Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Hijr
Tafsir Ibn Kathir · The Rock · 99 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
ابلیس لعین کا انکار اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا، لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے واللہ اعلم۔
ابلیس لعین کا انکار اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا، لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے واللہ اعلم۔
ابلیس لعین کا انکار اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت آدم ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کردیا اور کفر و حسد انکار وتکبر فخر و غرور کیا۔ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں ؟ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ ابن جریر نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا، لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے واللہ اعلم۔
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
ابدی لعنت پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
ابلیس کے سیاہ کارنامے ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لئے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آسکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑجاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا۔ اس پر جواب ملا کہ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد جیسے فرمان ہے کہ تیرا رب تاک میں ہے۔ غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ علیٰ کی ایک قرأت علیٰ بھی ہے۔ جسے آیت (وَاِنَّهٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ ۭ) 43۔ الزخرف :4) میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کر کے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی نے تین بار کہا آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں ؟ نبی نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آجاتا ہے ؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتادے تو نبی اللہ نے کہا سن اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ ؑ نے فرمایا اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آجاتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لئے دروازے تقسیم شدہ ہیں۔ حضرت علی ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب نامید ہوگئے ہیں۔ ترمذی میں ہے رسول اللہ ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہوگی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہوگئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بےکینہ ہوجائیں گے۔ چناچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لئے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے۔ اشتر نے حضرت علی ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ کے پاس حضرت طلحہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ نے دیر سے اجازت دی ؟ آپ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ کے پاس حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کردی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر حضرت علی ؓ کے پاس آئے آپ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا، ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں ؟ آپ نے غصے سے فرمایا اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے ؟ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور حضرت علی ؓ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ نے غصے ہو کر جو چیز آپ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو حضرت زبیر ؓ کا قاتل تھا جب دربار علی ؓ میں آیا تو آپ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی۔ اس نے آ کر حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ نے فرمایا تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر ؓ تو انشاء اللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔ حضرت علی ؓ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ کثیر کہتے ہیں میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر سے بری ہوں۔ اس وقت حضرت ابو جعفر نے فرمایا اگر میں ایسا کروں تو یقینا مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابو بکر، عمر عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن الی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود ؓ اجمعین۔ یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہوگی۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں حضرت خدیجہ ؓ کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبہی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے۔ اور آیت میں ہے وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی۔ اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہئے۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو، اس وقت یہ آیتیں اتریں۔ یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے۔ آپ بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے ؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دے دے۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کرلیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔