Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Kahf
Tafsir Ibn Kathir · The Cave · 110 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہوگا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہوگا، یہ باآرام، شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی یہی قول ہیں ار ایک جمع ہے اریکہ کی تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورة فرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے۔
فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر اکڑ انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں، کبھی فنا ہوجائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لئے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی تھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا ؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى 50) 41۔ فصلت :50) اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لئے اور اچھائی ہوگئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ) 19۔ مریم :77) یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو تو کر رہا ہے ہماری آیتوں سے کفر اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بہی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ۔
فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر اکڑ انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں، کبھی فنا ہوجائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لئے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی تھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا ؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى 50) 41۔ فصلت :50) اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لئے اور اچھائی ہوگئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ) 19۔ مریم :77) یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو تو کر رہا ہے ہماری آیتوں سے کفر اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بہی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ۔
فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر اکڑ انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں، کبھی فنا ہوجائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لئے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی تھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا ؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى 50) 41۔ فصلت :50) اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لئے اور اچھائی ہوگئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ) 19۔ مریم :77) یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو تو کر رہا ہے ہماری آیتوں سے کفر اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بہی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ۔
فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر اکڑ انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں، کبھی فنا ہوجائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لئے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی تھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا ؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى 50) 41۔ فصلت :50) اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لئے اور اچھائی ہوگئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ) 19۔ مریم :77) یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو تو کر رہا ہے ہماری آیتوں سے کفر اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بہی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ۔
فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر اکڑ انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں، کبھی فنا ہوجائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لئے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی تھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا ؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى 50) 41۔ فصلت :50) اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لئے اور اچھائی ہوگئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭ) 19۔ مریم :77) یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو تو کر رہا ہے ہماری آیتوں سے کفر اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بہی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کردیا۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہوگیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتادوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورة کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کردیا۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہوگیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتادوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورة کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کردیا۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہوگیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتادوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورة کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کردیا۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہوگیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتادوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورة کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کردیا۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہوگیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتادوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورة کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
کف افسوس اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا طرف رجوع کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آسکتا جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84) 40۔ غافر :84) یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الہٰی ٹھیرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لئے ہے۔ للہ الحق کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ الولایتہ کی صفت ہے جیسے فرمان ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26) 25۔ الفرقان :26) میں ہے بعض لوگ قاف کا کے زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 62) 6۔ الانعام :62) اسی لئے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لئے ہوں ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہتر ہیں
کف افسوس اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا طرف رجوع کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آسکتا جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84) 40۔ غافر :84) یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الہٰی ٹھیرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لئے ہے۔ للہ الحق کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ الولایتہ کی صفت ہے جیسے فرمان ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26) 25۔ الفرقان :26) میں ہے بعض لوگ قاف کا کے زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 62) 6۔ الانعام :62) اسی لئے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لئے ہوں ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہتر ہیں
کف افسوس اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا طرف رجوع کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آسکتا جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84) 40۔ غافر :84) یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الہٰی ٹھیرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل ہوتا ہوں اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے ؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لئے ہے۔ للہ الحق کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ الولایتہ کی صفت ہے جیسے فرمان ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26) 25۔ الفرقان :26) میں ہے بعض لوگ قاف کا کے زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے (ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 62) 6۔ الانعام :62) اسی لئے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لئے ہوں ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہتر ہیں
حیات و موت کا نقشہ دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتا ہے اور ہزارہا پودے لہلہانے لگتے ہیں، تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہوجاتے ہیں، اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر اللہ قادر تھا وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموما دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورة حدید کی آیت (اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ 24) 10۔ یونس :24) میں اور جیسے سورة زمر کی آیت (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ 27) 35۔ فاطر :27) میں۔ جیسے سورة حدید کی آیت (اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20) 57۔ الحدید :20) میں صحیح حدیث میں بھی ہے۔ دنیا سبز رنگ میٹھی ہے الخ پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں جیسے فرمایا ہے آیت (زین للناس حب الشھوات) الخ انسان کے لئے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں بیٹے خزانے وغیرہ مزین کردی گئی ہیں۔ اور آیت میں ہے (اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۭوَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ 15) 64۔ التغابن :15) تمہارے مال تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اور لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور اللہ اکبر اور لا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی عظیم)۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کے غلام فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو موذن پہنچا آپ نے پانی منگوایا ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا، آپ نے وضو کر کے فرمایاحضور ﷺ نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشا تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشا سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں اب اے عثمان ؓ آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا دعا (سبحان اللہ والحمد اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)۔ حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں باقیات صالحات یہ ہیں دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ حضرت سعید بن مسیب ؒ نے اپنے شاگرد عمارہ ؒ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ حضرت ابن عمر ؓ سے سوال ہوا تو آپ نے بجز الحمد للہ کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد ؒ بجز لا حول کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔ حسن ؒ اور قتادۃ ؒ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر ؒ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا (سبحان اللہ والحمد للہ والا لاہ الا اللہ واللہ اکبر) یہ ہیں باقیات صالحات۔ حضور ﷺ باقیات صالحات کی کثرت کرو پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح اور الحمد للہ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ (احمد) سالم بن عبداللہ کے مولی عبداللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم ؒ نے محمد بن کعب قریظی ؒ کے پاس کسی کام کے لئے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم سے کہہ دینا کہ فلان قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں۔ مجھے ان سے کچھ کام ہے چناچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم نے پوچھا کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں ؟ انہوں نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ نے اس میں کب سے بڑھایا ؟ قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو حضرت محمد بن کعب نے فرمایا کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا سنو میں نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے سنا ہے انہوں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر حضرت ابراہیم کو دیکھا، آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے پوچھا یہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا کہ محمد ﷺ ہیں انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ آپ اپنی امت سے فرما دیجئے کہ وہ جنت میں اپنے لئے کچھ باغات لگا لیں اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھیں۔ مسند احمد میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات عشا کی نماز کے بعد حضور ﷺ ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کرلیں ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے پھر آپ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ مسند میں ہے آپ نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بیحد وزنی ہیں لا الہ اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لئے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت شداد بن اوس ؓ ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حسان بن عطیہ کہتے ہیں میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا ؟ آپ نے فرمایا واقعی میں نے غلطی کی سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لئے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا (اللہم انی اسالک الثبات فی الامر والعزیمتہ علی الرشد واسالک شکر نعمتک واسالک حسن عبادتک واسالک قلبا سلیما واسالک لساناصادقا واسالک من خیر ما تعلم واعوذ بک من شر ما تعلم واستغفرک لما تعلم انک انت علام الغیوب) یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔ حضرت سعید بن جنادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا پھر آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا، آپ نے مجھے سورة قل ھو اللہ احد اور سورة اذا زلزلت سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر)۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے وضو کرے کلی کرے پھر سو سو بار سبحان اللہ الحمد للہ اللہ اکبر لا الہ الا اللہ پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ تبارک اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ واستغفر اللہ و صلی اللہ علی رسول اللہ ہے اور روزہ نماز حج صدقہ غلاموں کی آزادی جہاد صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے حضرت عبدالرحمن ؒ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر ؒ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
حیات و موت کا نقشہ دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتا ہے اور ہزارہا پودے لہلہانے لگتے ہیں، تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہوجاتے ہیں، اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر اللہ قادر تھا وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموما دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورة حدید کی آیت (اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ 24) 10۔ یونس :24) میں اور جیسے سورة زمر کی آیت (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ 27) 35۔ فاطر :27) میں۔ جیسے سورة حدید کی آیت (اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20) 57۔ الحدید :20) میں صحیح حدیث میں بھی ہے۔ دنیا سبز رنگ میٹھی ہے الخ پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں جیسے فرمایا ہے آیت (زین للناس حب الشھوات) الخ انسان کے لئے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں بیٹے خزانے وغیرہ مزین کردی گئی ہیں۔ اور آیت میں ہے (اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۭوَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ 15) 64۔ التغابن :15) تمہارے مال تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اور لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور اللہ اکبر اور لا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی عظیم)۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کے غلام فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو موذن پہنچا آپ نے پانی منگوایا ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا، آپ نے وضو کر کے فرمایاحضور ﷺ نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشا تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشا سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں اب اے عثمان ؓ آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا دعا (سبحان اللہ والحمد اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)۔ حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں باقیات صالحات یہ ہیں دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ حضرت سعید بن مسیب ؒ نے اپنے شاگرد عمارہ ؒ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ حضرت ابن عمر ؓ سے سوال ہوا تو آپ نے بجز الحمد للہ کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد ؒ بجز لا حول کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔ حسن ؒ اور قتادۃ ؒ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر ؒ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا (سبحان اللہ والحمد للہ والا لاہ الا اللہ واللہ اکبر) یہ ہیں باقیات صالحات۔ حضور ﷺ باقیات صالحات کی کثرت کرو پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح اور الحمد للہ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ (احمد) سالم بن عبداللہ کے مولی عبداللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم ؒ نے محمد بن کعب قریظی ؒ کے پاس کسی کام کے لئے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم سے کہہ دینا کہ فلان قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں۔ مجھے ان سے کچھ کام ہے چناچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم نے پوچھا کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں ؟ انہوں نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ نے اس میں کب سے بڑھایا ؟ قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو حضرت محمد بن کعب نے فرمایا کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا سنو میں نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے سنا ہے انہوں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر حضرت ابراہیم کو دیکھا، آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے پوچھا یہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا کہ محمد ﷺ ہیں انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ آپ اپنی امت سے فرما دیجئے کہ وہ جنت میں اپنے لئے کچھ باغات لگا لیں اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھیں۔ مسند احمد میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات عشا کی نماز کے بعد حضور ﷺ ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کرلیں ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے پھر آپ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ مسند میں ہے آپ نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بیحد وزنی ہیں لا الہ اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لئے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت شداد بن اوس ؓ ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حسان بن عطیہ کہتے ہیں میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا ؟ آپ نے فرمایا واقعی میں نے غلطی کی سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لئے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا (اللہم انی اسالک الثبات فی الامر والعزیمتہ علی الرشد واسالک شکر نعمتک واسالک حسن عبادتک واسالک قلبا سلیما واسالک لساناصادقا واسالک من خیر ما تعلم واعوذ بک من شر ما تعلم واستغفرک لما تعلم انک انت علام الغیوب) یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔ حضرت سعید بن جنادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا پھر آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا، آپ نے مجھے سورة قل ھو اللہ احد اور سورة اذا زلزلت سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ دعا (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر)۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے وضو کرے کلی کرے پھر سو سو بار سبحان اللہ الحمد للہ اللہ اکبر لا الہ الا اللہ پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ تبارک اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ واستغفر اللہ و صلی اللہ علی رسول اللہ ہے اور روزہ نماز حج صدقہ غلاموں کی آزادی جہاد صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے حضرت عبدالرحمن ؒ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر ؒ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
سب کے سب میدان حشر میں اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہوگا تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہوگی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلیا اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔ نامہ اعمال سامنے کردیئے جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بہی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ ہم سب ادھر ادھر ہوگئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، جرخت، جھاڑ، جھنکاڑ جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ نے فرمایا دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں جو خیر و شر بھلائی برائی جس کسی نے کی ہوگی اسے موجود پائے گا جیسے آیت (يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا 30) 3۔ آل عمران :30) اور آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13ۭ) 75۔ القیامة :13) اور آیت (يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۙ) 86۔ الطارق :9) میں ہے تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہوجائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہی ہر بدعہد کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہوجائے۔ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہوگا اور اعلان ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا نیکیوں کو بڑھاتا ہے گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے عدل کا ترازو اس دن سامنے ہوگا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہوگی، الخ۔ مسند احمد میں ہے حضرت جابر عبداللہ ؓ فرماتے ہیں مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لئے ایک اونٹ خریدا سامان کس کر سفر کیا مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس ؓ ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر دروازے پر ہے انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ ؟ ؓ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہیں، جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ کئے اور مجھے لپٹ گئے معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں اس لئے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کردیا اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آجائے اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بےختنہ، بےسرو سامان پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے فرمائے گا کہ میں مالک ہوں میں بدلے دلوانے والا ہوں کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہوسکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا حضور ﷺ یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، ننگے بدن، بےمال و اسباب ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا اس کے اور بھی بہت شاہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) کی تفسیر میں اور آیت (اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38) 6۔ الانعام :38) کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
سب کے سب میدان حشر میں اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہوگا تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہوگی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلیا اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔ نامہ اعمال سامنے کردیئے جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بہی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ ہم سب ادھر ادھر ہوگئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، جرخت، جھاڑ، جھنکاڑ جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ نے فرمایا دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں جو خیر و شر بھلائی برائی جس کسی نے کی ہوگی اسے موجود پائے گا جیسے آیت (يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا 30) 3۔ آل عمران :30) اور آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13ۭ) 75۔ القیامة :13) اور آیت (يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۙ) 86۔ الطارق :9) میں ہے تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہوجائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہی ہر بدعہد کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہوجائے۔ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہوگا اور اعلان ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا نیکیوں کو بڑھاتا ہے گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے عدل کا ترازو اس دن سامنے ہوگا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہوگی، الخ۔ مسند احمد میں ہے حضرت جابر عبداللہ ؓ فرماتے ہیں مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لئے ایک اونٹ خریدا سامان کس کر سفر کیا مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس ؓ ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر دروازے پر ہے انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ ؟ ؓ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہیں، جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ کئے اور مجھے لپٹ گئے معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں اس لئے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کردیا اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آجائے اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بےختنہ، بےسرو سامان پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے فرمائے گا کہ میں مالک ہوں میں بدلے دلوانے والا ہوں کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہوسکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا حضور ﷺ یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، ننگے بدن، بےمال و اسباب ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا اس کے اور بھی بہت شاہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) کی تفسیر میں اور آیت (اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38) 6۔ الانعام :38) کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
سب کے سب میدان حشر میں اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہوگا تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہوگی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلیا اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔ نامہ اعمال سامنے کردیئے جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بہی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ ہم سب ادھر ادھر ہوگئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، جرخت، جھاڑ، جھنکاڑ جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ نے فرمایا دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں جو خیر و شر بھلائی برائی جس کسی نے کی ہوگی اسے موجود پائے گا جیسے آیت (يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا 30) 3۔ آل عمران :30) اور آیت (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13ۭ) 75۔ القیامة :13) اور آیت (يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۙ) 86۔ الطارق :9) میں ہے تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہوجائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہی ہر بدعہد کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہوجائے۔ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہوگا اور اعلان ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا نیکیوں کو بڑھاتا ہے گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے عدل کا ترازو اس دن سامنے ہوگا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہوگی، الخ۔ مسند احمد میں ہے حضرت جابر عبداللہ ؓ فرماتے ہیں مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لئے ایک اونٹ خریدا سامان کس کر سفر کیا مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس ؓ ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر دروازے پر ہے انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ ؟ ؓ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہیں، جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ کئے اور مجھے لپٹ گئے معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں اس لئے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کردیا اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آجائے اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بےختنہ، بےسرو سامان پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے فرمائے گا کہ میں مالک ہوں میں بدلے دلوانے والا ہوں کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہوسکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا حضور ﷺ یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، ننگے بدن، بےمال و اسباب ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا اس کے اور بھی بہت شاہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) کی تفسیر میں اور آیت (اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38) 6۔ الانعام :38) کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ حضرت آدم ؑ کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے اپنے خالق مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہئے اللہ کے احسان و اکرام اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا پالا پوسا پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے ؟ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تشریف، تعظیم اور تکریم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کردیا اور فاسق بن گیا۔ فرشتوں کی پیدائش نورانی تھی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں ابلیس شعلے مارنے والی آگ سے اور آدم ؑ اس سے جس کا بیان تمہارے سامنے کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز اپنی اصلیت پر آجاتی ہے اور وقت پر برتن میں جو ہو وہی ٹپکتا ہے۔ گو ابلیس فرشتوں کے سے اعمال کر رہا تھا انہی کی مشابہت کرتا تھا اور اللہ کی رضا مندی میں دن رات مشغول تھا، اسی لئے ان کے خطاب میں یہ بھی آگیا لیکن یہ سنتے ہی وہ اپنی اصلیت پر آگیا، تکبر اس کی طبیعت میں سما گیا اور صاف انکار کر بیٹھا اس کی پیدائش ہی آگ سے تھی جیسے اس نے خود کہا کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے۔ ابلیس کبھی بھی فرشتوں میں سے نہ تھا وہ جنات کی اصل ہے جیسے کہ حضرت آدم ؑ انسان کی اصل ہیں۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ جنات ایک قسم تھی فرشتوں کی تیز آگ کے شعلے سے تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابلیس شریف فرشتوں میں سے تھا اور بزرگ قبیلے کا تھا، جنتوں کا داروغہ تھا، آسمان دینا کا بادشاہ تھا، زمین کا بھی سلطان تھا، اس سے کچھ اس کے دل میں گھمنڈ آگیا تھا کہ وہ تمام اہل آسمان سے شریف ہے۔ وہ گھمنڈ ظاہر ہوگیا از روئے تکبر کے صاف انکا ردیا اور کافروں میں جا ملا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ جن تھا یعنی جنت کا خازن تھا جیسے لوگوں کو شہروں کی طرف نسبت کردیتے ہیں اور کہتے ہیں مکی مدنی بصری کوفی۔ یہ جنت کا خازن آسمان دنیا کے کاموں کا مدبر تھا یہاں کے فرشتوں کا رئیس تھا۔ اس معصیت سے پہلے وہ ملائکہ میں داخل تھا لیکن زمین پر رہتا تھا۔ سب فرشتوں سے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا اسی وجہ سے پھول گیا تھا۔ اس کے قبیلے کا نام جن تھا آسمان و زمین کے درمیان آمد و رفت رکھتا تھا۔ رب کی نافرمانی سے غضب میں آگیا اور شیطان رجیم بن گیا اور ملعون ہوگیا۔ پس متکبر شخص سے توبہ کی امید نہیں ہوسکتی ہاں تکبر نہ ہو اور کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے ناامید نہ ہونا چاہئے کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں تھا۔ سلف کے اور بھی اس بارے میں بہت سے آثار مروی ہیں لیکن یہ اکثر بیشتر بنی اسرائیلی ہیں صرف اس لئے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزر جائیں۔ اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کی روایتیں وہ تو قطعا قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن کافی وافی ہے، ہمیں اگلی کتابوں کی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم ان سے محض بےنیاز ہیں۔ اس لئے کہ وہ تبدیل ترمیم کمی بیشی سے خالی نہیں، بہت سی بناوٹی چیزیں ان میں داخل ہوگئی ہیں اور ایسے لوگ ان میں نہیں پائے جاتے جو اعلیٰ درجہ کے حافظ ہوں کہ میل کچیل دور کردیں، کھرا کھوٹا پرکھ لیں، زیادتی اور باطل کے ملانے والوں کی دال نہ گلنے دیں جیسے کہ اللہ رحمن نے اس امت میں اپنے فضل و کرم سے ایسے امام اور علماء اور سادات اور بزرگ اور متقی اور پاکباز اور حفاظ پیدا کئے ہیں جنہوں نے احادیث کو جمع کیا، تحریر کیا۔ صحیح، حسن، ضعیف، منکر، متروک، موضوع سب کو الگ الگ کر دکھایا یا گھڑنے والوں، بنانے والوں، جھوٹ بولنے والوں کو چھانٹ کر الگ کھڑا کردیا تاکہ ختم المرسلین العالمین ﷺ کا پاک اور مبرک کلام محفوظ رہ سکے اور باطل سے بچ سکے اور کسی کا بس نہ چلے کہ آپ کے نام سے جھوٹ کو رواج دے لے اور باطل کو حق میں ملا دے۔ پس ہماری دعا ہے کہ اس کل طبقہ پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و رضا مندی نازل فرمائے اور ان سب سے خوش رہے آمین ! آمین ! اللہ انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے اور یقینا ان سے دوستی نہ کرو اور مجھے چھوڑ کر اس سے تعلق نہ جوڑو۔ ظالموں کو بڑا برا بدلہ ملے گا۔ یہ مقام بھی بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورة یاسین میں قیامت، اس کی ہولناکیوں اور نیک و بد لوگوں کے نتیجوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اے مجرموں تم آج کے دن الگ ہوجاؤ، الخ۔ اللہ کے سوا سب ہی بےاختیار ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا اللہ بنائے ہوئے ہو وہ سب تم جیسے ہی میرے غلام ہیں۔ کسی چیز کی ملکیت انہیں حاصل نہیں۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں میں نے انہیں شامل نہیں رکھا تھا بلکہ اس وقت وہ موجود بھی نہ تھے تمام چیزوں کو صرف میں نے ہی پیدا کیا ہے۔ سب کی تدبیر صرف میرے ہی ہاتھ ہے۔ میرا کوئی شریک، وزیر، مشیر، نظیر، نہیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ 22) 34۔ سبأ :22) ، جن جن کو تم اپنے گمان میں کچھ سمجھ رہے ہو سب کو ہی سوا اللہ کے پکار کر دیکھ لو یاد رکھو انہیں آسمان و زمین میں کسی ایک ذرے کے برابر بھی اختیارات حاصل نہیں نہ ان کا ان میں کوئی ساجھا ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ نہ ان میں سے کوئی شفاعت کرسکتا ہے، جب تک اللہ کی اجازت نہ ہوجائے الخ مجھے یہ لائق نہیں نہ اس کی ضرورت کہ کسی کو خصوصا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو اور مددگار بناؤں۔
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ حضرت آدم ؑ کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے اپنے خالق مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہئے اللہ کے احسان و اکرام اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا پالا پوسا پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے ؟ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تشریف، تعظیم اور تکریم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کردیا اور فاسق بن گیا۔ فرشتوں کی پیدائش نورانی تھی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں ابلیس شعلے مارنے والی آگ سے اور آدم ؑ اس سے جس کا بیان تمہارے سامنے کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز اپنی اصلیت پر آجاتی ہے اور وقت پر برتن میں جو ہو وہی ٹپکتا ہے۔ گو ابلیس فرشتوں کے سے اعمال کر رہا تھا انہی کی مشابہت کرتا تھا اور اللہ کی رضا مندی میں دن رات مشغول تھا، اسی لئے ان کے خطاب میں یہ بھی آگیا لیکن یہ سنتے ہی وہ اپنی اصلیت پر آگیا، تکبر اس کی طبیعت میں سما گیا اور صاف انکار کر بیٹھا اس کی پیدائش ہی آگ سے تھی جیسے اس نے خود کہا کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے۔ ابلیس کبھی بھی فرشتوں میں سے نہ تھا وہ جنات کی اصل ہے جیسے کہ حضرت آدم ؑ انسان کی اصل ہیں۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ جنات ایک قسم تھی فرشتوں کی تیز آگ کے شعلے سے تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابلیس شریف فرشتوں میں سے تھا اور بزرگ قبیلے کا تھا، جنتوں کا داروغہ تھا، آسمان دینا کا بادشاہ تھا، زمین کا بھی سلطان تھا، اس سے کچھ اس کے دل میں گھمنڈ آگیا تھا کہ وہ تمام اہل آسمان سے شریف ہے۔ وہ گھمنڈ ظاہر ہوگیا از روئے تکبر کے صاف انکا ردیا اور کافروں میں جا ملا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ جن تھا یعنی جنت کا خازن تھا جیسے لوگوں کو شہروں کی طرف نسبت کردیتے ہیں اور کہتے ہیں مکی مدنی بصری کوفی۔ یہ جنت کا خازن آسمان دنیا کے کاموں کا مدبر تھا یہاں کے فرشتوں کا رئیس تھا۔ اس معصیت سے پہلے وہ ملائکہ میں داخل تھا لیکن زمین پر رہتا تھا۔ سب فرشتوں سے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا اسی وجہ سے پھول گیا تھا۔ اس کے قبیلے کا نام جن تھا آسمان و زمین کے درمیان آمد و رفت رکھتا تھا۔ رب کی نافرمانی سے غضب میں آگیا اور شیطان رجیم بن گیا اور ملعون ہوگیا۔ پس متکبر شخص سے توبہ کی امید نہیں ہوسکتی ہاں تکبر نہ ہو اور کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے ناامید نہ ہونا چاہئے کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں تھا۔ سلف کے اور بھی اس بارے میں بہت سے آثار مروی ہیں لیکن یہ اکثر بیشتر بنی اسرائیلی ہیں صرف اس لئے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزر جائیں۔ اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کی روایتیں وہ تو قطعا قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن کافی وافی ہے، ہمیں اگلی کتابوں کی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم ان سے محض بےنیاز ہیں۔ اس لئے کہ وہ تبدیل ترمیم کمی بیشی سے خالی نہیں، بہت سی بناوٹی چیزیں ان میں داخل ہوگئی ہیں اور ایسے لوگ ان میں نہیں پائے جاتے جو اعلیٰ درجہ کے حافظ ہوں کہ میل کچیل دور کردیں، کھرا کھوٹا پرکھ لیں، زیادتی اور باطل کے ملانے والوں کی دال نہ گلنے دیں جیسے کہ اللہ رحمن نے اس امت میں اپنے فضل و کرم سے ایسے امام اور علماء اور سادات اور بزرگ اور متقی اور پاکباز اور حفاظ پیدا کئے ہیں جنہوں نے احادیث کو جمع کیا، تحریر کیا۔ صحیح، حسن، ضعیف، منکر، متروک، موضوع سب کو الگ الگ کر دکھایا یا گھڑنے والوں، بنانے والوں، جھوٹ بولنے والوں کو چھانٹ کر الگ کھڑا کردیا تاکہ ختم المرسلین العالمین ﷺ کا پاک اور مبرک کلام محفوظ رہ سکے اور باطل سے بچ سکے اور کسی کا بس نہ چلے کہ آپ کے نام سے جھوٹ کو رواج دے لے اور باطل کو حق میں ملا دے۔ پس ہماری دعا ہے کہ اس کل طبقہ پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و رضا مندی نازل فرمائے اور ان سب سے خوش رہے آمین ! آمین ! اللہ انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے اور یقینا ان سے دوستی نہ کرو اور مجھے چھوڑ کر اس سے تعلق نہ جوڑو۔ ظالموں کو بڑا برا بدلہ ملے گا۔ یہ مقام بھی بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورة یاسین میں قیامت، اس کی ہولناکیوں اور نیک و بد لوگوں کے نتیجوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اے مجرموں تم آج کے دن الگ ہوجاؤ، الخ۔ اللہ کے سوا سب ہی بےاختیار ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا اللہ بنائے ہوئے ہو وہ سب تم جیسے ہی میرے غلام ہیں۔ کسی چیز کی ملکیت انہیں حاصل نہیں۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں میں نے انہیں شامل نہیں رکھا تھا بلکہ اس وقت وہ موجود بھی نہ تھے تمام چیزوں کو صرف میں نے ہی پیدا کیا ہے۔ سب کی تدبیر صرف میرے ہی ہاتھ ہے۔ میرا کوئی شریک، وزیر، مشیر، نظیر، نہیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا (قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ 22) 34۔ سبأ :22) ، جن جن کو تم اپنے گمان میں کچھ سمجھ رہے ہو سب کو ہی سوا اللہ کے پکار کر دیکھ لو یاد رکھو انہیں آسمان و زمین میں کسی ایک ذرے کے برابر بھی اختیارات حاصل نہیں نہ ان کا ان میں کوئی ساجھا ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ نہ ان میں سے کوئی شفاعت کرسکتا ہے، جب تک اللہ کی اجازت نہ ہوجائے الخ مجھے یہ لائق نہیں نہ اس کی ضرورت کہ کسی کو خصوصا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو اور مددگار بناؤں۔
مشرک قیامت کو شرمندہ ہوں گے تمام مشرکوں کو قیامت کے دن شرمندہ کرنے کے لئے سب کے سامنے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو جنہیں تم دنیا میں پکارتے رہے تاکہ وہ تمہیں آج کے دن کی مصیبت سے بچا لیں وہ پکاریں گے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ پائیں گے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ 94) 6۔ الانعام :94) ہم تمہیں اسی طرح تنہا تنہا لائے جیسے کہ ہم نے تمہارے ساتھ ان شریکوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الہٰی ٹھیرائے ہوئے تھے اور جن کی شفاعت کا یقین کئے ہوئے تھے تمہارے اور ان کے درمیان میں تعلقات ٹوٹ گئے اور تمہارے گمان باطل ثابت ہوچکے اور آیت میں ہے (وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ 64) 28۔ القصص :64) کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے الخ اسی مضمون کو آیت ومن اضل سے دو آیتوں تک بیان فرمایا ہے سورة مریم میں ارشاد ہے کہ انہوں نے اپنی عزت کے لئے اللہ کے سوا اور بہت معبود بنا رکھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ تو سب ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔ ان میں اور ان کے معبودان باطل میں ہم آڑ حجاب اور ہلاکت کا گڑھا بنادیں گے تاکہ یہ ان سے اور وہ ان سے نہ مل سکیں۔ نیک راہ اور گمراہ الگ الگ رہیں، جہنم کی یہ وادی انہیں آپس میں ملنے نہ دے گی۔ کہتے ہیں یہ وادی لہو اور پیپ کی ہوگی، ان میں آپس میں اس دن دشمنی ہوجائے گی۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے ہلاکت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کی کوئی وادی بھی ہو یا اور کوئی فاصلے کی وادی ہو، مقصود یہ ہے کہ ان عابدوں کو نہ معبود جواب تک نہ دیں گے نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ کیونکہ ان کے درمیان ہلاکت ہوگی اور ہولناک امور ہوں گے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا ہے مراد یہ ہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں میں ہم آڑ کردیں گے جیسے آیت (وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ 14) 30۔ الروم :14) اور آیت (فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ 43) 30۔ الروم :43) اور آیت (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ 59) 36۔ يس :59) اور آیت (وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ 22) 6۔ الانعام :22) وغیرہ میں ہے۔ یہ گنہگار جہنم دیکھ لیں گے۔ ستر ہزار لگاموں میں وہ جکڑی ہوئی ہوگی ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے دیکھتے ہی سمجھ لیں گے کہ ہمارا قیدخانہ یہی ہے۔ داخلے کے بغیر داخلے سے بھی زیادہ رنج و غم اور مصیبت والم شروع ہوجائے گا۔ عذاب کا یقین عذاب سے پہلے کا عذاب ہم لیکن کوئی چھٹکارے کی راہ نہ پائیں گے کوئی نجات کی صورت نظر نہ آئے گی۔ حدیث میں ہے کہ پانچ ہزار سال تک کافر اسی تھر تھری میں رہے گا کہ جہنم اس کے سامنے اور اس کا کلیجہ قابو سے باہر ہے۔
مشرک قیامت کو شرمندہ ہوں گے تمام مشرکوں کو قیامت کے دن شرمندہ کرنے کے لئے سب کے سامنے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو جنہیں تم دنیا میں پکارتے رہے تاکہ وہ تمہیں آج کے دن کی مصیبت سے بچا لیں وہ پکاریں گے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ پائیں گے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ 94) 6۔ الانعام :94) ہم تمہیں اسی طرح تنہا تنہا لائے جیسے کہ ہم نے تمہارے ساتھ ان شریکوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الہٰی ٹھیرائے ہوئے تھے اور جن کی شفاعت کا یقین کئے ہوئے تھے تمہارے اور ان کے درمیان میں تعلقات ٹوٹ گئے اور تمہارے گمان باطل ثابت ہوچکے اور آیت میں ہے (وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ 64) 28۔ القصص :64) کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے الخ اسی مضمون کو آیت ومن اضل سے دو آیتوں تک بیان فرمایا ہے سورة مریم میں ارشاد ہے کہ انہوں نے اپنی عزت کے لئے اللہ کے سوا اور بہت معبود بنا رکھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ تو سب ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔ ان میں اور ان کے معبودان باطل میں ہم آڑ حجاب اور ہلاکت کا گڑھا بنادیں گے تاکہ یہ ان سے اور وہ ان سے نہ مل سکیں۔ نیک راہ اور گمراہ الگ الگ رہیں، جہنم کی یہ وادی انہیں آپس میں ملنے نہ دے گی۔ کہتے ہیں یہ وادی لہو اور پیپ کی ہوگی، ان میں آپس میں اس دن دشمنی ہوجائے گی۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے ہلاکت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کی کوئی وادی بھی ہو یا اور کوئی فاصلے کی وادی ہو، مقصود یہ ہے کہ ان عابدوں کو نہ معبود جواب تک نہ دیں گے نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ کیونکہ ان کے درمیان ہلاکت ہوگی اور ہولناک امور ہوں گے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا ہے مراد یہ ہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں میں ہم آڑ کردیں گے جیسے آیت (وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ 14) 30۔ الروم :14) اور آیت (فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ 43) 30۔ الروم :43) اور آیت (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ 59) 36۔ يس :59) اور آیت (وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ 22) 6۔ الانعام :22) وغیرہ میں ہے۔ یہ گنہگار جہنم دیکھ لیں گے۔ ستر ہزار لگاموں میں وہ جکڑی ہوئی ہوگی ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے دیکھتے ہی سمجھ لیں گے کہ ہمارا قیدخانہ یہی ہے۔ داخلے کے بغیر داخلے سے بھی زیادہ رنج و غم اور مصیبت والم شروع ہوجائے گا۔ عذاب کا یقین عذاب سے پہلے کا عذاب ہم لیکن کوئی چھٹکارے کی راہ نہ پائیں گے کوئی نجات کی صورت نظر نہ آئے گی۔ حدیث میں ہے کہ پانچ ہزار سال تک کافر اسی تھر تھری میں رہے گا کہ جہنم اس کے سامنے اور اس کا کلیجہ قابو سے باہر ہے۔
ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی۔انسانوں کے لئے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو ؟ اس پر حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
عذاب الہٰی کے منتظر کفار اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اسکی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گرپڑے کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لاسکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا ؟ وغیرہ وغیرہ پس عذاب الہٰی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں۔ رسولوں کا کام تو صرف مومنوں کو بشارتیں دینا اور کافروں کو ڈرا دینا ہے۔ کافر لوگ ناحق کی حجتیں کر کے حق کو اپنی جگہ سے پھسلا دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ چاہت کبھی پوری نہیں ہوگی حق ان کی باطل باتوں سے دبنے والا نہیں۔ یہ میری آیتوں اور ڈراوے کی باتوں کو خالی مذاق سمجھ رہے ہیں اور اپنی بےایمانی میں بڑھ رہے ہیں۔
عذاب الہٰی کے منتظر کفار اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اسکی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گرپڑے کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لاسکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا ؟ وغیرہ وغیرہ پس عذاب الہٰی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں۔ رسولوں کا کام تو صرف مومنوں کو بشارتیں دینا اور کافروں کو ڈرا دینا ہے۔ کافر لوگ ناحق کی حجتیں کر کے حق کو اپنی جگہ سے پھسلا دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ چاہت کبھی پوری نہیں ہوگی حق ان کی باطل باتوں سے دبنے والا نہیں۔ یہ میری آیتوں اور ڈراوے کی باتوں کو خالی مذاق سمجھ رہے ہیں اور اپنی بےایمانی میں بڑھ رہے ہیں۔
بد ترین شخص کون ہے ؟ فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آجائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے حمل گرجائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑگئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آپہنچا اور وہ تباہ برباد ہوگئیں۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
بد ترین شخص کون ہے ؟ فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آجائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے حمل گرجائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑگئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آپہنچا اور وہ تباہ برباد ہوگئیں۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
بد ترین شخص کون ہے ؟ فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آجائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے حمل گرجائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑگئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آپہنچا اور وہ تباہ برباد ہوگئیں۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں جہاں وہ گم ہوجائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لئے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ کے ساتھ حضرت یوشع ؑ کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لئے جست لگائی اور حضرت یوشع کی آنکھ کھل گئی مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہوگیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہوگیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہوگیا جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہوگیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔ محمد بن اسحقاق مرفوعا لائے ہیں کہ حضور ﷺ اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے ارد گرد کے پانی کے یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ ؑ کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے اس نشان کو دیکھتے ہی حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع تھے۔ جیسے فرمان ہے آیت (یخرج منہما اللولو والمرجان) یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھیرے تھے اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔ ابن مسعود ؓ کی قرأت ان اذکر لہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے تو وہ دونوں اپنے راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندون میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ حضرت خضر ؑ ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا کہ حضرت نوف کا خیال ہے کہ خضر ؑ سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ دشمن رب جھوٹا ہے ہم سے ابی بن کعب ؓ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے سنا کہ حضرت موسیٰ ؑ کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہو کہ سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں۔ تو چونکہ آب نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے اس لئے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا، اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے اس پر حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں ؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو اسے توشے دان میں ڈال لو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپ اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون ؑ کو لے کر چلے پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کردو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کردیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے اسی وقت وہاں سے چل پڑے دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح حضرت موسیٰ ؑ کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے تھکان کا نام تک نہ تھا اب اپ نے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لئے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی، چناچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ نے سلام کیا اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں ؟ آپ نے فرمایا میں موسیٰ ہوں انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت خضر ؑ نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔ اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے دریا کے کنارے ایک کشتی تھی ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے انہوں نے خضر ؑ کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لئے دونوں کو سوار کرلیا کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا دیکھا کہ خضر ؑ چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یہ کیا ؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لئے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت حضرت خصر ؑ نے فرمایا دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ ؑ معذرت کرنے لگے کہ خطا ہوگئی بھولے سے پوچھ بیٹھا معاف فرمائیے اور سختی نہ کیئجے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو حضرت خضر ؑ کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر حضرت خضر ؑ نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ گھبرا گئے اور فرمانے لگے بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا ؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا حضرت خضر ؑ نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی اس وقت حضرت خضر ؑ نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے ابنے ساتھ نہ رکھنا یقینا اب آپ معذور ہوگئے، چناچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کردیا، وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت حضرت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کردیا حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا خیال تو فرمائیے ہم یہاں آئے ان لوگوں سے کھانا طلب کیا انہوں نے نہ دیا مہمان نوازی کے خلاف کیا ان کا یہ کام تھا آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ حضرت خضر ؑ نے فرمایا یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کاش کہ حضرت موسیٰ ؑ صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں وکان ورائہم کے بدلے وکان امامہم ہے اور سفینۃ کے بعد صالحتہ کا لفظ بھی ہے اور واما الغلام کے بعد فکان کافرا کے لفظ بھی ہیں۔ اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس حضرت موسیٰ ؑ رک گئے وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا ہے وہ زندہ ہوجاتی تھی۔ اس میں چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے گھر میں ان کے پاس تھا آپ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کرلے میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری اس میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑگئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا اس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو جس جگہ اس میں روح پڑجائے وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہوگئی۔ چناچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے وہاں آپ مجھے خبر کردینا انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔ یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے حضرت موسیٰ ؑ کو نیند آگئی تھی اور حضرت یوشع جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہوگیا تھا اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر حضرت خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے سلام پر آپ نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت خضر ؑ نے فرمایا کہ آپ کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے وحی آسمان سے آرہی ہے کیا یہ بس نہیں ؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا ہاں تیسری بار کا سوال قصدا علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار اسے حضرت خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کردیا ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدو بن بدو ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ یہ نوف کعب ؓ کی بیوی کے لڑکے کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت خضر ؑ نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے ؟ آپ کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں حضرت خضر ؑ کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپنے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھیر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے، چناچہ شرط ہوگئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ حضرت خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بےمثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار حضرت خضر نے اسے پکڑ کر پتھر اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ حضرت موسیٰ خوف اللہ سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بےدردی سے بغیر کسی سبب کے حضرت خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ حضرت موسیٰ ؑ اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خانہ صرف علم تھا۔ اور روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ اور آپ کی قوم مصر پر غالب آگئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الہٰی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کردیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کردیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بیشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں اس پر ایک بنی اسرائیل نے کہا فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے ؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں ؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد حضرت خضر ؑ ہیں پس حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی اسے لے لو، اپنے ساتھی کو سونپ دو ، پھر کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہوجائے وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا حضرت موسیٰ ؑ جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھ سے جو ان کا غلام تھا مچھلی کے بارے میں سوال کیا اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور تجھ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لئے مچھلی جہاں سے گزرتی تھی اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ ابن عباس ؓ اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ ؑ کے یہ صاحب کون تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریبا اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو ؟