ زمین بھر کر سونا فدیے میں دینا چاہے لیکن رد ہے کسی کی دوستی کسی کی سفارش کافر کو کام نہ دے گی۔ فرمان الہٰی ہے آیت (وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ 48؀) 2۔ البقرة :48) اس دن کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو، جس دن کوئی کسی کو کچھ کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کسی کو کسی کی شفاعت نفع دے گی نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ02504) 2۔ البقرة :254) ایمان دارو جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے، تم اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ بیوپار ہے نہ دوستی نہ شفاعت۔ کافر ہی دراصل ظالم ہیں۔

سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔

سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔

سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔ طلق بن حبیب ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لئے سب حمد و ثنا سزا وار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بےپرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما۔ بزار میں آپ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کرلے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں ؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے جواب ملا کہ داؤد اب تو شکر ادا کرچکا جب کہ تو نے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کرلیا کہ تو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شرک بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہوجاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہوسکتا تیرے احسانات اور انعامات بیشمار ہیں۔

حرمت و عظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔ حضرت اسماعیل کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے آیت (رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35؀ۭ) 14۔ ابراھیم :35) پس اس دعا میں بلد پر لام نہیں ہے، اس لئے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ بلد کو معرف بلام لائے۔ سورة بقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بےزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ ؑ بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کر تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔حضور ﷺ نے حضرت خلیل اللہ کا یہ قول اور حضرت روح اللہ کا قول آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ01108) 5۔ المآئدہ :118) ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو ؟ آپ نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ آپ کو ہم آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے ناراض نہ کریں گے۔

حرمت و عظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔ حضرت اسماعیل کو دودھ پیتا اس کی والدہ کے ساتھ لے کر یہاں آئے تھے تب بھی آپ نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی لیکن اس وقت کے الفاظ یہ تھے آیت (رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35؀ۭ) 14۔ ابراھیم :35) پس اس دعا میں بلد پر لام نہیں ہے، اس لئے کہ یہ دعا شہر کی آبادی سے پہلے کی ہے اور اب چونکہ شہر بس چکا تھا۔ بلد کو معرف بلام لائے۔ سورة بقرہ میں ہم ان چیزوں کو وضاحت و تفصیل کے ساتھ ذکر کر آئے ہیں۔ پھر دوسری دعا میں اپنی اولاد کو بھی شریک کیا۔ انسان کو لازم ہے کہ اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ کو اور اولاد کو بھی شامل رکھے۔ پھر آپ نے بتوں کی گمراہی ان کا فتنہ اکثر لوگوں کا بہکا جانا بیان فرما کر ان سے اپنی بےزاری کا اظہار کیا اور انہیں اللہ کے حوالے کیا کہ وہ چاہے بخشے، چاہے سزا دے۔ جیسے روح اللہ ؑ بروز قیامت کہیں گے کیا اگر تو انہیں عذاب کر تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ یاد رہے کہ اس میں صرف اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے کی طرف لوٹنا ہے نہ کہ اس کے واقع ہونے کو جائز سمجھنا ہے۔حضور ﷺ نے حضرت خلیل اللہ کا یہ قول اور حضرت روح اللہ کا قول آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ01108) 5۔ المآئدہ :118) ، تلاوت کر کے رو رو کر اپنی امت کو یاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرمایا کہ جا کر دریافت کرو کہ کیوں رو رہے ہو ؟ آپ نے سبب بیان کیا حکم ہوا کہ جاؤ اور کہہ دو کہ آپ کو ہم آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے ناراض نہ کریں گے۔

دوسری دعا یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ حضرت اسماعیل ؑ کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہوجانے کے بعد کی اسی لئے یہاں بیتک المحرم کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔ ابن جریر رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لئے بنایا ہے کہ یہاں والے باطمینان یہاں نمازیں ادا کرسکیں۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ پڑتے۔ آپ نے صرف مسلمانوں کے لئے یہ دعا کی۔ اور دعا کرتے ہیں کہ انہیں پھل بھی عنایت فرما۔ یہ زمین زراعت کے قابل بھی نہیں اور دعا ہو رہی ہے پھلوں کی زوزی کی اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی جیسے ارشاد ہے آیت (اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 28۔ القصص :57) یعنی کیا ہم نے انہیں حرمت و امن والی ایسی جگہ عنایت نہیں فرمائی ؟ جہاں ہر چیز کے پھل ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جو خاص ہمارے پاس کی روزی ہے۔ پس یہ بھی اللہ کا خاص لطف و کرم عنایت و رحم ہے کہ شہر کی پیداوار کچھ بھی نہیں اور پھل ہر قسم کے وہاں موجود، چاروں طرف سے وہاں چلے آئیں۔ یہ ہے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی دعا کی قبولیت۔

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پھلے کی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہوجائے کہ آپ کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

ہولناک منظر ہوگا کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لئے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اسکی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہوجائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے حضور کی حاضری کیلئے بےتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہوگا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔

ہولناک منظر ہوگا کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لئے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اسکی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہوجائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے حضور کی حاضری کیلئے بےتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہوگا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔

عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ؀) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27؀) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37؀) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔

عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ؀) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27؀) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37؀) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔

عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کرلوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ چناچہ سورة سجدہ کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم 12 ؀) 32۔ السجدة :12) میں ہے کہ کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں۔ یہی بیان آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27؀) 6۔ الانعام :27) اور آیت (وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا 37؀) 35۔ فاطر :37) وغیرہ میں بھی ہے۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو۔ یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کرچکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کردیا ؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چلاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لئے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جگا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لئے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لئے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہوجائے۔ عبداللہ کی قرأت میں کاد مکرہم ہے حضرت علی ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قرأت بھی یہی ہے یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہوگئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے ؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پتہ پانی ہوگیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کردیا۔ حضرت مجاہد ؒ کی قرأت میں لتزول ہے بدلے میں لتزول کے ابن عباس ؓ ان کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر ؒ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الہٰی بھی ہے آیت (ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا) زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلند کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا یہ ہے کہ ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کردینے والا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۙ) 19۔ مریم :90) اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے۔ ضحاک و قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔

انبیاء کی مدد اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں سب سے پہلے میں نے ہی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہی سوال مائی صاحبہ ؓ کا آیت (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67؀) 39۔ الزمر :67) کے متعلق تھا اور آپ نے یہی جواب دیا تھا۔ حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گرپڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا ؟ میں نے کہا بےادب یا رسول اللہ نہیں کہتا ؟ اور آپ کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے آپ نے فرمایا میرے خاندان نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔ یہودی نے کہا سنئے میں آپ سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ نے فرمایا پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا دریافت کرلو اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا مہاجرین فقراء اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی۔ ؟ فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا۔ اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنتی نہر سلسبیل کا پانی۔ یہودی نے کہا آپ کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی آپ نے فرمایا کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا مرد کا خاص پانی سفید رنک کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الہٰی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اور یقینا آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت حضور ﷺ نے مجھے جواب سکھا دیا۔ (مسند احمد) ابن جریر طبری میں ہے کہ یہودی عالم کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا اس وقت مخلوق اللہ کی مہمانی میں ہوگی پس اس کے پاس کی چیز ان سے عاجز نہ ہوگی۔ عمرو بن میمون ؒ کہتے ہیں یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہو کی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہوجائے گا حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایک مرفوع روایت میں ہے کہ سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا۔ اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہودیوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا جانتے ہو میں نے آدمی کیوں بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ ہی کو علم ہے اور اس کے رسول کو آپ نے فرمایا آیت (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48۔) 14۔ ابراھیم :48) کے بارے میں یاد رکھو وہ اس دن چاندی کی طرح سفید ہوگی۔ جب وہ لوگ آئے آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ سفید ہوگی جیسے میدہ۔ اور بھی سلف سے مروی ہے کہ چاندی کی زمین ہوگی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان سونے کا ہوگا۔ ابی فرماتے ہیں وہ باغات بنا ہوا ہوگا۔ محمد بن قیس کہتے ہیں زمین روٹی بن جائے گی کہ مومن اپنے قدموں تلے سے ہی کھا لیں۔ سعید بن جبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ زمین بدل کر روٹی بن جائے گی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آرہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہوگا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہوگا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ کعب ؒ کہتے ہیں آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہوجائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کر کے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نیچ نظر نہ آئے پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی پھر ارشاد ہے کہ تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے سامنے رو برو ہوجائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں۔

انبیاء کی مدد اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں سب سے پہلے میں نے ہی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہی سوال مائی صاحبہ ؓ کا آیت (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67؀) 39۔ الزمر :67) کے متعلق تھا اور آپ نے یہی جواب دیا تھا۔ حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گرپڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا ؟ میں نے کہا بےادب یا رسول اللہ نہیں کہتا ؟ اور آپ کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے آپ نے فرمایا میرے خاندان نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔ یہودی نے کہا سنئے میں آپ سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ نے فرمایا پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ اچھا دریافت کرلو اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا مہاجرین فقراء اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی۔ ؟ فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا۔ اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنتی نہر سلسبیل کا پانی۔ یہودی نے کہا آپ کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی آپ نے فرمایا کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا ؟ اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا مرد کا خاص پانی سفید رنک کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الہٰی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا بیشک آپ سچے ہیں اور یقینا آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت حضور ﷺ نے مجھے جواب سکھا دیا۔ (مسند احمد) ابن جریر طبری میں ہے کہ یہودی عالم کے پہلے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا اس وقت مخلوق اللہ کی مہمانی میں ہوگی پس اس کے پاس کی چیز ان سے عاجز نہ ہوگی۔ عمرو بن میمون ؒ کہتے ہیں یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہو کی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہوجائے گا حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ایک مرفوع روایت میں ہے کہ سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا۔ اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہودیوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا جانتے ہو میں نے آدمی کیوں بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ ہی کو علم ہے اور اس کے رسول کو آپ نے فرمایا آیت (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48۔) 14۔ ابراھیم :48) کے بارے میں یاد رکھو وہ اس دن چاندی کی طرح سفید ہوگی۔ جب وہ لوگ آئے آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ سفید ہوگی جیسے میدہ۔ اور بھی سلف سے مروی ہے کہ چاندی کی زمین ہوگی حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان سونے کا ہوگا۔ ابی فرماتے ہیں وہ باغات بنا ہوا ہوگا۔ محمد بن قیس کہتے ہیں زمین روٹی بن جائے گی کہ مومن اپنے قدموں تلے سے ہی کھا لیں۔ سعید بن جبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ زمین بدل کر روٹی بن جائے گی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آرہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہوگا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہوگا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ کعب ؒ کہتے ہیں آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہوجائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کر کے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نیچ نظر نہ آئے پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی پھر ارشاد ہے کہ تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے سامنے رو برو ہوجائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں۔

جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38؀) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔

جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38؀) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔

جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ) 25۔ الفرقان :13) یعنی جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے۔ حضرت سلیمان ؑ کے جنات کی بابت بھی آیت (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38؀) 38۔ ص :38) کا لفظ ہے۔ اصفاد کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں مصفد زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔ جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ قطران بھی ہے قطران بھی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ پگھلے ہوئے تانبے کو قطران کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔ ان کے منہ بھی آپ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی۔ سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ منہ بگڑ گئے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر۔ نسب میں طعنہ زنی۔ ستاروں سے بارش کی طلبی۔ میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا۔ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہوگا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہوگی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) کے ہو یعنی لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا۔ یہی معنی مجاہد ؒ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا واللہ اعلم۔

تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں ارشاد ہے کہ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے جسے اور آیت میں نبی ﷺ کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ لا نذرکم بہ ومن بلغ یعنی تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے یعنی کل انسان اور تمام جنات جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و عبرت وعظ و پند حاصل کرلیں۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com