Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Hajj
Tafsir Ibn Kathir · The Pilgrimage · 78 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لئے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لئے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہوچکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو، " من " یہاں پر بیان جنس کے لئے ہے۔ اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 33) 7۔ الاعراف :33) یعنی میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کردیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں ؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو فرمایا اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا۔ اسے بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ اب نہ فرماتے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کردی گئی پھر آپ نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا۔ اور روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کی بعد آپ نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ ابن مسعود ؓ کا یہ فرمان بھی مروی ہے اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لوباطل سے ہٹ کر حق کی طرف آجاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرانے والوں میں نہ بنو۔ پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی آسمان سے گرپڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی۔ چناچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورة ابراہیم میں گزر چکی ہے سورة انعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔ الخ۔
قربانی کے جانور اور حجاج اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا (بخاری شریف) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے۔ ابو سعید ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا۔ (سنن) امام ترمذی ؒ اسے صحیح کہتے ہیں۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چت کبرے خصی ذبح کئے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لئے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں (احمد اہل سنن) اسے امام ترمذی ؒ صحیح کہتے ہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے اس کی شرح میں حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں جب کہ آدھایا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں قصما کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عضب کہتے۔ اور حدیث میں لفظ عضب ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں عضب کہتے ہیں۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک ؒ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے واللہ اعلم۔ حضور ﷺ کی حدیث ہے کہ چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہوگیا ہو۔ (احمد اہل سنن) اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔ یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہوجاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لئے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔ ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں اگر قربانی کے لئے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کردینے کے بعد اتفاقا اس میں کوئی ایسی بات آجائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہوجائے تو حضرت امام شافعی ؒ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ ؒ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی ؒ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں حضرت ابو سعید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے قربانی کے لئے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے حضور ﷺ سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم اسی جانور کی قربانی کرسکتے ہو۔ پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہئے جیسے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ آنکھ کان دیکھ لیا کرو۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لئے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ نے منع فرمادیا اور حکم دیا کہ اسی کو فی سبیل اللہ ذبح کرو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ ؓ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔ پھر فرماتا ہے ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لئے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لئے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لئے مقرر کردیا پھر وہ اللہ کی چیز ہوگیا۔ بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے کہا حضور ﷺ میں اسے قربانی کی نیت کا کرچکا ہوں۔ آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہوجایا کرو۔ ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو حضرت علی ؓ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کردے۔ پھر فرماتا ہے ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ 95) 5۔ المآئدہ :95) اور آیت میں (وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ 25) 48۔ الفتح :25) بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہوچکے ہیں فالحمد للہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہوجاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔
قربانی کے جانور اور حجاج اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا (بخاری شریف) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے۔ ابو سعید ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا۔ (سنن) امام ترمذی ؒ اسے صحیح کہتے ہیں۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چت کبرے خصی ذبح کئے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لئے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں (احمد اہل سنن) اسے امام ترمذی ؒ صحیح کہتے ہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے اس کی شرح میں حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں جب کہ آدھایا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں قصما کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عضب کہتے۔ اور حدیث میں لفظ عضب ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں عضب کہتے ہیں۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک ؒ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے واللہ اعلم۔ حضور ﷺ کی حدیث ہے کہ چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہوگیا ہو۔ (احمد اہل سنن) اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔ یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہوجاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لئے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔ ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں اگر قربانی کے لئے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کردینے کے بعد اتفاقا اس میں کوئی ایسی بات آجائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہوجائے تو حضرت امام شافعی ؒ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ ؒ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی ؒ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں حضرت ابو سعید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے قربانی کے لئے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے حضور ﷺ سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم اسی جانور کی قربانی کرسکتے ہو۔ پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہئے جیسے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ آنکھ کان دیکھ لیا کرو۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لئے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ نے منع فرمادیا اور حکم دیا کہ اسی کو فی سبیل اللہ ذبح کرو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ ؓ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔ پھر فرماتا ہے ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لئے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لئے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لئے مقرر کردیا پھر وہ اللہ کی چیز ہوگیا۔ بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے کہا حضور ﷺ میں اسے قربانی کی نیت کا کرچکا ہوں۔ آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہوجایا کرو۔ ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو حضرت علی ؓ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کردے۔ پھر فرماتا ہے ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ 95) 5۔ المآئدہ :95) اور آیت میں (وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ 25) 48۔ الفتح :25) بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہوچکے ہیں فالحمد للہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہوجاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکہ شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔حضور ﷺ کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ دریافت کیا اور " اون " کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی۔ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنادیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کرکے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں واللہ اگر تم نے صبر و برداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کردیئے جاؤگے ولامقیمی کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے والمقیمین پڑھا ہے اور الصلوۃ کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن الصلوۃ کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک واحسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورة براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم کر آئے ہیں
قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکہ شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔حضور ﷺ کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ دریافت کیا اور " اون " کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی۔ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا۔ سب اللہ کی توحید، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ، اس کے ہو کر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں، جو متواضع ہیں، جو تقوے والے ہیں، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنادیں، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم، اور خوف الٰہی سے پر کرکے رب کی طرف جھک جاتے ہیں، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں واللہ اگر تم نے صبر و برداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کردیئے جاؤگے ولامقیمی کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے والمقیمین پڑھا ہے اور الصلوۃ کا زبر پڑھا ہے۔ امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن الصلوۃ کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ فریضہ الٰہی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں، اپنے گھرانے کے لوگوں کو، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک واحسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں۔ سورة براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم کر آئے ہیں
شعائر اللہ کیا ہیں ؟ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕد وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا) 5۔ المآئدہ :2) نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بےادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرو لہذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے۔ وہ بدن میں داخل ہے۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بدن کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے حدیث میں ہے کہ جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہوجائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کرلیں۔ امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ واللہ اعلم پھر فرمایا ان جانوروں میں تمہارا اخروی نفع ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو (ابن ماجہ ترمذی) حضرت سفیان ثوری ؒ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں۔ (دارقطنی) پس اللہ فرماتا تمہارے لئے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہوسکتے ہو پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے عید الضحیٰ کی نماز رسول ﷺ کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جیسے آپ نے دعا (بسم اللہ واللہ اکبر) پڑھ کر ذبح کیا پھر کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں سے جو قربانی نہ کرسکے اس کی طرف سے ہے (احمد داؤد ترمذی) فرماتے ہیں عید والے دن آپ کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کرکے آپ نے دعا (وجہت وجہی للذی فطرالسموت والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلوتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لاشریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین اللہم منک ولک عن محمد وامتہ) پڑھ کر بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کر ڈالا۔ حضرت ابو رافع ؓ فرماتے ہیں کہ قربانی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ دو مینڈھے موٹے موٹے تازے تیار عمدہ بڑے سینگوں والے چتکبرے خریدتے، جب نماز پڑھ کر خطبے سے فراغت پاتے ایک جانور آپ کے پاس لایا جاتا آپ وہیں عیدگاہ میں ہی خود اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرتے اور فرماتے اللہ تعالیٰ یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے جو بھی توحید وسنت کا گواہ ہے پھر دوسرا جانور حاضر کیا جاتا جسے ذبح کر کے فرماتے یہ محمد ﷺ اور آل محمد کی طرف سے ہے پھر دونوں کا گوشت مسکینوں کو بھی دیتے اور آپ اور آپ کے گھر والے بھی کھاتے۔ (احمد ابن ماجہ) صواف کے معنی ابن عباس ؓ نے اونٹ کو تین پیروں پر کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ کر دعا (بسم اللہ واللہ اکبر لا ایہ الا اللہم منک ولک) پڑھ کر اسے نحر کرنے کے کئے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لئے بٹھایا ہے تو آپ نے فرمایا اسے کھڑا کردے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابو القاسم ﷺ کی۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے۔ (ابوداؤد) حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے سلیمان بن عبد الملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔ حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کررہے تھے۔ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں صوافن ہے یعنی کھڑے کرکے پاؤں باندھ کر صواف کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔ پھر جب یہ زمین پر گرپڑیں یعنی نحر ہوجائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑجائے۔ چناچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو صحیح مسلم کی حدیث میں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کرلیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیاکرو۔ فرمان ہے کہ جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے۔ (احمد ابوداؤد ترمذی) پھر فرمایا اسے خود کھاؤ بعض سلف تو فرماتے ہیں یہ کھانا مباح ہے۔ امام مالک ؒ فرماتے ہے مستحب ہے اور لوگ کہتے ہیں واجب ہے۔ اور مسکینوں کو بھی دو خواہ وہ گھروں میں بیٹھنے والے ہوں خواہ وہ دربدر سوال کرنے والے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ قانع تو وہ ہے جو صبر سے گھر میں بیٹھا رہے اور معتر وہ ہے جو سوال تو نہ کرے لیکن اپنی عاجزی مسکینی کا اظہار کرے۔ یہ بھی مروی ہے کہ قانع وہ ہے جو مسکین ہو آنے جانے والا۔ اور معتر سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں۔ وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانع سے مراد اہل مکہ ہیں۔ امام ابن جریر ؒ کا فرمان ہے کہ قانع سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لئے دراز کرتا ہے۔ اور معتر سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ تہائی اپنے کھانے کو، تہائی دوستوں کے دینے کو، تہائی صدقہ کرنے کو۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو جمع کرکے رکھنے سے منع فرمادیا تھا کہ تین دن سے زیادہ تک نہ روکا جائے اب میں اجازت دیتا ہوں کہ کھاؤ جمع کرو جس طرح چاہو۔ اور روایت میں ہے کہ کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو۔ اور روایت میں ہے کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کردے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ۔ اور حدیث میں بھی ہے کہ کھاؤ، جمع، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو۔ اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھاجائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں۔ بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے، بعض آدھا گوشت۔ بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔ کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں۔ بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کردئیے جائیں۔ (مسئلہ) براء بن عازب کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے ہمیں اس دن نماز عید ادا کرنی چاہئے پھر لوٹ کر قربانیاں کرنی چاہئیں جو ایسا کرے اس نے سنت کی ادائیگی کی۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کرلی اس نے گویا اپنے والوں کے لئے گوشت جمع کرلیا اسے قربانی سے کوئی لگاؤ نہیں (بخاری مسلم) اسی لئے امام شافعی ؒ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔ امام احمد ؒ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کرلے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو۔ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لئے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کرسکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں واللہ اعلم۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف عید والے دن ہی قربانی کرنا مشروع ہے اور قول ہے کہ شہر والوں کے لئے تو یہی ہے کیونکہ یہاں قربانیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لیکن گاؤں والوں کے لئے عید کا دن اور اس کے بعد کے ایام تشریق۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسویں اور گیا رھویں تاریخ سب کے لئے قربانی کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کے بعد کے دو دن۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو ایام تشریق کے ہیں۔ امام شافعی کا مذہب یہی ہے کیونکہ حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا ایام تشریق سب قربانی کے ہیں (احمد، ابن حبان) کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کردیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کرکے گوشت کھالو۔ جیسے سورة یسٰین میں آیت (اولم یروا) سے (افلا تشکرون) تک بیان ہوا ہے۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو۔
قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے۔ اسی لئے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بےنیاز ہے۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ ؓ نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہوجاتی ہے واللہ اعلم۔ عامر شعبی سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا اللہ کو گوشت وخون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو ، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نامرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔ (مسئلہ) امام ابوحنیفہ مالک ثوری کا قول ہے کہ جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد ؒ اسے منکر بتاتے ہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ برابر دس سال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی) امام شافعی ؒ اور حضرت احمد ؒ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب وفرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں۔ یہ بھی روایت پہلے بیان ہوچکی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی پس وجوب ساقط ہوگیا۔ حضرت ابو شریحہ ؒ فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتدا کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کرلی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لئے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میدان عرفات میں فرمایا ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور عتیرہ ہے جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔ اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ایوب ؓ فرماتے ہیں صحابہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کردیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کرلیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ (ترمذی، ابن ماجہ) حضرت عبداللہ بن ہشام اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے۔ (بخاری) اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں نہ ذبح کرو مگر مسنہ بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑجائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کرسکتے ہو۔ زہری تو کہتے ہیں کہ جزعہ یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کرکے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کرکے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہوگیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔ ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اسکی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ جو اس کے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کردیتا ہے، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور آیت میں (وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا) 65۔ الطلاق :3) جو اللہ پر بھروسہ رکھے اللہ آپ اسے کافی ہے الخ، دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں۔
حکم جہاد صادرہوا ابن عباس ؓ کہتے ہیں جب حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکہ سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ شریف سے ہجرت کی ابوبکر ؓ کی زبان سے نکلا کہ افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول ﷺ کو وطن سے نکالا یقینا یہ تباہ ہوں گے۔ پھر یہ آیت اتری تو صدیق ؓ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بےلڑے بھڑے انہیں غالب کردے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لئے حکم دیا کہ ان کفار کی گردنیں مارو۔ الخ، اور آیت میں ہے فرمایا آیت (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۙ) 9۔ التوبہ :14) ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مومنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوجائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے۔ اور آیت میں ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) یعنی کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو وہ کھل کر سامنے نہیں آئے جو مجاہد ہیں، اللہ، رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی سے دوستی اور یگانگت نہیں کرتے۔ سمجھ لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ اور آیت میں ہے کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ اب تک مجاہدین اور صابرین دوسروں سے ممتاز نہیں ہوئے۔ اور آیت میں فرمایا ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں یقینا آزمائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے غازی اور صبر کرنے والے ہمارے سامنے نمایاں ہوجائیں۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ اور یہی ہوا بھی کہ اللہ نے اپنے لشکر کو دنیا پر غالب کردیا۔ جہاد کو شریعت نے جس وقت مشروع فرمایا وہ وقت بھی اس کے لئے بالکل مناسب اور نہایت ٹھیک تھا جب تک حضور ﷺ مکہ میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقالبے میں ایک بمشکل بیٹھتا۔ چناچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر حضور ﷺ حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شبخون ماریں۔ لیکن آپ نے فرمایا مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی 0800 سے کچھ اوپر تھے۔ جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے حضور ﷺ کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ کے قتل کرنے کے درپے ہوگئے آپ کو جلاوطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔ اسی طرح صحابہ کرام پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔ اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہوگئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔ اس میں بیان فرمایا گیا کہ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لئے گئے ہیں، بےوجہ گھر سے بےگھر کردئیے گئے ہیں، مکہ سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بےسرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں۔ فرمان ہے آیت (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ۭ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ) 60۔ الممتحنة :1) تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے۔ خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت (وما نقموا منہم الا ان یومنوا باللہ العزیز الحمید) یعنی دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے۔ مسلمان صحابہ خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے۔شعر (لاہم لو لا انت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا ان الا ولی قد بغوا علینا اذا ارادوافتنتہ ابینا)خود رسول اللہ ﷺ بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور ابینا کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شرفساد مچ جاتا، ہر قوی ہر کمزور کو نگل جاتا۔ عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو صوامع کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو صوامع کہتے ہیں۔ مقامل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔ بیع ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔ صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔ فیہا کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لئے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں۔ پھر فرمایا اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) یعنی اگر اے مسلمانو ! تم اللہ کے دین کی امداد کروگے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں۔ پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کردیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بےنیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔ فرماتا ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ01701ښ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا۔ اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) خدا کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے۔
حکم جہاد صادرہوا ابن عباس ؓ کہتے ہیں جب حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکہ سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری۔ بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ شریف سے ہجرت کی ابوبکر ؓ کی زبان سے نکلا کہ افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول ﷺ کو وطن سے نکالا یقینا یہ تباہ ہوں گے۔ پھر یہ آیت اتری تو صدیق ؓ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ اللہ اپنے مومن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بےلڑے بھڑے انہیں غالب کردے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لئے حکم دیا کہ ان کفار کی گردنیں مارو۔ الخ، اور آیت میں ہے فرمایا آیت (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۙ) 9۔ التوبہ :14) ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مومنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوجائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے۔ اور آیت میں ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) یعنی کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو وہ کھل کر سامنے نہیں آئے جو مجاہد ہیں، اللہ، رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی سے دوستی اور یگانگت نہیں کرتے۔ سمجھ لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ اور آیت میں ہے کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ اب تک مجاہدین اور صابرین دوسروں سے ممتاز نہیں ہوئے۔ اور آیت میں فرمایا ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں یقینا آزمائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے غازی اور صبر کرنے والے ہمارے سامنے نمایاں ہوجائیں۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ اور یہی ہوا بھی کہ اللہ نے اپنے لشکر کو دنیا پر غالب کردیا۔ جہاد کو شریعت نے جس وقت مشروع فرمایا وہ وقت بھی اس کے لئے بالکل مناسب اور نہایت ٹھیک تھا جب تک حضور ﷺ مکہ میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقالبے میں ایک بمشکل بیٹھتا۔ چناچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر حضور ﷺ حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شبخون ماریں۔ لیکن آپ نے فرمایا مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی 0800 سے کچھ اوپر تھے۔ جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے حضور ﷺ کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ کے قتل کرنے کے درپے ہوگئے آپ کو جلاوطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔ اسی طرح صحابہ کرام پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ بیک بینی و دوگوش وطن مال اسباب، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کر چل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کا طلوع بھی مدینے شریف میں ہوا۔ اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہوگئی۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی۔ اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری۔ اس میں بیان فرمایا گیا کہ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لئے گئے ہیں، بےوجہ گھر سے بےگھر کردئیے گئے ہیں، مکہ سے نکال دئیے گئے، مدینے میں بےسرو سامانی میں پہنچے۔ ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے۔ یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں۔ فرمان ہے آیت (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ۭ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ) 60۔ الممتحنة :1) تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے۔ خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا آیت (وما نقموا منہم الا ان یومنوا باللہ العزیز الحمید) یعنی دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب، مہربان، ذی احسان پر ایمان لائے تھے۔ مسلمان صحابہ خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے۔شعر (لاہم لو لا انت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا فانزلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا ان الا ولی قد بغوا علینا اذا ارادوافتنتہ ابینا)خود رسول اللہ ﷺ بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور ابینا کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شرفساد مچ جاتا، ہر قوی ہر کمزور کو نگل جاتا۔ عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو صوامع کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو صوامع کہتے ہیں۔ مقامل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔ بیع ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں۔ صلوات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ۔ راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صلوات کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مساجد۔ فیہا کی ضمیر کا مرجع مساجد ہے اس لئے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صوامع، نصرانیوں کے بیع، یہودیوں کے صلوات اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں۔ پھر فرمایا اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ) 47۔ محمد :7) یعنی اگر اے مسلمانو ! تم اللہ کے دین کی امداد کروگے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں۔ پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کردیا، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بےنیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب۔ فرماتا ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ01701ښ) 37۔ الصافات :171) یعنی ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا۔ اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) خدا کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے۔
پابندی احکامات کی تاکید حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز وروزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔ ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے اصحاب رسول ہیں۔ خلیفہ رسول حضرت عمربن عبد العزیز ؒ نے اپنے خطبے میں اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔ عطیہ ؒ فرماتے ہیں اسی آیت کا مضمون آیت (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 55) 24۔ النور :55) میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہوگا۔ ہر نیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت کی، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78) 4۔ النسآء :78) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال05107ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے ؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرنا ہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت کی، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78) 4۔ النسآء :78) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال05107ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے ؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرنا ہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت کی، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78) 4۔ النسآء :78) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال05107ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے ؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرنا ہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت کی، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78) 4۔ النسآء :78) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال05107ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے ؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرنا ہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح ؑ سے لے کر موسیٰ ؑ تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔ سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت کی، پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا جیسے فرمان ہے آیت (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ 78) 4۔ النسآء :78) یعنی گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں۔ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟ امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔ اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گذشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔ پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے۔ ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال05107ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے ؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرنا ہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔
ذرا صبر، عذاب کا شوق پورا ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج۔ کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔ اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیا اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔ اسمعی کہتے ہیں میں ابو عمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمرو کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے ؟ سن عرب میں وعد کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن الیعاد کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ (فانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجز موعدی)میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کرکے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کرکے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لئے عجلت کیا ہے ؟ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہوجائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑلے گا۔ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہوگئے تو اچانک گرفت کرلی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فقرا مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے۔ اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے ؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں تو یہی آیت سنائی۔ یعنی اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے۔ ابو داؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور موخر رکھے گا۔ حضرت سعد ؓ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا۔ ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا (ابن جریر) بلکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے کتاب الرد علی الجمیہ میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت (يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) 32۔ السجدة :5) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ امام محمد بن سیرین ؒ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہوجائے۔
ذرا صبر، عذاب کا شوق پورا ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج۔ کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔ اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیا اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔ اسمعی کہتے ہیں میں ابو عمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمرو کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے ؟ سن عرب میں وعد کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن الیعاد کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ (فانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجز موعدی)میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کرکے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کرکے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لئے عجلت کیا ہے ؟ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہوجائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑلے گا۔ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہوگئے تو اچانک گرفت کرلی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فقرا مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے۔ اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے ؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں تو یہی آیت سنائی۔ یعنی اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے۔ ابو داؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور موخر رکھے گا۔ حضرت سعد ؓ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا۔ ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا (ابن جریر) بلکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے کتاب الرد علی الجمیہ میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت (يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) 32۔ السجدة :5) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ امام محمد بن سیرین ؒ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہوجائے۔
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ ایسے کفار کو انکے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں۔
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ ایسے کفار کو انکے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں۔
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ ایسے کفار کو انکے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں۔
شیطان کا تصرف غلط ہے یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی نہیں کی۔ چناچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گرپڑے اس پر یہ آیت اتری اسے ابن جریر ؒ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلا مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے قتادہ ؒ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے حضور ﷺ کو اونگھ آگئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا عربی (وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورة نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود و نصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ پر اور آپ کے اصحاب پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورة نجم کی تلاوت آپ نے شروع کی اور ولہ الانثی تک پڑھا تو شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے عربی (وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہوگئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت محمد ﷺ نے سورة کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گرپڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لئے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ حضور ﷺ کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ حضور ﷺ کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا ؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کرسکتے تھے۔ وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کرچکا تھا کہ خود حضور ﷺ نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ عثمان بن مظعون ؓ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکہ پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کردیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق ؒ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں واللہ اعلم۔ امام بغوی ؒ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ حضور ﷺ کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول ﷺ کی آواز۔ واللہ اعلم۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض ؒ نے بھی شفا میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ، اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ آپ اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں پر بھی ایسے اتفاقات آئے۔ بخاری میں ابن عباس ؓ سے ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کردیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کرکے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے مجاہد کہتے ہیں تمنی کا معنی قال کے ہیں امنیتہ کے معنی قرأت ہ کے ہیں الا امانی کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی ؒ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں تمنی کے معنی تلا کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے چناچہ حضرت عثمان ؓ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر (تمنی کتاب اللہ اول لیلتہ واخرہا لاقی حمام المقادر)۔ یہاں بھی لفظ تمنی پڑھنے کے معنی میں ہے۔ ابن جریر ؒ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتا ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کردیتا ہے۔ جبرائیل ؑ بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لئے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لئے یہ فتنہ بن جائے۔ چناچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہوگئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہوجائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس انکے دل تصدیق سے پر ہوجاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
شیطان کا تصرف غلط ہے یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی نہیں کی۔ چناچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گرپڑے اس پر یہ آیت اتری اسے ابن جریر ؒ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلا مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے قتادہ ؒ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے حضور ﷺ کو اونگھ آگئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا عربی (وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورة نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود و نصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ پر اور آپ کے اصحاب پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورة نجم کی تلاوت آپ نے شروع کی اور ولہ الانثی تک پڑھا تو شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے عربی (وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہوگئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت محمد ﷺ نے سورة کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گرپڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لئے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ حضور ﷺ کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ حضور ﷺ کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا ؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کرسکتے تھے۔ وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کرچکا تھا کہ خود حضور ﷺ نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ عثمان بن مظعون ؓ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکہ پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کردیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق ؒ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں واللہ اعلم۔ امام بغوی ؒ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ حضور ﷺ کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول ﷺ کی آواز۔ واللہ اعلم۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض ؒ نے بھی شفا میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ، اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ آپ اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں پر بھی ایسے اتفاقات آئے۔ بخاری میں ابن عباس ؓ سے ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کردیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کرکے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے مجاہد کہتے ہیں تمنی کا معنی قال کے ہیں امنیتہ کے معنی قرأت ہ کے ہیں الا امانی کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی ؒ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں تمنی کے معنی تلا کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے چناچہ حضرت عثمان ؓ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر (تمنی کتاب اللہ اول لیلتہ واخرہا لاقی حمام المقادر)۔ یہاں بھی لفظ تمنی پڑھنے کے معنی میں ہے۔ ابن جریر ؒ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتا ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کردیتا ہے۔ جبرائیل ؑ بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لئے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لئے یہ فتنہ بن جائے۔ چناچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہوگئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہوجائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس انکے دل تصدیق سے پر ہوجاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
شیطان کا تصرف غلط ہے یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکہ آگئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، واللہ اعلم۔ چناچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے مکہ شریف میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙ) 53۔ النجم :19) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی) پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی نہیں کی۔ چناچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گرپڑے اس پر یہ آیت اتری اسے ابن جریر ؒ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلا مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے قتادہ ؒ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے حضور ﷺ کو اونگھ آگئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا عربی (وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی) نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورة نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود و نصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ پر اور آپ کے اصحاب پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورة نجم کی تلاوت آپ نے شروع کی اور ولہ الانثی تک پڑھا تو شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے عربی (وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہوگئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت محمد ﷺ نے سورة کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گرپڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لئے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ حضور ﷺ کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ حضور ﷺ کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا ؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کرسکتے تھے۔ وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کرچکا تھا کہ خود حضور ﷺ نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ عثمان بن مظعون ؓ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکہ پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کردیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق ؒ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں واللہ اعلم۔ امام بغوی ؒ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ حضور ﷺ کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول ﷺ کی آواز۔ واللہ اعلم۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض ؒ نے بھی شفا میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ، اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ آپ اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں پر بھی ایسے اتفاقات آئے۔ بخاری میں ابن عباس ؓ سے ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کردیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کرکے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے مجاہد کہتے ہیں تمنی کا معنی قال کے ہیں امنیتہ کے معنی قرأت ہ کے ہیں الا امانی کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی ؒ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں تمنی کے معنی تلا کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے چناچہ حضرت عثمان ؓ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر (تمنی کتاب اللہ اول لیلتہ واخرہا لاقی حمام المقادر)۔ یہاں بھی لفظ تمنی پڑھنے کے معنی میں ہے۔ ابن جریر ؒ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتا ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کردیتا ہے۔ جبرائیل ؑ بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لئے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لئے یہ فتنہ بن جائے۔ چناچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہوگئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہوجائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس انکے دل تصدیق سے پر ہوجاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بیخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی جیسے اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اور آیت میں ہے اس دن رحمن کا ہی ملک ہوگا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بیخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی جیسے اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اور آیت میں ہے اس دن رحمن کا ہی ملک ہوگا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بیخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی جیسے اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اور آیت میں ہے اس دن رحمن کا ہی ملک ہوگا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے پھر اسے موت آجائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہوچکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہوگا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لئے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ01609ۙ) 3۔ آل عمران :169) ، خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔ حضرت شرجیل بن سمت فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے حضرت سلمان فار سی ؓ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت (وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ 58) 22۔ الحج :58) پڑھ لو۔ حضرت ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید ؓ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ حضرت فضالہ ؓ نے فرمایا یہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضرت یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں۔ خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ ؓ کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے پھر اسے موت آجائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہوچکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہوگا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لئے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ01609ۙ) 3۔ آل عمران :169) ، خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔ حضرت شرجیل بن سمت فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے حضرت سلمان فار سی ؓ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت (وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ 58) 22۔ الحج :58) پڑھ لو۔ حضرت ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید ؓ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ حضرت فضالہ ؓ نے فرمایا یہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضرت یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں۔ خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ ؓ کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے پھر اسے موت آجائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہوچکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہوگا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لئے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ01609ۙ) 3۔ آل عمران :169) ، خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔ حضرت شرجیل بن سمت فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے حضرت سلمان فار سی ؓ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت (وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ 58) 22۔ الحج :58) پڑھ لو۔ حضرت ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید ؓ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ حضرت فضالہ ؓ نے فرمایا یہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضرت یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں۔ خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ ؓ کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔